یاں
147 Misre
- یاں جز فسوں نہیں اگر افسانہ چاہیے
- یاں نگہ آلودہ ہے دستار بادامی تری
- کہ یاں غواص ہے تمثال اور آئینہ دریا ہے
- کہ یاں افسون خواب افسانۂ خواب زلیخا ہے
- بجاے غنچہ و گل ہے ہجوم خار و خس یاں تک
- غبار سرمہ یاں گرد سواد نرگستاں ہے
- شورش باطن سے یاں تک مجھ کو غفلت ہے کہ آہ
- نقش پاے خضر یاں سدّ سکندر ہو گیا
- یاں صریر خامہ مجھ کو نالۂ رنجور ہے
- یاں فلاخن باز کس کا نالۂ بے باک ہے
- یاں خط پرکار ہستی حلقۂ فتراک ہے
- رنگ یاں بوسے سوار تو سن چالاک ہے
- یاں صریر خامہ مجھ کو نالۂ جانکاہ ہے
- حسرت عرض تمنا یاں سے سمجھا چاہئے
- یاں تیرگی اختر خال رخ زنگی ہے
- یاں زورق خودداری طوفانی معنی ہے
- تیز تر ہوتا ہے خشم تند خو یاں عجز سے
- پیچ تاب جادہ ہے یاں جوہر تیغ عسس
- ہے ترحم آفریں آرایش بیداد یاں
- اشک چشم دام ہے ہر دانۂ صیاد یاں
- نیش زنبور عسل ہے نشتر فصاد یاں
- ہے زر گل بھی نظر میں جوہر فولاد یاں
- کمتریں مزدور سنگیں دست ہے فرہاد یاں
- بارے اپنی بیکسی کی ہم نے پائی داد یاں
- مہر گردوں ہے چراغ رہ گزار باد یاں
- ہے تماشا کردنی گل چینی جلاد یاں
- کہ یاں ہر یک حباب آسا شکست آمادہ آتا ہے
- زبس ہر شمع یاں آئینۂ حیرت پرستی ہے
- ہر شمع شہادت کو ہے یاں سر بسر انگشت
- یاں سراغ عافیت جز دیدۂ بسمل نہ پوچھ
- یاں سوختنی اور وہاں ساختنی ہے
- اٹھا یاں سے نہ میرا آب و دانہ
- شورش باطن کے ہیں احباب منکر ورنہ یاں
- کریں گر قدر اشک دیدۂ عاشق خود آرا یاں
- آبلے پا کے ہیں یاں رفتار کو دندان عجز
- یاں ہجوم عجز سے تا سجدہ ہے جولان عجز
- وہ آے یا نہ آے پہ یاں انتظار ہے
- بہ قدر رنگ یاں گردش میں ہے پیمانہ محفل کا
- تب سے ہے یاں دہن یار کا مذکور ہنوز
- کچھ نہ کی اپنی جنون نارسا نے ورنہ یاں
- ورنہ یاں بے رونقی سود چراغ کشتہ ہے
- اثر میں یاں تک اے دست دعا دخل تصرف کر
- یاں عرض سے رتبۂ جوہر کھلا
- کی ہیں کس پانی سے یاں یعقوب نے آنکھیں سفید
- حسرت عرض تمنا یاں سے سمجھا چاہیے
- یاں نعل ہے بہ آتش رنگ حنا گرو
- رہے یاں شوخی رفتار سے پا آستانے میں
- کہ یاں گم کر جبیں سجدہ فرسا آستانے میں
- جرس قافلہ یاں دل ہے گرانباروں کا
- گریے سے یاں پنبۂ بالش کف سیلاب تھا
- ناخن غم یاں سر تار نفس مضراب تھا
- یاں ہجوم اشک میں تار نگہ نایاب تھا
- یاں رواں مژگان چشم تر سے خون ناب تھا
- یاں سر پر شور بے خوابی سے تھا دیوار جو
- یاں نفس کرتا تھا روشن شمع بزم بے خودی
- یاں زمیں سے آسماں تک سوختن کا باب تھا
- کچھ نہ کی اپنے جنون نارا سنے ورنہ یاں
- سیل یاں کوک صداے آبشار نغمہ ہے
- پختگی ہاے تصور یاں خیال خام ہے
- ہر سبزۂ نوخاستہ یاں بال پری ہے
- رکھتا ہے داغ تازہ کا یاں انتظار داغ
- یاں اشک جدا گرم ہے اور آہ جدا گرم
- وا کرسکے یاں کون بجز کاوش شوخی
- اے آبلے کرم کر یاں رنجہ یک قدم کر
- یاں پر پرواز رنگ رفتہ بال تیر ہے
- یاں گلوے شیشۂ مے قبضۂ شمشیر ہے
- واں سیاہی مردمک ہے اور یاں داغ شراب
- یاں صریر خامہ غیر از اصطکاک در نہیں
- یاں ہے کہ داغ لالہ دماغ بہار ہے
- یاں ہے کہ صحبت خس آتش برار ہے
- اے واے غفلت نگہ شوق ورنہ یاں
- یاں پشت چشم شوخیٔ قاتل ہے آئنہ
- یاں رہ گئے ہیں ناخن تدبیر ٹوٹ کر
- یاں سنگ آستانۂ بیدلؔ ہے آئنہ
