یہ
297 Misre
- آتا ہے آ وگرنہ یہ پا در رکاب ہے
- یعنی یہ ہر ورق ورق انتخاب ہے
- یہ بھی یا حضرت ایوب گلا ہے تو سہی
- یہ مرف تابکے نہیں ہے
- اس کا یہ حال کہ کوئی نہ ادا سنج ملا
- بہ بوے زلف مشکیں یہ دماغ آشفتۂ رم ہیں
- اسدؔ یہ فرط غم نے کی تلف کیفیت شادی
- یہ کس بے مہر کی تمثال کا ہے جلوہ سیمابی
- باغ پا کر خفقانی یہ ڈراتا ہے مجھے
- یہ فسون نگہ ناز ستاتا ہے مجھے
- ضعف سے ہے نے قناعت سے یہ ترک جستجو
- یارب یہ درد مند ہے کس کی نگاہ کا
- کہ یہ نامرد بھی شیر افگن میدان قالی ہے
- یہ شام غم آپ پر سحر کر
- یہ زمیں مثل نیستاں سخت ناوک خیز ہے
- یہ ایک پیرہن زر نگار رکھتے ہیں
- یہ کیا وحشت ہے اے دیوانے پیش از مرگ واویلا
- امواج کی جو یہ شکنیں آشکار ہیں
- یہ گرد وہم جز بسر امتحاں نہیں
- سرمۂ مفت نظر ہوں مری قیمت یہ ہے
- ہوے یہ رہرواں دل خستہ شرم نارسائی سے
- صبر اور یہ ادا کہ دل آوے اسیر چاک
- درد اور یہ کمیں کہ رہ نالہ وا کروں
- غالبؔ یہ خوف ہے کہ کہاں سے ادا کروں
- لیکن یہ ہم ہے کہ کہاں سے ادا کروں
- تسلیم سے یہ نالۂ موزوں ہوا حصول
- ہے یہ سیاق گفتگو کچھ نہ سمجھ فنا سمجھ
- گر نہ مٹیں یہ کوہسار آپ کو تو صدا سمجھ
- بادشاہی کا جہاں یہ حال ہو غالبؔ تو پھر
- مجھ سے غالبؔ یہ علائیؔ نے غزل لکھوائی
- گر دام یہ ہے وسعت صحرا شکار ہے
- یہ کاسۂ زانو بھی اک جام گدائی ہے
- اسدؔ یہ عجز و بے سامانی فرعون توام ہے
- بن گیا تقلید سے میری یہ سودائی عبث
- عالم تسلیم میں یہ دعوی آرائی عبث
- تب خجلت نے یہ نبض رگ گل میں حرارت کی
- سمجھاؤ اسے یہ وضع چھوڑے
- چیرے ہی سے جائیں گے یہ پھوڑے
- عاشق کو یہ چاہیے کہ ہرگز
- حسرت زدۂ طرب ہے یہ شخص
- ہوئی یہ بیخودی چشم و زباں کو تیرے جلوے سے
- اگرچہ تھا یہ ارادہ مگر خدا کا شکر
- یہ رات بھر کا ہے ہنگامہ صبح ہونے تک
- اٹھائے کیوں کے یہ رنجور خستہ تن تکیہ
- شب فراق میں یہ حال ہے اذیت کا
- واے کہ یہ فسردہ دل بیدل و بے دماغ ہے
- کہ یہ گلزار باغ رہ گزر ہے
- موقوف کیجیے یہ تکلف نگاریاں
- روشن ہوئی یہ بات دم نزع کہ آخر
- یہ تیرگی حال لباس سفری ہے
- یہ درد وہ نہیں کہ نہ پیدا کرے کوئی
- تھا یہ کم وزن کہ ہم سنگ کف خاک چڑھا
- یہ آتش ہمسایہ کہیں گھر نہ جلا دے
- یہ سر نوشت میں میری ہے اشک افشانی
- جنون وحشت ہستی یہ عام ہے کہ بہار
- بھونچال میں گرا تھا یہ آئینہ طاق سے
- وہ دل ہے یہ کہ جس کا تخلص صبور تھا
- اس کی خطا نہیں ہے یہ میرا قصور تھا
- صحبت میں غیر کی نہ پڑی ہو کہیں یہ خو
- یہ غزل اپنی مجھے جی سے پسند آتی ہے آپ
- اس کی خطا نہیں ہے یہ میرا قصور تھا
- وہ دل ہے یہ کہ جس کا تخلص صبور تھا
- یہ محشر خیال کہ دنیا کہیں جسے
