بے خود زبس کہ خاطر بے تاب ہو گئی

(Ghazal)

بے خود زبس کہ خاطر بے تاب ہو گئی
مژگان باز ماندہ رگ خواب ہو گئی
 
موج تبسم لب آلودۂ مسی
میرے لیے تو تیغ سیہ تاب ہو گئی
 
رخسار یار کی جو کھلی جلوہ گستری
زلف سیاہ بھی شب مہتاب ہو گئی
 
بیداد انتظار کی طاقت نہ لا سکی
اے جان بر لب آمدہ بے تاب ہو گئی
 
غالبؔ زبس کہ سوکھ گئے چشم میں سرشک
آنسو کی بوند گوہر نایاب ہو گئی

Source: غیر متداول