حسن خود آرا کو ہے مشق تغافل ہنوز
حسن خود آرا کو ہے مشق تغافل ہنوز
ہے کف مشاطہ میں آئنۂ گل ہنوز
سادگی یک خیال شوخی صد رنگ نقش
حیرت آئینہ ہے جیب تامل ہنوز
سادہ و پرکار تر غافل و ہشیار تر
مانگے ہے شمشاد سے شانۂ سنبل ہنوز
ساقی و تعلیم رنج محفل و تمکیں گراں
سیلی استاد ہے ساغر بے مل ہنوز
شغل ہوس در نظر لیک حیا بے خبر
شاخ گل نغمہ ہے نالۂ بلبل ہنوز
دل کی صداے شکست ساز طرب ہے اسدؔ
شیشۂ بے بادہ سے چاہے ہے قلقل ہنوز