ہے
3563 Misre
- لایا ہے لعل بیش بہا کاروان اشک
- ظاہر کرے ہے جنبش مژگاں سے مدعا
- طفلانہ ہاتھ کا ہے اشارہ زبان اشک
- دل خستگاں کو ہے طرب صد چمن بہار
- سیل بنائے مستی شبنم ہے آفتاب
- ہے بر سر مژہ نگراں دیدبان اشک
- ایراہی دے کے ہم نے بچایا ہے کشت کو
- ٹیڑھا لگا ہے قط قلم سر نوشت کو
- جادۂ صحرائے آگاہی، شعاع جلوہ ہے
- صلح گل گرد ادب گاہ نزاع جلوہ ہے
- حسن خوباں بسکہ بے قدر تماشا ہے اسدؔ
- آئینہ یک دست رد امتناع جلوہ ہے
- بازی خور فریب ہے اہل نظر کا ذوق
- عالم طلسم شہر خموشاں ہے سر بسر
- آنکھوں میں انتظار سے جاں پر شتاب ہے
- آتا ہے آ وگرنہ یہ پا در رکاب ہے
- خط صفحۂ عذار پہ گرد کتاب ہے
- رنگ سیاہ نیل غبار سحاب ہے
- تاثیر جستن اشک سے نقش بر آب ہے
- ظاہر ہے طرز قید سے صیاد کی غرض
- جو دانہ دام میں ہے سو اشک کباب ہے
- یعنی یہ ہر ورق ورق انتخاب ہے
- ہر ایک ذرہ غیرت صد آفتاب ہے
- ہے ہے خدا نہ کردہ تجھے بے وفا کہوں
- دز دیدن دل ستم آمادہ ہے محال
- طرز آفرین نکتہ سرائی طبع ہے
- غالبؔ ہے رتبہ فہم تصور سے کچھ پرے
- ہے عجز بندگی کہ علی کو خدا کہوں
- آپ نے مسنی الضر کہا ہے تو سہی
- یہ بھی یا حضرت ایوب گلا ہے تو سہی
- ذہن میں خوبی تسلیم و رضا ہے تو سہی
- ہے غنیمت کہ بامید گزر جاے گی عمر
- نہ ملے داد مگر روز جزا ہے تو سہی
- دوست گر کوئی نہیں ہے جو کرے چارہ گری
- نہ سہی لیک تمناے دوا ہے تو سہی
- نہ سہی ہم سے پر اس بت میں وفا ہے تو سہی
- کچھ نہ کچھ روز ازل تم نے لکھا ہے تو سہی
- شرۂ تیزی شمشیر قضا ہے تو سہی
- ہے وصل ہجر عالم تمکین و ضبط میں
- ساقی بہار موسم گل ہے سرور بخش
- جادہ ہے یار کی روش گفتگو اسدؔ
- فسون حسن سے ہے شوخی گلگونہ آرائی
- نواے بلبل و گل پاسبان بے دماغی ہے
- جفا شوخ و ہوس گستاخ مطلب ہے مگر عاشق
- نواے طائران آشیاں گم کردہ آتی ہے
- تماشا ہے کہ رنگ رفتہ بر گر دیدنی جانے
- صدف کی ہے ترے نقش قدم میں کیفیت
- اے خیال وصل نادر ہے مے آشامی تری
- ہے نزاکت جلوہ اے ظالم سیہ خامی تری
- برگ ریزی ہاے گل ہے وضع زر افشاندنی
- باج لیتی ہے گلستاں سے گل اندامی تری
- بس کہ ہے عبرت ادیب یادگی ہاے ہوس
- ہم نشینی رقیباں گرچہ ہے سامان رشک
- لیکن اس سے ناگوارا تر ہے بدنامی تری
- یاں نگہ آلودہ ہے دستار بادامی تری
- سر بزانوے کرم رکھتی ہے شرم نا کسی
- اے اسدؔ بیجا نہیں ہے غفلت آرامی تری
- نا امیدی ہے خیال خانہ ویراں کیا کرے
- یک طرف جلتا ہے دل اور یک طرف جلتا ہوں میں
- ہے مساس دست افسوس آتش انگیز تپش
- ہے تماشا گاہ سوز تازہ ہر یک عضو تن
- یہ مرف تابکے نہیں ہے
- واں عزت تخت کئے نہیں ہے
- ہے حیا مانع اظہار کہوں یا نہ کہوں
- دل کے ہاتھوں سے کہ ہے دشمن جانی میرا
- میں تو دیوانہ ہوں اور ایک جہاں ہے غماز
- بقدر حوصلۂ عشق جلوہ ریزی ہے
- بہار در گرو غنچہ شہر جولاں ہے
- تکلف آئنہ دو جہاں مدارا ہے
- اثر سوز محبت کا قیامت بے محابا ہے
- کہ رگ سے سنگ میں تخم شرر کا ریشہ پیدا ہے
- نہاں ہے گوہر مقصود جیب خود شناسی میں
- کہ یاں غواص ہے تمثال اور آئینہ دریا ہے
- کہ یاں افسون خواب افسانۂ خواب زلیخا ہے
- بباغ رنگ ہاے رفتہ گلچین تماشا ہے
- بہ سعی غیر ہے قطع لباس خانہ ویرانی
- کہ تار جادۂ رہ رشتۂ دامان صحرا ہے
- چراغ خانۂ دل سوزش داغ تمنا ہے
- ستمگر ناخدا ترس آشنا کش ماجرا کیا ہے
- ہے رشتۂ جاں فرط کشش سے
- ٹوٹا ہے افسوس موے خم زلف
- ہے شانہ یکسر دست گزیدہ
- ہے داغ لالہ در خوں طپیدہ
- عیادت سے زبس ٹوٹا ہے دل یاران غمگیں کا
- نظر آتا ہے موے شیشہ رشتہ شمع بالیں کا
- صدا ہے کوہ میں حشر آفریں اے غفلت اندیشاں
- بجاے غنچہ و گل ہے ہجوم خار و خس یاں تک
- کہ صرف بخیۂ دامن ہوا ہے خندہ گلچیں کا
- نصیب آستیں ہے حاصل روے عرق آگیں
- چنے ہے کہکشاں خرمن سے مہ کے خوشہ پرویں کا
- بوقت کعبہ جوئی ہا جرس کرتا ہے ناقوسی
- کہ صحرا فصل گل میں رشک ہے بت خانۂ چیں کا
- تپیدن دل کو سوز عشق میں خواب فرامش ہے
- رمیدن گل باغ واماندگی ہے
- بہ بزم مے پرستی حسرت تکلیف بے جا ہے
- کہ جام بادہ کف بر لب بتقریب تقاضا ہے
- مری ہستی فضاے حیرت آباد تمنا ہے
- جسے کہتے ہیں نالہ وہ اسی عالم کا عنقا ہے
- کف افسوس ملنا عہد تجدید تمنا ہے
- نشاط دیدہ بینا ہے کو خواب و چہ بیداری
- بہم آوردہ مژگاں روے بر روے تماشا ہے
- بجولاں گاہ نومیدی نگاہ عاجزاں پا ہے
- وفاے دلبراں ہے اتفاقی ورنہ اے ہمدم
- اثر فریاد دل ہاے حزیں کا کس نے دیکھا ہے
- کہ مژگاں جس طرف وا ہو بکف دامان صحرا ہے
- شرر بھی صید دام رشتۂ رگ ہاے خارا ہے
- وہی ہم ہیں قفس ہے اور ماتم بال و پر کا ہے
- گداز ہر تمنا آبیار صد تمنا ہے
- بدست آوردن دل گوہر دریاے شاہی ہے
- وگر نہ خاتم دست سلیماں فلس ماہی ہے
- سخن تاریک طبعوں کا ہے اظہار کثافت ہا
- کہ زنگ خامۂ فولاد ماناے سیاہی ہے
- خمیدن نشۂ مے میں ہے شرم زشت اعمالی
- دماغ زہد میں آخر غرور بے گناہی ہے
- نہیں ہے خالی آرایش سے بے سامانی عاشق
- شکست حال انداز آفرین کج کلاہی ہے
- گریباں چاکی گل ہا نشان داد خواہی ہے
- بہ فکر حیرت رم آئنہ پرواز زانو ہے
- کہ مشک نافہ تمثال سواد چشم آہو ہے
- ترحم میں ستم کوشوں کے ہے سامان خونریزی
- سر شک چشم یار آب دم شمشیر ابرو ہے
- کرے ہے دست فرسود ہوس وہم توانائی
- پر افشاندہ در کنج قفس تعویز بازو ہے
- کہ ظاہر پنجۂ خرشید دست زیر پہلو ہے
- فغان دل بہ پہلو نالۂ بیمار بدخو ہے
- چمن نا محرم آگاہی دیدار خوباں ہے
- تماشا ئے بہار آئینہ پرداز تسلی ہے
- اسدؔ حسرت کش یک داغ مشک انددوہ ہے یا رب
- بہ نقص ظاہری رنگ کمال طبع پنہاں ہے
- کہ بہر مدعاے دل زبان لال زنداں ہے
- خموشی خانہ زاد چشم بے پروا نگاہاں ہے
- غبار سرمہ یاں گرد سواد نرگستاں ہے
- پر طاؤس گویا برق ابر چشم گریاں ہے
- کہ شاخ آہواں دود چراغ آسا پریشاں ہے
- تکلف برطرف ہے جانستاں تر لطف بدخویاں
- نگاہ بے حجاب ناز تیغ تیز عریاں ہے
- کہ صبح عید مجھ کو بدتر از چاک گریباں ہے
- بہ پاس شوخی مژگاں سر ہر خار سوزن ہے
- جراحت دوزی عاشق ہے جائے رحم ترساں ہوں
- غضب شرم آفریں ہے رنگ ریز بہائے خود بینی
- بہ وحشت گاہ امکاں اتفاق چشم مشکل ہے
- طلسم آفرینش حلقہ یک بزم ماتم ہے
- یہ کس بے مہر کی تمثال کا ہے جلوہ سیمابی
- اسدؔ بزم تماشا میں تغافل پردہ داری ہے
- بہ رہن شرم ہے با وصف شوخی اہتمام اس کا
- نگیں میں جوں شرار سنگ ناپید ہے نام اس کا
- بسان شانہ زینت ریز ہے دست سلام اس کا
- مسی آلودہ ہے مہر نوازش نامہ ظاہر ہے
- کہ داغ آرزوے بوسہ دیتا ہے پیام اس کا
- اسدؔ سودائے سر سبزی سے ہے تسلیم رنگیں تر
- سر تار نظر ہے رشتۂ تسبیح کوکب ہا
- عیادت ہائے طعن آلود یاراں زہر قاتل ہے
- رفوئے زخم کرتی ہے بہ نوک نیش عقرب ہا
- کرے ہے حسن خوباں پردے میں مشاطگی اپنی
- کہ ہے تہ بندی خط سبزۂ خط در تہ لب ہا
- فنا کو عشق ہے بے مقصداں حیرت پرستاراں
- اسدؔ کو بت پرستی سے غرض درد آشنائی ہے
- بذوق شوخی اعضا تکلف بار بستر ہے
- معاف پیچ و تاب کشمکش ہر تار بستر ہے
- گداز شمع محفل پیچش طومار بستر ہے
- بہ پائے خفتہ سیر وادی پر خار بستر ہے
- باقلیم سخن ہے جلوۂ گرد سواد آتش
- کہ ہے دود چراغاں سے ہیولاے مداد آتش
- کرے ہے لطف انداز برہنہ گوئی خوباں
- باغ تجھ بن گل نرگس سے ڈراتا ہے مجھے
- چاہوں گر سیر چمن آنکھ دکھاتا ہے مجھے
- ماہ نو ہوں کہ فلک عجز سکھاتا ہے مجھے
- عمر بھر ایک ہی پہلو پہ سلاتا ہے مجھے
- باغ پا کر خفقانی یہ ڈراتا ہے مجھے
- سایۂ شاخ گل افعی نظر آتا ہے مجھے
- آسماں بیضۂ قمری نظر آتا ہے مجھے
- ہوں میں وہ سبزہ کہ زہراب اگاتا ہے مجھے
- مدعا محو تماشاے شکست دل ہے
- آئنہ خانے میں کوئی لیے جاتا ہے مجھے
- شور تمثال ہے کس رشک چمن کا یارب
- آئنہ بیضۂ بلبل نظر آتا ہے مجھے
- کس قدر داغ جگر شعلہ اٹھاتا ہے مجھے
- یہ فسون نگہ ناز ستاتا ہے مجھے
- دیکھوں اب مرگئے پر کون اٹھاتا ہے مجھے
- حیرت فکر سخن ساز سلامت ہے اسدؔ
- دل پس زانوے آئینہ بٹھاتا ہے مجھے
- بدر ہے آئینۂ طاق ہلال
- غافلاں نقصاں سے پیدا ہے کمال
- ہے بیاد زلف مشکیں سال و ماہ
- بس کہ ہے اصل دمیدن ہا غبار
- ہے نہال شکوہ ریحان سفال
- نور سے تیرے ہے اس کی روشنی
- سایہ آسا ہوگیا ہے پایمال
- بہار رنگ خون گل ہے ساماں اشکباری کا
- جنون برق نشتر ہے رگ ابر بہاری کا
- بندھا ہے عقدۂ خاطر سے پیماں خاکساری کا
- بہ وقت سرنگونی ہے تصور انتظارستاں
- نگہ کو آبلوں سے شغل ہے اختر شماری کا
- چمن زنگار ہے آئینۂ باد بہاری کا
- جہاں ساقی ہو تو باطل ہے دعویٰ ہوشیاری کا
- کہ ننگ فہم مستاں ہے گلہ بد روزگاری کا
- بہار تعزیت آباد عشق ماتم ہے
- کہ تیغ یار ہلال مہ محرم ہے
- کہ اس میں ریزۂ الماس جزو اعظم ہے
- بہ رہن ضبط ہے آئینہ بندی گوہر
- وگر نہ بحر میں ہر قطرہ چشم پر نم ہے
- چمن میں کون ہے طرز آفرین شیوۂ عشق
- کہ گل ہے بلبل رنگین و بیضہ شبنم ہے
- تمام دفتر ربط مزاج درہم ہے
- وہ اک نگہ جو بظاہر نگاہ سے کم ہے
- کہ ایک وہم ضعیف و غم دو عالم ہے
- ظاہرا ہے اس چمن میں لال مادر زاد گل
- سعی عاشق ہے فروغ افزاے آب روے کار
- ہے شرار تیشہ بہر تربت فرہاد گل
- ہے تصور صافی قطع نظر از غیر یار
- لخت دل سے لاوے ہے شمع خیال آباد گل
- گلشن آباد دل مجروح میں ہوجاے ہے
- برق سامان نظر ہے جلوۂ بے باک حسن
- خاک ہے عرض بہار صد نگارستاں اسدؔ
- حسرتیں کرتی ہے میری خاطر آزاد گل
- بہر پروردن سراسر لطف گستر سایہ ہے
- پنجۂ مژگاں بہ طفل اشک دست دایہ ہے
- دولت نظارہ گل سے شفق سرمایہ ہے
- شورش باطن سے یاں تک مجھ کو غفلت ہے کہ آہ
- شیون دل یک سرود خانۂ ہمسایہ ہے
- زخم مثل گل سراپا کا مرے پیرایہ ہے
- اے اسدؔ آباد ہے مجھ سے جہان شاعری
- خامہ میرا تخت سلطان سخن کا پایہ ہے
- صورت دیبا تپش سے میری غرق خوں ہے آج
- حیرت انداز رہبر ہے عناں گیر اے اسدؔ
- بس کہ چشم از انتظار خوش خطاں بے نور ہے
- یک قلم شاخ گل نرگس عصاے کور ہے
- بزم خوباں بس کہ جوش جلوہ سے پر نور ہے
- پشت دست عجزیاں ہر برگ نخل طور ہے
- حیرت آغوش خوباں ساغر بلور ہے
- ہے عجب مردوں کو غفلت ہاے اہل دہر سے
- سبزہ جوں انگشت حیرت دردہان گور ہے
- حسرت آباد جہاں میں ہے الم غم آفریں
- نوحہ گویا خانہ زاد نالۂ رنجور ہے
- دزدگر ہو خانگی تو پاسباں معذور ہے
- ہے زپا افتادگی نشہ بیماری مجھے
- بے سخن تبخالۂ لب دانۂ انگور ہے
- اس جگہ تخت سلیماں نقش پاے مور ہے
- واں سے ہے تکلیف عرض بیدماغی اور اسدؔ
- یاں صریر خامہ مجھ کو نالۂ رنجور ہے
- بس کہ ہے میخانہ ویراں جوں بیابان خراب
- عکس چشم آہوے رم خوردہ ہے داغ شراب
- تیرگئ ظاہری ہے طبع آگہ کا نشاں
- غافلاں عکس سواد صفحہ ہے گرد کتاب
- یک نگاہ صاف صد آئینہ تاثیر ہے
- ہے رگ یاقوت عکس خط جام آفتاب
- ہے عرق افشاں مشی سے ادہم مشکین یار
- وقت شب اختر گنے ہے چشم بیدار رکاب
- ہے شفق سوز جگر کی آگ کی بالیدگی
- ہر ایک اختر ہے فلک پر قطرۂ اشک کباب
- بس کہ شرم عارض رنگیں سے حیرت جلوہ ہے
- ہے شکست رنگ گل آئینہ پرواز نقاب
- بس کہ حیرت سے زپا افتادۂ زنہار ہے
- ناخن انگشت بتخال لب بیمار ہے
- ہم نہیں جلتے نفس ہر چند آتشبار ہے
- ورنہ صد محشر بہ رہن جلوۂ رخسار ہے
- ہے وہی بدمستی ہر ذرہ کا خود عذر خواہ
- جس کے جلوے سے زمیں تا آسماں سرشار ہے
- گرد صحراے حرم تا کوچۂ زنار ہے
- جوش سودا کب حریف منت دستار ہے
- زندگی سے بھی مرا جی ان دنوں بیزار ہے
- آنکھ کی تصویر سر نامے پہ کھینچی ہے کہ تا
- تجھ پہ کھل جاوے کہ اس کو حسرت دیدار ہے
- وصل میں دل انتظار طرفہ رکھتا ہے مگر
- فتنہ تاراج تمنا کے لیے درکار ہے
- ظاہرا کاغذ ترے خط کا غلط بردار ہے
- آگ سے پانی میں بجھتے وقت اٹھتی ہے صدا
- ہر کوئی درماندگی میں نالے سے ناچار ہے
- صد رگ جاں جادہ آسا وقف نشتر زار ہے
- سایۂ دیوار سیلاب در و دیوار ہے
- جوش بے کیفیتی ہے اضطراب آرا اسدؔ
- بس کہ مائل ہے وہ رشک ماہتاب آئینے پر
- ہے نفس تار شعاع آفتاب آئینے پر
- بدگماں کرتی ہے عاشق کو خود آرائی تری
- بے دلوں کو ہے برات اضطراب آئینے پر
- جوہر شمشیر کو ہے پیچ تاب آئینے پر
- مدعی میری صفاے دل سے ہوتا ہے خجل
- ہے تماشا زشت رویوں کا عتاب آئینے پر
- خط پیمانۂ مے ہے نفس دزدیدہ
- طوق ہے گردن قمری میں رگ بالیدہ
- کی ہے وا اہل جہاں نے بہ گلستان جہاں
- ورنہ کانٹے میں تلے ہے سخن سنجیدہ
- یاس آئینہ پیدائی استغنا ہے
- نا امیدی ہے پرستار دل رنجیدہ
- بس کہ سوداے خیال زلف وحشت ناک ہے
- تا دل شب آبنوسی شانہ آسا چاک ہے
- یاں فلاخن باز کس کا نالۂ بے باک ہے
- جادہ تا کہسار موے چینی افلاک ہے
- ہے دو عالم صید انداز شہ دلدل سوار
- یاں خط پرکار ہستی حلقۂ فتراک ہے
- جادۂ گلشن بہ رنگ ریشہ زیر خاک ہے
- دور ساغر یک گلستاں برگ ریز تاک ہے
- عرض وحشت پر ہے ناز ناتوانی ہاے دل
- شعلۂ بے پردہ چین دامن خاشاک ہے
- ہے کمند موج گل فتراک بے تابی اسدؔ
- رنگ یاں بوسے سوار تو سن چالاک ہے
- ہے غلاف دفچۂ خرشید ہر یک گرد باد
- طرفہ موزدنی ہے صرف جنگ جوئی ہاے یار
- ہے سر مصراع صاف تیغ خنجر مستزاد
- مشک ہے سنبلستان زلف ہیں گرد سواد
- گل ہوا ہے ایک زخم سینہ پر خواہان داد
- آستر ہے خرقۂ زہاد کا صوف مداد
- تیغ در کف کف بلب آتا ہے قاتل اس طرف
- بس کہ زیر خاک با آب طراوت راہ ہے
- ریشے سے ہر تخم کا دلو اندرون چاہ ہے
- فلس ماہی آئنہ پرواز داغ ماہ ہے
- واں سے ہے تکلیف عرض بے دماغی ہاے دل
- یاں صریر خامہ مجھ کو نالۂ جانکاہ ہے
- حسن و رعنائی میں وہم صد سر و گردن ہے فرق
- سرو کے قامت پہ گل یک دامن کوتاہ ہے
- رشک ہے آسایش ارباب غفلت پر اسدؔ
- پیچ تاب دل نصیب خاطر آگاہ ہے
- صاحب دل ہا وکیل حضرت اللہ ہے
- بس کہ ہریک موے زلف افشاں سے ہے تار شعاع
- ہے فروغ ماہ سے ہر موج اک تصویر چاک
- بس کہ وہ چشم و چراغ محفل اغیار ہے
- غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفس
- محفلیں برہم کرے ہے گنجفہ باز خیال
- ضعف سے ہے نے قناعت سے یہ ترک جستجو
- غبار کوچہ ہائے موج ہے خاشاک ساحل ہا
- نہیں ہے باوجود ضعف سیر بے خودی آساں
- رہ خوابیدہ میں افگندنی ہے طرح منزل ہا
- غریبی بہر تسکین ہوس درکار ہے ورنہ
- تماشا کردنی ہے انتظار آباد حیرانی
- اسدؔ تار نفس ہے ناگزیر عقدہ پیرائی
- ہستی عدم ہے آئینہ گر رو برو نہ ہو
- مژگاں خلیدۂ رگ ابر بہار ہے
- عرض نشاط دید ہے مژگان انتظار
- یک مشت خوں ہے پر تو خور سے تمام دشت
- پیچیدگی ہے حامل طومار انتظار
- بیخود بہ لطف چشمک عبرت ہے چشم صید
- دریا بساط دعوت سیلاب ہے اسدؔ
- وحشی خو کردۂ نظارہ ہے حیرت جسے
- قطرے کو جوش عرق کرتا ہے دریا دستگاہ
- چشم نرگس میں نمک بھرتی ہے شبنم سے بہار
- بے گانۂ وفا ہے ہواے چمن ہنوز
- ہے داغ عشق زینت جیب کفن ہنوز
- ہے ناز مفلساں زر از دست رفتہ پر
- خمیازہ کھینچے ہے بت بے داد فن ہنوز
- یارب یہ درد مند ہے کس کی نگاہ کا
- ہے ربط مشک و داغ سواد ختن ہنوز
- زنجیر پا ہے رشتۂ حب الوطن ہنوز
- زخم جگر ہے تشنۂ لب دوختن ہنوز
- فانوس شمع ہے کفن کشتگان شوق
- درپردہ ہے معاملۂ سوختن ہنوز
- مجنوں فسون شعلہ خرامی فسانہ ہے
- ہے شمع جادہ داغ نے فروختن ہنوز
- بزم طرب ہے پردگئے سوختن ہنوز
- بے تابی یاد دوست ہم رنگ تسلی ہے
