یاد
68 Misre
- بہ یاد قامت اگر ہو بلند آتش غم
- گو یاد مجھ کو کرتے ہیں خوباں
- ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
- دہان تنگ مجھے کس کا یاد آیا تھا
- گر کرے انجام کو آغاز ہی میں یاد گل
- بس کہ وہ پا کو بیاں در پردۂ وحشت ہیں یاد
- بے تابی یاد دوست ہم رنگ تسلی ہے
- عارض گل دیکھ روے یار یاد آیا اسدؔ
- ہوں زپا افتادۂ انداز یاد حسن سبز
- یاد ایامے کہ ذوق صحبت احباب تھا
- یاد کر وہ دن کہ ہر یک حلقہ تیرے دام کا
- یاد ایام کہ ذوق صحبت احباب تھا
- یاد کر وہ دن کہ ہر اک حلقہ تیرے دام کا
- گرچہ خدا کی یاد ہے کلفت ماسوا سمجھ
- یاد روزے کہ نفس سلسلۂ یارب تھا
- یاد روزے کہ نفس در گرہ یارب تھا
- یاد رکھیے ناز ہائے التفات اولیں
- زنجیر یاد پڑتی ہے جادے کو دیکھ کر
- دل میں ذوق وصل و یاد یار تک باقی نہیں
- یاد کرتا ہے مجھے دیکھے ہے وہ جس جا نمک
- یاد ہیں غالبؔ تجھے وہ دن کہ وجد ذوق میں
- ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
- یاد تھیں ہم کو بھی رنگا رنگ بزم آرائیاں
- یاد تھیں جتنی دعائیں صرف درباں ہو گئیں
- انداز نالہ یاد ہیں سب مجھ کو پر اسدؔ
- فلک کا دیکھنا تقریب تیرے یاد آنے کی
- کب مجھے کوئے یار میں رہنے کی وضع یاد تھی
- مجھے اب دیکھ کر ابر شفق آلودہ یاد آیا
- دشت میں ہے مجھے وہ عیش کہ گھر یاد نہیں
- تم کو بے مہری یاران وطن یاد نہیں
- ہوئی مدت کہ غالبؔ مر گیا پر یاد آتا ہے
- کبھی جو یاد بھی آتا ہوں میں تو کہتے ہیں
- یہ کیا کہ تم کہو اور وہ کہیں کہ یاد نہیں
- یاد مژگاں میں بہ نشتر زار سودائے خیال
- پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا
- پھر ترا وقت سفر یاد آیا
- پھر وہ نیرنگ نظر یاد آیا
- نالہ کرتا تھا جگر یاد آیا
- کیوں ترا راہ گزر یاد آیا
- گھر ترا خلد میں گر یاد آیا
- دل سے تنگ آ کے جگر یاد آیا
- دل گم گشتہ مگر یاد آیا
- دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا
- سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا
- وصل میں ہجر کا ڈر یاد آیا
- عین جنت میں سقر یاد آیا
- جفائیں کر کے اپنی یاد شرما جائے ہے مجھ سے
- کیوں نہ چیخوں کہ یاد کرتے ہیں
- یاد رکھیے ناز ہائے التفات اولیں
- یاد آ گیا مجھے تری دیوار دیکھ کر
- عارض گل دیکھ روئے یار یاد آیا اسدؔ
- آتا ہے داغ حسرت دل کا شمار یاد
- فلک کو دیکھ کے کرتا ہوں اس کو یاد اسدؔ
- قید میں ہے ترے وحشی کو وہی زلف کی یاد
- یاد ہے شادی میں بھی ہنگامۂ یا رب مجھے
- کسی کو یاد بھی لقمان کا نہیں ہے نام
- جب یاد آگئی ہے کلیجا لیا ہے تھام
- یاد آیا جو وہ کہنا کہ نہیں واہ غلط
- جمع اس کی یاد رکھ اصحاب ہے
- تار تانا پود بانا یاد رکھ
- آزمودن آزمانا یاد رکھ
- ہاں غزل پڑھیے سبق گر یاد ہو
- پھاند جانا یاد ہو دیوار کا
- فارسی کیوں کی چرا ہے یاد رکھ
- اور گھنٹالا درا ہے یاد رکھ
- گیتی اور گیہاں ہے دنیا یاد رکھ
- اور ہے نداف دھنیا یاد رکھ
- ناگہاں یاد آگئی ہے مجھ کو یارب کب کی بات