- ہر شمع شہادت کو ہے یاں سربسر انگشت
- برق خرمن زار گوہر ہے نگاہ تیز یاں
- اے وائے غفلت نگۂ شوق ورنہ یاں
- جوہر آئینہ ہے یاں نقش احضار چمن
- مجبور یاں تلک ہوئے اے اختیار حیف
- یاں تک مٹے کہ آپ ہم اپنی قسم ہوئے
- جو واں نہ کھنچ سکے سو وہ یاں آ کے دم ہوئے
- جوہر آئینہ ہے یاں گرد میدان نزاع
- وہ آئے یا نہ آئے پہ یاں انتظار ہے
- یاں تو کوئی سنتا نہیں فریاد کسو کی
- بارے اپنی بیکسی کی ہم نے پائی داد یاں
- مہر گردوں ہے چراغ رہ گزار باد یاں
- ہے ترحم آفریں آرائش بیداد یاں
- اشک چشم دام ہے ہر دانۂ صیاد یاں
- نیش زنبور اصل ہے نشتر فصاد یاں
- ہے زر گل بھی نظر میں جوہر فولاد یاں
- کمتریں مزدور سنگیں دست ہے فرہاد یاں
- ہے تماشہ کردنی گل چینیٔ جلاد یاں
- واں وہ غرور عز و ناز یاں یہ حجاب پاس وضع
- یاں آ پڑی یہ شرم کہ تکرار کیا کریں
- ہے جوش گل بہار میں یاں تک کہ ہر طرف
- بے عشق عمر کٹ نہیں سکتی ہے اور یاں
- یاں دل میں ضعف سے ہوس یار بھی نہیں
- اس کی بزم آرائیاں سن کر دل رنجور یاں
- ورنہ یاں بے رونقی سود چراغ کشتہ ہے
- بہ قدر رنگ یاں گردش میں ہے پیمانہ محفل کا
- گریہ سے یاں پنبۂ بالش کف سیلاب تھا
- یاں ہجوم اشک میں تار نگہ نایاب تھا
- یاں رواں مژگان چشم تر سے خون ناب تھا
- یاں سر پر شور بے خوابی سے تھا دیوار جو
- یاں نفس کرتا تھا روشن شمع بزم بے خودی
- یاں زمیں سے آسماں تک سوختن کا باب تھا
- ناخن غم یاں سر تار نفس مضراب تھا
- شورش باطن کے ہیں احباب منکر ورنہ یاں
- یاں امتیاز ناقص و کامل نہیں رہا
- یاں عرصۂ طپیدن بسمل نہیں رہا
- غافل بہ وہم ناز خود آرا ہے ورنہ یاں
- حسرت عرض تمنا یاں سے سمجھا چاہیے
- رہنے دے مجھے یاں کہ ابھی کام بہت ہے
- آئے وہ یاں خدا کرے پر نہ کرے خدا کہ یوں
- رہے یاں شوخیٔ رفتار سے پا آستانے میں
- کہ یاں گم کر جبین سجدہ فرسا آستانے میں
- یاں تلک میری گرفتاری سے وہ خوش ہے کہ میں
- نہ چھوڑی حضرت یوسف نے یاں بھی خانہ آرائی
- یاں ورنہ جو حجاب ہے پردہ ہے ساز کا
- کہ یاں غواص ہے تمثال اور آئینہ دریا ہے
- کہ یاں افسون خواب افسانۂ خواب زلیخا ہے
- موئے آتش دیدہ ہے ہر حلقہ یاں زنجیر کا
- واں اس کو ہول دل ہے تو یاں میں ہوں شرم سار
- وہی اک بات ہے جو یاں نفس واں نکہت گل ہے
- رشتۂ پا یاں نوا سامان بند ساز ہے
- یاں کیا دھرا ہے قطرہ و موج و حباب میں
- بے چارہ چند روز کا یاں میہمان ہے
- یاں نالہ کو اور الٹا دعواۓ رسائی ہے
- ہجوم غم سے یاں تک سرنگونی مجھ کو حاصل ہے
- بہا ہے یاں تک اشکوں میں غبار کلفت خاطر
- واں سیاہی مردمک ہے اور یاں داغ شراب
- یاں صریر خامہ غیر از اصطکاک در نہیں
- یاں شعلۂ چراغ ہے برگ حنا مجھے
- یاں آب و دانہ موسم گل میں حرام ہے
- یاں جز فسوں نہیں اگر افسانہ چاہیے
- یاں جادہ بھی فتیلہ ہے لالے کے داغ کا
- کوئی واں سے نہ آ سکے یاں تک
- آدمی واں نہ جا سکے یاں کا
- ہے اسی طور پہ یاں دجلہ فشاں دست کرم
- خضر بھی یاں اگر آجائے تو لے ان کے قدم
- جو یاں گنیں گے تو پاویں گے نو ہزار گرہ
- یاں زمیں پر نظر جہاں تک جائے
- یاں وہ دیکھا بچشم صورت بیں
- جام جمشید ہے یاں قالب خشت دیوار
- یاں تک انصاف نوازی کہ اگر ریزۂ سنگ
- نظارہ سوز ہے یاں تک ہر ایک ذرہ خاک
- کروں کیا کہ یاں گر رہے ہیں مکاں