بہار تعزیت آباد عشق ماتم ہے
بہار تعزیت آباد عشق ماتم ہے
کہ تیغ یار ہلال مہ محرم ہے
نہ پوچھ نسخۂ مرہم جراحت دل کا
کہ اس میں ریزۂ الماس جزو اعظم ہے
بہ رہن ضبط ہے آئینہ بندی گوہر
وگر نہ بحر میں ہر قطرہ چشم پر نم ہے
چمن میں کون ہے طرز آفرین شیوۂ عشق
کہ گل ہے بلبل رنگین و بیضہ شبنم ہے
اگر نہ ہووے رگ خواب صرف شیرازہ
تمام دفتر ربط مزاج درہم ہے
بہت دنوں میں تغافل نے تیرے پیدا کی
وہ اک نگہ جو بظاہر نگاہ سے کم ہے
اسدؔ بہ نازکی طبع آرزو انصاف
کہ ایک وہم ضعیف و غم دو عالم ہے