یعنی
38 Misre
- یعنی یہ ہر ورق ورق انتخاب ہے
- یعنی اے پیر فلک شام جوانی مفت ہے
- یعنی ہنوز منت طفلاں اٹھائیے
- یعنی اس بیمار کو نظارے سے پرہیز ہے
- اے غنچۂ تمنا یعنی کف نگاریں
- یعنی سخن کو کاغذ احرام مدعا ہے
- یعنی ہیں ماندہ ازاں سووازیں سوراندہ
- یعنی کہ بندۂ بہ درم نا خریدہ ہوں
- خدا یعنی پدر سے مہرباں تر
- ہنوز آفت نسب یک خندہ یعنی چاک باقی ہے
- مدعا در پردہ یعنی جو کہوں باطل سمجھ
- یعنی دماغ غفلت ساقی رسیدہ تر
- شب دراز و آتش دل تیز یعنی مثل شمع
- یعنی سبق شوق مکرر نہ ہوا تھا
- خوں ہے دل خاک میں احوال بتاں پر یعنی
- یعنی تجھ سے تھی اسے نا سازگاری ہائے ہائے
- یعنی ہمارے جیب میں اک تار بھی نہیں
- یعنی یہ ہر ورق ورق انتخاب ہے
- یعنی ہنوز منت طفلاں اٹھائیے
- یعنی بہ حسب گردش پیمانۂ صفات
- یعنی یہ میری آہ کی تاثیر سے نہ ہو
- لکھنؤ آنے كا باعث نہیں کھلتا یعنی
- سادگی ہائے تمنا یعنی
- حال دل نہیں معلوم لیکن اس قدر یعنی
- یعنی اس بیمار کو نظارے سے پرہیز ہے
- یعنی بغیر یک دل بے مدعا نہ مانگ
- یعنی دعا بجز خم زلف دوتا نہ مانگ
- یعنی یہ پہلے ہی نذر امتحاں ہو جائے گا
- یعنی دعا پہ مدح کا کرتے ہیں اختتام
- پشت لب تہمت خط کھینچے ہے بے جا یعنی
- جوہر دست دعا آئنہ یعنی تاثیر
- یعنی تب عشق شعلہ پرور ہے آج
- یعنی ہر بار صورت کاغذ باد
- سامان ہزار جستجو یعنی دل
- ساغر کش خون آرزو یعنی دل
- منظور ہے دو جہاں سے نو یعنی دل
- یاران رسول یعنی اصحاب کبار
- لیل یعنی رات دن اور روز یوم