- باغ پا کر خفقانی یہ ڈراتا ہے مجھے
- رکھیو یا رب یہ در گنجینۂ گوہر کھلا
- پر یہ کیا کم ہے کہ مجھ سے وہ پری پیکر کھلا
- کیا رہوں غربت میں خوش جب ہو حوادث کا یہ حال
- خدا وہ دن کرے جو اس سے میں یہ بھی کہوں وہ بھی
- ہے یہ برسات وہ موسم کہ عجب کیا ہے اگر
- بلا سے ہیں جو یہ پیش نظر در و دیوار
- وفور اشک نے کاشانے کا کیا یہ رنگ
- وہ سن کے بلا لیں یہ اجارا نہیں کرتے
- کہ یہ نامرد بھی شیر افگن میدان قالی ہے
- دلا یہ درد و الم بھی تو مغتنم ہے کہ آخر
- چمن میں کس کے یہ برہم ہوئی ہے بزم تماشا
- مرتا ہوں میں کہ یہ نہ کسی کی نگاہ ہو
- یہ درد وہ نہیں کہ نہ پیدا کرے کوئی
- گر دام یہ ہے وسعت صحرا شکار ہے
- یہ کیا وحشت ہے اے دیوانہ پیش از مرگ واویلا
- جہاں یہ کاسۂ گردوں ہے ایک خاک انداز
- بہم بالیدن سنگ و گل صحرا یہ چاہے ہے
- اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
- شاہ کے باغ میں یہ تازہ نہال اچھا ہے
- دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے
- لو وہ بھی کہتے ہیں کہ یہ بے ننگ و نام ہے
- یہ جانتا اگر تو لٹاتا نہ گھر کو میں
- ایک دل تس پر یہ نا امید واری ہائے ہائے
- میری دلی ہی میں ہونی تھی یہ خواری ہائے ہائے
- یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے
- پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے
- یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیں
- واں وہ غرور عز و ناز یاں یہ حجاب پاس وضع
- کوئی مجھ کو یہ تو سمجھا دو کہ سمجھاویں گے کیا
- یہ جنون عشق کے انداز چھٹ جاویں گے کیا
- ہم نے یہ مانا کہ دلی میں رہیں کھاویں گے کیا
- دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا
- یاں آ پڑی یہ شرم کہ تکرار کیا کریں
- یہ لاش بے کفن اسدؔ خستہ جاں کی ہے
- ہے یہ وہ لفظ کہ شرمندۂ معنی نہ ہوا
- یہ زمرد بھی حریف دم افعی نہ ہوا
- یہ ضد کہ آج نہ آوے اور آئے بن نہ رہے
- کہ یہ کہے کہ سر رہ گزر ہے کیا کہئے
- وعدہ آنے کا وفا کیجے یہ کیا انداز ہے
- شوق کو یہ لت کہ ہر دم نالہ کھینچے جائیے
- میرے دعوے پہ یہ حجت ہے کہ مشہور نہیں
- یہ بات بزم میں روشن ہوئی زبانی شمع
- یعنی یہ ہر ورق ورق انتخاب ہے
- تھے یہ ہی دو حساب سو یوں پاک ہو گئے
- یہ کیا بے نیازی ہے حضرت سلامت
- اس کا یہ حال کہ کوئی نہ ادا سنج ملا
- میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
- یہ جو اک لذت ہماری سعیٔ بے حاصل میں ہے
- میں یہ سمجھوں گا کہ شمعیں دو فروزاں ہو گئیں
- کہ یہ شیرازہ ہے عالم کے اجزائے پریشاں کا
- سرمۂ مفت نظر ہوں مری قیمت یہ ہے
- یہ دل وابستہ گویا بیضۂ طاؤس تھا
- سخت مشکل ہے کہ یہ کام بھی آساں نکلا