- غافل تپش مجنوں محمل کش لیلی ہے
- کلفت کشی ہستی بدنام دو رنگی ہے
- یاں تیرگی اختر خال رخ زنگی ہے
- خوشترز گل و غنچہ چشم و دل ساقی ہے
- تسکیں دہ صد محفل یک ساغر خالی ہے
- بے فائدہ یاروں کو فرق غم و شادی ہے
- مغرور نہ ہو ناداں سر تا سرگیتی ہے
- یاں زورق خودداری طوفانی معنی ہے
- ہے کسوت عروج تغافل کمال حسن
- سعی خرام کاوش ایجاد جلوہ ہے
- بلبلوں کو دور سے کرتا ہے منع بار باغ
- ہے زبان پاسباں خار سر دیوار باغ
- کون آیا جو چمن بے تاب استقبال ہے
- جنبش موج صبا ہے شوخی رفتار باغ
- آتش رنگ رخ ہر گل کو بخشے ہے فروغ
- ہے دم سرد صبا سے گرمی بازار باغ
- جوش گل کرتا ہے استقبال تحریر اسدؔ
- زیر مشق شعر ہے نقش از پئے احضار باغ
- مری فریاد کو کہسار ساز عجز نالی ہے
- کئی کانٹے ہیں اور پیراہن شکل نہالی ہے
- نگاہ شوق کو صحرا بھی دیوان غزالی ہے
- سیہ مستی ہے اہل خاک کو ابر بہاری سے
- زمیں جوش طرب سے جام لبریز سفالی ہے
- کہ یہ نامرد بھی شیر افگن میدان قالی ہے
- چاک گریباں کو ہے ربط تامل ہنوز
- غنچے میں دل تنگ ہے حوصلۂ گل ہنوز
- دل میں ہے سوداے زلف مست تغافل ہنوز
- ہے مژۂ خوابناک ریشۂ سنبل ہنوز
- پرورش نالہ ہے وحشت پرواز سے
- ہے تہ بال پری بیضۂ بلبل ہنوز
- دام تہ سبزہ ہے حلقۂ کاکل ہنوز
- جوہر افسانہ ہے عرض تجمل ہنور
- شش جہت اسباب ہے وہم توکل ہنوز
- چار سوے عشق میں صاحب دکانی مفت ہے
- نقد ہے داغ دل اور آتش زبانی مفت ہے
- تندرستی فائدہ اور ناتوانی مفت ہے
- یعنی اے پیر فلک شام جوانی مفت ہے
- برور نکشودۂ دل پاسبانی مفت ہے
- چونکہ بالاے ہوس پر ہر قبا کوتاہ ہے
- بر ہوس ہاے جہاں دامن فشانی مفت ہے
- یک نفس ہر یک نفس جاتا ہے قسط عمر میں
- حیف ہے ان کو جو سمجھیں زندگانی مفت ہے
- پس بہ دل ہاے و گر راحت رسانی مفت ہے
- چشم گریاں بسمل شوق بہار دید ہے
- اشک ریزی عرض بال افشانی امید ہے
- دامن گردوں میں رہ جاتا ہے ہنگام وداع
- گوہر شب تاب اشک دیدۂ خرشید ہے
- چشم قربانی گل شاخ ہلال عید ہے
- اے خوشا رندے کہ مرغ گلشن تجرید ہے
- کثرت اندوہ سے حیران و مضطر ہے اسدؔ
- یا علی وقت عنایات و دم تائید ہے
- آئنہ خانہ ہے صحن چمنستاں یکسر
- داغ اطفال ہے دیوانہ بہ کہسار ہنوز
- خلوت سنگ میں ہے نالہ طلبگار ہنوز
- خانہ ہے سیل سے خو کردہ دیدار ہنوز
- دور بیں در زدہ ہے رخنۂ دیوار ہنوز
- جادہ ہے واشدن پیچش طومار ہنوز
- گزرے ہے آبلہ پا ابر گہر بار ہنوز
- یک قلم کاغذ آتش زدہ ہے صفحۂ دشت
- نقش پا میں ہے تب گرمی رفتار ہنوز
- مژہ ہے شانہ کش طرہ گفتار ہنوز
- گل سر بسر اشارۂ جیب دریدہ ہے
- کرتے ہوے تصور یار آے ہے حیا
- دیدار دوستان لباسی ہے ناگوار
- ہے بے خمار نشۂ خون جگر اسدؔ
- محتسب سے تنگ ہے از بس کہ کار مے کشاں
- خاک عاشق بس کہ ہے فرسودۂ پرواز شوق
- عیب کا دریافت کرنا ہے ہنرمندی اسدؔ
- دشت الفت میں ہے خاک کشتگاں محبوس و بس
- پیچ تاب جادہ ہے خط کف افسوس و بس
- نیم رنگی ہاے شمع محفل خوباں سے ہے
- ہے تصور میں نہاں سرمایۂ صد گلستاں
- کاسۂ زانو ہے مجھ کو بیضۂ طاؤس و بس
- کفر ہے غیر از وفور شوق رہبر ڈھونڈھنا
- راہ صحراے حرم میں ہے جرس ناقوس و بس
- یک جہاں گل تختۂ مشق شگفتن ہے اسدؔ
- پریشانی سے مغز سر ہوا ہے پنبہ بالش
- دیکھ تری خوے گرم دل بہ تپش رام ہے
- طائر سیماب کو شعلہ رگ دام ہے
- شوخی چشم حبیب فتنۂ ایام ہے
- قسمت بخت رقیب گردش صد جام ہے
- جلوۂ بینش پناہ بخشے ہے ذوق نگاہ
- کعبۂ پوشش سیاہ مردمک احرام ہے
- در تپش آباد شوق سرمہ صدا نام ہے
- اے ہمہ خواب گراں حوصلہ بدنام ہے
- فرصت رقص شرر بوسہ بہ پیغام ہے
- بے سر و ساماں اسدؔ فتنہ سر انجام ہے
- گرم تکلیف دل رنجیدہ ہے از بس کہ چرخ
- قرص کافوری ہے مہر از بہر سر ماخوردگاں
- دشت ساماں ہے غبار خاطر آزردگاں
- شوق مفت زندگی ہے اے بہ غفلت مردگاں
- خار سے گل سینہ افگار جفا ہے اے اسدؔ
- برگ ریزی ہے پر افشانی نادک خوردگاں
- الفت زر ہمہ نقصاں ہے کہ آخر قاروں
- دل بیمار از خود رفتہ تصویر نہالی ہے
- کہ مژگاں ریشہ دار نیستان شیر قالی ہے
- نہاں ہر گرد باد دشت میں جام سفالی ہے
- عروج نشہ ہے سر تا قدم قد چمن رویاں
- بجائے خود وگر نہ سرد بھی میناے خالی ہے
- نشان خال رخ داغ شراب پر تگالی ہے
- کہ تار جادۂ سر منزل نازک خیالی ہے
- لباس نظم میں بالیدن مضمون عالی ہے
- صد جلوہ روبرو ہے جو مژگاں اٹھائیے
- ہستی فریب نامۂ موج سراب ہے
- ہے سنگ پر برات معاش جنون عشق
- ضبط جنوں سے ہر سر مو ہے ترانہ خیز
- دیوار بار منت مزدور سے ہے خم
- انگور سعی بے سروپائی سے سبز ہے
- دل سراپا وقف سوداے نگاہ تیز ہے
- یہ زمیں مثل نیستاں سخت ناوک خیز ہے
- بیستوں خواب گران خسرو پرویز ہے
- پردۂ بادام ایک غربال حسرت بیز ہے
- خوں چکاں ہے جادہ مانند رگ سودائیاں
- سبزۂ صحراے الفت نشتر خوں ریز ہے
- ہے بہار تیز رو گلگون نکہت پر سوار
- یک شکست رنگ گل صد جنبش مہمیز ہے
- یعنی اس بیمار کو نظارے سے پرہیز ہے
- واے ناکامی کہ اس کافر کا خنجر تیز ہے
- جوشش فصل بہاری اشتیاق انگیز ہے
- دلا عبث ہے تمناے خاطر افروزی
- کہ بوسۂ لب شیریں ہے اور گلو سوزی
- طلسم آئنہ زانوے فکر ہے غافل
- ہنوز حسن کو ہے سعی جلوہ اندوزی
- ہوئی ہے سوزش دل بس کہ داغ بے اثری
- اگی ہے دود جگر سے شب سیہ روزی
- کہ بعد مرگ بھی ہے لذت جگر سوزی
- شعاع مہر سے کرتا ہے چرخ زر دوزی
- رگ گل جادۂ تار نگہ سے حد موافق ہے
- ہے ہوس محمل بدوش شوخی ساقی مست
- باز ماندن ہاے مژگاں ہے یک آغوش وداع
- سر نوشت خلق ہے طغراے عجز اختیار
- دست برہم سودہ ہے مژگان خوابیدہ اسدؔ
- عذار یار نظر بند چشم گریاں ہے
- عجب کہ پر تو خور شمع شبنمستاں ہے
- برنگ بستہ بہ زہراب دادہ پیکاں ہے
- قباے جلوہ فزا ہے لباس عریانی
- بطرز گل رگ جاں مجھ کو تار داماں ہے
- لب گزیدۂ معشوق ہے دل افگار
- کہ بخیہ جلوۂ آثار زخم دنداں ہے
- صبا خرامی خوباں بہار ساماں ہے
- دماغ ناز کش منت طبیباں ہے
- جہاں جہاں مرے قاتل کا مجھ پہ احساں ہے
- جنوں نے مجھ کو بنایا ہے مدعی میرا
- ہمیشہ ہاتھ میں میرے مرا گریباں ہے
- کہ قتل عاشق دلدادہ تجھ کو آساں ہے
- فرو پیچیدنی ہے فرش بزم عیش گستر کا
- دریغا گردش آموز فلک ہے دور ساغر کا
- کہ ہے تہ بندی پر ہاے طوطی رنگ جوہر کا
- خطوط روے قالیں نقش ہے پشت کبوتر کا
- شکست گوشہ گیراں ہے فلک کو حاصل گردش
- صدف سے آسیاے آب میں ہے دانہ گوہر کا
- فزوں ہوتا ہے ہر دم جوش خونباری تماشا ہے
- نفس کرتا ہے رگ ہاے مژہ پر کام نشتر کا
- خیال شربت عیسیٰ گداز تر جبینی ہے
- ہمیں حریر شرر باف سنگ خلعت ہے
- نگاہ دیدۂ نقش قدم ہے جادۂ راہ
- ہوا ہے گریۂ بے باک ضبط سے تسبیح
- جنون فرقت یاران رفتہ ہے غالبؔ
- فرصت آئینہ صد رنگ خود آرائی ہے
- روز و شب یک کف افسوس تماشائی ہے
- بخیہ جوں جوہر تیغ آفت گیرائی ہے
- گل صد شعلہ بیک جیب شکیبائی ہے
- چمن آرائے نفس وحشت تنہائی ہے
- وصل ہر رنگ جنوں کسوت رسوائی ہے
- ماہتابی بکف چشم تماشائی ہے
- نفس سوختہ رمز چمن ایمائی ہے
- اگ رہا ہے در و دیوار سے سبزہ غالبؔ
- ہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہے
- فسون یک دلی ہے لذت بیداد دشمن پر
- کہ وجد برق جوں پروانہ بال افشاں ہے خرمن پر
- تکلف خار خار التماس بے قراری ہے
- کہ رشتہ باندھتا ہے پیرہن انگشت سوزن پر
- یہ کیا وحشت ہے اے دیوانے پیش از مرگ واویلا
- گریباں چاک کا حق ہوگیا ہے میری گردن پر
- ہزار آئینہ دل باندھے ہے بال یک تپیدن پر
- فلک سے ہم کو عیش رفتہ کا کیا کیا تقاضا ہے
- ہم اور وہ بے سبب رنج آشنا دشمن کہ رکھتا ہے
- فنا کو سونپ گر مشتاق ہے اپنی حقیقت کا
- فروغ طالع خاشاک ہے موقوف گلنحن پر
- اسدؔ بسمل ہے کس انداز کا قاتل سے کہتا ہے
- فنا کو سونپ گر مشتاق ہے اپنی حقیقت کا
- فروغ طالع خاشاک ہے موقوف گلخن پر
- گداے طاقت تقریر ہے زباں تجھ سے
- کہ خامشی کو ہے پیرایۂ بیاں تجھ سے
- فسردگی میں ہے فریاد بے دلاں تجھ سے
- بہار حیرت نظارہ سخت جانی ہے
- نیاز پردۂ اظہار خود پرستی ہے
- اسدؔ طلسم قفس میں رہے قیامت ہے
- غم و عشرت قدم بوس دل تسلیم آئیں ہے
- دعاے مدعا گم کردگاں لبریز آمیں ہے
- تماشا ہے کہ ناموس وفا رسواے آئیں ہے
- نفس تیری گلی میں خوں ہو اور بازار رنگیں ہے
- لب عیسی کی جنبش کرتی ہے گہوارہ جنبانی
- قیامت کشتۂ لعل بتاں کا خواب سنگیں ہے
- ہمارا دیکھنا گر ننگ ہے سیر گلستاں کر
- شرار آہ سے موج صبا دامان گلچیں ہے
- پیام تعزیت پیدا ہے انداز عیادت سے
- شب ماتم تہ دامان دود شمع بالیں ہے
- زبس جز حسن منت ناگوارا ہے طبیعت پر
- کشاد عقد محو ناخن دست نگاریں ہے
- نہیں ہے سر نوشت عشق غیر از بے دماغی ہا
- جبیں پر میری مد خامۂ قدرت خط چیں ہے
- حنا سے دست و خون کشتگاں سے تیغ رنگیں ہے
- بیابان فنا ہے بعد صحراے طلب غالبؔ
- پسینہ تو سن ہمت کا سیل خانۂ زیں ہے
- گریاس سر نہ کھینچے تنگی عجب فضا ہے
- وسعت گہ تمنا یک بام و صد ہوا ہے
- برہم زن دوعالم تکلیف یک صدا ہے
- مینا شکستگاں کو کہسار خوں بہا ہے
- دود چراغ گویا زنجیر بے صدا ہے
- مصراع نالۂ نے سکتہ ہزار جا ہے
- اس موج مے کو غافل پیمانہ نقش پا ہے
- چشم تحیر آغوش مخمور ہر ادا ہے
- طوفان نالۂ دل تا موج بوریا ہے
- دل دے تو ہم بتا دیں مٹھی میں تیری کیا ہے
- ہر نالۂ اسدؔ ہے مضمون داد خواہی
- یعنی سخن کو کاغذ احرام مدعا ہے
- گرچہ ہے یک بیضۂ طاؤس آسا تنگ دل
- ہے چمن سرمایۂ بالیدن صد رنگ دل
- بے دلوں سے ہے تپش جوں خواہش آب از سراب
- ہے شرر موہوم اگر رکھتا نہ ہووے سنگ دل
- رشتۂ فہمید ممسک ہے بہ بند کو تہی
- عقدہ ساں ہے کیسۂ زر پر خیال تنگ دل
- کس قدر ہے نشہ فرساے خمار بنگ دل
- کھینچتا ہے آج نالے خارج از آہنگ دل
- اے اسدؔ خامش ہے طوطی شکر گفتار طبع
- ظاہرا رکھتا ہے آئینۂ اسیر زنگ دل
- گھر سے نکالنا ہے اگر ہاں نکالیے
- اک منہ ہے کون کون سے ارماں نکالیے
- گرفتاری میں فرمان خط تقدیر ہے پیدا
- کہ طوق قمری از ہر حلقۂ زنجیر ہے پیدا
- چمن بالیدنی ہا از رم نخچیر ہے پیدا
- مگر وہ شوخ ہے طوفاں طراز شوق خونریزی
- کہ در بحر کماں بالیدہ موج تیر ہے پیدا
- نہیں ہے کف لب نازک پہ فرط نشہ مے سے
- لطافت ہاے جوش حسن کا سر شیر ہے پیدا
- بہار بے خزاں از آہ بے تاثیر ہے پیدا
- جراحت ہاے دل سے جوہر شمشیر ہے پیدا
- گلستاں بے تکلف پیش پا افتادہ مضموں ہے
- جو تو باندھے کف پا پر حنا آئینہ موزوں ہے
- بہار گل دماغ نشۂ ایجاد مجنوں ہے
- ہجوم برق سے چرخ و زمیں یک قطرۂ خوں ہے
- برانگشت حساب اشک ناخن نعل واژوں ہے
- دماغ دو جہاں پر سنبل و گل یک شبے خوں ہے
- تماشا ہے علاج بے دماغی ہاے دل غافل
- سویدا مردم چشم پری نظارہ افسوں ہے
- فنا کرتی ہے زائل سرنوشت کلفت ہستی
- سحر از بہر شست و شوے داغ ماہ صابوں ہے
- اسدؔ ہے آج مژگان تماشا کی حنا بندی
- چراغان نگاہ و شوخی اشک جگر گوں ہے
- حاصل دلبستگی ہے عمر کو نہ اور بس
- باندھتا ہے رنگ گل آئینہ تا چاک قفس
- اے ادا فہماں صدا ہے تنگی فرصت سے خوں
- ہے بہ صحراے تحیر چشم قربانی جرس
- تیز تر ہوتا ہے خشم تند خو یاں عجز سے
- ہے رگ سنگ فسان تیغ شعاہ خار و خس
- سختی راہ محبت منع دخل غیر ہے
- پیچ تاب جادہ ہے یاں جوہر تیغ عسس
- ظاہرا صیاد ناداں ہے گرفتار ہوس
- ہے بہاراں میں خزاں حاصل خیال عندلیب
- رنگ گل آتش کدہ ہے زیر بال عندلیب
- عشق کو ہر رنگ شان حسن ہے مد نظر
- مصرع سرد چمن ہے حسب حال عندلیب
- بسمل ذوق پریدن ہے بہ بال عندلیب
- گردش رنگ چمن ہے ماہ و سال عندلیب
- منع مت کر حسن کی ہم کو پرستش سے کہ ہے
- ہے مگر موقوف بر وقت دگر کار اسدؔ
- ہے تنگ زواماندہ شدن حوصلۂ پا
- جو اشک گرا خاک میں ہے آبلۂ پا
- سر منزل ہستی سے ہے صحراے طلب دور
- جو خط ہے کف پا پہ سو ہے سلسلۂ پا
- دیدار طلب ہے دل واماندہ کہ آخر
- فریاد سے پیدا ہے اسدؔ گرمی وحشت
- تبخالۂ لب ہے جرس آبلۂ پا
- ہے ترحم آفریں آرایش بیداد یاں
- اشک چشم دام ہے ہر دانۂ صیاد یاں
- ہے گداز موم انداز چکیدن ہاے خوں
- نیش زنبور عسل ہے نشتر فصاد یاں
- ناگوارا ہے ہمیں احسان صاحب دولتاں
- ہے زر گل بھی نظر میں جوہر فولاد یاں
- کمتریں مزدور سنگیں دست ہے فرہاد یاں
- مہر گردوں ہے چراغ رہ گزار باد یاں
- ہے تماشا کردنی گل چینی جلاد یاں
- ہر رنگ سوز پردۂ یک ساز ہے مجھے
- بال سمندر آئنۂ ناز ہے مجھے
- طاؤس خاک حسن نظر باز ہے مجھے
- ہر ذرہ چشمک نگہ ناز ہے مجھے
- آغوش گل ہے آئنۂ ذرہ ذرہ خاک
- عرض بہار جوہر پرواز ہے مجھے
- ہے بوے گل غریب تسلی گہ وطن
- ہر جزو آشیاں پر پرواز ہے مجھے
- ہے جلوۂ خیال سویداے مردمک
- جوں داغ شعلہ سر خط آغاز ہے مجھے
- چشم پری شفق کدۂ راز ہے مجھے
- دود چراغ سرمۂ آواز ہے مجھے
- ہے خامہ فیض بیعت بیدل بکف اسدؔ
- یک نیستاں قلم رو اعجاز ہے مجھے
- ہر عضو غم سے ہے شکن آسا شکستہ دل
- ہے سر نوشت میں رقم وا شکستگی
- ہے چشم اشک ریز سے دریا شکستہ دل
- ناسازی نصیب درشتی غم سے ہے
- ہے سنگ ظلم چرخ سے میخانے میں اسدؔ
- ہے گلیم سیہ بخت پریشاں کا کل
- سادگی ہے عدم قدرت ایجاد غنا
- ہوا جب حسن کم خط بر عذار سادہ آتا ہے
- کہ بعد از صاف مے ساغر میں دردبادہ آتا ہے
- نہیں ہے مزرع الفت میں حاصل غیر پامالی
- نظر دانہ سر شک برزمیں افتادہ آتا ہے
- محیط دہر میں بالیدن از ہستی گزشتن ہے
- کہ یاں ہر یک حباب آسا شکست آمادہ آتا ہے
- دیار عشق میں جاتا ہے جو سودا گری ساماں
- متاع زندگانی ہا بغاوت دادہ آتا ہے
- صنوبر گلستاں میں بادل آزادہ آتا ہے
- ہوئی ہے بس کہ صرف مشق تمکین بہار آتش
- بہ انداز حنا ہے رونق دست چنار آتش
- گڈز موم ہے افسون ربط پیکر آرائی
- فروغ حسن سے ہوتی ہے حل مشکل عاشق
- ہواے پر فشانی برق خرمن ہاے خاطر ہے
- بہ بال شعلۂ بے تاب ہے پروانہ زار آتش
- خیال سادگی ہاے تصور نقش حیرت ہے
- زبس ہر شمع یاں آئینۂ حیرت پرستی ہے
- ہجوم سادہ لوحی پنبۂ گوش حریفاں ہے
- بیاض دیدۂ نخچیر پر کھینچے ہے تصویریں
- حکم بے تابی نہیں اور آرمیدن منع ہے
- باوجود مشق وحشت ہا رمیدن منع ہے
- شرم آئینہ تراش جبہۂ طوفان ہے
- آب گردیدن روا لیکن چکیدن منع ہے
- زخم دوزی جرم و پیراہن دریدن منع ہے
- آج کی شب چشم کو کب تک پریدن منع ہے
- ریشۂ زیر زمیں کو بھی دویدن منع ہے
- یار معذور تغافل ہے عزیزاں شفقتے
- نالۂ بلبل بگوش گل شنیدن منع ہے
- مانع بادہ کشی نادان ہے لیکن اسدؔ
- بے ولاے ساقی کوثر کشیدن منع ہے
- حسن خود آرا کو ہے مشق تغافل ہنوز
- ہے کف مشاطہ میں آئنۂ گل ہنوز
- حیرت آئینہ ہے جیب تامل ہنوز
- مانگے ہے شمشاد سے شانۂ سنبل ہنوز
- سیلی استاد ہے ساغر بے مل ہنوز
- شاخ گل نغمہ ہے نالۂ بلبل ہنوز
- دل کی صداے شکست ساز طرب ہے اسدؔ
- شیشۂ بے بادہ سے چاہے ہے قلقل ہنوز
- اک سفیدی مارتی ہے دور سے چشم غزال
- ہے نفس پروردہ گلشن کس ہواے بام کا
- طوق قمری میں ہے سرد باغ ریحان سفال
- جلوۂ خرشید سے ہے گرم پہلوے ہلال
- خوں بہاے یک جہاں امید ہے تیرا خیال
- عرض درد بے وفائی وحشت اندیشہ ہے
- اس جفا مشرب پہ عاشق ہوں کہ سمجھے ہے اسدؔ
- عیسی مہرباں ہے شفا ریز یک طرف
- درد آفریں ہے طبع الم خیز یک طرف
- سنجیدنی ہے ایک طرف رنج کوہکن
- ہر مو بدن پہ شہپر پرواز ہے مجھے
