آئینہ نفس سے بھی ہوتا ہے کدورت کش

(Ghazal)

آئینہ نفس سے بھی ہوتا ہے کدورت کش
عاشق کو غبار دل اک وجۂ صفائی ہے
 
ہنگام تصور ہوں دریوزہ گر بوسہ
یہ کاسۂ زانو بھی اک جام گدائی ہے
 
وہ دیکھ کے حسن اپنا مغرور ہوا غالبؔ
صد جلوۂ آئینہ یک صبح جدائی ہے

Source: غیر متداول