بس کہ عاجز نارسائی سے کبوتر ہو گیا

(Ghazal)

بس کہ عاجز نارسائی سے کبوتر ہو گیا
صفحۂ نامہ غلاف بالش پر ہو گیا
 
صورت دیبا تپش سے میری غرق خوں ہے آج
خار پیراہن رگ بستر کو نشتر ہو گیا
 
بس کہ آئینے نے پایا گرمی رخ سے گداز
دامن تمثال مثل برگ گل تر ہو گیا
 
شعلہ رخسارا تحیر سے تری رفتار کے
خار شمع آئنہ آتش میں جوہر ہو گیا
 
بس کہ وقت گریہ نکلا تیرہ کاری کا غبار
دامن آلودۂ عصیاں گراں تر ہو گیا
 
حیرت انداز رہبر ہے عناں گیر اے اسدؔ
نقش پاے خضر یاں سدّ سکندر ہو گیا

Source: غیر متداول

بس کہ عاجز نارسائی سے کبوتر ہو گیا — مرزا اسد اللہ خان غالب