- یک جانب اے اسدؔ شب فرقت کا بیم ہے
- دام ہوس ہے زلف دلاویز یک طرف
- جاتا ہوں جدھر سب کی اٹھے ہے ادھر انگشت
- یک دست جہاں مجھ سے پھرا ہے مگر انگشت
- لگتی ہے مجھے تیر کے مانند ہر انگشت
- ہر غنچۂ گل صورت یک قطرۂ خوں ہے
- دیکھا ہے کسو کا جو حنا بستہ سر انگشت
- گرمی ہے زباں کی سبب سوختن جاں
- ہر شمع شہادت کو ہے یاں سر بسر انگشت
- جوں ماہی بے آب تڑپتی ہے ہر انگشت
- شوخی تری کہہ دیتی ہے احوال ہمارا
- راز دل صد پارہ کی ہے پردہ در انگشت
- بس رہتے ہیں باریکی و نرمی ہے کہ جوں گل
- کافی ہے نشانی تری چھلے کا نہ دینا
- لگتی ہے مجھے تیر کے مانند ہر انگشت
- کس رتبہ میں باریکی و نرمی ہے کہ جو گل
- جوہر آئینہ ساں مژگاں بدل آسودہ ہے
- قطرہ جو آنکھوں سے ٹپکا سو نگاہ آلودہ ہے
- پر فشانی بھی فریب خاطر آسودہ ہے
- جوں پر طاؤس یکسر داغ مشک اندودہ ہے
- ہے ریا کا رتبہ بالاتر تصور کردنی
- تیرگی سے داغ کی مہ سیم مس اندودہ ہے
- عافیت سرمایۂ بال و پر نکشودہ ہے
- مے پرستاں ناصح بے صرفہ گو بیہودہ ہے
- مرگ سے وحشت نہ کر راہ عدم پیمودہ ہے
- ہے سواد خط پریشاں ہوئی اہل عزا
- خامہ میرا شمع قبر کشتگاں کا دودہ ہے
- ہر سر انگشت نوک خامۂ فرسودہ ہے
- کرے ہے خامشی احوال بیخوداں پیدا
- خط سیاہ سے ہے گرد کارواں پیدا
- نہیں ہے آہ کو ایماے تیرہ بالیدن
- وگر نہ ہے خم تسلیم سے کماں پیدا
- نصیب تیرہ بلا گردش آفریں ہے اسدؔ
- ہے سرمہ گر درہ بہ گلوے جرس تمام
- ڈرتا ہوں کوچہ گردی بازار عشق ہے
- یک پر زدن تپش میں ہے کار قفس تمام
- کس جرم سے ہے چشم تجھے حسرت قبول
- ہر رنگ گردش آئنہ ایجاد درد ہے
- گل غنچگی میں غرقۂ دریاے رنگ ہے
- جوش دل ہے مجھ سے حسن فطرت بیدل نہ پوچھ
- یک مژہ برہم زدن حشر دوعالم فتنہ ہے
- بزم ہے یک پنبۂ مینا گداز ربط سے
- جنبش ہر برگ سے ہے گل کے لب کو اختلاج
- حب شبنم سے صبا ہر صبح کرتی ہے علاج
- شاخ گل جنبش میں ہے گہوارہ آسا ہر نفس
- طفل شوخ غنچۂ گل بس کہ ہے وحشی مزاج
- چشم مست یار سے ہے گردن مینا پہ باج
- خرقۂ ہستی نکالا ہے برنگ احتیاج
- ہے سواد چشم قربانی میں یک عالم مقیم
- حسرت فرصت جہاں دیتی ہے حیرت کو رواج
- اے اسدؔ ہے مستعد شانہ گیسو شدن
- پنجۂ مژگاں بخود بالیدنی رکھتا ہے آج
- جنوں رسوائی وارستگی زنجیر بہتر ہے
- بقدر مصلحت دل بستگی تدبیر بہتر ہے
- بدین عجز اگر بدنامی تقدیر بہتر ہے
- تکلف بر طرف تجھ سے تری تصویر بہتر ہے
- نفس آئینہ دار آہ بے تاثیر بہتر ہے
- خدایا چشم یا دل درد ہے افسون آگاہی
- نگہ حیرت سواد خواب بے تعبیر بہتر ہے
- درون جوہر آئینہ جوں برگ حنا خوں ہے
- بتاں نقش خود آرائی حیا تحریر بہتر ہے
- تمنا ہے اسدؔ قتل رقیب اور شکر کا سجدہ
- دعاے دل بہ محراب خم شمشیر بہتر ہے
- ساغر جلوۂ سرشار ہے ہر ذرۂ خاک
- کس قدر خاک ہوا ہے دل مجنوں یارب
- کاشانۂ ہستی کہ بر انداختنی ہے
- یاں سوختنی اور وہاں ساختنی ہے
- ہے شعلۂ شمشیر فنا حوصلہ پرواز
- اے داغ تمنا سپر انداختنی ہے
- ہر چند بہ میدان ہوس تاختنی ہے
- گردن بہ تماشاے گل افراختنی ہے
- ہے سادگی ذہن تمناے تماشا
- جاے کہ اسدؔ رنگ چمن باختنی ہے
- کاوش دزدحنا پوشیدہ افسوں ہے مجھے
- ناخن انگشت خوباں نعل واژوں ہے مجھے
- ریشۂ شہرت دوانیدن ہے رفتن زیر خاک
- خنجر جلاد برگ بید مجنوں ہے مجھے
- آرزوے بوسۂ لب ہاے مے گوں ہے مجھے
- گردش جام تمنا دور گردوں ہے مجھے
- بدر کے مانند کاہش روز افزوں ہے مجھے
- غنچگی ہے بر نفس پیچیدن فکر اے اسدؔ
- وا شگفتن ہاے دل در رہن مضموں ہے مجھے
- مژدہ اے ذوق اسیری کہ نظر آتا ہے
- مند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں ہے ہے
- دیکھ کر تجھ کو چمن بس کہ نمو کرتا ہے
- خود بخود پہنچے ہے گل گوشہ دستار کے پاس
- مرگیا پھوڑ کے سر غالبؔ وحشی ہے ہے
- مری قسمت میں یوں تصویر ہے شب ہاے ہجراں کی
- بہ زلف مہ وشاں رہتی ہے شب بیدار ظاہر ہے
- سیاہی ہے مرے ایام میں لوح دبستاں کی
- دریغ آہ سحرگہ کار باد صبح کرتی ہے
- کہ ہوتی ہے زیادہ سرد مہری شمع رویاں کی
- ہنر پیدا کیا ہے میں نے حیرت آزمائی میں
- کہ جوہر آئنے کا ہر پلک ہے چشم حیراں کی
- خدایا کس قدر اہل نظر نے خاک چھانی ہے
- بیاد گرمی صحبت برنگ شعلہ دہکے ہے
- کمال بندگی گل ہے رہین آزادی
- برنگ نے ہے نہاں درہر استخواں فریاد
- تغافل آئنہ دار خموشی دل ہے
- ہوئی ہے محو بہ تقریب امتحاں فریاد
- ہوئی ہے لغزش پالکنت زباں فریاد
- بروے قیس دست شرم ہے مژگان آہو سے
- فسان تیغ نازک قاتلاں سنگ جراحت ہے
- دل گرم تپش قاصد ہے پیغام تسلی کا
- حباب بحر کے ہے آبلوں میں خار ماہی کا
- کرے ہے رہرواں سے خضر راہ عشق جلادی
- ہوا ہے موجۂ ریگ رواں شمشیر فولادی
- نظر بند تصور ہے قفس میں لطف آزادی
- کرے ہے حسن ویراں کار روے سادہ رویاں پر
- اسدؔ از بس کہ فوج درد و غم سر گرم جولاں ہے
- غبار راہ ویرانی ہے ملک دل کی آبادی
- کرتا ہے بیاد بت رنگیں دل مایوس
- ہے بالش دل سوختگاں میں پر طاؤس
- خور قطرۂ شبنم میں ہے جوں شمع بہ فانوس
- دریافتن صحبت اغیار غرض ہے
- ہے مشق اسدؔ دستگہ وصل کی منظور
- بہ کسوت عرق شرم قطرہ زن ہے خیال
- جنوں فسردۂ تمکیں ہے کاش عہد وفا
- مسیح کشتۂ الفت ببر علی خاں ہے
- خلق ہے صفحۂ عبرت سے سبق ناخواندہ
- ورنہ ہے چرخ و زمیں یک ورق گرداندہ
- موج مے مثل خط جام ہے برجاماندہ
- خواہش دل ہے زیاں کو سبب گفت و بیاں
- ہے سخن گرد زدامان ضمیر افشاندہ
- ہے ہر اک فرد جہاں میں ورق ناخواندہ
- موج مے مثل خط جام ہے ہر جا ماندہ
- خلوت آبلۂ پا میں ہے جولاں میرا
- خوں ہے دل تنگی وحشت سے بیاباں میرا
- ذوق سرشار سے بے پردہ ہے طوفاں میرا
- موج خمیازہ ہے ہر زخم نمایاں میرا
- خون آدینہ سے رنگیں ہے دبستاں میرا
- حسرت نشہ وحشت نہ بہ سعی دل ہے
- عرض خمیازۂ مجنوں ہے گریباں میرا
- لنگر وحشت مجنوں ہے بیاباں میرا
- تشنۂ خون دل و دیدہ ہے پیماں میرا
- فہم زنجیری بے ربطی دل ہے یارب
- کس زباں میں ہے لقب خواب پریشاں میرا
- سرمۂ مفت نظر ہوں مری قیمت یہ ہے
- حریف عرض سوز دل نہیں ہے
- دل نالاں سے ہے بے پردہ پیدا
- اسدؔ اندیشۂ ششدر شدن ہے
- نہیں ہے بازگشت سیل غیر از جانب دریا
- خود فروشی ہاے ہستی بس کہ جاے خندہ ہے
- ہر شکست قیمت دل میں صداے خندہ ہے
- عرض ناز شوخی دنداں براے خندہ ہے
- دعوی جمعیت احباب جاے خندہ ہے
- ہے عدم میں غنچہ محو عبرت انجام گل
- یک جہاں زانو تامل در قفاے خندہ ہے
- ورنہ دنداں در دل افشردن بناے خندہ ہے
- دو جہاں وسعت بقدر یک فضاے خندہ ہے
- دل محیط گریہ و لب آشناے خندہ ہے
- جاے استہزا ہے عشرت کوشی ہستی اسدؔ
- صبح و شبنم فرصت نشو و نماے خندہ ہے
- یقین ہے آدمی کو دستگاہ فقر حاصل ہو
- اسدؔ مجھ میں ہے اس کے بوسۂ پا کی کہاں جرأت
- غالبؔ یہ خوف ہے کہ کہاں سے ادا کروں
- لیکن یہ ہم ہے کہ کہاں سے ادا کروں
- کاسۂ دریوزہ ہے پیمانۂ دست سبو
- گرد ساحل ہے نم شرم جبین آشنا
- گرمی شوق طلب ہے عین تا پاک وصال
- غافلاں آئینہ داں ہے نقش پاے جستجو
- رہن خاموشی میں ہے آرایش بزم وصال
- ہے پر پرواز رنگ رفتۂ خوں گفتگو
- ہے تماشا حیرت آباد تغافل ہاے شوق
- خوے شرم سرد بازاری ہے سیل خانماں
- ہے اسدؔ نقصاں میں مفت اور صاحب سرمایہ تو
- ہے دست رد بہ سیر جہاں بستن نظر
- پیدا نہیں ہے اصل تگ و تاز جستجو
- میرا نیاز و عجز ہے مفت بتاں اسدؔ
- خواب غفلت بہ کمیں گاہ نظر پنہاں ہے
- شام ساے میں بہ تاراج سحر پنہاں ہے
- نقد صد دل بگریبان سحر پنہاں ہے
- آستاں میں صفت آئنہ در پنہاں ہے
- فکر پرواز جنوں ہے سبب ضبط نہ پوچھ
- اشک جوں بیضۂ مژہ سے تہ پر پنہاں ہے
- نالہ در گرد تمناے اثر پنہاں ہے
- ورنہ ہر سنگ کے باطن میں شرر پنہاں ہے
- وحشت دل ہے اسدؔ عالم نیرنگ نشاط
- خندۂ گل بلب زخم جگر پنہاں ہے
- خواب جمعیت مخمل ہے پریشاں مجھ سے
- کس قدر خانۂ آئینہ ہے ویراں مجھ سے
- اے تسلی ہوس وعدہ فریب افسوں ہے
- کیا ہے ترک دنیا کاہلی سے
- کہ شاخ گل کا خم انداز ہے بالیں شکستن کا
- نہاں ہے مردمک میں شوق رخسار فروزاں سے
- گداز دل کو کرتی ہے کشود چشم شب پیما
- نمک ہے شمع میں جوں موم جادو خواب بستن کا
- نفس در سینہ ہاے ہم دگر رہتا ہے پیوستہ
- نہیں ہے رشتۂ الفت کو اندیشہ گستن کا
- تکلف عافیت میں ہے دلا بند قبا وا کر
- نفس بعد از وصال دوست تاواں ہے گستن کا
- ہر اشک چشم سے یک حلقۂ زنجیر بڑھتا ہے
- سبب ہے ناخن دخل عزیزاں سینہ خستن کا
- کوشش ہمہ بے تاب تردد شکنی ہے
- صد جنبش دل یک مژہ برہم زدنی ہے
- خاموشی عاشق گلۂ کم سخنی ہے
- تا آبلہ دعواے تنک پیرہنی ہے
- عیش ابد از خویش بروں تا ختنی ہے
- از بس کہ ہے محو بہ چمن تکیہ زدن ہا
- گل برگ پر بالش سروچمنی ہے
- اے حسن مگر حسرت پیماں شکنی ہے
- سچ کہتے ہیں واللہ کہ اللہ غنی ہے
- جلوہ نہیں ہے درد سر آئنہ صندلی نہ کر
- حیرت اگر خرام ہے کار نگہ تمام ہے
- گر کف دست بام ہے آئنے کو ہوا سمجھ
- ہے خط عجز ماوتو اول درس آرزو
- ہے یہ سیاق گفتگو کچھ نہ سمجھ فنا سمجھ
- نغمہ ہے محو ساز رہ نشہ ہے بے نیاز رہ
- کل ہے جو وعدۂ وصال آج بھی اے خدا سمجھ
- لغزش پا کو ہے بلد نغمۂ یا علی مدد
- زنگار خوردہ آئینہ یک برگ تاک ہے
- ہے عرض جوہر خط و خال ہزار عکس
- لیکن ہنوز دامن آئینہ پاک ہے
- وہ بے دماغ جس کو ہوس بھی تپاک ہے
- ہم کو ہے اس راز داری پر گھمنڈ
- دوست کا ہے راز دشمن پر کھلا
- مفت کا کس کو برا ہے بدرقہ
- ہے ولی پوشیدہ اور کافر کھلا
- یاں ہجوم عجز سے تا سجدہ ہے جولان عجز
- حسن کو غنچوں سے ہے پوشیدہ چشمی ہاے ناز
- عشق نے وا کی ہے ہر یک خار سے مژگان عجز
- ہے عرق ریزی خجلت جوشش طوفان عجز
- بس کہ بے پایاں ہے صحراے محبت اے اسدؔ
- گرد باد اس راہ کا ہے عقدۂ پیمان عجز
- افسردۂ تمکیں ہے نفس گرمی احباب
- ضعف آئنہ پردازی دست دگراں ہے
- ہے غیرت الفت کہ اسدؔ اس کی ادا پر
- دیدہ خونبار ہے مدت سے ولے آج ندیم
- سامنا حور و پری نے نہ کیا ہے نہ کریں
- موت بس ان کی ہے جو مر کے وہیں دفن ہوئے
- زیست ان کی ہے جو اس کوچے سے گھائل آئے
- وہ جو نازک ہے کمر اس پہ بہت دل آئے
- اب ہے دلی کی طرف کوچ ہمارا غالبؔ
- تم ہو بت پھر تمہیں پندار خدائی کیوں ہے
- تیرے کوچے کا ہے مائل دل مضطر میرا
- کوئی دنیا میں مگر باغ نہیں ہے واعظ
- خلد بھی باغ ہے خیر آب و ہوا اور سہی
- زخم جگر ہے تشنۂ لب دوختن ہنوز
- فانوس شمع ہے کفن کشتگان شوق
- در پردہ ہے معاملۂ سوختن ہنوز
- مجنوں فسون شعلہ خرامی فسانہ ہے
- ہے شمع جادہ داغ ینفروختن ہنوز
- بزم طرب ہے پردگی سوختن ہنوز
- ہووے ہے جادۂ رہ رشتہ گوہر ہرگام
- فرصت یک چشم حیرت شش جہت آغوش ہے
- کوچہ دے ہے زخم دل صبح وطن کی فکر میں
- رنگ کی گرمی ہے تاراج چمن کی فکر میں
- فال ہستی خار خار وحشت اندیشہ ہے
- شوخی سوزن ہے ساماں پیرہن کی فکر میں
- مغز سر خواب پریشاں ہے سخن کی فکر میں
- مجھ میں اور مجنوں میں وحشت ساز دعوا ہے اسدؔ
- برگ برگ بید ہے ناخن زدن کی فکر میں
- منت کشی میں حوصلہ بے اختیار ہے
- دامان صد کفن تہ سنگ مزار ہے
- کس کا سراغ جلوہ ہے حیرت کو اے خدا
- آئینہ فرش شش جہت انتظار ہے
- عبرت طلب ہے حل معماے آگہی
- شبنم گداز آئنۂ اعتبار ہے
- ہے ذرہ ذرہ تنگی جا سے غبار شوق
- گر دام یہ ہے وسعت صحرا شکار ہے
- نظارے کا مقدمہ پھر رو بکار ہے
- چھڑکے ہے شبنم آئنۂ برگ گل پہ آب
- اے عندلیب وقت وداع بہار ہے
- اے مدعی طلسم عرق بے غبار ہے
- پچ آپڑی ہے وعدۂ دلدار کی مجھے
- وہ آے یا نہ آے پہ یاں انتظار ہے
- خمیازہ ساغر مے رنج خمار ہے
- تا گل زجگر زخم میں ہے راہ نفس کو
- کہتے ہیں کہ تاثیر ہے فریاد جرس کو
- گریہ سرشاری شوق بہ بیاباں زدہ ہے
- قطرۂ خون جگر چشمک طوفاں زدہ ہے
- قطرۂ اشک دل بر صف مژگاں زدہ ہے
- مژہ فال دو جہاں خواب پریشاں زدہ ہے
- یک شرر بال دل و دیدہ چراغاں زدہ ہے
- نقش رنگینئ سعی قلم مانی ہے
- بکمر دامن صد رنگ گلستاں زدہ ہے
- درس نیرنگ ہے کس موج نگہ کا یارب
- غنچہ صد آئنہ زانوے گلستاں زدہ ہے
- دشت و ریگ آئنۂ صفحۂ افشاں زدہ ہے
- آئینہ نفس سے بھی ہوتا ہے کدورت کش
- عاشق کو غبار دل اک وجۂ صفائی ہے
- یہ کاسۂ زانو بھی اک جام گدائی ہے
- صد جلوۂ آئینہ یک صبح جدائی ہے
- شرر فرصت نگہ سامان یک عالم چراغاں ہے
- بہ قدر رنگ یاں گردش میں ہے پیمانہ محفل کا
- بہ قدر ظرف ہے ساقی خمار تشنہ کامی بھی
- جو تو دریاے مے ہے تو میں خمیازہ ہوں ساحل کا
- عصاے خضر صحراے سخن ہے خامہ بیدل کا
- تب سے ہے یاں دہن یار کا مذکور ہنوز
- سبزہ ہے نوک زبان دہن گور ہنوز
- صد تجلی کدہ ہے صرف جبین غربت
- پیرہن میں ہے غبار شرر طور ہنوز
- زخم دل میں ہے نہاں غنچۂ پیکان نگار
- جلوۂ باغ ہے در پردہ ناسور ہنوز
- سر خوش خواب ہے وہ نرگس مخمور ہنوز
- اے اسدؔ تیرگی بخت سیہ ظاہر ہے
- مژہ پہلوے چشم اے جلوۂ ادراک باقی ہے
- ہوا وہ شعلہ داغ اور شوخی خاشاک باقی ہے
- عدم میں بہر فرق سرد مشت خاک باقی ہے
- سراپا شبنم آئیں یک نگاہ پاک باقی ہے
- ہنوز آفت نسب یک خندہ یعنی چاک باقی ہے
- بہار نیم رنگ آہ حسرت ناک باقی ہے
- مری محفل میں غالبؔ گردش افلاک باقی ہے
- سبب وارستگاں کو ننگ ہمت ہے خداوندا
- ہوئی ہے ناتوانی بے دماغ شوخی مطلب
- فرو ہوتا ہے سر سجدے میں اے دست دعا گم ہو
- چراغ گل سے ڈھونڈھے ہے چمن میں شمع خار اپنا
- ہوا ہے نقشبند آئنہ سنگ مزار اپنا
- اگر آسودگی ہے مدعائے رنج بیتابی
- کہ ہے سر پنجۂ مژگان آہو پشت خار اپنا
- کمیں گاہ بلا ہے ہوگیا شیشہ جہاں خالی
- کہ تار جادہ سے ہے لجہ ریگ رواں خالی
- دکان ناوک تاثیر ہے از خود تہی ماندن
- کرے ہے مغز سے مانند نے کے استخواں خالی
- عبث ہے خط ساغر جلوہ طوق گردن قمری
- مئے الفت سے ہے میناے سرو بوستاں خالی
- عزیزاں ہے برنگ صفر جام آسماں خالی
- بھرا ہے دہر بے دردی سے دل کیجیے کہاں خالی
- بہ مہر صد نظر ثابت ہے دعویٰ پارسائی کا
- بہ جیب آرزو پنہاں ہے حاصل دل ربائی کا
- نظر بازی طلسم وحشت آباد پرستاں ہے
- تمنائے زباں محو سپاس بے زبانی ہے
- اسدؔ یہ عجز و بے سامانی فرعون توام ہے
- جسے تو بندگی کہتا ہے دعوا ہے خدائی کا
- مقدم سیلاب سے دل کیا نشاط آہنگ ہے
- گل چہرہ ہے کسو خفقانی مزاج کا
- گھبرا رہی ہے بیم خزاں سے بہار حیف
- جلتا ہے دل کہ کیوں نہ ہم اک بار جل گئے
- رنگ ہے سنگ محک دعواے مینائی عبث
- ناخن دخل عزیزاں یک قلم ہے نقب زن
- محمل پیمانۂ فرصت ہے بر دوش حباب
- جان عاشق حامل صد غلبۂ تاثیر ہے
- یک نگاہ گرم ہے جوں شمع سر تا پا گداز
- اے اسدؔ بے جا ہے ناز سجدۂ عرض نیاز
- طبع عاشق حامل صد غلبۂ تاثیر ہے
- نہیں ہے بے سبب قطرے کو شکل گوہر افسردن
- گرہ ہے حسرت آبے بروے کار آورن
- مہ نو سے ہے رہزن دار نعل واژگوں باندھا
- خمار ضبط سے بھی نشۂ اظہار پیدا ہے
- تراوش شیرۂ انگور کی ہے مفت افشردن
- گل از شاخ دور افتادہ ہے نزدیک پژمردن
- اسدؔ ہے طبع مجبور تمنا آفرینی ہا
- نشۂ مے بے چمن دود چراغ کشتہ ہے
- جام داغ شعلہ اندود چراغ کشتہ ہے
- رحم کر ظالم کہ کیا بود چراغ کشتہ ہے
- نبض بیمار وفا دود چراغ کشتہ ہے
- دل لگی کی آرزو بے چین رکھتی ہے ہمیں
- ورنہ یاں بے رونقی سود چراغ کشتہ ہے
- لالہ چشم حسرت آلود چراغ کشتہ ہے
- شور ہے کس بزم کی عرض جراحت خانہ کا
