بہ رہن شرم ہے با وصف شوخی اہتمام اس کا

(Ghazal)

بہ رہن شرم ہے با وصف شوخی اہتمام اس کا
نگیں میں جوں شرار سنگ ناپید ہے نام اس کا
 
سروکار تواضع تا خم گیسو رسا نیدن
بسان شانہ زینت ریز ہے دست سلام اس کا
 
مسی آلودہ ہے مہر نوازش نامہ ظاہر ہے
کہ داغ آرزوے بوسہ دیتا ہے پیام اس کا
 
لڑاوے گروہ بزم مے کشی میں قہر و شفقت کو
بھرے پیمانۂ صد زندگانی ایک جام اس کا
 
بہ امید نگاہ خاص ہوں محمل کش حسرت
مبادا ہو عناں گیر تغافل لطف عام اس کا
 
اسدؔ سودائے سر سبزی سے ہے تسلیم رنگیں تر
کہ کشت خشک اس کا ابر بے پروا خرام اس کا

Source: غیر متداول

بہ رہن شرم ہے با وصف شوخی اہتمام اس کا — مرزا اسد اللہ خان غالب