بس کہ وہ پا کو بیاں در پردۂ وحشت ہیں یاد

(Ghazal)

بس کہ وہ پا کو بیاں در پردۂ وحشت ہیں یاد
ہے غلاف دفچۂ خرشید ہر یک گرد باد
 
طرفہ موزدنی ہے صرف جنگ جوئی ہاے یار
ہے سر مصراع صاف تیغ خنجر مستزاد
 
ہاتھ آیا زخم تیغ یار سا پہلو نشیں
کیوں نہ ہووے آج کے دن بیکسی کی روح شاد
 
کیجیے آہوے ختن کو خضر صحراے طلب
مشک ہے سنبلستان زلف ہیں گرد سواد
 
ہم نے سو زخم جگر پر بھی زباں پیدا نہ کی
گل ہوا ہے ایک زخم سینہ پر خواہان داد
 
بس کہ ہیں در پردہ مصروف سیہ کاری تمام
آستر ہے خرقۂ زہاد کا صوف مداد
 
تیغ در کف کف بلب آتا ہے قاتل اس طرف
مژدہ باد اے آرزوے مرگ غالبؔ مژدہ باد

Source: غیر متداول

بس کہ وہ پا کو بیاں در پردۂ وحشت ہیں یاد — مرزا اسد اللہ خان غالب