- صبح یک زخم نمک سود چراغ کشتہ ہے
- لالہ داغ شعلہ فرسود چراغ کشتہ ہے
- خواب ناز گل رخاں دود چراغ کشتہ ہے
- ہے دل افسردہ داغ شوخی مطلب اسدؔ
- شعلہ آخر فال مقصود چراغ کشتہ ہے
- زبس طوفان آب و گل ہے غافل کیا تعجب ہے
- نمک بر داغ مشک آلودۂ وحشت تماشا ہے
- غضب ہے گر غبار خاطر احباب ہوجاوے
- نزاکت ہے فسون دعوی طاقت شکستن ہا
- بہ رنگ شعلہ ہے مہر نماز از پا نشستن ہا
- تکلف عاقبت میں ہے دلا بند قبا وا کر
- اسدؔ ہر اشک ہے یک حلقہ بر زنجیر افزودن
- بہ بند گریہ ہے نقش بر آب امید رستن ہا
- رقیب آئنہ ہے حیرت تماشائی
- زخود گزشتن دل کاروان حیرت ہے
- نہیں ہے حوصلہ پامرد کثرت تکلیف
- بچشم درشدہ مژگاں ہے جوہر رگ خواب
- نہیں ریزش عرق کی اب اسے ذوبان اعضا ہے
- نگاہ اس چشم کی افزوں کرے ہے ناتوانائی
- پر بالش ہے وقت دید مژگان تماشائی
- طلسم نا امیدی ہے خجالت گاہ پیدائی
- پر طاؤس ہے نیرنگ داغ حیرت انشائی
- تحیر ہے گریباں گیر ذوق جلوہ پیرائی
- ملی ہے جوہر آئینہ کو جوں بخیہ گیرائی
- شرار سنگ سے پادرحنا گلگون شیریں ہے
- سلیمانی ہے ننگ بے دماغان خود آرائی
- نگاہ عبرت افسوں گاہ برق و گاہ مشعل ہے
- جنوں کو سخت بیتابی ہے تکلیف شکیبائی
- خرابات جنوں میں ہے اسدؔ وقت قدح نوشی
- نہاں کیفیت مے میں ہے سامان حجاب اس کا
- بنا ہے پنبۂ سینا سے ساقی نے نقاب اس کا
- زبان شمع خلوت خانہ دیتی ہے جواب اس کا
- عیاں کیفیت میخانہ ہے جوے گلستاں میں
- کہ مے عکس شفق ہے اور ساغر ہے حباب اس کا
- غبار آوارہ و سرگشتہ ہے یا بو تراب اس کا
- ہوں خاکسارپر نہ کسی سے ہے مجھ کو لاگ
- ہرگز کسی کے دل میں نہیں ہے مری جگہ
- بادشہ کا نام لیتا ہے خطیب
- سکۂ شہ کا ہوا ہے روشناس
- شاہ کے آگے دھرا ہے آئنہ
- ہوسکے کیا مدح ہاں اک نام ہے
- جانتا ہوں ہے خط لوح ازل
- ہے طلسم روز و شب کا در کھلا
- پھونکتا ہے نالہ ہر شب صور اسرافیل کی
- ہم کو جلدی ہے مگر تو نے قیامت ڈھیل کی
- ہے جو آبی پیرہن ہر موج رود نیل کی
- عرش پر تیرے قدم سے ہے دماغ گرد رہ
- آج تنخواہ شکستن ہے کلہ جبریل کی
- وہ فرنگی زادہ کھاتا ہے قسم انجیل کی
- نالہ کھینچا ہے سراپا داغ جرأت ہوں اسدؔ
- کیا سزا ہے میرے جرم آرزو تاویل کی
- وہ مرغ ہے خزاں کی صعوبت سے بے خبر
- تمثال گداز آئنہ ہے عبرت بینش
- آہنگ عدم نالہ بہ کہسار گرد ہے
- کس بات پہ مغرور ہے اے عجز تمنا
- بال طاؤس ہے رعنائی ضعف پرواز
- کون ہے داغ کہ شعلے کا عناں گیر آوے
- ربط تمیز اعیاں درد مئے صدا ہے
- اعمی کو سرمۂ چشم آواز آشنا ہے
- موے دماغ وحشت سر رشتۂ فنا ہے
- شیرازۂ دو عالم یک آہ نارسا ہے
- دیوانگی ہے تجھ کو درس خرام دینا
- موج بہار یکسر زنجیر نقش پا ہے
- آسایش وفاہا بیتابی جفا ہے
- میں بھی ہوں شمع کشتہ گر داغ خوں بہا ہے
- یک درد و صد دوا ہے یک دست و صد دعا ہے
- دریاے مے ہے ساقی لیکن خمار باقی
- تا کوچہ دادن موج خمیازہ آشنا ہے
- وحشت نہ کھینچ قاتل حیرت نفس ہے بسمل
- جب نالہ خوں ہو غافل تاثیر کیا بلا ہے
- حضرت چلے حرم کو اب آپ کا خدا ہے
- بیکاری تسلیم بہر رنگ چمن ہے
- حیرت حد اقلیم تمناے پری ہے
- دیباچۂ وحشت ہے اسدؔ شکوۂ خوباں
- رنگ طرب ہے صورت عہد وفا گرو
- تھا کس قدر شکستہ کہ ہے جا بجا گرو
- عرض بساط انجمن رنگ مفت ہے
- موج بہار رکھتی ہے اک بوریا گرو
- ہے تاک میں سلم ہوس صد قدح شراب
- ہے وحشت جنون بہار اس قدر کہ ہے
- بے تاب سیر دل ہے سر ناخن نگار
- یاں نعل ہے بہ آتش رنگ حنا گرو
- تیشے کی کوہسار میں ہے یک صدا گرو
- جوں گوہر اشک کو ہے فرامش چکیدگی
- ہے سجدۂ سپاس بمنزل رسیدگی
- انساں نیاز مند ازل ہے کہ جوں کماں
- مطلب ہے ربط سے رگ و پے کی خمیدگی
- ہے بسمل اداے چمن عارضاں بہار
- گلشن کو رنگ گل سے ہے درخوں طپیدگی
- دیکھا نہیں ہے ہم نے بعشق بتاں اسدؔ
- سازش صلح بتاں میں ہے نہاں جنگیدن
- بس کہ شرمندۂ بوے خوش گل رویاں ہے
- نکہت گل کو ہے غنچے میں نفس دزدیدن
- ہے فروغ رخ افروختہ خوباں سے
- گلشن زخم کھلاتا ہے جگر میں پیکاں
- گرہ غنچۂ ہے سامان چمن بالیدن
- اسدؔ مایوس مت ہو گرچہ رونے میں اثر کم ہے
- کہ غالب ہے کہ بعد از زاری بسیار ہو پیدا
- غم خوار کو ہے قسم زنہار
- حسرت زدۂ طرب ہے یہ شخص
- گل اقبال خس ہے چشم بلبل آشیانے میں
- کہ طوطی قفل زنگ آلودہ ہے آئینہ خانے میں
- پر پرواز زلف ناز ہے ہدہد کے شانے میں
- نمدور آب ہے اے سادہ پرکار اس بہانے میں
- بحکم عجز ابروے مہ نو حیرت ایما ہے
- قیامت ہے کہ سن لیلیٰ کا دشت قیس میں آنا
- تعجب سے وہ بولا یوں بھی ہوتا ہے زمانے میں
- دل نازک پہ اس کے رحم آتا ہے مجھے غالبؔ
- دوران سر سے گردش ساغر ہے متصل
- ہے جنبش زباں بدہن سخت ناگوار
- سیر آں سوئے تماشا ہے طلب گاروں کا
- خضرؔ مشتاق ہے اس دشت کے آواروں کا
- کاغذ سرمہ ہے جامہ ترے بیماروں کا
- وحشت نالہ بہ وا ماندگی وحشت ہے
- جرس قافلہ یاں دل ہے گرانباروں کا
- پھر وہ سوئے چمن آتا ہے خدا خیر کرے
- رنگ اڑتا ہے گلستاں کے ہوا داروں کا
- چشم امید ہے روزن تری دیواروں کا
- حسن آشفتگی جلوہ ہے عرض اعجاز
- دیدہ تا دل ہے یک آئینہ چراغاں کس نے
- شب وصال میں مونس گیا ہے بن تکیہ
- ہوا ہے موجب آرام جان و تن تکیہ
- کہ بن گیا ہے خم جعد پر شکن تکیہ
- بنا ہے تختۂ گل ہاے یاسمیں بستر
- ہوا ہے دستۂ نسرین و نسترن تکیہ
- فروغ حسن سے روشن ہے خوابگاہ تمام
- جو رخت خواب ہے پرویں تو ہے پرن تکیہ
- ہوا ہے کاٹ کے چادر کو ناگہاں غائب
- یہ رات بھر کا ہے ہنگامہ صبح ہونے تک
- ہوئی ہے اس کو مری لاش بے کفن تکیہ
- شب فراق میں یہ حال ہے اذیت کا
- کہ سانپ فرش ہے اور سانپ کا ہے من تکیہ
- فقیر غالبؔ مسکیں کا ہے کہن تکیہ
- ہے گرفتاری نیرنگ تماشا ہستی
- مقدم سیلاب سے دل کیا نشاط آہنگ ہے
- شفق بدعوی عاشق گواہ رنگیں ہے
- کہ ماہ دزد حناے کف نگاریں ہے
- کرے ہے بادہ ترے لب سے کسب رنگ فروغ
- خط پیالہ سراسر نگاہ گلچیں ہے
- عیاں ہے پاے حنائی برنگ پر تو خور
- رکاب روزن دیوار خانۂ زیں ہے
- درازی رگ خواب بتاں خط چیں ہے
- کہ خط غبار زمیں خیز زلف مشکیں ہے
- بجا ہے گر نہ سنے نالہ ہاے بلبل زار
- کہ گوش گل نم شبنم سے پنبہ آگیں ہے
- کہ ایک عمر سے حسرت پرست بالیں ہے
- جنوں معاملہ بیدل فقیر مسکیں ہے
- اسدؔ ہے نزع میں چل بے وفا براے خدا
- مقام ترک حجاب و وداع تمکیں ہے
- شکل طاؤس گرفتار بنایا ہے مجھے
- ہوں وہ گلدام کہ سبزے میں چھپایا ہے مجھے
- پر طاؤس تماشا نظر آیا ہے مجھے
- ایک دل تھا کہ بصد رنگ دکھایا ہے مجھے
- آئنہ بیضۂ طوطی نظر آیا ہے مجھے
- موکشاں خانۂ زنجیر میں لایا ہے مجھے
- یک بیاباں دل بیتاب اٹھایا ہے مجھے
- حیرت کاغذ آتش زدہ ہے جلوۂ عمر
- تہ خاکستر صد آئنہ پایا ہے مجھے
- ہوں میں وہ داغ کہ پھولوں میں بسایا ہے مجھے
- ہوں میں وہ چاک کہ کانٹوں سے سلایا ہے مجھے
- ہوں میں وہ خاک کہ ماتم میں اڑایا ہے مجھے
- جام ہر ذرہ ہے سرشار تمنا مجھ سے
- کس کا دل ہوں کہ دو عالم سے لگایا ہے مجھے
- شوخی نغمۂ بیدل نے جگایا ہے مجھے
- مردمک سے ہے خال بر لب گور
- بار لائی ہے دانہ ہاے سر شک
- مژہ ہے ریشۂ رز انگور
- دشمنی ہے وصال کا مذکور
- ہے کہاں قیصر اور کہاں فغفور
- اے اسدؔ ہے ہنوز دلی دور
- گرچہ خدا کی یاد ہے کلفت ماسوا سمجھ
- شوخی حسن و عشق ہے آئنہ دار ہمدگر
- شوخی مضراب جولاں آبیار نغمہ ہے
- برگ ریز ناخن مطرب بہار نغمہ ہے
- گوش ہا سیمابی و دل بے قرار نغمہ ہے
- ساز عیش بے دلی ہے خانہ ویرانی مجھے
- سیل یاں کوک صداے آبشار نغمہ ہے
- سنبلی خواں ہے بذوق تار گیسوے دراز
- نالۂ زنجیر مجنوں رشتہ دار نغمہ ہے
- شیشۂ مے سرو سبز جویبار نغمہ ہے
- واں تو میرے نالے کو بھی اعتبار نغمہ ہے
- پنبۂ گوش حریفاں پود و تار نغمہ ہے
- شوخی فریاد سے ہے پدۂ زنبور گل
- کسوت ایجاد بلبل خار خار نغمہ ہے
- سوختگاں کی خاک میں ریزش نقش داغ ہے
- آئنۂ نشان حال مثل گل چراغ ہے
- لطف خمار مے کو ہے در دل ہمدگر اثر
- پنبۂ شیشۂ شراب کف بلب ایاغ ہے
- مفت صفاے طبع ہے جلوۂ ناز سوختن
- داغ دل سیہ دلاں مردم چشم زاغ ہے
- رنجش یار مہرباں عیش و طرب کا ہے نشاں
- دل سے اٹھے ہے جو غبار گرد سواد باغ ہے
- شعر کی فکر کو اسدؔ چاہیے ہے دل و دماغ
- واے کہ یہ فسردہ دل بیدل و بے دماغ ہے
- صبح ناپیدا ہے کلفت خانۂ ادبار میں
- توڑنا ہوتا ہے رنگ یک نفس ہر شب مجھے
- نامۂ اعمال ہے تاریکئ کوکب مجھے
- پردہ دار یادگی ہے وسعت مشرب مجھے
- صبح سے معلوم آثار ظہور شام ہے
- غافلاں آغاز کار آئینۂ انجام ہے
- بس کہ ہے صیاد راہ عشق میں محو کمیں
- جادۂ رہ سر بسر مژگان چشم دام ہے
- بس کہ تیرے جلوۂ دیدار کا ہے اشتیاق
- ہر بت خرشید طلعت آفتاب بام ہے
- مستعد قتل یک عالم ہے جلاد فلک
- کہکشاں موج شفق میں تیغ خوں آشام ہے
- پختگی ہاے تصور یاں خیال خام ہے
- واں اسدؔ تار شعاع مہر خط جام ہے
- راحت کمین شوخی تقریب نالہ ہے
- پرواز آشیانۂ عنقاے ناز ہے
- ہے ذوق گریہ عزم سفر کیجیے اسدؔ
- قاصد تپش نالہ ہے یارب خبر آوے
- ہے طاق فراموشی سوداے دو عالم
- درد آئنہ کیفیت صد رنگ ہے یارب
- زاہد کہ جنوں سبحۂ تحقیق ہے یارب
- ہر غنچہ اسدؔ بارگہ شوکت گل ہے
- دل فرش رہ ناز ہے بیدل اگر آوے
- دامان شفق طرف نقاب مہ نو ہے
- کیفیت دیگر ہے فشار دل خونیں
- تغافل مشربی سے ناتمامی بس کہ پیدا ہے
- نگاہ ناز چشم یار میں زنار مینا ہے
- تصرف وحشیوں میں ہے تصور ہاے مجنوں کا
- سواد چشم آہو عکس خال روے لیلا ہے
- دویدن ریشہ ساں مفت رگ خواب زلیخا ہے
- سویدا نسخۂ تہ بندی داغ تمنا ہے
- حناے پنجۂ صیاد مرغ رشتہ برپا ہے
- غریق بحر خوں تمثال در آئینہ رہتا ہے
- تمام اجزاے عالم صید دام چشم گریاں ہے
- طلسم شش جہت یک حلقۂ گرداب طوفاں ہے
- نہیں ہے مردن صاحب دلاں جز کسب جمعیت
- سویدا میں نفس مانند خط نقطے میں پنہاں ہے
- کہ چشم آبلہ میں طول میل راہ مژگاں ہے
- زبس دوش رم آہو پہ ہے محمل تمنا کا
- جنون قیس سے بھی شوخی لیلیٰ نمایاں ہے
- مژہ پوشیدنی ہا پردۂ تصویر عریاں ہے
- اسدؔ بند قباے یار ہے فردوس کا غنچہ
- اگر وا ہو تو دکھلادوں کہ یک عالم گلستاں ہے
- تماشاے جہاں مفت نظر ہے
- کہ یہ گلزار باغ رہ گزر ہے
- جہاں شمع خموشی جلوہ گر ہے
- پر پروا نگاں بال شرر ہے
- مسی مالیدہ دندان گہر ہے
- شفق ساں موجۂ خوں ہے رگ خواب
- کہ مژگان کشودہ نیشتر ہے
- کرے ہے روے روشن آفتابی
- غبار خط رخ گرد سحر ہے
- اثر موقوف بر عمر دگر ہے
- سواد شعر در گرد سفر ہے
- تر جبیں رکھتی ہے شرم قطرہ سامانی مجھے
- موج گرداب حیا ہے چین پیشانی مجھے
- ہے شعاع مہر زنار سلیمانی مجھے
- ضبط سوز دل ہے وجہ حیرت اظہار حال
- داغ ہے مہر دہن جوں چشم قربانی مجھے
- شوخ ہے مثل حباب از خویش بیروں آمدن
- ہے گریباں گیر فرصت ذوق عریانی مجھے
- ناخن بریدہ ہے تیغ صفاہانی مجھے
- زلف تحریر پریشان تقاضا ہے مگر
- آمد خط ہے نہ کر خندۂ شیریں کہ مباد
- وحشت شور تماشا ہے کہ جوں نکہت گل
- وہ تب عشق تمنا ہے کہ پھر صورت شمع
- تماشاے گل و گلشن ہے مفت سربجیبی ہا
- صفا کب جمع ہوسکتی ہے غیر از گوشہ گبری ہا
- ہے کوچہ ہاے نے میں غبار صدا بلند
- رکھتا ہے انتظار تماشاے حسن دوست
- ہوتا ہے ورنہ شعلۂ رنگ حنا بلند
- یک آسماں ہے مرتبۂ پشت پا بلند
- ہے دلبری کمیں کر ایجاد یک نگاہ
- در ہر نفس بقدر نفس ہے قبا بلند
- اس قامت رعنا کی جہاں جلوہ گری ہے
- تسلیم فروشی روش کبک دری ہے
- ہر قطرۂ شربت مجھے اشک شکری ہے
- سرمایۂ وحشت ہے دلا سایۂ گلزار
- ہر سبزۂ نوخاستہ یاں بال پری ہے
- فانوس کفن بہر چراغ سحری ہے
- یہ تیرگی حال لباس سفری ہے
- دیتا ہے اور جوں گل و شبنم بہار داغ
- جوں چشم باز ماندہ ہے ہر یک بسوے دل
- رکھتا ہے داغ تازہ کا یاں انتظار داغ
- دیتی ہے گرمی گل و بلبل ہزار داغ
- یوں عاشقوں میں ہے سبب اعتبار داغ
- دکھلائے ہے مجھے دو جہاں لالہ زار داغ
- لخت جگر سے ہے رگ ہر خار شاخ گل
- جو کچھ ہے محو شوخی ابروے یار ہے
- ہر سنگ وحشت ہے صدف گوہر شکست
- ہے وحشت طبیعت ایجاد یاس خیز
- ناکامی نگاہ ہے برق نظارہ سوز
- عرض سرشک پر ہے فضاے زمانہ تنگ
- خوانا نہیں ہے خط رقم اضطرار کا
- وہ شوخ اپنے حسن پہ مغرور ہے اسدؔ
- اے اسدؔ واشدن عقدۂ غم گرچا ہے
- خال کب مشاطہ دے سکتی ہے کا کل کے تلے
- بال اگ جاتا ہے شیشے کا رگ گل کے تلے
- ہے پر افشان طپیدن ہا بہ تکلیف ہوس
- ورنہ صد گلزار ہے یک بال بلبل کے تلے
- پے بمقصد بردنی ہے خضرمے سے اے اسدؔ
- جادۂ منزل ہے خط ساغر مل کے تلے
- شوق سامان فضولی ہے وگرنہ غالب
- اسدؔ افسردگی آوارۂ کفر و دیں ہے
- یاں اشک جدا گرم ہے اور آہ جدا گرم
- حسرت کدۂ عشق کی ہے آب و ہوا گرم
- جوں برق ہے پیچیدگی بند قبا گرم
- گر ہے سر دریوزگی جلوۂ دیدار
- کہ ہے دل سوزاں نے مرے پہلو میں جا گرم
- وحشت اگر رسا ہے بے حاصلی ادا ہے
- پیمانۂ ہوا ہے مشت غبار صحرا
- دیوانگی اسدؔ کی حسرت کش طرب ہے
- یہ سر نوشت میں میری ہے اشک افشانی
- کہ موج آب ہے ہر ایک چین پیشانی
- جنون وحشت ہستی یہ عام ہے کہ بہار
- رکھے ہے کسوت طاؤس میں پر افشانی
- بہ گمرہی سکندر ہے محو حیرانی
- کہ عید خلق پہ حیراں ہے چشم قربانی
- کہ زلف یار ہے مجموعۂ پریشانی
- سیماب پشت گرمی آئینہ دے ہے ہم
- ظاہر ہے ہم سے کلفت بخت سیاہ روز
- آغوش گل کشودہ براے وداع ہے
- آنکھیں پتھرائی ہیں نامحسوس ہے تار نگاہ
- ہے زمیں از بس کہ سنگیں جادہ بھی پیدا نہیں
- ہو سکے ہے پردۂ جوشیدن خون جگر
- ہے طلسم دہر میں صد حشر پاداش عمل
- ضبط سے جوں مردمک اسپند اقامت گیر ہے
- مجمر بزم فسردن دیدہ نخچیر ہے
- یاں پر پرواز رنگ رفتہ بال تیر ہے
- ہے جہاں فکر کشیدن ہاے نقش روے یار
- ماہتاب ہالہ پیرا گردۂ تصویر ہے
- ہر نہال شمع میں اک غنچۂ گل گیر ہے
- لخت لخت دل نگین خانۂ زنجیر ہے
- ریزش خون وفا ہے جرعہ نوشی ہاے یار
- یاں گلوے شیشۂ مے قبضۂ شمشیر ہے
- وصل میں وہ سوز شمع مجلس تقریر ہے
- ہے وطن سے باہر اہل دل کی قدر و منزلت
- باعث ایذا ہے برہم خوردن بزم سرور
- واں سیاہی مردمک ہے اور یاں داغ شراب
- ہے فلک بالا نشین فیض خم گردیدنی
- دل کو اظہار سخن انداز فتح الباب ہے
- ہو گئی ہے غیر کی شیریں بیانی کارگر
- ضمان جادہ رویاندن ہے خط جام مے نوشاں
- نہیں ہے ضبط جز مشاطگی ہاے غم آرائی
- کہ میل سرمہ چشم داغ میں ہے آہ خاموشاں
- نشان روشنی دل نہاں ہے تیرہ بختوں کا
- پریشانی اسدؔ در پردہ ہے سامان جمعیّت
- کہ ہے آبادی صحرا ہجوم خانہ بردوشاں
- زنجیر یاد پڑتی ہے جادے کو دیکھ کر
- اس چشم سے ہنوز نگہ یادگار ہے
- سودائی خیال ہے طوفان رنگ و بو
- یاں ہے کہ داغ لالہ دماغ بہار ہے
- حیرت شہید جنبش ابروئے یار ہے
- یاں ہے کہ صحبت خس آتش برار ہے
- ذوق خودداری خراب وحشت تسخیر ہے
- آئنہ خانہ مری تمثال کو زنجیر ہے
- ہر بیاباں یک بیاباں حسرت تعمیر ہے
- لغزش رفتار خامہ مستی تحریر ہے
- جب ہوے ہم بے گنہ رحمت کی کیا تقصیر ہے
- شوخی ایمان زاہد سستی تدبیر ہے
- مہ ز سر تا ناخن پا رزق یک شگبیر ہے
- اشک پیدا کر اسدؔ گر آہ بے تاثیر ہے
- زبس ہے ناز پرواز غرور نشۂ صہبا
- رگ بالیدۂ گردن ہے موج بادہ درمینا
- بہار سنبلستان جلوہ گر ہے آں سوے دریا
- کہاں ہے دیدۂ روشن کہ دیکھے بے حجابانہ
- نقاب یار ہے از پردہ ہاے چشم نابینا
