یار
116 Misre
- جادہ ہے یار کی روش گفتگو اسدؔ
- ازاں جا کہ حسرت کش یار ہیں ہم
- سر شک چشم یار آب دم شمشیر ابرو ہے
- پہ زلف یار کا افسانہ ناتمام رہا
- کہ تیغ یار ہلال مہ محرم ہے
- گربہ بزم باغ کھینچے نقش روے یار کو
- ہے تصور صافی قطع نظر از غیر یار
- کیوں نہ تیغ یار کو مشاطہ الفت کہوں
- ہے عرق افشاں مشی سے ادہم مشکین یار
- طرفہ موزدنی ہے صرف جنگ جوئی ہاے یار
- ہاتھ آیا زخم تیغ یار سا پہلو نشیں
- فرط بے خوابی سے ہیں شب ہاے ہجر یار میں
- جانتے ہیں جوشش سوداے زلف یار میں
- دل دے کف تغافل ابروے یار میں
- رخسار یار کی جو کھلی جلوہ گستری
- کرتے ہوے تصور یار آے ہے حیا
- افسانۂ زلف یار سر کر
- اے دل بہ خیال عارض یار
- کوچۂ یار جو مجھ سے قدم چند رہا
- عارض گل دیکھ روے یار یاد آیا اسدؔ
- عذار یار نظر بند چشم گریاں ہے
- بہ رنگ جادہ سر کوے یار رکھتے ہیں
- ہاتھ پر گر ہاتھ مارے یار وقت قہقہہ
- عمر میری ہو گئی صرف بہار حسن یار
- جوں زلف یار ہوں میں سراپا شکستہ دل
- بلا گردان بے پروا خرامی ہاے یار آتش
- یار معذور تغافل ہے عزیزاں شفقتے
- چشم مست یار سے ہے گردن مینا پہ باج
- خون جگر ودیعت مژگان یار تھا
- یار کا دروازہ پاویں گر کھلا
- تب سے ہے یاں دہن یار کا مذکور ہنوز
- بنتا اسدؔ میں سرمۂ چشم رکاب یار
- شب کہ تھی کیفیّت محفل بیاد روے یار
- لگے گر سنگ سر پر یار کے دست نگاریں سے
- رنجش یار مہرباں عیش و طرب کا ہے نشاں
- گر زلف یار کھنچ نہ سکے شانہ کھینچیے
- نگاہ ناز چشم یار میں زنار مینا ہے
- نقاب یار غفلت نگاہی اہل بینش کی
- اسدؔ بند قباے یار ہے فردوس کا غنچہ
- پوچھا تھا گرچہ یار نے احوال دل مگر
- جو کچھ ہے محو شوخی ابروے یار ہے
- شام فراق یار میں جوش خیرہ سری سے ہم نے اسدؔ
- کہ زلف یار ہے مجموعۂ پریشانی
- بعد از وداع یار بخوں در تپیدہ ہیں
- ہے جہاں فکر کشیدن ہاے نقش روے یار
- ریزش خون وفا ہے جرعہ نوشی ہاے یار
- حیرت شہید جنبش ابروئے یار ہے
- نقاب یار ہے از پردہ ہاے چشم نابینا
- خون جگر ودیعت مژگان یار تھا
- بس کہ پائی یار کی رنگیں ادائی سے شکست
- نہیں ہے سایہ کہ سن کر نوید مقدم یار
- بنتا اسدؔ میں سرمۂ چشم رکاب یار
- جب تک کہ نہ دیکھا تھا قد یار کا عالم
- میں سادہ دل آرزدگئ یار سے خوش ہوں
- کہوں کیا دل کی کیا حالت ہے ہجر یار میں غالبؔ
- جب بہ تقریب سفر یار نے محمل باندھا
- یار نے تشنگیٔ شوق کے مضموں چاہے
- جو کچھ ہے محو شوخی ابروئے یار ہے
- پوچھا تھا گرچہ یار نے احوال دل مگر
- جس جا نسیم شانہ کش زلف یار ہے
- آستان یار سے اٹھ جائیں کیا
- پھر بے خودی میں بھول گیا راہ کوئے یار
- اڑتی پھرے ہے خاک مری کوئے یار میں
- موج خرام یار بھی کیا گل کتر گئی
- دل میں ذوق وصل و یاد یار تک باقی نہیں
- نہ ہوئی ہم سے رقم حیرت خط رخ یار
- یاں دل میں ضعف سے ہوس یار بھی نہیں
- دل میں ہے یار کی صف مژگاں سے روکشی
- بن گیا ہیں تیغ نگاہ یار کا سنگ فساں
- جلے ہے دیکھ کے بالین یار پر مجھ کو
- یار تیرا جام مے خمیازہ میرا آشنا
- گزرا اسدؔ مسرت پیغام یار سے
- گرد راہ یار ہے سامان ناز زخم دل
- ہنوز اک پرتو نقش خیال یار باقی ہے
- یوں بعد ضبط اشک پھروں گرد یار کے
- بعد از وداع یار بہ خوں در تپیدہ ہیں
- اسدؔ پردے میں بھی آہنگ شوق یار قائم ہے
- یار سے چھیڑ چلی جائے اسدؔ
- فرط بے خوابی سے ہیں شب ہاۓ ہجر یار میں
- جانتے ہیں جوشش سودائے زلف یار میں
- مجھ سے کہا جو یار نے جاتے ہیں ہوش کس طرح
- کب مجھے کوئے یار میں رہنے کی وضع یاد تھی
- چشم مست یار سے ہے گردن مینا پہ باج
- مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے
- نگاہ ناز چشم یار میں زنار مینا ہے
- ملتی ہے خوئے یار سے نار التہاب میں
- یار لائے مری بالیں پہ اسے پر کس وقت
- نعل آتش میں ہے تیغ یار سے نخچیر کا
- بلا سے گر مژۂ یار تشنۂ خوں ہے
- بلا گردان بے پروا خرامی ہائے یار آتش
- کہ تیغ یار ہلال مہ محرم ہے
- تھا گریزاں مژۂ یار سے دل تا دم مرگ
- چاہیے درمان ریش دل بھی تیغ یار سے
- ہاتھ پر گر ہاتھ مارے یار وقت قہقہہ
- یار ہی ہنگامہ آرا چاہیے
- کیا بیاں کر کے مرا روئیں گے یار
- کہ دامان خیال یار چھوٹا جائے ہے مجھ سے
- بیٹھا ہے جو کہ سایۂ دیوار یار میں
- کیوں جل گیا نہ تاب رخ یار دیکھ کر
- واحسرتا کہ یار نے کھینچا ستم سے ہاتھ
- عارض گل دیکھ روئے یار یاد آیا اسدؔ
- ہوں داغ نیم رنگیٔ شام وصال یار
- فراق یار میں تسکین ہو تو کیونکر ہو
- کاش رضواں ہی در یار کا درباں ہوتا
- جادہ ہے یار کی روش گفتگو اسدؔ
- یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
- دیکھنے میں ہیں گرچہ دو پر ہیں یہ دونوں یار ایک
- ایک محب چار یار عاشق ہشت و چار ایک
- بچی نہ از پئے بند نقاب یار گرہ
- سرو بیدل سے عیاں عکس خیال قد یار
- دل عاشق شکن آموز خم طرۂ یار
- پر یار کے آگے بول سکتے ہی نہیں
- یہ نہیں ہیں گے کسو کے یار غار
- شمشیر صاف یار جو زہراب دادہ ہو
- صبح سے دیکھیں گے رستہ یار کا
- کھینچتا تھا رات کو میں خواب میں تصویر یار