تو پست فطرت اور خیال بسا بلند
تو پست فطرت اور خیال بسا بلند
اے طفل خود معاملہ قد سے عصا بلند
ویرانے سے جز آمد و رفت نفس نہیں
ہے کوچہ ہاے نے میں غبار صدا بلند
رکھتا ہے انتظار تماشاے حسن دوست
مژگان باز ماندہ سے دست دعا بلند
موقوف کیجیے یہ تکلف نگاریاں
ہوتا ہے ورنہ شعلۂ رنگ حنا بلند
قربان اوج ریزی چشم حیا پرست
یک آسماں ہے مرتبۂ پشت پا بلند
ہے دلبری کمیں کر ایجاد یک نگاہ
کار بہانہ جوئی چشم حیا بلند
بالیدگی نیاز قد جانفزا اسدؔ
در ہر نفس بقدر نفس ہے قبا بلند