- یہ بھی مت کہہ کہ جو کہیے تو گلہ ہوتا ہے
- ہر مہینے میں جو یہ بدر سے ہوتا ہے ہلال
- یہ بھی تیرا ہی کرم ذوق فزا ہوتا ہے
- یہ جنت نگاہ وہ فردوس گوش ہے
- آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں
- یہ عمر بھر جو پریشانیاں اٹھائی ہیں ہم نے
- ضعف سے ہے نے قناعت سے یہ ترک جستجو
- یہ رنج کہ کم ہے مئے گلفام بہت ہے
- اس کے ہر ایک اشارہ سے نکلے ہے یہ ادا کہ یوں
- غیر سے رات کیا بنی یہ جو کہا تو دیکھیے
- سامنے آن بیٹھنا اور یہ دیکھنا کہ یوں
- جو یہ کہے کہ ریختہ کیونکے ہو رشک فارسی
- خستگی کا تم سے کیا شکوہ کہ یہ
- یہ بھی حلقے ہیں تمہارے دام کے
- یارب یہ درد مند ہے کس کی نگاہ کا
- مے ہے یہ مگس کی قے نہیں ہے
- یہ مصرف تابکے نہیں ہے
- نہیں گر ہمدمی آساں نہ ہو یہ رشک کیا کم ہے
- شہادت تھی مری قسمت میں جو دی تھی یہ خو مجھ کو
- ہوئی یہ بے خودی چشم و زباں کو تیرے جلوے سے
- گزری نہ بہ ہر حال یہ مدت خوش و نا خوش
- غالبؔ یہ خوف ہے کہ کہاں سے ادا کروں
- صبر اور یہ ادا کہ دل آوے اسیر چاک
- درد اور یہ کمیں کہ رہ نالہ وا کروں
- لیکن یہ بیم ہے کہ کہاں سے ادا کروں
- غالبؔ اپنا یہ عقیدہ ہے بقول ناسخؔ
- مت مردمک دیدہ میں سمجھو یہ نگاہیں
- یہ مطلع اسدؔ جوہر افسون سخن ہو
- یہ وقت ہے شگفتن گل ہائے ناز کا
- یہ کس بہشت شمائل کی آمد آمد ہے
- منظور تھی یہ شکل تجلی کو نور کی
- مثال یہ مری کوشش کی ہے کہ مرغ اسیر
- زباں پہ بار خدایا یہ کس کا نام آیا
- کوئی پوچھے کہ یہ کیا ہے تو چھپائے نہ بنے
- کہہ سکے کون کہ یہ جلوہ گری کس کی ہے
- عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالبؔ
- یہ جانا چاہتے ہیں آج دعوت میں سمندر کی
- امتحاں اور بھی باقی ہو تو یہ بھی نہ سہی
- محبت تھی چمن سے لیکن اب یہ بے دماغی ہے
- یہ کیا کہ تم کہو اور وہ کہیں کہ یاد نہیں
- یعنی یہ میری آہ کی تاثیر سے نہ ہو
- مقطع سلسلۂ شوق نہیں ہے یہ شہر
- یہ کون کہوے ہے آباد کر ہمیں لیکن
- میں کہاں اور یہ وبال کہاں
- عجز سے اپنے یہ جانا کہ وہ بد خو ہوگا
- اسدؔ کا قصہ طولانی ہے لیکن مختصر یہ ہے
- اسدؔ یہ عجز و بے سامانیٔ فرعون توام ہے
- یہ اگر چاہیں تو پھر کیا چاہیے
- ادھر وہ بد گمانی ہے ادھر یہ ناتوانی ہے
- وہ دیکھا جائے کب یہ ظلم دیکھا جائے ہے مجھ سے
- یہ کہہ سکتے ہو ہم دل میں نہیں ہیں پر یہ بتلاؤ
- یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے
- یہ سوء ظن ہے ساقی کوثر کے باب میں
- آتش دوزخ میں یہ گرمی کہاں
- بیضہ آسا ننگ بال و پر ہے یہ کنج قفس
- اپنا نہیں یہ شیوہ کہ آرام سے بیٹھیں
- اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ انہیں کچھ نہ کہو
