بتان شوخ کا دل سخت ہوگا کس قدر یارب

(Ghazal)

بتان شوخ کا دل سخت ہوگا کس قدر یارب
مری فریاد کو کہسار ساز عجز نالی ہے
 
نشان بے قرار شوق جز مژگاں نہیں باقی
کئی کانٹے ہیں اور پیراہن شکل نہالی ہے
 
جنوں کر اے چمن تحریر درس شغل تنہائی
نگاہ شوق کو صحرا بھی دیوان غزالی ہے
 
سیہ مستی ہے اہل خاک کو ابر بہاری سے
زمیں جوش طرب سے جام لبریز سفالی ہے
 
اسد مت رکھ تعجب خر دماغ ہائے منعم کا
کہ یہ نامرد بھی شیر افگن میدان قالی ہے

Source: غیر متداول