یا
61 Misre
- یا میں غریب کشور گفت و شنود تھا
- یہ بھی یا حضرت ایوب گلا ہے تو سہی
- اپنا احوال دل زار کہوں یا نہ کہوں
- ہے حیا مانع اظہار کہوں یا نہ کہوں
- میں بھی ہوں محرم اسرار کہوں یا نہ کہوں
- شکر سمجھو اسے یا کوئی شکایت سمجھو
- اپنی ہستی سے ہوں بیزار کہوں یا نہ کہوں
- جب نہ پاؤں کوئی غم خوار کہوں یا نہ کہوں
- ہوں اک آفت میں گرفتار کہوں یا نہ کہوں
- گوش ہیں در پس دیوار کہوں یا نہ کہوں
- حسب حال اپنے پھر اشعار کہوں یا نہ کہوں
- اسدؔ حسرت کش یک داغ مشک انددوہ ہے یا رب
- نہاں ہیں نالۂ ناقوس میں در پردہ یا رب ہا
- یا علی وقت عنایات و دم تائید ہے
- یا میرے زخم رشک کو رسوا نہ کیجیے
- یا پردۂ تبسم پنہاں اٹھائیے
- لیں بوسہ یا یا مصیبت ہجراں بیاں کریں
- خدایا چشم یا دل درد ہے افسون آگاہی
- نقش عبرت در نظر یا نقد عشرت در بساط
- لغزش پا کو ہے بلد نغمۂ یا علی مدد
- وہ آے یا نہ آے پہ یاں انتظار ہے
- غبار آوارہ و سرگشتہ ہے یا بو تراب اس کا
- ہوں دردمند جبر ہو یا اختیار ہو
- تنگی رفیق رہ تھی عدم یا وجود تھا
- یا رب ہمیں تو خواب میں بھی مت دکھائیو
- شور تمثال ہے کس رشک چمن کا یا رب
- رکھیو یا رب یہ در گنجینۂ گوہر کھلا
- دنیا ہو یا رب اور مرا بادشاہ ہو
- یا میں غریب کشور گفت و شنود تھا
- تنگی رفیق رہ تھی عدم یا وجود تھا
- کانٹوں کی زباں سوکھ گئی پیاس سے یا رب
- وہ آئے یا نہ آئے پہ یاں انتظار ہے
- لکھ دیجیو یا رب اسے قسمت میں عدو کی
- یا رب اپنے خط کو ہم پہنچایں کیا
- دعا قبول ہو یا رب کہ عمر خضر دراز
- یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے
- غیر کو یا رب وہ کیونکر منع گستاخی کرے
- مے وہ کیوں بہت پیتے بزم غیر میں یا رب
- یا رب اگر ان کردہ گناہوں کی سزا ہے
- زخم نے داد نہ دی تنگئ دل کی یا رب
- کس قدر خاک ہوا ہے دل مجنوں یا رب
- یا میرے زخم رشک کو رسوا نہ کیجیے
- یا پردۂ تبسم پنہاں اٹھائیے
- یا شب کو دیکھتے تھے کہ ہر گوشۂ بساط
- یا صبح دم جو دیکھیے آ کر تو بزم میں
- نقش عبرت در نظر یا نقد عشرت در بساط
- وہ حلقہ ہاۓ زلف کمیں میں ہیں یا خدا
- قہر ہو یا بلا ہو جو کچھ ہو
- نہ جانوں نیک ہوں یا بد ہوں پر صحبت مخالف ہے
- کیوں ہوا تھا طرف آبلۂ پا یا رب
- ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یا رب
- سر جائے یا رہے نہ رہیں پر کہے بغیر
- یا رب ملے بلندیٔ دست دعا مجھے
- یا رب حساب سختیٔ خواب گراں نہ پوچھ
- یاد ہے شادی میں بھی ہنگامۂ یا رب مجھے
- یا رب اس آشفتگی کی داد کس سے چاہئے
- اس طرح کے وصال سے یا رب
- یا خدا غالبؔ عاصی کے خدا وند کو دے
- یا علی عرض کر اے فطرت وسواس قریں
- یا لگا کر خضر نے شاخ نبات
- یا فقط رستہ ہمیں بتلاؤ گے