یارب
40 Misre
- شور تمثال ہے کس رشک چمن کا یارب
- یارب بیان شانہ کش گفتگو نہ ہو
- یارب کہ خار پیرہن آرزو نہ ہو
- کس کو دوں یارب حساب سوزناکی ہائے دل
- یارب یہ درد مند ہے کس کی نگاہ کا
- بتان شوخ کا دل سخت ہوگا کس قدر یارب
- کیوں ہوا تھا طرف آبلۂ پا یارب
- خوں ہوا دل تا جگر یارب زبان شکوہ لال
- دل آگاہ تسکیں خیز بیدردی نہ ہو یارب
- زخم نے داد نہ دی تنگی دل کی یارب
- کس قدر خاک ہوا ہے دل مجنوں یارب
- فہم زنجیری بے ربطی دل ہے یارب
- یارب میں کس غریب کا بخت رمیدہ ہوں
- کیوں نہ فردوس میں دوزخ کو ملا لیں یارب
- درس نیرنگ ہے کس موج نگہ کا یارب
- یارب آئینہ بہ طاق خم شمشیر آوے
- قاصد تپش نالہ ہے یارب خبر آوے
- درد آئنہ کیفیت صد رنگ ہے یارب
- زاہد کہ جنوں سبحۂ تحقیق ہے یارب
- یاد روزے کہ نفس سلسلۂ یارب تھا
- یاد روزے کہ نفس در گرہ یارب تھا
- بتان شوخ کا دل سخت ہوگا کس قدر یارب
- کہ مرے عدو کو یارب ملے میری زندگانی
- یارب زمانہ مجھ کو مٹاتا ہے کس لیے
- وہ نگاہیں کیوں ہوئی جاتی ہیں یارب دل کے پار
- فہم زنجیریٔ بے ربطیٔ دل ہے یارب
- کس قدر یارب ہلاک حسرت پا بوس تھا
- یارب نفس غبار ہے کس جلوہ گاہ کا
- کھلے گا کس طرح مضموں مرے مکتوب کا یارب
- یارب یہ درد مند ہے کس کی نگاہ کا
- دل بھی یارب کئی دیے ہوتے
- مری قسمت میں یارب کیا نہ تھی دیوار پتھر کی
- ہے شکستن سے بھی دل نومید یارب کب تلک
- یارب وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے مری بات
- عذر لنگ آفت جولان ہوس ہے یارب
- کس قدر عرض کروں ساغر شبنم یارب
- دو جہاں طالب دیدار تھا یارب کہ ہنوز
- تہمت بے خودی کفر نہ کھینچے یارب
- ہمارے درد کی یارب کہیں دوا نہ ملے
- ناگہاں یاد آگئی ہے مجھ کو یارب کب کی بات