حکم بے تابی نہیں اور آرمیدن منع ہے

(Ghazal)

حکم بے تابی نہیں اور آرمیدن منع ہے
باوجود مشق وحشت ہا رمیدن منع ہے
 
شرم آئینہ تراش جبہۂ طوفان ہے
آب گردیدن روا لیکن چکیدن منع ہے
 
بیخودی فرماں رواے حیرت آباد جنوں
زخم دوزی جرم و پیراہن دریدن منع ہے
 
مژدۂ دیدار سے رسوائی اظہار دور
آج کی شب چشم کو کب تک پریدن منع ہے
 
بیم طبع نازک خوباں سے وقت سیر باغ
ریشۂ زیر زمیں کو بھی دویدن منع ہے
 
یار معذور تغافل ہے عزیزاں شفقتے
نالۂ بلبل بگوش گل شنیدن منع ہے
 
مانع بادہ کشی نادان ہے لیکن اسدؔ
بے ولاے ساقی کوثر کشیدن منع ہے

Source: غیر متداول