- حالانکہ ہے یہ سیلی خارا سے لالہ رنگ
- یہ زمیں مثل نیستاں سخت ناوک خیز ہے
- اے شوق منفعل یہ تجھے کیا خیال ہے
- یعنی یہ پہلے ہی نذر امتحاں ہو جائے گا
- اب تلک تو یہ توقع ہے کہ واں ہو جائے گا
- یہ کاسۂ زانو بھی اک جام گدائی ہے
- یہ جانتا ہوں کہ تو اور پاسخ مکتوب
- تنگئ دل کا گلہ کیا یہ وہ کافر دل ہے
- ہوئی یہ کثرت غم سے تلف کیفیت شادی
- تمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے
- نہ شعلہ میں یہ کرشمہ نہ برق میں یہ ادا
- یہ رشک ہے کہ وہ ہوتا ہے ہم سخن تم سے
- یہ شیشہ و قدح و کوزہ و سبو کیا ہے
- بے صدا ہو جائے گا یہ ساز ہستی ایک دن
- یہ گرد وہم جز بسر امتحاں نہیں
- یہ قاتل وعدۂ صبر آزما کیوں
- یہ کافر فتنۂ طاقت ربا کیا
- جس کی بہار یہ ہو پھر اس کی خزاں نہ پوچھ
- تیرے ہی جلوہ کا ہے یہ دھوکا کہ آج تک
- یہ مے کدہ خراب ہے مے کے سراغ کا
- یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
- ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
- یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا
- یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
- جسے غم سمجھ رہے ہو یہ اگر شرار ہوتا
- یہ مسائل تصوف یہ ترا بیان غالبؔ
- یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیں
- یہ لوگ کیوں مرے زخم جگر کو دیکھتے ہیں
- یہ خرگہ نہ پایۂ جو مدت سے بپا ہے
- قبلۂ کون و مکاں خستہ نوازی میں یہ دیر
- کعبۂ امن و اماں عقدہ کشائی میں یہ ڈھیل
- تھا ہمیشہ سے یہ عریضہ گزار
- دیکھنے میں ہیں گرچہ دو پر ہیں یہ دونوں یار ایک
- لایا ہے کہہ کے یہ غزل شائبہ ریا سے دور
- قسم لو ہم سے گر یہ بھی کہیں کیوں ہم نہ کہتے تھے
- اس سے ہے یہ مراد کہ ہم آشنا نہیں
- غالبؔ یہ کیا بیاں ہے بجز مدح بادشاہ
- ہے جو صاحب کے کف دست پہ یہ چکنی ڈلی
- پھیلا ہے سب جہان میں یہ میوہ دور دور
- ان کو غالبؔ یہ سال اچھا ہے
- خوشی ہے یہ آنے کی برسات کے
- کیا کم ہے یہ شرف کہ ظفرؔ کا غلام ہوں
- یہ تاب یہ مجال یہ طاقت نہیں مجھے
- خدا کرے کہ یہ ایسا ہو سازگار برس
- یہ تو دیکھو کہ کیا نظر آیا
- ہے یہ وہ گلشن ہمیشہ بہار
- آج یہ قدر دان معنی ہے
- ہے یہ القصہ حاصل تحریر
- جو کھاتے حضرت آدم یہ بیسنی روٹی
- یہ دعا شام و سحر قاضی حاجات سے ہے
- سہل تھا مسہل و لے یہ سخت مشکل آپڑی
- تین مسہل تین تبریدیں یہ سب کے دن ہوے
- کہا یہ جلد کہ تو اس میں سوچتا کیا ہے
- یہ بھی اک بے ادبی تھی کہ قبا سے بڑھ جائے
- تار ریشم کا نہیں ہے یہ رگ ابر بہار
- نسبت نام سے اس کے ہے یہ رتبہ کہ رہے
- طبع کو الفت دلدل میں یہ سرگرمی شوق
- یہ کہکشاں ہے کہ ہیں اس میں بے شمار گرہ
- کہ دیکھ کتنی اٹھا لاے گا یہ تار گرہ
