بیم رقیب سے نہیں کرتے وداع ہوش
بیم رقیب سے نہیں کرتے وداع ہوش
مجبور یاں تلک ہوئے اے اختیار حیف
جلتا ہے دل کہ کیوں نہ ہم اک بار جل گئے
اے نا تمامی نفس شعلہ بار حیف
نامہ بھی لکھتے ہو تو بہ خط غبار حیف
رکھتے ہو مجھ سے اتنی کدورت ہزار حیف
بیش از نفس بتاں کے کرم نے وفا نہ کی
تھا محمل نگاہ بہ دوش شرار حیف
تھی میرے ہی جلانے کو اے آہ شعلہ ریز
گھر پر پڑا نہ غیر کے کوئی شرار حیف
گل چہرہ ہے کسی خفقانی مزاج کا
گھبرا رہی ہے بیم خزاں سے بہار حیف
ہیں میری مشت خاک سے اس کو کدورتیں
پائی جگہ بھی دل میں تو ہو کر غبار حیف
بنتا اسدؔ میں سرمۂ چشم رکاب یار
آیا نہ میری خاک پہ وہ شہ سوار حیف