یوں
52 Misre
- گر کرے یوں امر نہی بو تراب آئینے پر
- مری قسمت میں یوں تصویر ہے شب ہاے ہجراں کی
- کنج میں بیٹھا رہوں یوں پر کھلا
- ہم پکاریں اور کھلے یوں کون جاے
- تعجب سے وہ بولا یوں بھی ہوتا ہے زمانے میں
- یوں عاشقوں میں ہے سبب اعتبار داغ
- قاتل تمکیں سنج نے یوں خاموشی کا پیغام کیا
- یوں بعد ضبط اشک پھروں گر دیار کے
- غیر یوں کرتا ہے میری پرسش اس کے ہجر میں
- خوش ہوتے ہیں پر وصل میں یوں مر نہیں جاتے
- یوں ہی دکھ کسی کو دینا نہیں خوب ورنہ کہتا
- حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا
- گر کیا ناصح نے ہم کو قید اچھا یوں سہی
- رہے ہے یوں گہہ و بے گہہ کہ کوئے دوست کو اب
- زہے کرشمہ کہ یوں دے رکھا ہے ہم کو فریب
- تھے یہ ہی دو حساب سو یوں پاک ہو گئے
- یوں ہی گر روتا رہا غالبؔ تو اے اہل جہاں
- یوں بعد ضبط اشک پھروں گرد یار کے
- پر ہوں میں شکوے سے یوں راگ سے جیسے باجا
- شاہ کی مدح میں یوں نغمہ سرا ہوتا ہے
- ہے یوں کہ مجھے درد تہ جام بہت ہے
- غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا کہ یوں
- بوسہ کو پوچھتا ہوں میں منہ سے مجھے بتا کہ یوں
- اس کے ہر ایک اشارہ سے نکلے ہے یہ ادا کہ یوں
- آئے وہ یاں خدا کرے پر نہ کرے خدا کہ یوں
- سامنے آن بیٹھنا اور یہ دیکھنا کہ یوں
- اس کی تو خامشی میں بھی ہے یہی مدعا کہ یوں
- سن کے ستم ظریف نے مجھ کو اٹھا دیا کہ یوں
- دیکھ کے میری بے خودی چلنے لگی ہوا کہ یوں
- آئنہ دار بن گئی حیرت نقش پا کہ یوں
- موج محیط آب میں مارے ہے دست و پا کہ یوں
- گفتۂ غالبؔ ایک بار پڑھ کے اسے سنا کہ یوں
- ہم رہیں یوں تشنہ لب پیغام کے
- نہ لٹتا دن کو تو کب رات کو یوں بے خبر سوتا
- تعجب سے وہ بولا یوں بھی ہوتا ہے زمانے میں
- میں اور بزم مے سے یوں تشنہ کام آؤں
- کاش یوں بھی ہو کہ بن میرے ستائے نہ بنے
- غیر پھرتا ہے لیے یوں ترے خط کو کہ اگر
- ہوا جب غم سے یوں بے حس تو غم کیا سر کے کٹنے کا
- وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا
- یوں ہو تو چارۂ غم الفت ہی کیوں نہ ہو
- زندگی یوں بھی گزر ہی جاتی
- ہیں کتنے بے حجاب کہ ہیں یوں حجاب میں
- تمہیں کہو کہ جو تم یوں کہو تو کیا کہیے
- وہ خوں جو چشم تر سے عمر بھر یوں دم بدم نکلے
- یوں سمجھیے کہ بیچ سے خالی کیے ہوئے
- اس کے جولاں میں نظر آے ہے یوں دامن زیں
- موکب خاص یوں زمیں پر تھا
- پر وہ یوں سہل دے نہ سکتا جان
- نظر آتا ہے یوں مجھے یہ ثمر
- غم نے جب گھیرا تو چاہا ہم نے یوں اے دلنواز
- دیکھنا قسمت وہ آئے اور پھر یوں پھر گئے