اگر وہ آفت نظارہ جلوہ گستر ہو
اگر وہ آفت نظارہ جلوہ گستر ہو
ہلال ناخنک دیدہ ہاے اختر ہو
بہ یاد قامت اگر ہو بلند آتش غم
ہر ایک داغ جگر آفتاب محشر ہو
ستم کشی کا کیا دل نے حوصلہ پیدا
اب اس سے ربط کروں جو بہت ستمگر ہو
عجب نہیں پئے تحریر حال گریۂ چشم
بروے آب جو ہر موج نقش مسطر ہو
امیدوار ہوں تاثیر تلخ کامی سے
کہ قند بوسۂ شیریں لباں مکرر ہو
صدف کی ہے ترے نقش قدم میں کیفیت
سر شک چشم اسدؔ کیوں نہ اس میں گوہر ہو