- انھیں کی سالگرہ کی یہ شادمانی ہے
- انھیں کی سالگرہ کے لیے ہے یہ توقیر
- سن اے ندیم برس گانٹھ کے یہ تاگے نے
- کڑوڑوں ڈھونڈھ کے لاتا یہ خاکسار گرہ
- کھلے یہ گانٹھ تو البتہ دم نکل جاوے
- دعا یہ ہے کہ مخالف کے دل میں از رہ بغض
- پڑی ہے یہ جو بہت سخت نابکار گرہ
- دل نے کہا کہ یہ بھی ہے تیرا خیال خام
- ستر برس کی عمر میں یہ داغ جانگداز
- چاہیں اگر حضور تو مشکل نہیں یہ کام
- ہے یہ دعا کہ زیر نگیں آپ کے رہے
- یہ اس کے عدل سے اضداد کو ہے آمیزش
- خدا سے ہے یہ توقع کہ عہد طفلی میں
- جوان ہو کے کرے گا یہ وہ جہانبانی
- یہ ترکتاز سے برہم کرے گا کشور روس
- یہ لے گا بادشہ چیں سے چھین تخت و کلاہ
- یہ چاہتے ہیں جہاں آفریں سے شام و پگاہ
- یہ جتنے سینکڑے ہیں سب ہزار ہو جاویں
- یہ چاہتا ہے کہ دنیا میں عز و جاہ کے ساتھ
- یہ ضیا بخش چشم اہل یقیں
- واں کہاں یہ عطا و بذل و کرم
- سنگ یہ کار گہ ربط نزاکت ہے کہ ہے
- ہمت و نشو و نما میں یہ بلندی ہے کہ سرد
- یہ مئے تند نہیں موج خرام اظہار
- یہ تنک مایہ ہے فریادی جوش ایثار
- پر یہ دولت تھی نصیب نگہ معنی ناز
- دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا
- یہ شاہ پسند دال بے بحث و جدال
- یہ چور پڑا ہے خانۂ خاتم میں
- ملتے ہیں یہ بدمعاش لڑنے کے لیے
- یہ دی جو گئی ہے رشتۂ عمر میں گانٹھ
- رکھتے ہیں عشق میں یہ اثر ہم جگر جلے
- ثاقب حرکت یہ کی ہے بیجا تم نے
- فیروزے کی تسبیح کے ہیں یہ دیوانے
- نہ بادشاہ نہ سلطاں یہ کیا ستایش ہے
- امام وقت کی یہ قدر ہے کہ اہل عناد
- یہ اجتہاد عجب ہے کہ ایک دشمن دیں
- یہ ہمیشہ بہ صد نشاط و سرور
- آئے یہ گوے اور یہ میداں
- یہ بھی ناچار جی کا کھونا ہے
- جان شیریں میں یہ مٹھاس کہاں
- نظر آتا ہے یوں مجھے یہ ثمر
- یہ یہ ہو گا کہ فرط رافت سے
- تب ہوا ہے ثمر فشاں یہ نخل
- ہم کہاں ورنہ اور کہاں یہ نخل
- یہ نہیں ہیں گے کسو کے یار غار
- کھینچ لیتے ہیں یہ ڈورے ڈال کر
- یہ جو محفل میں بڑھاتے ہیں تجھے
- اگر ہوتا تو کیا ہوتا یہ کہیے
- نہ ہونے پر ہیں یہ باتیں دہن کی
- دو رنگیاں یہ زمانے کی جیتے جی ہیں سب
- میری دلی ہی میں ہونی تھی یہ خواری ہائے ہائے
- حالت ترے عاشق کی یہ اب آن بنی ہے
- ہاتف غیب سن کے یہ چیخا
- یہ رنگ زرد ہے چمن زعفراں مجھے
- یہ بندۂ کمینہ ہم سایۂ خدا ہے
- تحریر ہے یہ غالبؔ یزداں پرست کی
- انگبیں شہد اور عسل یہ اے عزیز
- نرخ قیمت اور بہا یہ سب ہیں مول
- جس کے حسن روز افزوں کی یہ اک ادنی ہے بات
- سب سے یہ گوشہ کنارے ہے گلے لگ جا مرے
- میں یہ کیا جانوں کہ وہ کس واسطے ہوں پھر گئے
- ہو تجلی برق کی صورت میں ہے یہ بھی غضب
- جان کی پاؤں اماں باتیں یہ سب سچ ہیں مگر