جگر سے ٹوٹی ہوئی ہو گئی سناں پیدا

(Ghazal)

جگر سے ٹوٹی ہوئی ہو گئی سناں پیدا
دہان زخم میں آخر ہوئی زباں پیدا
 
بسان سبزہ رگ خواب سے زباں ایجاد
کرے ہے خامشی احوال بیخوداں پیدا
 
صفا و شوخی و انداز حسن پا بہ رکاب
خط سیاہ سے ہے گرد کارواں پیدا
 
نہیں ہے آہ کو ایماے تیرہ بالیدن
وگر نہ ہے خم تسلیم سے کماں پیدا
 
نصیب تیرہ بلا گردش آفریں ہے اسدؔ
زمیں سے ہوتے ہیں صد دامن آسماں پیدا

Source: غیر متداول