- درس تپش ہے برق کو اب جس کے نام سے
- وہ دل ہے یہ کہ جس کا تخلص صبور تھا
- اس کی خطا نہیں ہے یہ میرا قصور تھا
- جنت ہے تیری تیغ کے کشتوں کی منتظر
- زلف سیہ افعی نظر بد قلمی ہے
- ہر چند خط سبز و زمرد رقمی ہے
- ہے مشق وفا جانتے ہیں لغزش پا تک
- اے شمع تجھے دعوی ثابت قدمی ہے
- ہے عرض شکست آئنہ جرأت عاشق
- جز آہ کہ سر لشکر وحشت علمی ہے
- اے حسرت بسیار تمنا کی کمی ہے
- شہرت چمن فتنہ و عنقا ارمی ہے
- بات پر واں زبان کٹتی ہے
- کون ہے جو نہیں ہے حاجت مند
- از مہر تا بہ ذرہ دل و دل ہے آئنہ
- طوطی کو شش جہت سے مقابل ہے آئنہ
- سیماب بالش و کمر دل ہے آئنہ
- یاں پشت چشم شوخیٔ قاتل ہے آئنہ
- در پردۂ ہوا پر بسمل ہے آئنہ
- جوہر طلسم عقدۂ مشکل ہے آئنہ
- آئینہ بند خلوت و محفل ہے آئنہ
- یاں سنگ آستانۂ بیدلؔ ہے آئنہ
- دل ہی تو ہے سیاست درباں سے ڈر گیا
- مدت ہوئی ہے دعوت آب و ہوا کیے
- بے صرفہ ہی گزرتی ہے ہو گرچہ عمر خضر
- دینے لگا ہے بوسہ بغیر التجا کیے
- ضد کی ہے اور بات مگر خو بری نہیں
- کہ ہے سر پنجۂ مژگان آہو پشت خار اپنا
- چراغ گل سے ڈھونڈھے ہے چمن میں شمع خار اپنا
- ہوا ہے نقشبند آئنہ سنگ مزار اپنا
- اگر آسودگی ہے مدعائے رنج بیتابی
- کافی ہے نشانی ترا چھلے کا نہ دینا
- جاتا ہوں جدھر سب کی اٹھے ہے ادھر انگشت
- یک دست جہاں مجھ سے پھرا ہے مگر انگشت
- لگتی ہے مجھے تیر کے مانند ہر انگشت
- ہر غنچۂ گل صورت یک قطرۂ خوں ہے
- دیکھا ہے کسو کا جو حنا بستہ سر انگشت
- گرمی ہے زباں کی سبب سوختن جاں
- ہر شمع شہادت کو ہے یاں سربسر انگشت
- جوں ماہیٔ بے آب تڑپتی ہے ہر انگشت
- شوخی تری کہہ دیتی ہے احوال ہمارا
- راز دل صد پارہ کی ہے پردہ در انگشت
- کس رتبہ میں باریکی و نرمی ہے کہ جوں گل
- لگتی ہے مجھے تیر کے مانند ہر انگشت
- آ کہ مری جان کو قرار نہیں ہے
- طاقت بیداد انتظار نہیں ہے
- نشہ بہ اندازۂ خمار نہیں ہے
- گریہ نکالے ہے تیری بزم سے مجھ کو
- ہائے کہ رونے پہ اختیار نہیں ہے
- ہم سے عبث ہے گمان رنجش خاطر
- خاک میں عشاق کی غبار نہیں ہے
- غیر گل آئینۂ بہار نہیں ہے
- قتل کا میرے کیا ہے عہد تو بارے
- وائے اگر عہد استوار نہیں ہے
- تو نے قسم مے کشی کی کھائی ہے غالبؔ
- تیری قسم کا کچھ اعتبار نہیں ہے
- ہے گریباں ننگ پیراہن جو دامن میں نہیں
- رونق ہستی ہے عشق خانہ ویراں ساز سے
- انجمن بے شمع ہے گر برق خرمن میں نہیں
- زخم سلوانے سے مجھ پر چارہ جوئی کا ہے طعن
- غیر سمجھا ہے کہ لذت زخم سوزن میں نہیں
- قطرہ قطرہ اک ہیولیٰ ہے نئے ناسور کا
- کیا کہوں تاریکی زندان غم اندھیر ہے
- آمد خط سے ہوا ہے سرد جو بازار دوست
- کون لا سکتا ہے تاب جلوۂ دیدار دوست
- چشم ما روشن کہ اس بے درد کا دل شاد ہے
- غیر یوں کرتا ہے میری پرسش اس کے ہجر میں
- تاکہ میں جانوں کہ ہے اس کی رسائی واں تلک
- مجھ کو دیتا ہے پیام وعدۂ دیدار دوست
- سر کرے ہے وہ حدیث زلف عنبر بار دوست
- چپکے چپکے مجھ کو روتے دیکھ پاتا ہے اگر
- ہنس کے کرتا ہے بیان شوخی گفتار دوست
- یہ غزل اپنی مجھے جی سے پسند آتی ہے آپ
- ہے ردیف شعر میں غالبؔ ز بس تکرار دوست
- آئنہ ہے قالب خشت در و دیوار دوست
- برق خرمن زار گوہر ہے نگاہ تیز یاں
- ہے سوا نیزے پہ اس کے قامت نوخیز سے
- آفتاب صبح محشر ہے گل دستار دوست
- کردنی ہے جمع تاب شوخیٔ دیدار دوست
- لغزش مستانہ و جوش تماشا ہے اسدؔ
- آمد سیلاب طوفان صداۓ آب ہے
- نقش پا جو کان میں رکھتا ہے انگلی جادہ سے
- بزم مے وحشت کدہ ہے کس کی چشم مست کا
- شیشے میں نبض پری پنہاں ہے موج بادہ سے
- جوش ویرانی ہے عشق داغ بیروں دادہ سے
- بزم ہستی وہ تماشا ہے کہ جس کو ہم اسدؔ
- اس کی خطا نہیں ہے یہ میرا قصور تھا
- درس تپش ہے برق کو اب جس کے نام سے
- وہ دل ہے یہ کہ جس کا تخلص صبور تھا
- جنت ہے تیری تیغ کے کشتوں کی منتظر
- پھونکا ہے کس نے گوش محبت میں اے خدا
- ہے چشم تر میں حسرت دیدار سے نہاں
- درکار ہے شگفتن گل ہائے عیش کو
- ایسا بھی کوئی ہے کہ سب اچھا کہیں جسے
- ہے انتظار سے شرر آباد رستخیز
- کس فرصت وصال پہ ہے گل کو عندلیب
- کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک
- دام ہر موج میں ہے حلقۂ صد کام نہنگ
- دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہوتے تک
- پرتو خور سے ہے شبنم کو فنا کی تعلیم
- گرمیٔ بزم ہے اک رقص شرر ہوتے تک
- شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہوتے تک
- اگ رہا ہے در و دیوار پہ سبزہ غالبؔ
- ہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہے
- فرصت آئینۂ صد رنگ خود آرائی ہے
- روز و شب یک کف افسوس تماشائی ہے
- بخیہ جوں جوہر تیغ آفت گیرائی ہے
- گل صد شعلہ بہ یک جیب شکیبائی ہے
- چمن آرائے نفس وحشت تنہائی ہے
- وصل بر رنگ تپش کسوت رسوائی ہے
- ماہتابی بکف چشم تماشائی ہے
- نفس سوختہ رمز چمن ایمائی ہے
- ظاہراً کاغذ ترے خط كا غلط بردار ہے
- ہم نہیں جلتے نفس ہر چند آتش بار ہے
- آگ سے پانی میں بجھتے وقت اٹھتی ہے صدا
- ہر کوئی درماندگی میں نالہ سے ناچار ہے
- ہے وہی بد مستی ہر ذرہ كا خود عذر خواہ
- جس کے جلوے سے زمیں تا آسماں سرشار ہے
- زندگی سے بھی مرا جی ان دنوں بے زار ہے
- آنکھ کی تصویر سر نامے پہ کھینچی ہے کہ تا
- تجھ پہ کھل جاوے کہ اس کو حسرت دیدار ہے
- بس کہ حیرت سے ز پا افتادۂ زنہار ہے
- ناخن انگشت بت خال لب بیمار ہے
- ورنہ صد محشر بہ رہن صافیٔ رخسار ہے
- صد رگ جاں جادہ آسا وقف نشتر زار ہے
- گرد صحرائے حرم تا کوچۂ زنار ہے
- یک طرف سودا و یکسو منت دستار ہے
- وصل میں دل انتظار طرفہ رکھتا ہے مگر
- فتنہ تاراج تمنا کے لیے درکار ہے
- سایۂ دیوار سیلاب در و دیوار ہے
- بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
- ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
- اک کھیل ہے اورنگ سلیماں مرے نزدیک
- اک بات ہے اعجاز مسیحا مرے آگے
- ہوتا ہے نہاں گرد میں صحرا مرے ہوتے
- گھستا ہے جبیں خاک پہ دریا مرے آگے
- مت پوچھ کہ کیا حال ہے میرا ترے پیچھے
- تو دیکھ کہ کیا رنگ ہے تیرا مرے آگے
- بیٹھا ہے بت آئنہ سیما مرے آگے
- نفرت کا گماں گزرے ہے میں رشک سے گزرا
- ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر
- کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے
- عاشق ہوں پہ معشوق فریبی ہے مرا کام
- مجنوں کو برا کہتی ہے لیلیٰ مرے آگے
- ہے موجزن اک قلزم خوں کاش یہی ہو
- آتا ہے ابھی دیکھیے کیا کیا مرے آگے
- گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے
- ہم پیشہ و ہم مشرب و ہم راز ہے میرا
- باغ پا کر خفقانی یہ ڈراتا ہے مجھے
- سایۂ شاخ گل افعی نظر آتا ہے مجھے
- ہوں میں وہ سبزہ کہ زہراب اگاتا ہے مجھے
- مدعا محو تماشائے شکست دل ہے
- آئنہ خانہ میں کوئی لیے جاتا ہے مجھے
- آسماں بیضۂ قمری نظر آتا ہے مجھے
- دیکھوں اب مر گئے پر کون اٹھاتا ہے مجھے
- باغ تجھ بن گل نرگس سے ڈراتا ہے مجھے
- چاہوں گر سیر چمن آنکھ دکھاتا ہے مجھے
- شور تمثال ہے کس رشک چمن کا یا رب
- آئنہ بیضۂ بلبل نظر آتا ہے مجھے
- کس قدر داغ جگر شعلہ اٹھاتا ہے مجھے
- بہ فسون نگۂ ناز ستاتا ہے مجھے
- حیرت فکر سخن ساز سلامت ہے اسدؔ
- دل پس زانوئے آئینہ بٹھاتا ہے مجھے
- برشکال گریۂ عاشق ہے دیکھا چاہیے
- الفت گل سے غلط ہے دعوی وارستگی
- سرو ہے با وصف آزادی گرفتار چمن
- صاف ہے از بسکہ عکس گل سے گلزار چمن
- جانشین جوہر آئینہ ہے خار چمن
- ہے نزاکت بس کہ فصل گل میں معمار چمن
- قالب گل میں ڈھلی ہے خشت دیوار چمن
- تیری آرائش کا استقبال کرتی ہے بہار
- جوہر آئینہ ہے یاں نقش احضار چمن
- ہے کلاہ ناز گل بر طاق دیوار چمن
- وقت ہے گر بلبل مسکیں زلیخائی کرے
- یوسف گل جلوہ فرما ہے بہ بازار چمن
- چشم دریا ریز ہے میزاب سرکار چمن
- پر یہ کیا کم ہے کہ مجھ سے وہ پری پیکر کھلا
- ہے خیال حسن میں حسن عمل کا سا خیال
- خلد کا اک در ہے میری گور کے اندر کھلا
- منہ نہ کھلنے پر ہے وہ عالم کہ دیکھا ہی نہیں
- کیوں اندھیری ہے شب غم ہے بلاؤں کا نزول
- نامہ لاتا ہے وطن سے نامہ بر اکثر کھلا
- سو رہتا ہے بہ انداز چکیدن سرنگوں وہ بھی
- مرے دام تمنا میں ہے اک صید زبوں وہ بھی
- مرے دریائے بے تابی میں ہے اک موج خوں وہ بھی
- لیے بیٹھا ہے اک دو چار جام واژ گوں وہ بھی
- مرے دل میں ہے غالبؔ شوق وصل و شکوۂ ہجراں
- مجھے معلوم ہے جو تو نے میرے حق میں سوچا ہے
- بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
- گریہ چاہے ہے خرابی مرے کاشانے کی
- در و دیوار سے ٹپکے ہے بیاباں ہونا
- جلوہ از بس کہ تقاضائے نگہ کرتا ہے
- جوہر آئنہ بھی چاہے ہے مژگاں ہونا
- عید نظارہ ہے شمشیر کا عریاں ہونا
- بسکہ دوڑے ہے رگ تاک میں خوں ہو ہو کر
- شہپر رنگ سے ہے بال کشا موج شراب
- موجۂ گل سے چراغاں ہے گزر گاہ خیال
- ہے تصور میں ز بس جلوہ نما موج شراب
- نشہ کے پردے میں ہے محو تماشائے دماغ
- بسکہ رکھتی ہے سر نشو و نما موج شراب
- شرح ہنگامۂ ہستی ہے زہے موسم گل
- رہبر قطرہ بہ دریا ہے خوشا موج شراب
- سایۂ تاک میں ہوتی ہے ہوا موج شراب
- جو ہوا غرقۂ مے بخت رسا رکھتا ہے
- سر سے گزرے پہ بھی ہے بال ہما موج شراب
- ہے یہ برسات وہ موسم کہ عجب کیا ہے اگر
- چار موج اٹھتی ہے طوفان طرب سے ہر سو
- جس قدر روح نباتی ہے جگر تشنۂ ناز
- دے ہے تسکیں بہ دم آب بقا موج شراب
- نہیں ہے سایہ کہ سن کر نوید مقدم یار
- ہوئی ہے کس قدر ارزانی مۓ جلوہ
- کہ مست ہے ترے کوچے میں ہر در و دیوار
- جو ہے تجھے سر سوداۓ انتظار تو آ
- نظر میں کھٹکے ہے بن تیرے گھر کی آبادی
- بہ قدر حوصلۂ عشق جلوہ ریزی ہے
- بہار در گرو غنچہ شہر جولاں ہے
- تکلف آئنۂ دو جہاں مدارا ہے
- بہت سہی غم گیتی شراب کم کیا ہے
- غلام ساقیٔ کوثر ہوں مجھ کو غم کیا ہے
- تمہاری طرز و روش جانتے ہیں ہم کیا ہے
- رقیب پر ہے اگر لطف تو ستم کیا ہے
- یقیں ہے ہم کو بھی لیکن اب اس میں دم کیا ہے
- کوئی بتاؤ کہ وہ زلف خم بہ خم کیا ہے
- کسے خبر ہے کہ واں جنبش قلم کیا ہے
- خدا کے واسطے ایسے کی پھر قسم کیا ہے
- وہ داد و دید گراں مایہ شرط ہے ہم دم
- وگرنہ مہر سلیمان و جام جم کیا ہے
- جلتا ہے دل کہ کیوں نہ ہم اک بار جل گئے
- گل چہرہ ہے کسی خفقانی مزاج کا
- گھبرا رہی ہے بیم خزاں سے بہار حیف
- ہستی ہماری اپنی فنا پر دلیل ہے
- سختی کشان عشق کی پوچھے ہے کیا خبر
- اہل ہوس کی فتح ہے ترک نبرد عشق
- تغافل دوست ہوں میرا دماغ عجز عالی ہے
- اگر پہلو تہی کیجے تو جا میری بھی خالی ہے
- بھرے ہیں جس قدر جام و سبو مے خانہ خالی ہے
- مری فریاد کو کہسار ساز عجز مالی ہے
- کئی کانٹے ہیں اور پیراہن شکل نہالی ہے
- نگاہ شوق کو صحرا بھی دیوان غزالی ہے
- سیہ مستی ہے اہل خاک کو ابر بہاری سے
- زمیں جوش طرب سے جام لبریز سفالی ہے
- کہ یہ نامرد بھی شیر افگن میدان قالی ہے
- حذر کرو مرے دل سے کہ اس میں آگ دبی ہے
- دلا یہ درد و الم بھی تو مغتنم ہے کہ آخر
- نہ گریۂ سحری ہے نہ آہ نیم شبی ہے
- نظر بہ نقص گدایاں کمال بے ادبی ہے
- کہ خار خشک کو بھی دعواۓ چمن نسبی ہے
- لب قدح پہ کف بادہ جوش تشنہ لبی ہے
- جنون و یاس و الم رزق مدعا طلبی ہے
- چمن میں کس کے یہ برہم ہوئی ہے بزم تماشا
- کہ برگ برگ سمن شیشہ ریزۂ حلبی ہے
- علیؔ ولی اسداللہ جانشین نبی ہے
- قاتل اگر رقیب ہے تو تم گواہ ہو
- ابھرا ہوا نقاب میں ہے ان کے ایک تار
- اوروں پہ ہے وہ ظلم کہ مجھ پر نہ ہوا تھا
- توفیق باندازۂ ہمت ہے ازل سے
- آنکھوں میں ہے وہ قطرہ کہ گوہر نہ ہوا تھا
- تپش سے میری وقف کشمکش ہر تار بستر ہے
- مرا سر رنج بالیں ہے مرا تن بار بستر ہے
- سرشک سر بہ صحرا دادہ نور العین دامن ہے
- دل بے دست و پا افتادہ بر خوردار بستر ہے
- فروغ شمع بالیں طالع بیدار بستر ہے
- شعاع آفتاب صبح محشر تار بستر ہے
- ابھی آتی ہے بو بالش سے اس کی زلف مشکیں کی
- ہماری دید کو خواب زلیخا عار بستر ہے
- کہوں کیا دل کی کیا حالت ہے ہجر یار میں غالبؔ
- کہ بیتابی سے ہر یک تار بستر خار بستر ہے
- بذوق شوخیٔ اعضا تکلف بار بستر ہے
- معاف پیچ و تاب کشمکش ہر تار بستر ہے
- گداز شمع محفل پیچش طومار بستر ہے
- بہ پائے خفتہ سیر وادیٔ پر خار بستر ہے
- آہ کا کس نے اثر دیکھا ہے
- نشۂ رنگ سے ہے واشد گل
- قید میں بھی ہے اسیری آزاد
- جادۂ رہ خور کو وقت شام ہے تار شعاع
- چرخ وا کرتا ہے ماہ نو سے آغوش وداع
- شمع سے ہے بزم انگشت تحیر در دہن
- جوں پر طاؤس جوہر تختہ مشق رنگ ہے
- بسکہ ہے وہ قبلۂ آئینہ محو اختراع
- جوہر آئینہ ہے یاں گرد میدان نزاع
- چار سوئے دہر میں بازار غفلت گرم ہے
- عقل کے نقصاں سے اٹھتا ہے خیال انتفاع
- دیدہ تا دل ہے یک آئینہ چراغاں کس نے
- ناتوانی ہے تماشائی عمر رفتہ
- عالم غبار وحشت مجنوں ہے سر بہ سر
- لخت جگر سے ہے رگ ہر خار شاخ گل
- ناکامی نگاہ ہے برق نظارہ سوز
- ہر سنگ و خشت ہے صدف گوہر شکست
- ہے وحشت طبیعت ایجاد یاس خیز
- بیکاری جنوں کو ہے سر پیٹنے کا شغل
- حسن فروغ شمع سخن دور ہے اسدؔ
- جو کچھ ہے محو شوخی ابروئے یار ہے
- عرض سرشک پر ہے فضاۓ زمانہ تنگ
- وہ شوخ اپنے حسن پہ مغرور ہے اسدؔ
- عدم ہے خیر خواہ جلوہ کو زندان بیتابی
- بازی خور فریب ہے اہل نظر کا ذوق
- عالم طلسم شہر خموشی ہے سربسر
- تب ناز گراں مایگی اشک بجا ہے
- تب چاک گریباں کا مزا ہے دل نالاں
- آتش کدہ ہے سینہ مرا راز نہاں سے
- جس جا نسیم شانہ کش زلف یار ہے
- نافہ دماغ آہوئے دشت تتار ہے
- کس کا سراغ جلوہ ہے حیرت کو اے خدا
- آئینہ فرش شش جہت انتظار ہے
- ہے ذرہ ذرہ تنگئ جا سے غبار شوق
- گر دام یہ ہے وسعت صحرا شکار ہے
- نظارہ کا مقدمہ پھر رو بکار ہے
- چھڑکے ہے شبنم آئینۂ برگ گل پر آب
- اے عندلیب وقت وداع بہار ہے
- پچ آ پڑی ہے وعدۂ دلدار کی مجھے
- وہ آئے یا نہ آئے پہ یاں انتظار ہے
- ہر ذرہ کے نقاب میں دل بیقرار ہے
- طوفان آمد آمد فصل بہار ہے
- اے بے دماغ آئینہ تمثال دار ہے
- اے مرگ ناگہاں تجھے کیا انتظار ہے
- اچھا ہے سر انگشت حنائی كا تصور
- دل میں نظر آتی تو ہے اک بوند لہو کی
- بخیہ جسے کہتے ہو شکایت ہے رفو کی
- گو زندگیٔ زاہد بے چارہ عبث ہے
- اتنا ہے کہ رہتی تو ہے تدبیر وضو کی
- نمک پاش خراش دل ہے لذت زندگانی کی
- پس از مردن بھی دیوانہ زیارت گاہ طفلاں ہے
- پریشاں تر ہے موئے خامہ سے تدبیر مانی کی
- کہاں ہم بھی رگ و پے رکھتے ہیں انصاف بہتر ہے
- فقیری میں بھی باقی ہے شرارت نوجوانی کی
- گریباں چاک کا حق ہو گیا ہے میری گردن پر
- ہزار آئینہ دل باندھے ہے بال یک تپیدن پر
- فلک سے ہم کو عیش رفتہ کا کیا کیا تقاضا ہے
- ہم اور وہ بے سبب رنج آشنا دشمن کہ رکھتا ہے
- فنا کو سونپ گر مشتاق ہے اپنی حقیقت کا
- فروغ طالع خاشاک ہے موقوف گلخن پر
- اسدؔ بسمل ہے کس انداز کا قاتل سے کہتا ہے
- فسون یک دلی ہے لذت بیداد دشمن پر
- کہ وجد برق جوں پروانہ بال افشاں ہے خرمن پر
- تکلف خار خار التماس بے قراری ہے
- کہ رشتہ باندھتا ہے پیرہن انگشت سوزن پر
- یہ کیا وحشت ہے اے دیوانہ پیش از مرگ واویلا
- تو فسردگی نہاں ہے بہ کمین بے زبانی
- جو گداز دل ہو مطلب تو چمن ہے سنگ جانی
- کہ نگاہ ہے سیہ پوش بہ عزائے زندگانی
