اس قامت رعنا کی جہاں جلوہ گری ہے

(Ghazal)

اس قامت رعنا کی جہاں جلوہ گری ہے
تسلیم فروشی روش کبک دری ہے
 
شرمندۂ الفت ہوں مداوا طلبی سے
ہر قطرۂ شربت مجھے اشک شکری ہے
 
سرمایۂ وحشت ہے دلا سایۂ گلزار
ہر سبزۂ نوخاستہ یاں بال پری ہے
 
روشن ہوئی یہ بات دم نزع کہ آخر
فانوس کفن بہر چراغ سحری ہے
 
ہم آئے ہیں غالبؔ رہ اقلیم عدم سے
یہ تیرگی حال لباس سفری ہے

Source: غیر متداول

اس قامت رعنا کی جہاں جلوہ گری ہے — مرزا اسد اللہ خان غالب