اثر سوز محبت کا قیامت بے محابا ہے
اثر سوز محبت کا قیامت بے محابا ہے
کہ رگ سے سنگ میں تخم شرر کا ریشہ پیدا ہے
نہاں ہے گوہر مقصود جیب خود شناسی میں
کہ یاں غواص ہے تمثال اور آئینہ دریا ہے
عزیزو ذکر وصل غیر سے مجھ کو نہ بہلاؤ
کہ یاں افسون خواب افسانۂ خواب زلیخا ہے
تصور بہر تسکین تپیدن ہاے طفل دل
بباغ رنگ ہاے رفتہ گلچین تماشا ہے
بہ سعی غیر ہے قطع لباس خانہ ویرانی
کہ تار جادۂ رہ رشتۂ دامان صحرا ہے
مجھے شب ہاے تاریک فراق شعلہ رویاں میں
چراغ خانۂ دل سوزش داغ تمنا ہے
ترے نوکر ترے در پر اسدؔ کو ذبح کرتے ہیں
ستمگر ناخدا ترس آشنا کش ماجرا کیا ہے