تغافل دوست ہوں میرا دماغ عجز عالی ہے

(Ghazal)

تغافل دوست ہوں میرا دماغ عجز عالی ہے
اگر پہلو تہی کیجے تو جا میری بھی خالی ہے
 
رہا آباد عالم اہل ہمت کے نہ ہونے سے
بھرے ہیں جس قدر جام و سبو مے خانہ خالی ہے
 
بتان شوخ کا دل سخت ہوگا کس قدر یارب
مری فریاد کو کہسار ساز عجز مالی ہے
 
نشان بے قرار شوق جز مژگاں نہیں باقی
کئی کانٹے ہیں اور پیراہن شکل نہالی ہے
 
جنوں کر اے چمن تحریر درس شغل تنہائی
نگاہ شوق کو صحرا بھی دیوان غزالی ہے
 
سیہ مستی ہے اہل خاک کو ابر بہاری سے
زمیں جوش‌ طرب سے جام لبریز سفالی ہے
 
اسدؔ مت رکھ تعجب خر دماغ ہائے منعم کا
کہ یہ نامرد بھی شیر افگن میدان قالی ہے

Source: متداول