- تپش دل شکستہ پئے عبرت آگہی ہے
- نہ وفا کو آبرو ہے نہ جفا تمیز جو ہے
- تری سادگی ہے غافل در دل پہ پاسبانی
- اگر آرزو ہے راحت تو عبث بہ خوں تپیدن
- سر شمع نقش پا ہے بہ سپاس ناتوانی
- غم عجز کا سفینہ بہ کنار بے دلی ہے
- کہ سرشک قطرہ زن ہے بہ پیام دل رسانی
- یہی بار بار جی میں مرے آئے ہے کہ غالبؔ
- پوچھتے ہیں وہ کہ غالبؔ کون ہے
- دل جوش گریہ میں ہے ڈوبی ہوئی اسامی
- تیغ ادا نہیں ہے پابند بے نیامی
- طرف سخن نہیں ہے مجھ سے خدا نہ کردہ
- ہے نامہ بر کو اس سے دعوائے ہم کلامی
- ہے شرح شوق کو بھی جوں شکوہ ناتمامی
- ہے یاس میں اسدؔ کو ساقی سے بھی فراغت
- ہنوز تیرے تصور میں ہے نشیب و فراز
- وصال جلوہ تماشا ہے پر دماغ کہاں
- ہر ایک ذرۂ عاشق ہے آفتاب پرست
- جہاں یہ کاسۂ گردوں ہے ایک خاک انداز
- ز بسکہ جلوۂ صییاد حیرت آرا ہے
- اڑی ہے صفحۂ خاطر سے صورت پرواز
- ہجوم فکر سے دل مثل موج لرزے ہے
- اسدؔ سے ترک وفا کا گماں وہ معنی ہے
- حسد سے دل اگر افسردہ ہے گرم تماشا ہو
- بہم بالیدن سنگ و گل صحرا یہ چاہے ہے
- مرا حاصل وہ نسخہ ہے کہ جس سے خاک پیدا ہو
- حسن بے پروا خریدار متاع جلوہ ہے
- آئنہ زانوئے فکر اختراع جلوہ ہے
- چشم وا گردیدہ آغوش وداع جلوہ ہے
- شمع بجھتی ہے تو اس میں سے دھواں اٹھتا ہے
- خوں ہے دل خاک میں احوال بتاں پر یعنی
- نگہ ناز ہے سرمے سے خفا میرے بعد
- ہے جنوں اہل جنوں کے لیے آغوش وداع
- چاک ہوتا ہے گریباں سے جدا میرے بعد
- کون ہوتا ہے حریف مے مرد افگن عشق
- ہے مکرر لب ساقی پہ صلا میرے بعد
- آئے ہے بیکسی عشق پہ رونا غالبؔ
- حسن مہ گرچہ بہ ہنگام کمال اچھا ہے
- اس سے میرا مہہ خورشید جمال اچھا ہے
- بوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہ
- جی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچھا ہے
- ساغر جم سے مرا جام سفال اچھا ہے
- بے طلب دیں تو مزا اس میں سوا ملتا ہے
- وہ گدا جس کو نہ ہو خوئے سوال اچھا ہے
- ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق
- وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے
- اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
- جس طرح کا کہ کسی میں ہو کمال اچھا ہے
- کام اچھا ہے وہ جس کا کہ مآل اچھا ہے
- شاہ کے باغ میں یہ تازہ نہال اچھا ہے
- ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
- دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے
- حضور شاہ میں اہل سخن کی آزمائش ہے
- چمن میں خوش نوایان چمن کی آزمائش ہے
- قد و گیسو میں قیس و کوہ کن کی آزمائش ہے
- جہاں ہم ہیں وہاں دار و رسن کی آزمائش ہے
- ابھی اس خستہ کے نیروے تن کی آزمائش ہے
- اسے یوسف کی بوئے پیرہن کی آزمائش ہے
- شکیب و صبر اہل انجمن کی آزمائش ہے
- غرض شست بت ناوک فگن کی آزمائش ہے
- وفاداری میں شیخ و برہمن کی آزمائش ہے
- مگر پھر تاب زلف پرشکن کی آزمائش ہے
- ابھی تو تلخیٔ کام و دہن کی آزمائش ہے
- نئے فتنوں میں اب چرخ کہن کی آزمائش ہے
- ہے کیا جو کس کے باندھئے میری بلا ڈرے
- لو وہ بھی کہتے ہیں کہ یہ بے ننگ و نام ہے
- خطر ہے رشتۂ الفت رگ گردن نہ ہو جاوے
- غرور دوستی آفت ہے تُو دشمن نہ ہو جاوے
- بہ پاس شوخیٔ مژگاں سر ہر خار سوزن ہے
- جراحت دوزیٔ عاشق ہے جائے رحم ڈرتا ہوں
- غضب شرم آفریں ہے رنگ ریزی ہائے خود بینی
- خموشیوں میں تماشا ادا نکلتی ہے
- نگاہ دل سے ترے سرمہ سا نکلتی ہے
- فشار تنگی خلوت سے بنتی ہے شبنم
- صبا جو غنچے کے پردے میں جا نکلتی ہے
- کہ زخم روزن در سے ہوا نکلتی ہے
- کبھی پری مری خلوت میں آ نکلتی ہے
- بحلقۂ خم گیسو ہے راستی آموز
- دہان مار سے گویا صبا نکلتی ہے
- ہنوز یک سخن بے صدا نکلتی ہے
- یارب زمانہ مجھ کو مٹاتا ہے کس لیے
- پھر غلط کیا ہے کہ ہم سا کوئی پیدا نہ ہوا
- سب کو مقبول ہے دعویٰ تری یکتائی کا
- تیرا بیمار برا کیا ہے گر اچھا نہ ہوا
- سینہ کا داغ ہے وہ نالہ کہ لب تک نہ گیا
- خاک کا رزق ہے وہ قطرہ کہ دریا نہ ہوا
- نام کا میرے ہے جو دکھ کہ کسی کو نہ ملا
- کام میں میرے ہے جو فتنہ کہ برپا نہ ہوا
- درد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری ہائے ہائے
- عمر کو بھی تو نہیں ہے پائیداری ہائے ہائے
- زہر لگتی ہے مجھے آب و ہوائے زندگی
- خاک پر ہوتی ہے تیری لالہ کاری ہائے ہائے
- ختم ہے الفت کی تجھ پر پردہ داری ہائے ہائے
- ہے نظر خو کردۂ اختر شماری ہائے ہائے
- ہے خبر گرم ان کے آنے کی
- حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا
- رہزنی ہے کہ دل ستانی ہے
- شق ہو گیا ہے سینہ خوشا لذت فراغ
- اڑتی پھرے ہے خاک مری کوئے یار میں
- مہر گردوں ہے چراغ رہ گزار باد یاں
- ہے ترحم آفریں آرائش بیداد یاں
- اشک چشم دام ہے ہر دانۂ صیاد یاں
- ہے گداز موم انداز چکیدن ہائے خوں
- نیش زنبور اصل ہے نشتر فصاد یاں
- نا گوارا ہے ہمیں احسان صاحب دولتاں
- ہے زر گل بھی نظر میں جوہر فولاد یاں
- کمتریں مزدور سنگیں دست ہے فرہاد یاں
- ہے تماشہ کردنی گل چینیٔ جلاد یاں
- خانمان عاشقاں دکان آتش باز ہے
- ہے اسدؔ بیگانۂ افسردگی اے بیکسی
- دود میرا سنبلستاں سے کرے ہے ہم سری
- دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
- آخر اس درد کی دوا کیا ہے
- یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے
- کاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے
- پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے
- غمزہ و عشوہ و ادا کیا ہے
- شکن زلف عنبریں کیوں ہے
- نگہ چشم سرمہ سا کیا ہے
- ابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے
- ہم کو ان سے وفا کی ہے امید
- جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
- اور درویش کی صدا کیا ہے
- میں نہیں جانتا دعا کیا ہے
- مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے
- دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں
- اپنے پہ اعتماد ہے غیر کو آزمائے کیوں
- ہے اب اس معمورہ میں قحط غم الفت اسدؔ
- دل تا جگر کہ ساحل دریائے خوں ہے اب
- جاتی ہے کوئی کشمکش اندوہ عشق کی
- یہ لاش بے کفن اسدؔ خستہ جاں کی ہے
- رکھتا ہے ضد سے کھینچ کے باہر لگن کے پاؤں
- بھاگے تھے ہم بہت سو اسی کی سزا ہے ی
- ہے جوش گل بہار میں یاں تک کہ ہر طرف
- بیچارہ کتنی دور سے آیا ہے شیخ جی
- ہے یہ وہ لفظ کہ شرمندۂ معنی نہ ہوا
- دیا ہے دل اگر اس کو بشر ہے کیا کہئے
- ہوا رقیب تو ہو نامہ بر ہے کیا کہئے
- قضا سے شکوہ ہمیں کس قدر ہے کیا کہئے
- رہے ہے یوں گہہ و بے گہہ کہ کوئے دوست کو اب
- اگر نہ کہیے کہ دشمن کا گھر ہے کیا کہئے
- زہے کرشمہ کہ یوں دے رکھا ہے ہم کو فریب
- کہ بن کہے ہی انہیں سب خبر ہے کیا کہئے
- کہ یہ کہے کہ سر رہ گزر ہے کیا کہئے
- تمہیں نہیں ہے سر رشتۂ وفا کا خیال
- ہمارے ہاتھ میں کچھ ہے مگر ہے کیا کہئے
- انہیں سوال پہ زعم جنوں ہے کیوں لڑیے
- ہمیں جواب سے قطع نظر ہے کیا کہئے
- حسد سزائے کمال سخن ہے کیا کیجیے
- ستم بہائے متاع ہنر ہے کیا کہئے
- کہا ہے کس نے کہ غالبؔ برا نہیں لیکن
- سوائے اس کے کہ آشفتہ سر ہے کیا کہئے
- ملنا ترا اگر نہیں آساں تو سہل ہے
- دشوار تو یہی ہے کہ دشوار بھی نہیں
- بے عشق عمر کٹ نہیں سکتی ہے اور یاں
- شوریدگی کے ہاتھ سے ہے سر وبال دوش
- دل میں ہے یار کی صف مژگاں سے روکشی
- دیوانہ گر نہیں ہے تو ہشیار بھی نہیں
- مرحبا میں کیا مبارک ہے گراں جانی مجھے
- کیوں نہ ہو بے التفاتی اس کی خاطر جمع ہے
- جانتا ہے محو پرسش ہاۓ پنہانی مجھے
- بد گماں ہوتا ہے وہ کافر نہ ہوتا کاش کے
- وعدہ آنے کا وفا کیجے یہ کیا انداز ہے
- تم نے کیوں سونپی ہے میرے گھر کی دربانی مجھے
- پھر ہوا ہے تازہ سودائے غزل خوانی مجھے
- میرزا یوسف ہے غالبؔ یوسف ثانی مجھے
- دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آ جائے ہے
- میں اسے دیکھوں بھلا کب مجھ سے دیکھا جائے ہے
- ہاتھ دھو دل سے یہی گرمی گر اندیشے میں ہے
- آبگینہ تندی صہبا سے پگھلا جائے ہے
- گر حیا بھی اس کو آتی ہے تو شرما جائے ہے
- دل کی وہ حالت کہ دم لینے سے گھبرا جائے ہے
- نغمہ ہو جاتا ہے واں گر نالہ میرا جائے ہے
- گرچہ ہے طرز تغافل پردہ دار راز عشق
- پر ہم ایسے کھوے جاتے ہیں کہ وہ پا جائے ہے
- مثل نقش مدعائے غیر بیٹھا جائے ہے
- رنگ کھلتا جاے ہے جتنا کہ اڑتا جائے ہے
- کھینچتا ہے جس قدر اتنا ہی کھنچتا جائے ہے
- سایہ میرا مجھ سے مثل دود بھاگے ہے اسدؔ
- پاس مجھ آتش بجاں کے کس سے ٹھہرا جائے ہے
- تا کرے نہ غمازی کر لیا ہے دشمن کو
- وعدۂ سیر گلستاں ہے خوشا طالع شوق
- مژدۂ قتل مقدر ہے جو مذکور نہیں
- شاہد ہستی مطلق کی کمر ہے عالم
- لوگ کہتے ہیں کہ ہے پر ہمیں منظور نہیں
- قطرہ اپنا بھی حقیقت میں ہے دریا لیکن
- میرے دعوے پہ یہ حجت ہے کہ مشہور نہیں
- پیٹھ محراب کی قبلے کی طرف رہتی ہے
- رحم کر ظالم کہ کیا بود چراغ کشتہ ہے
- نبض بیمار وفا دود چراغ کشتہ ہے
- دل لگی کی آرزو بے چین رکھتی ہے ہمیں
- ورنہ یاں بے رونقی سود چراغ کشتہ ہے
- نشۂ مے بے چمن دود چراغ کشتہ ہے
- جام داغ شعلہ اندود چراغ کشتہ ہے
- لالہ چشم حسرت آلود چراغ کشتہ ہے
- شور ہے کس بزم کی عرض جراحت خانہ كا
- صبح یک بزم نمک سود چراغ کشتہ ہے
- لالہ داغ شعلہ فرسود چراغ کشتہ ہے
- خواب ناز گل رخاں دود چراغ کشتہ ہے
- ہے دل افسردہ داغ شوخیٔ مطلب اسدؔ
- شعلہ آخر فال مقصود چراغ کشتہ ہے
- رخ نگار سے ہے سوز جاودانی شمع
- ہوئی ہے آتش گل آب زندگانی شمع
- زبان اہل زباں میں ہے مرگ خاموشی
- کرے ہے صرف بہ ایماۓ شعلہ قصہ تمام
- بہ طرز اہل فنا ہے فسانہ خوانی شمع
- غم اس کو حسرت پروانہ کا ہے اے شعلے
- ترے لرزنے سے ظاہر ہے نا توانی شمع
- ترے خیال سے روح اہتزاز کرتی ہے
- شگفتگی ہے شہید گل خزانی شمع
- جلے ہے دیکھ کے بالین یار پر مجھ کو
- رشک کہتا ہے کہ اس کا غیر سے اخلاص حیف
- عقل کہتی ہے کہ وہ بے مہر کس کا آشنا
- ذرہ ذرہ ساغر مے خانۂ نیرنگ ہے
- شوق ہے ساماں طراز نازش ارباب عجز
- میں اور ایک آفت کا ٹکڑا وہ دل وحشی کہ ہے
- آتش موئے دماغ شوق ہے تیرا تپاک
- آشنا کی ہم دگر سمجھے ہے ایما آشنا
- رفتار عمر قطع رہ اضطراب ہے
- اس سال کے حساب کو برق آفتاب ہے
- مینائے مے ہے سرو نشاط بہار سے
- بال تدرو جلوۂ موج شراب ہے
- زخمی ہوا ہے پاشنہ پاۓ ثبات کا
- نے بھاگنے کی گوں نہ اقامت کی تاب ہے
- جاداد بادہ نوشی رنداں ہے شش جہت
- غافل گماں کرے ہے کہ گیتی خراب ہے
- جوش بہار جلوے کو جس کے نقاب ہے
- مانا کہ تیرے رخ سے نگہ کامیاب ہے
- قاصد پہ مجھ کو رشک سوال و جواب ہے
- ظاہر ہے طرز قید سے صیاد کی غرض
- جو دانہ دام میں ہے سو اشک کباب ہے
- یعنی یہ ہر ورق ورق انتخاب ہے
- روندی ہوئی ہے کوکبۂ شہریار کی
- کیونکر نہ کھائیے کہ ہوا ہے بہار کی
- کہتا ہے کون نالۂ بلبل کو بے اثر
- پوچھے ہے کیا وجود و عدم اہل شوق کا
- پھر اک روز مرنا ہے حضرت سلامت
- لکھے ہے خداوند نعمت سلامت
- وفور بلا ہے ہجوم وفا ہے
- یہ کیا بے نیازی ہے حضرت سلامت
- ز بسکہ مشق تماشا جنوں علامت ہے
- کشاد و بست مژہ سیلی ندامت ہے
- تجھے کہ آئنہ بھی ورطۂ ملامت ہے
- نگاہ عجز سر رشتۂ سلامت ہے
- جنون ساختہ و فصل گل قیامت ہے
- گرد راہ یار ہے سامان ناز زخم دل
- ورنہ ہوتا ہے جہاں میں کس قدر پیدا نمک
- گرد ساحل ہے بہ زخم موجۂ دریا نمک
- داد دیتا ہے مرے زخم جگر کی واہ واہ
- یاد کرتا ہے مجھے دیکھے ہے وہ جس جا نمک
- چھوڑ کر جانا تن مجروح عاشق حیف ہے
- دل طلب کرتا ہے زخم اور مانگے ہیں اعضا نمک
- زخم مثل خندۂ قاتل ہے سر تا پا نمک
- زور نسبت مے سے رکھتا ہے اضارا کا نمک
- زمانہ سخت کم آزار ہے بہ جان اسدؔ
- بہ رنگ سایہ ہمیں بندگی میں ہے تسلیم
- بہ زاہداں رگ گردن ہے رشتۂ زنار
- سادگی پر اس کی مر جانے کی حسرت دل میں ہے
- بس نہیں چلتا کہ پھر خنجر کف قاتل میں ہے
- میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
- گرچہ ہے کس کس برائی سے ولے باایں ہمہ
- ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے
- یہ جو اک لذت ہماری سعیٔ بے حاصل میں ہے
- رنج رہ کیوں کھینچیے واماندگی کو عشق ہے
- اٹھ نہیں سکتا ہمارا جو قدم منزل میں ہے
- فتنۂ شور قیامت کس کے آب و گل میں ہے
- ہے دل شوریدۂ غالبؔ طلسم پیچ و تاب
- رحم کر اپنی تمنا پر کہ کس مشکل میں ہے
- ہے زلیخا خوش کہ محو ماہ کنعاں ہو گئیں
- جوئے خوں آنکھوں سے بہنے دو کہ ہے شام فراق
- نیند اس کی ہے دماغ اس کا ہے راتیں اس کی ہیں
- جاں فزا ہے بادہ جس کے ہاتھ میں جام آ گیا
- ہم موحد ہیں ہمارا کیش ہے ترک رسوم
- رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج
- ستائش گر ہے زاہد اس قدر جس باغ رضواں کا
- وہ اک گلدستہ ہے ہم بے خودوں کے طاق نسیاں کا
- کہ ہر یک قطرۂ خوں دانہ ہے تسبیح مرجاں کا
- مرا ہر داغ دل اک تخم ہے سرو چراغاں کا
- مری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی
- ہیولیٰ برق خرمن کا ہے خون گرم دہقاں کا
- اگا ہے گھر میں ہر سو سبزہ ویرانی تماشا کر
- مدار اب کھودنے پر گھاس کے ہے میرے درباں کا
- ہنوز اک پرتو نقش خیال یار باقی ہے
- دل افسردہ گویا حجرہ ہے یوسف کے زنداں کا
- قیامت ہے سرشک آلودہ ہونا تیری مژگاں کا
- نظر میں ہے ہماری جادۂ راہ فنا غالبؔ
- کہ یہ شیرازہ ہے عالم کے اجزائے پریشاں کا
- رگ گل جادۂ تار نگہ سے حد موافق ہے
- بقدر ظرف ہے ساقی خمار تشنہ کامی بھی
- جو تو دریاۓ مے ہے تو میں خمیازہ ہوں ساحل کا
- شرر فرصت نگہ سامان یک عالم چراغاں ہے
- بہ قدر رنگ یاں گردش میں ہے پیمانہ محفل کا
- عصاۓ خضر صحراۓ سخن ہے خامہ بے دل کا
- سرمۂ مفت نظر ہوں مری قیمت یہ ہے
- خلوت آبلۂ پا میں ہے جولاں میرا
- خوں ہے دل تنگی وحشت سے بیاباں میرا
- ذوق سرشار سے بے پردہ ہے طوفاں میرا
- موج خمیازہ ہے ہر زخم نمایاں میرا
- خون آدینہ سے رنگیں ہے دبستاں میرا
- حسرت نشۂ وحشت نہ بہ سعیٔ دل ہے
- عرض خمیازۂ مجنوں ہے گریباں میرا
- لنگر وحشت مجنوں ہے بیاباں میرا
- تشنۂ خون دل و دیدہ ہے پیماں میرا
- فہم زنجیریٔ بے ربطیٔ دل ہے یارب
- کس زباں میں ہے لقب خواب پریشاں میرا
- سرگشتگی میں عالم ہستی سے یاس ہے
- تسکیں کو دے نوید کہ مرنے کی آس ہے
- اب تک وہ جانتا ہے کہ میرے ہی پاس ہے
- ہر مو مرے بدن پہ زبان سپاس ہے
- ہے وہ غرور حسن سے بیگانۂ وفا
- ہرچند اس کے پاس دل حق شناس ہے
- اس بلغمی مزاج کو گرمی ہی راس ہے
- ہر اک مکان کو ہے مکیں سے شرف اسدؔ
- مجنوں جو مر گیا ہے تو جنگل اداس ہے
- کیا غم ہے اس کو جس کا علیؔ سا امام ہو
- اتنا بھی اے فلک زدہ کیوں بد حواس ہے
- سیماب پشت گرمیٔ آئینہ دے ہے ہم
- آغوش گل کشودہ برائے وداع ہے
- ظاہر ہے ہم سے کلفت بخت سیاہ روز
- مانع وحشت خرامی ہائے لیلیٰ کون ہے
- مشہد عاشق سے کوسوں تک جو اگتی ہے حنا
- بت پرستی ہے بہار نقش بندی ہائے دہر
- شبنم بہ گل لالہ نہ خالی ز ادا ہے
- داغ دل بے درد نظر گاہ حیا ہے
- آئینہ بہ دست بت بد مست حنا ہے
- جی کس قدر افسردگی دل پہ جلا ہے
- تمثال میں تیری ہے وہ شوخی کہ بہ صد ذوق
- آئینہ بہ انداز گل آغوش کشا ہے
