بس کہ مے پیتے ہیں ارباب فنا پوشیدہ

(Ghazal)

بس کہ مے پیتے ہیں ارباب فنا پوشیدہ
خط پیمانۂ مے ہے نفس دزدیدہ
 
بہ غرور طرح قامت و رعنائی سرد
طوق ہے گردن قمری میں رگ بالیدہ
 
کی ہے وا اہل جہاں نے بہ گلستان جہاں
چشم غفلت نظر شبنم خور نادیدہ
 
اے دریغا کہ نہیں طبع نزاکت ساماں
ورنہ کانٹے میں تلے ہے سخن سنجیدہ
 
یاس آئینہ پیدائی استغنا ہے
نا امیدی ہے پرستار دل رنجیدہ
 
واسطے فکر مضامین متیں کے غالبؔ
چاہیے خاطر جمع و دل آرامیدہ

Source: غیر متداول

بس کہ مے پیتے ہیں ارباب فنا پوشیدہ — مرزا اسد اللہ خان غالب