یہی
28 Misre
- غالبؔ ایسے گنج کو شایاں یہی ویرانہ تھا
- لیکن یہی کہ رفت گیا اور بود تھا
- ہے موجزن اک قلزم خوں کاش یہی ہو
- لیکن یہی کہ رفت گیا اور بود تھا
- یہی بار بار جی میں مرے آئے ہے کہ غالبؔ
- دشوار تو یہی ہے کہ دشوار بھی نہیں
- ہاتھ دھو دل سے یہی گرمی گر اندیشے میں ہے
- قدرت حق سے یہی حوریں اگر واں ہو گئیں
- اس کی تو خامشی میں بھی ہے یہی مدعا کہ یوں
- یہی نقشہ ہے ولے اس قدر آباد نہیں
- اگر یہی عرق فتنہ ہے مکرر کھینچ
- خمار منت ساقی اگر یہی ہے اسدؔ
- ہے یہی بہتر کہ لوگوں میں نہ چھیڑے تو مجھے
- یہی ہے آزمانا تو ستانا کس کو کہتے ہیں
- حنائے پائے خزاں ہے بہار اگر ہے یہی
- ادب ہے اور یہی کشمکش تو کیا کیجے
- حیا ہے اور یہی گو مگو تو کیونکر ہو
- اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا
- ہاں یہی شاہراہ دہلی ہے
- لکھا ہے نسخہ تحفہ یہی ہے سال تمام
- یہی بار بار جی میں مرے آئے ہے کہ غالبؔ
- گرہ کی ہے یہی گنتی کہ تا بروز شمار
- یہی انداز اور یہی اندام
- بوسہ کیسا یہی غنیمت ہے
- دستور فن شعر یہی ہے قدیم سے
- ہے دعا بھی یہی کہ دنیا میں
- جو حد تقوی ادا نہ ہووے تو اپنا مذہب یہی ہے غالبؔ
- یہی ہے مذہب حق والسلام والاکرام