- اے نالہ نشان جگر سوختہ کیا ہے
- معشوقی و بے حوصلگی طرفہ بلا ہے
- دست تۂ سنگ آمدہ پیمان وفا ہے
- تیغ ستم آئینۂ تصویر نما ہے
- سائے کی طرح ہم پہ عجب وقت پڑا ہے
- یا رب اگر ان کردہ گناہوں کی سزا ہے
- کوئی نہیں تیرا تو مری جان خدا ہے
- بہ فیض بے دلی نومیدیٔ جاوید آساں ہے
- روانی ہائے موج خون بسمل سے ٹپکتا ہے
- اسدؔ ہر جا سخن نے طرح باغ تازہ ڈالی ہے
- سخت مشکل ہے کہ یہ کام بھی آساں نکلا
- ساغر جلوۂ سرشار ہے ہر ذرۂ خاک
- کس قدر خاک ہوا ہے دل مجنوں یا رب
- جوہر ایجاد خط سبز ہے خود بینیٔ حسن
- شکوے کے نام سے بے مہر خفا ہوتا ہے
- یہ بھی مت کہہ کہ جو کہیے تو گلہ ہوتا ہے
- اک ذرا چھیڑئیے پھر دیکھیے کیا ہوتا ہے
- شکوۂ جور سے سرگرم جفا ہوتا ہے
- عشق کی راہ میں ہے چرخ مکوکب کی وہ چال
- سست رو جیسے کوئی آبلہ پا ہوتا ہے
- آپ اٹھا لاتے ہیں گر تیر خطا ہوتا ہے
- کہ بھلا چاہتے ہیں اور برا ہوتا ہے
- لب تک آتا ہے جو ایسا ہی رسا ہوتا ہے
- خامہ میرا کہ وہ ہے باربد بزم سخن
- شاہ کی مدح میں یوں نغمہ سرا ہوتا ہے
- تیرے اکرام کا حق کس سے ادا ہوتا ہے
- تو وہ لشکر کا ترے نعل بہا ہوتا ہے
- ہر مہینے میں جو یہ بدر سے ہوتا ہے ہلال
- آستاں پر ترے مہ ناصیہ سا ہوتا ہے
- یہ بھی تیرا ہی کرم ذوق فزا ہوتا ہے
- آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے
- صد جلوہ رو بہ رو ہے جو مژگاں اٹھائیے
- ہے سنگ پر برات معاش جنون عشق
- دیوار بار منت مزدر سے ہے خم
- ہستی فریب نامۂ موج سراب ہے
- ضبط جنوں سے ہر سر مو ہے ترانہ خیز
- انگور سعی بے سر و پائی سے سبز ہے
- صفاۓ حیرت آئینہ ہے سامان زنگ آخر
- تغیر آب بر جا ماندہ کا پاتا ہے رنگ آخر
- اسدؔ پردے میں بھی آہنگ شوق یار قائم ہے
- نہیں ہے نغمے سے خالی خمیدن ہائے چنگ آخر
- ظلمت کدے میں میرے شب غم کا جوش ہے
- اک شمع ہے دلیل سحر سو خموش ہے
- مدت ہوئی کہ آشتی چشم و گوش ہے
- مے نے کیا ہے حسن خود آرا کو بے حجاب
- اے شوق ہاں اجازت تسلیم ہوش ہے
- کیا اوج پر ستارۂ گوہر فروش ہے
- بزم خیال مے کدۂ بے خروش ہے
- زنہار اگر تمہیں ہوس نائے و نوش ہے
- میری سنو جو گوش نصیحت نیوش ہے
- مطرب بہ نغمہ رہزن تمکین و ہوش ہے
- دامان باغبان و کف گل فروش ہے
- یہ جنت نگاہ وہ فردوس گوش ہے
- نے وہ سرور و سوز نہ جوش و خروش ہے
- اک شمع رہ گئی ہے سو وہ بھی خموش ہے
- غالبؔ صریر خامہ نوائے سروش ہے
- ہر موج گرد راہ مرے سر کو دوش ہے
- کہ اپنے سائے سے سر پاؤں سے ہے دو قدم آگے
- دل و جگر میں پر افشاں جو ایک موجۂ خوں ہے
- عرض ناز شوخیٔ دنداں برائے خندہ ہے
- دعواۓ جمعیت احباب جاۓ خندہ ہے
- ہے عدم میں غنچہ محو عبرت انجام گل
- یک جہاں زانو تأمل در قفاۓ خندہ ہے
- ورنہ دنداں در دل افشردن بناۓ خندہ ہے
- دل محیط گریہ و لب آشناۓ خندہ ہے
- خود فروشی ہاۓ ہستی بسکہ جاۓ خندہ ہے
- ہر شکست قیمت دل میں صداۓ خندہ ہے
- دو جہاں وسعت بہ قدر یک فضاۓ خندہ ہے
- جاۓ استہزا ہے عشرت کوشی ہستی اسدؔ
- صبح و شبنم فرصت نشو و نماۓ خندہ ہے
- برروئے شش جہت در آئینہ باز ہے
- جاں داد گاں کا حوصلہ فرصت گداز ہے
- عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
- درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا
- ہے مجھے ابر بہاری کا برس کر کھلنا
- کیوں ہے گرد رہ جولان صبا ہو جانا
- بخشے ہے جلوۂ گل ذوق تماشا غالبؔ
- سلطنت دست بدست آئی ہے
- ہے تجلی تری سامان وجود
- گردش رنگ طرب سے ڈر ہے
- کچھ نہیں ہے تو عداوت ہی سہی
- میرے ہونے میں ہے کیا رسوائی
- عمر ہرچند کہ ہے برق خرام
- ہے ہے خدا نہ کردہ تجھے بے وفا کہوں
- دزدیدن دل ستم آمادہ ہے محال
- طرز آفرین نکتہ سرائی طبع ہے
- غالبؔ ہے رتبہ فہم تصور سے کچھ پرے
- ہے عجز بندگی کہ علی کو خدا کہوں
- غافل بہ وہم ناز خود آرا ہے ورنہ یاں
- صید ز دام جستہ ہے اس دام گاہ کا
- رحمت اگر قبول کرے کیا بعید ہے
- مقتل کو کس نشاط سے جاتا ہوں میں کہ ہے
- جاں در ہواۓ یک نگۂ گرم ہے اسدؔ
- پروانہ ہے وکیل ترے داد خواہ کا
- طاؤس در رکاب ہے ہر ذرہ آہ کا
- یارب نفس غبار ہے کس جلوہ گاہ کا
- مینائے مے ہے آبلہ پائے نگاہ کا
- ہر گام آبلے سے ہے دل در تہ قدم
- جیب نیاز عشق نشاں دار ناز ہے
- قسم کھائی ہے اس کافر نے کاغذ کے جلانے کی
- لپٹنا پرنیاں میں شعلۂ آتش کا پنہاں ہے
- ولے مشکل ہے حکمت دل میں سوز غم چھپانے کی
- غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفس
- محفلیں برہم کرے ہے گنجفہ باز خیال
- ضعف سے ہے نے قناعت سے یہ ترک جستجو
- بسکہ ہر یک موئے زلف افشاں سے ہے تار شعاع
- ہے فروغ ماہ سے ہر موج اک تصویر چاک
- بسکہ وہ چشم و چراغ محفل اغیار ہے
- غم کھانے میں بودا دل ناکام بہت ہے
- یہ رنج کہ کم ہے مئے گلفام بہت ہے
- کہتے ہوئے ساقی سے حیا آتی ہے ورنہ
- ہے یوں کہ مجھے درد تہ جام بہت ہے
- نے تیر کماں میں ہے نہ صیاد کمیں میں
- گوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے
- پاداش عمل کی طمع خام بہت ہے
- پابستگی رسم و رہ عام بہت ہے
- آلودہ بہ مے جامۂ احرام بہت ہے
- ہے قہر گر اب بھی نہ بنے بات کہ ان کو
- انکار نہیں اور مجھے ابرام بہت ہے
- رہنے دے مجھے یاں کہ ابھی کام بہت ہے
- شاعر تو وہ اچھا ہے پہ بدنام بہت ہے
- اس کے ہر ایک اشارہ سے نکلے ہے یہ ادا کہ یوں
- اس کی تو خامشی میں بھی ہے یہی مدعا کہ یوں
- موج محیط آب میں مارے ہے دست و پا کہ یوں
- شاہ کے ہے غسل صحت کی خبر
- ہے داغ عشق زینت جیب کفن ہنوز
- ہے ناز مفلساں زر از دست رفتہ پر
- خمیازہ کھینچے ہے بت بے داد فن ہنوز
- بیگانۂ وفا ہے ہوائے چمن ہنوز
- یارب یہ درد مند ہے کس کی نگاہ کا
- ہے ربط مشک و داغ سواد ختن ہنوز
- زنجیر پا ہے رشتۂ حب الوطن ہنوز
- زخم جگر ہے تشنۂ لب دوختن ہنوز
- فانوس شمع ہے کفن کشتگان شوق
- در پردہ ہے معاملۂ سوختن ہنوز
- مجنوں فسون شعلہ خرامی فسانہ ہے
- ہے شمع جادہ داغ نیفروختن ہنوز
- بزم طرب ہے پردگئے سوختن ہنوز
- فریاد کی کوئی لے نہیں ہے
- نالہ پابند نے نہیں ہے
- گر باغ گدائے مے نہیں ہے
- ہر چند ہر ایک شئے میں تُو ہے
- پر تجھ سی کوئی شئے نہیں ہے
- ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے
- اردی جو نہ ہو تو دے نہیں ہے
- کیوں رد قدح کرے ہے زاہد
- مے ہے یہ مگس کی قے نہیں ہے
- ہستی ہے نہ کچھ عدم ہے غالبؔ
- آخر تو کیا ہے اے نہیں ہے
- یہ مصرف تابکے نہیں ہے
- واں عزت تخت کے نہیں ہے
- زہد گردیدن ہے گرد خانہ ہائے منعماں
- نشۂ مے ہے اگر یک پردہ نازک تر ہوا
- مرا ہونا برا کیا ہے نوا سنجان گلشن کو
- نہیں گر ہمدمی آساں نہ ہو یہ رشک کیا کم ہے
- سمجھتا ہوں کہ ڈھونڈے ہے ابھی سے برق خرمن کو
- وفا داری بشرط استواری اصل ایماں ہے
- قیامت ہے کہ سن لیلی كا دشت قیس میں آنا
- تعجب سے وہ بولا یوں بھی ہوتا ہے زمانے میں
- دل نازک پہ اس کے رحم آتا ہے مجھے غالبؔ
- گل اقبال خس ہے چشم بلبل آشیانے میں
- کہ طوطی قفل زنگ آلودہ ہے آئینہ خانے میں
- ترے کوچے میں ہے مشاطۂ واماندگی قاصد
- پر پرواز زلف ناز ہے ہدہد کے شانے میں
- نمد در آب ہے اے سادہ پرکار اس بہانے میں
- بہ حکم عجز ابروئے مہ نو حیرت ایما ہے
- کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور
- قسمت میں ہے مرنے کی تمنا کوئی دن اور
- کیا تعجب ہے جو اس کو دیکھ کر آ جائے رحم
- یاں تلک میری گرفتاری سے وہ خوش ہے کہ میں
- لب عیسیٰ کی جنبش کرتی ہے گہوارہ جنبانی
- قیامت کشتۂ لعل بتاں کا خواب سنگیں ہے
- بیابان فنا ہے بعد صحراۓ طلب غالبؔ
- پسینہ توسن ہمت تو سیل خانۂ زیں ہے
- لرزتا ہے مرا دل زحمت مہر درخشاں پر
- سفیدی دیدۂ یعقوب کی پھرتی ہے زنداں پر
- قیامت اک ہوائے تند ہے خاک شہیداں پر
- ہمارا بھی تو آخر زور چلتا ہے گریباں پر
- اسدؔ اے بے تحمل عربدہ بیجا ہے ناصح سے
- کہ آخر بے کسوں کا زور چلتا ہے گریباں پر
- چمن زنگار ہے آئینۂ باد بہاری کا
- جہاں ساقی ہو تو باطل ہے دعویٰ ہوشیاری کا
- بہار رنگ خون گل ہے ساماں اشک باری کا
- جنون برق نشتر ہے رگ ابر بہاری کا
- بندھا ہے عقدۂ خاطر سے پیماں خاکساری کا
- بہ وقت سرنگونی ہے تصور انتظارستاں
- نگہ کو آبلوں سے شغل ہے اختر شماری کا
- کہ ننگ فہم مستاں ہے گلہ بد روزگاری کا
- جنبش ہر برگ سے ہے گل کے لب کو اختلاج
- حب شبنم سے صبا ہر صبح کرتی ہے علاج
- شاخ گل جنبش میں ہے گہوارہ آسا ہر نفس
- طفل شوخ غنچۂ گل بسکہ ہے وحشی مزاج
- چشم مست یار سے ہے گردن مینا پہ باج
- خرقۂ ہستی نکالا ہے برنگ احتیاج
- ہے سواد چشم قربانی میں یک عالم مقیم
- حسرت فرصت جہاں دیتی ہے حیرت کو رواج
- اے اسدؔ ہے مستعد شانۂ گیسو شدن
- پنجۂ مژگاں بہ خود بالیدنی رکھتا ہے آج
- غالبؔ یہ خوف ہے کہ کہاں سے ادا کروں
- لیکن یہ بیم ہے کہ کہاں سے ادا کروں
- ایک چکر ہے مرے پانو میں زنجیر نہیں
- شوق اس دشت میں دوڑائے ہے مجھ کو کہ جہاں
- حسرت لذت آزار رہی جاتی ہے
- سر کھجاتا ہے جہاں زخم سر اچھا ہو جائے
- غالبؔ اپنا یہ عقیدہ ہے بقول ناسخؔ
- آپ بے بہرہ ہے جو معتقد میرؔ نہیں
- آئینہ دام کو پردے میں چھپاتا ہے عبث
- مثل گل زخم ہے میرا بھی سناں سے توام
- کس دل پہ ہے عزم صف مژگان خود آرا
- واماندگی شوق تراشے ہے پناہیں
- محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کا
- یاں ورنہ جو حجاب ہے پردہ ہے ساز کا
- رنگ شکستہ صبح بہار نظارہ ہے
- یہ وقت ہے شگفتن گل ہائے ناز کا
- صرفہ ہے ضبط آہ میں میرا وگرنہ میں
- ہر گوشۂ بساط ہے سر شیشہ باز کا
- کاوش کا دل کرے ہے تقاضا کہ ہے ہنوز
- مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے
- عرصہ ہوا ہے دعوت مژگاں کیے ہوئے
- پھر وضع احتیاط سے رکنے لگا ہے دم
- پھر گرم نالہ ہائے شرربار ہے نفس
- مدت ہوئی ہے سیر چراغاں کیے ہوئے
- پھر پرسش جراحت دل کو چلا ہے عشق
- دل پھر طواف کوئے ملامت کو جائے ہے
- پھر شوق کر رہا ہے خریدار کی طلب
- دوڑے ہے پھر ہر ایک گل و لالہ پر خیال
- مانگے ہے پھر کسی کو لب بام پر ہوس
- چاہے ہے پھر کسی کو مقابل میں آرزو
- اک نو بہار ناز کو تاکے ہے پھر نگاہ
- پھر جی میں ہے کہ در پہ کسی کے پڑے رہیں
- جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کہ رات دن
- مری ہستی فضائے حیرت آباد تمنا ہے
- جسے کہتے ہیں نالہ وہ اسی عالم کا عنقا ہے
- وہی ہم ہیں قفس ہے اور ماتم بال و پر کا ہے
- وفائے دلبراں ہے اتفاقی ورنہ اے ہمدم
- اثر فریاد دل ہاۓ حزیں کا کس نے دیکھا ہے
- کف افسوس ملنا عہد تجدید تمنا ہے
- تغافل مشربی سے ناتمامی بسکہ پیدا ہے
- نگاہ ناز چشم یار میں زنار مینا ہے
- تصرف وحشیوں میں ہے تصور ہاۓ مجنوں کا
- سواد چشم آہو عکس خال روئے لیلا ہے
- دویدن ریشہ ساں مفت رگ خواب زلیخا ہے
- سویدا نسخۂ تہ بندی داغ تمنا ہے
- حنائے پنجۂ صیاد مرغ رشتہ بر پا ہے
- غریق بحر خوں تمثال در آئینہ رہتا ہے
- اثر سوز محبت کا قیامت بے محابا ہے
- کہ رگ سے سنگ میں تخم شرر کا ریشہ پیدا ہے
- نہاں ہے گوہر مقصود جیب خود شناسی میں
- کہ یاں غواص ہے تمثال اور آئینہ دریا ہے
- کہ یاں افسون خواب افسانۂ خواب زلیخا ہے
- بہ باغ رنگ ہائے رفتہ گل چین تماشا ہے
- بہ سعی غیر ہے قطع لباس خانہ ویرانی
- کہ ناز جادۂ رہ رشتۂ دامان صحرا ہے
- چراغ خانۂ دل سوزش داغ تمنا ہے
- ستمگر ناخدا ترس آشنا کش ماجرا کیا ہے
- بہ بزم مے پرستی حسرت تکلیف بیجا ہے
- کہ جام بادہ کف بر لب بہ تکلیف تقاضا ہے
- نشاط دیدۂ بینا ہے کو خواب و چہ بیداری
- بہم آوردہ مژگاں بوسۂ روئے تماشا ہے
- کف افسوس سو دن عہد تجدید تمنا ہے
- کہ مژگاں جس طرف وا ہو بہ کف دامان صحرا ہے
- بہ جولاں گاۂ نومیدی نگاۂ عاجزاں پا ہے
- شرر در بند دام رشتۂ رگ ہائے خارا ہے
- گداز آرزو ہا آبیار آرزو ہا ہے
- یہ کس بہشت شمائل کی آمد آمد ہے
- مستی بہ ذوق غفلت ساقی ہلاک ہے
- موج شراب یک مژۂ خواب ناک ہے
- جیب خیال بھی ترے ہاتھوں سے چاک ہے
- صحرا ہماری آنکھ میں یک مشت خاک ہے
- مے سے غرض نشاط ہے کس رو سیاہ کو
- ہے رنگ لالہ و گل و نسریں جدا جدا
- نشوونما ہے اصل سے غالبؔ فروع کو
- خاموشی ہی سے نکلے ہے جو بات چاہیے
- ملتی ہے خوئے یار سے نار التہاب میں
- ڈالا ہے تم کو وہم نے کس پیچ و تاب میں
- میں اور حظ وصل خدا ساز بات ہے
- ہے تیوری چڑھی ہوئی اندر نقاب کے
- ہے اک شکن پڑی ہوئی طرف نقاب میں
- پڑتی ہے آنکھ تیرے شہیدوں پہ حور کی
- کیا بات ہے تمہاری شراب طہور کی
- لڑتا ہے مجھ سے حشر میں قاتل کہ کیوں اٹھا
- آمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ سنج
- اڑتی سی اک خبر ہے زبانی طیور کی
- کعبے سے ان بتوں کو بھی نسبت ہے دور کی
- کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب
- مژدہ اے ذوق اسیری کہ نظر آتا ہے
- مند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں ہے ہے
- دیکھ کر تجھ کو چمن بسکہ نمو کرتا ہے
- خودبخود پہنچے ہے گل گوشۂ دستار کے پاس
- مر گیا پھوڑ کے سر غالبؔ وحشی ہے ہے
- ضعف میں طعنہ اغیار کا شکوہ کیا ہے
- بات کچھ سر تو نہیں ہے کہ اٹھا بھی نہ سکوں
- کیا قسم ہے ترے ملنے کی کہ کھا بھی نہ سکوں
- اس قدر ضبط کہاں ہے کبھی آ بھی نہ سکوں
- شعلۂ دل تو نہیں ہے کہ بجھا بھی نہ سکوں
- کیا تصور ہے تمہارا کہ مٹا بھی نہ سکوں
- ہے ایک تیر جس میں دونوں چھدے پڑے ہیں
- ہے تقاضائے جفا شکوۂ بیداد نہیں
- دشت میں ہے مجھے وہ عیش کہ گھر یاد نہیں
- اہل بینش کو ہے طوفان حوادث مکتب
- جانتا ہے کہ ہمیں طاقت فریاد نہیں
- رنگ تمکین گل و لالہ پریشاں کیوں ہے
- سبد گل کے تلے بند کرے ہے گلچیں
- نفی سے کرتی ہے اثبات تراوش گویا
- دی ہے جائے دہن اس کو دم ایجاد نہیں
- یہی نقشہ ہے ولے اس قدر آباد نہیں
- شیشۂ مے سرو سبز جوئبار نغمہ ہے
- واں تو میرے نالے کو بھی اعتبار نغمہ ہے
- تجھے بہانۂ راحت ہے انتظار اے دل
- کیا ہے کس نے اشارا کہ ناز بستر کھینچ
- تری طرف ہے بہ حسرت نظارۂ نرگس
- مرے قدح میں ہے صہبائے آتش پنہاں
- اگر یہی عرق فتنہ ہے مکرر کھینچ
- جنون آئنہ مشتاق یک تماشا ہے
- خمار منت ساقی اگر یہی ہے اسدؔ
- نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا
- کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا
- صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا
- سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا
- مدعا عنقا ہے اپنے عالم تقریر کا
- موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا
- موئے آتش دیدہ ہے ہر حلقہ یاں زنجیر کا
- شوخیٔ نیرنگ صید وحشت طاؤس ہے
- دام سبزہ میں ہے پرواز چمن تسخیر کا
- نعل آتش میں ہے تیغ یار سے نخچیر کا
- پر ہوا ہے سیل سے پیمانہ کس تعمیر کا
- وحشت خواب عدم شور تماشا ہے اسدؔ
- وہ تپ عشق تمنا ہے کہ پھر صورت شمع
- زلف تحریر پریشان تقاضا ہے مگر
- وحشت شور تماشا ہے کہ جوں نکہت گل
- نوید امن ہے بیداد دوست جاں کے لیے
- بلا سے گر مژۂ یار تشنۂ خوں ہے
- بلائے جاں ہے ادا تیری اک جہاں کے لیے
- مثال یہ مری کوشش کی ہے کہ مرغ اسیر
- دیا ہے خلق کو بھی تا اسے نظر نہ لگے
- بنا ہے عیش تجمل حسین خاں کے لیے
- بنا ہے چرخ بریں جس کے آستاں کے لیے
- زمانہ عہد میں اس کے ہے محو آرایش
