بس کہ مائل ہے وہ رشک ماہتاب آئینے پر

(Ghazal)

بس کہ مائل ہے وہ رشک ماہتاب آئینے پر
ہے نفس تار شعاع آفتاب آئینے پر
 
بازگشت جادہ پیماے رہ حیرت کہاں
غافلاں غش جان کر چھڑکے ہیں آب آئینے پر
 
بدگماں کرتی ہے عاشق کو خود آرائی تری
بے دلوں کو ہے برات اضطراب آئینے پر
 
ناز خود بینی کے باعث مجرم صد بے گناہ
جوہر شمشیر کو ہے پیچ تاب آئینے پر
 
مدعی میری صفاے دل سے ہوتا ہے خجل
ہے تماشا زشت رویوں کا عتاب آئینے پر
 
سد اسکندر بنے بہر نگاہ گل رخاں
گر کرے یوں امر نہی بو تراب آئینے پر
 
دل کو توڑا جوش بیتابی سے غالب کیا کیا
رکھ دیا پہلو بوقت اضطراب آئینے پر

Source: غیر متداول