- ورق تمام ہوا اور مدح باقی ہے
- ادائے خاص سے غالبؔ ہوا ہے نکتہ سرا
- صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لیے
- نکتہ چیں ہے غم دل اس کو سنائے نہ بنے
- کھیل سمجھا ہے کہیں چھوڑ نہ دے بھول نہ جائے
- غیر پھرتا ہے لیے یوں ترے خط کو کہ اگر
- کوئی پوچھے کہ یہ کیا ہے تو چھپائے نہ بنے
- کہہ سکے کون کہ یہ جلوہ گری کس کی ہے
- پردہ چھوڑا ہے وہ اس نے کہ اٹھائے نہ بنے
- بوجھ وہ سر سے گرا ہے کہ اٹھائے نہ اٹھے
- کام وہ آن پڑا ہے کہ بنائے نہ بنے
- عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالبؔ
- نکوہش ہے سزا فریادی بے داد دلبر کی
- کہاں تک روؤں اس کے خیمے کے پیچھے قیامت ہے
- نم دامان عصیاں ہے طراوت موج کوثر کی
- ہوئی مدت کہ غالبؔ مر گیا پر یاد آتا ہے
- فروغ حسن سے ہوتی ہے حل مشکل عاشق
- ہوئی ہے بس کہ صرف مشق تمکین بہار آتش
- بہ انداز حنا ہے رونق دست چنار آتش
- شرر ہے رنگ بعد اظہار تاب جلوۂ تمکیں
- کرے ہے سنگ پر خورشید آب روئے کار آتش
- ہوائے پر فشانی برق خرمن ہائے خاطر ہے
- ببال شعلۂ بیتاب ہے پروانہ زار آتش
- کہ اس میں ریزۂ الماس جزو اعظم ہے
- وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے
- بہار تعزیت آباد عشق ماتم ہے
- کہ تیغ یار ہلال مہ محرم ہے
- بہ رہن ضبط ہے آئینہ بندیٔ گوہر
- وگرنہ بحر میں ہر قطرہ چشم پر نم ہے
- چمن میں کون ہے طرز آفرین شیوۂ عشق
- کہ گل ہے بلبل رنگین و بیضہ شبنم ہے
- تمام دفتر ربط مزاج برہم ہے
- کہ ایک وہم ضعیف و غم دو عالم ہے
- ورنہ باقی ہے طاقت پرواز
- خار خار الم حسرت دیدار تو ہے
- نفس قیس کہ ہے چشم و چراغ صحرا
- ایک ہنگامہ پہ موقوف ہے گھر کی رونق
- حباب موجۂ رفتار ہے نقش قدم میرا
- محبت تھی چمن سے لیکن اب یہ بے دماغی ہے
- کہ موج بوئے گل سے ناک میں آتا ہے دم میرا
- زمیں کو سیلئ استاد ہے نقش قدم میرا
- پرافشاں ہے غبار آں سوئے صحرائے عدم میرا
- میں گرد راہ ہوں بے مدعا ہے پیچ و خم میرا
- ہوائے صبح یک عالم گریباں چاکی گل ہے
- دہان زخم پیدا کر اگر کھاتا ہے غم میرا
- اسدؔ وحشت پرست گوشۂ تنہائی دل ہے
- برنگ موج مے خمیازۂ ساغر ہے رم میرا
- کوئی کہے کہ شب مہ میں کیا برائی ہے
- علاوہ عید کے ملتی ہے اور دن بھی شراب
- دیا ہے ہم کو خدا نے وہ دل کہ شاد نہیں
- نہیں ہے زخم کوئی بخیے کے در خور مرے تن میں
- ہوا ہے تار اشک یاس رشتہ چشم سوزن میں
- ہوئی ہے مانع ذوق تماشا خانہ ویرانی
- کف سیلاب باقی ہے بہ رنگ پنبہ روزن میں
- نگین نام شاہد ہے مرے ہر قطرۂ خوں تن میں
- ہوا ہے خندۂ احباب بخیہ جیب و دامن میں
- نہ جانوں نیک ہوں یا بد ہوں پر صحبت مخالف ہے
- خم دست نوازش ہو گیا ہے طوق گردن میں
- تماشا کردنی ہے لطف زخم انتظار اے دل
- سویدا داغ مرہم مردمک ہے چشم سوزن میں
- ہوا ہے جوہر آئینہ خیل مور خرمن میں
- ہے دل پہ بار نقش محبت ہی کیوں نہ ہو
- ہے مجھ کو تجھ سے تذکرۂ غیر کا گلہ
- پیدا ہوئی ہے کہتے ہیں ہر درد کی دوا
- ہے آدمی بجائے خود اک محشر خیال
- ہنگامۂ زبونی ہمت ہے انفعال
- مٹتا ہے فوت فرصت ہستی کا غم کوئی
- واں اس کو ہول دل ہے تو یاں میں ہوں شرم سار
- واں پہنچ کر جو غش آتا پئے ہم ہے ہم کو
- صد رہ آہنگ زمیں بوس قدم ہے ہم کو
- دل کو میں اور مجھے دل محو وفا رکھتا ہے
- کس قدر ذوق گرفتاریٔ ہم ہے ہم کو
- ضعف سے نقش پئے مور ہے طوق گردن
- ترے کوچے سے کہاں طاقت رم ہے ہم کو
- ی نگاہ غلط انداز تو سم ہے ہم کو
- نالۂ مرغ سحر تیغ دو دم ہے ہم کو
- ہنس کے بولے کہ ترے سر کی قسم ہے ہم کو
- پاس بے رونقی دیدہ اہم ہے ہم کو
- ہم وہ عاجز کہ تغافل بھی ستم ہے ہم کو
- ہوس سیر و تماشا سو وہ کم ہے ہم کو
- مقطع سلسلۂ شوق نہیں ہے یہ شہر
- عزم سیر نجف و طوف حرم ہے ہم کو
- لیے جاتی ہے کہیں ایک توقع غالبؔ
- جادۂ رہ کشش کاف کرم ہے ہم کو
- ابر روتا ہے کہ بزم طرب آمادہ کرو
- برق ہنستی ہے کہ فرصت کوئی دم ہے ہم کو
- ہجر یاران وطن کا بھی الم ہے ہم کو
- لائی ہے معتمد الدولہ بہادر کی امید
- جادۂ رہ کشش کاف کرم ہے ہم کو
- گزرے ہے آبلہ پا ابر گہربار ہنوز
- یک قلم کاغذ آتش زدہ ہے صفحۂ دشت
- نقش پا میں ہے تب گرمی رفتار ہنوز
- داغ اطفال ہے دیوانہ بہ کہسار ہنوز
- خلوت سنگ میں ہے نالہ طلبگار ہنوز
- خانہ ہے سیل سے خو کردۂ دیدار ہنوز
- دوربیں در زدہ ہے رخنۂ دیوار ہنوز
- جادہ ہے وا شدن پیچش طومار ہنوز
- مژہ ہے شانہ کش طرۂ گفتار ہنوز
- کرے ہے قتل لگاوٹ میں تیرا رو دینا
- پلا دے اوک سے ساقی جو ہم سے نفرت ہے
- یہ کون کہوے ہے آباد کر ہمیں لیکن
- فلک سفلہ بے محابا ہے
- ہے نگاہ آشنا تیرا سر ہر مو مجھے
- ہے یہی بہتر کہ لوگوں میں نہ چھیڑے تو مجھے
- مردمک ہے طوطیٔ آئینۂ زانو مجھے
- ہے غبار شیشۂ ساعت رم آہو مجھے
- اضطراب عمر بے مطلب نہیں آخر کہ ہے
- مرم زنگار ہے وہ وسمۂ ابرو مجھے
- باعث واماندگی ہے عمر فرصت جو مجھے
- کر دیا ہے پا بہ زنجیر رم آہو مجھے
- فرصت آرام غش ہستی ہے بحران عدم
- ہے شکست رنگ امکاں گردش پہلو مجھے
- ساز ایمائے فنا ہے عالم پیری اسدؔ
- قامت خم سے ہے حاصل شوخیٔ ابرو مجھے
- پئے نذر کرم تحفہ ہے شرم نا رسائی کا
- بہ مہر صد نظر ثابت ہے دعویٰ پارسائی کا
- تمناۓ زباں محو سپاس بے زبانی ہے
- وہی اک بات ہے جو یاں نفس واں نکہت گل ہے
- چمن کا جلوہ باعث ہے مری رنگیں نوائی کا
- عدم تک بے وفا چرچا ہے تیری بے وفائی کا
- بہ جیب ہر نگہ پنہاں ہے حاصل رہنمائی کا
- بہ عجز آباد وہم مدعا تسلیم شوخی ہے
- اسدؔ کا قصہ طولانی ہے لیکن مختصر یہ ہے
- بہ جیب آرزو پنہاں ہے حاصل دل ربائی کا
- نظر بازی طلسم وحشت آباد پرستاں ہے
- اسدؔ یہ عجز و بے سامانیٔ فرعون توام ہے
- جسے تو بندگی کہتا ہے دعویٰ ہے خدائی کا
- کہ زمیں ہو گئی ہے سر تا سر
- چشم نرگس کو دی ہے بینائی
- ہے ہوا میں شراب کی تاثیر
- بادہ نوشی ہے بادہ پیمائی
- پھر ترے کوچہ کو جاتا ہے خیال
- کوئی ویرانی سی ویرانی ہے
- پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے
- سینہ جویائے زخم کاری ہے
- آمد فصل لالہ کاری ہے
- پھر وہی پردۂ عماری ہے
- دل خریدار ذوق خواری ہے
- وہی صد گونہ اشک باری ہے
- محشرستان بیقراری ہے
- جلوہ پھر عرض ناز کرتا ہے
- روز بازار جاں سپاری ہے
- پھر وہی زندگی ہماری ہے
- پھر کھلا ہے در عدالت ناز
- گرم بازار فوجداری ہے
- ہو رہا ہے جہان میں اندھیر
- زلف کی پھر سرشتہ داری ہے
- ایک فریاد و آہ و زاری ہے
- اشک باری کا حکم جاری ہے
- آج پھر اس کی روبکاری ہے
- کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
- جلوے كا تیرے وہ عالم ہے کہ گر کیجے خیال
- ہے شکستن سے بھی دل نومید یارب کب تلک
- خط عارض سے لکھا ہے زلف کو الفت نے عہد
- یک قلم منظور ہے جو کچھ پریشانی کرے
- صحبت رنداں سے واجب ہے حذر
- دوستی کا پردہ ہے بیگانگی
- کس قدر دشمن ہے دیکھا چاہیے
- اپنی رسوائی میں کیا چلتی ہے سعی
- دل تو ہو اچھا نہیں ہے گر دماغ
- چشم خوباں خامشی میں بھی نوا پرداز ہے
- سرمہ تو کہوے کہ دود شعلۂ آواز ہے
- پیکر عشاق ساز طالع نا ساز ہے
- نالہ گویا گردش سیارہ کی آواز ہے
- یک بیاباں جلوۂ گل فرش پا انداز ہے
- چشم خوباں مے فروش نشہ زار ناز ہے
- سرمہ گویا موج دود شعلۂ آواز ہے
- ہے صریر خامہ ریزش ہائے استقبال ناز
- نامہ خود پیغام کو بال و پر پرواز ہے
- نال خامہ خار خار خاطر آغاز ہے
- نالۂ دل نغمہ ریزاں ہے بہ مضراب خیال
- رشتۂ پا یاں نوا سامان بند ساز ہے
- شرم ہے طرز تلاش انتخاب یک نگاہ
- اضطراب چشم برپا دوختہ غماز ہے
- بسکہ لیلائے سخن محمل نشین راز ہے
- کارگاہ ہستی میں لالہ داغ ساماں ہے
- برق خرمن راحت خون گرم دہقاں ہے
- باوجود دل جمعی خواب گل پریشاں ہے
- داغ پشت دست عجز شعلہ خس بہ دنداں ہے
- رنگ گل کے پردے میں آئینہ پر افشاں ہے
- عشق کے تغافل سے ہرزہ گرد ہے عالم
- روئے شش جہت آفاق پشت چشم زنداں ہے
- مثل دود مجمرہا داغ بال افشاں ہے
- اے کرم نہ ہو غافل ورنہ ہے اسدؔ بیدل
- بے گہر صدف گویا پشت چشم نیساں ہے
- کب وہ سنتا ہے کہانی میری
- بھول جانا ہے نشانی میری
- متقابل ہے مقابل میرا
- سخت ارزاں ہے گرانی میری
- صرصر شوق ہے بانی میری
- ننگ پیری ہے جوانی میری
- کبھی نیکی بھی اس کے جی میں گر آ جائے ہے مجھ سے
- جفائیں کر کے اپنی یاد شرما جائے ہے مجھ سے
- خدایا جذبۂ دل کی مگر تاثیر الٹی ہے
- کہ جتنا کھینچتا ہوں اور کھنچتا جائے ہے مجھ سے
- عبارت مختصر قاصد بھی گھبرا جائے ہے مجھ سے
- ادھر وہ بد گمانی ہے ادھر یہ ناتوانی ہے
- نہ پوچھا جائے ہے اس سے نہ بولا جائے ہے مجھ سے
- سنبھلنے دے مجھے اے نا امیدی کیا قیامت ہے
- کہ دامان خیال یار چھوٹا جائے ہے مجھ سے
- وہ دیکھا جائے کب یہ ظلم دیکھا جائے ہے مجھ سے
- نہ بھاگا جائے ہے مجھ سے نہ ٹھہرا جائے ہے مجھ سے
- قیامت ہے کہ ہووے مدعی کا ہم سفر غالبؔ
- وہ کافر جو خدا کو بھی نہ سونپا جائے ہے مجھ سے
- کرے ہے بادہ ترے لب سے کسب رنگ فروغ
- خط پیالہ سراسر نگاہ گل چیں ہے
- کہ ایک عمر سے حسرت پرست بالیں ہے
- بجا ہے گر نہ سنے نالہ ہائے بلبل زار
- کہ گوش گل نم شبنم سے پنبہ آگیں ہے
- اسدؔ ہے نزع میں چل بے وفا برائے خدا
- مقام ترک حجاب و وداع تمکیں ہے
- گری ہے جس پہ کل بجلی وہ میرا آشیاں کیوں ہو
- غلط ہے جذب دل کا شکوہ دیکھو جرم کس کا ہے
- یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے
- یہی ہے آزمانا تو ستانا کس کو کہتے ہیں
- نکالا چاہتا ہے کام کیا طعنوں سے تو غالبؔ
- ٹیڑھا لگا ہے قط قلم سرنوشت کو
- ایرا ہی دے کے ہم نے بچایا ہے کشت کو
- یہ سوء ظن ہے ساقی کوثر کے باب میں
- جاں کیوں نکلنے لگتی ہے تن سے دم سماع
- گر وہ صدا سمائی ہے چنگ و رباب میں
- رو میں ہے رخش عمر کہاں دیکھیے تھمے
- نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں
- اتنا ہی مجھ کو اپنی حقیقت سے بعد ہے
- اصل شہود و شاہد و مشہود ایک ہے
- حیراں ہوں پھر مشاہدہ ہے کس حساب میں
- ہے مشتمل نمود صور پر وجود بحر
- یاں کیا دھرا ہے قطرہ و موج و حباب میں
- شرم اک ادائے ناز ہے اپنے ہی سے سہی
- پیش نظر ہے آئنہ دایم نقاب میں
- ہے غیب غیب جس کو سمجھتے ہیں ہم شہود
- غالبؔ ندیم دوست سے آتی ہے بوئے دوست
- موت کا ایک دن معین ہے
- ہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوں
- موت آتی ہے پر نہیں آتی
- کوئی دن گر زندگانی اور ہے
- اپنے جی میں ہم نے ٹھانی اور ہے
- سوز غم ہائے نہانی اور ہے
- پر کچھ اب کے سرگرانی اور ہے
- دے کے خط منہ دیکھتا ہے نامہ بر
- کچھ تو پیغام زبانی اور ہے
- قاطع اعمار ہے اکثر نجوم
- وہ بلائے آسمانی اور ہے
- ایک مرگ ناگہانی اور ہے
- بیضہ آسا ننگ بال و پر ہے یہ کنج قفس
- ہے صاعقہ و شعلہ و سیماب کا عالم
- ظاہر ہے کہ گھبرا کے نہ بھاگیں گے نکیرین
- اس انجمن ناز کی کیا بات ہے غالبؔ
- دوست دار دشمن ہے اعتماد دل معلوم
- ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یا رب
- جس قدر جگر خوں ہو کوچہ دادن گل ہے
- ہے مکیں کی پا داری نام صاحب خانہ
- مجھے تو خو ہے کہ جو کچھ کہو بجا کہیے
- وہ زخم تیغ ہے جس کو کہ دل کشا کہیے
- نہیں نگار کو الفت نہ ہو نگار تو ہے
- نہیں بہار کو فرصت نہ ہو بہار تو ہے
- ہوتی آئی ہے کہ اچھوں کو برا کہتے ہیں
- دل میں آ جاے ہے ہوتی ہے جو فرصت غش سے
- ہے پرے سرحد ادراک سے اپنا مسجود
- پائے افگار پہ جب سے تجھے رحم آیا ہے
- اک شرر دل میں ہے اس سے کوئی گھبرائے گا کیا
- آگ مطلوب ہے ہم کو جو ہوا کہتے ہیں
- دیکھیے لاتی ہے اس شوخ کی نخوت کیا رنگ
- کیا تنگ ہم ستم زدگاں کا جہان ہے
- جس میں کہ ایک بیضۂ مور آسمان ہے
- ہے کائنات کو حرکت تیرے ذوق سے
- پرتو سے آفتاب کے ذرے میں جان ہے
- حالانکہ ہے یہ سیلی خارا سے لالہ رنگ
- غافل کو میرے شیشے پہ مے کا گمان ہے
- آوے نہ کیوں پسند کہ ٹھنڈا مکان ہے
- بس چپ رہو ہمارے بھی منہ میں زبان ہے
- بیٹھا ہے جو کہ سایۂ دیوار یار میں
- فرماں رواۓ کشور ہندوستان ہے
- کس سے کہوں کہ داغ جگر کا نشان ہے
- ہے بارے اعتماد وفا داری اس قدر
- غالبؔ ہم اس میں خوش ہیں کہ نامہربان ہے
- بے چارہ چند روز کا یاں میہمان ہے
- کیا نہیں ہے مجھے ایمان عزیز
- ہے ترے تیر کا پیکان عزیز
- واقعہ سخت ہے اور جان عزیز
- آتا ہے میرے قتل کو پر جوش رشک سے
- ثابت ہوا ہے گردن مینا پہ خون خلق
- لرزے ہے موج مے تری رفتار دیکھ کر
- رہ رو چلے ہے راہ کو ہموار دیکھ کر
- جی خوش ہوا ہے راہ کو پر خار دیکھ کر
- کیا بد گماں ہے مجھ سے کہ آئینے میں مرے
- طوطی کا عکس سمجھے ہے زنگار دیکھ کر
- یعنی اس بیمار کو نظارے سے پرہیز ہے
- وائے ناکامی کہ اس کافر كا خنجر تیز ہے
- جوشش فصل بہاری اشتیاق انگیز ہے
- دل سراپا وقف سودائے نگاہ تیز ہے
- یہ زمیں مثل نیستاں سخت ناوک خیز ہے
- بیستوں خواب گران خسرو پرویز ہے
- پردۂ بادام یک غربال حسرت بیز ہے
- خوں چکاں ہے جادہ مانند رگ سودائیاں
- سبزۂ صحرائے الفت نشتر خوں ریز ہے
- ہے بہار تیز رو گلگون نکہت پر سوار
- یک شکست رنگ گل صد جنبش مہمیز ہے
- گر تجھ کو ہے یقین اجابت دعا نہ مانگ
- آتا ہے داغ حسرت دل کا شمار یاد
- برہم ہے بزم غنچہ بہ یک جنبش نشاط
- کاشانہ بسکہ تنگ ہے غافل ہوا نہ مانگ
- گستاخیٔ وصال ہے مشاطۂ نیاز
- عیسیٰ طلسم حسن تغافل ہے زینہار
- گر خامشی سے فائدہ اخفائے حال ہے
- خوش ہوں کہ میری بات سمجھنی محال ہے
- دل فرد جمع و خرچ زباں ہائے لال ہے
- کس پردہ میں ہے آئنہ پرداز اے خدا
- رحمت کہ عذر خواہ لب بے سوال ہے
- ہے ہے خدا نخواستہ وہ اور دشمنی
- اے شوق منفعل یہ تجھے کیا خیال ہے
- ناف زمین ہے نہ کہ ناف غزال ہے
- دریا زمین کو عرق انفعال ہے
- عالم تمام حلقۂ دام خیال ہے
- دل وقف درد کر کہ فقیروں کا مال ہے
- زہرہ گر ایسا ہی شام ہجر میں ہوتا ہے آب
- سب کے دل میں ہے جگہ تیری جو تو راضی ہوا
- اب تلک تو یہ توقع ہے کہ واں ہو جائے گا
- فائدہ کیا سوچ آخر تو بھی دانا ہے اسدؔ
- دوستی ناداں کی ہے جی کا زیاں ہو جائے گا
- گر شہادت آرزو ہے نشے میں گستاخ ہو
- کثرت آرائی وحدت ہے پرستاری وہم
- جلوۂ خور سے فنا ہوتی ہے شبنم غالبؔ
- گلشن میں بندوبست بہ رنگ دگر ہے آج
- قمری کا طوق حلقۂ بیرون در ہے آج
- آتا ہے ایک پارۂ دل ہر فغاں کے ساتھ
- تار نفس کمند شکار اثر ہے آج
- سیلاب گریہ درپئے دیوار و در ہے آج
- چشم کشادہ حلقۂ بیرون در ہے آج
- حیرت فروش صد نگرانی ہے اضطرار
- سر رشتہ چاک جیب کا تار نظر ہے آج
- نور چراغ بزم سے جوش سحر ہے آج
- کرتی ہے عاجزیٔ سفر سوختن تمام
- پیراہن خسک میں غبار شرر ہے آج
- تا صبح ہے بہ منزل مقصد رسیدنی
- دود چراغ خانہ غبار سفر ہے آج
- دور اوفتادۂ چمن فکر ہے اسدؔ
- مرغ خیال بلبل بے بال و پر ہے آج
- گلشن کو تری صحبت از بس کہ خوش آئی ہے
- ہر غنچہ كا گل ہونا آغوش کشائی ہے
- واں کنگر استغنا ہر دم ہے بلندی پر
- یاں نالہ کو اور الٹا دعواۓ رسائی ہے
- از بس کہ سکھاتا ہے غم ضبط کے اندازے
- جو داغ نظر آیا اک چشم نمائی ہے
- آئینہ نفس سے بھی ہوتا ہے کدورت کش
- عاشق کو غبار دل اک وجۂ صفائی ہے
- یہ کاسۂ زانو بھی اک جام گدائی ہے
- صد جلوۂ آئینہ یک صبح جدائی ہے
- گلہ ہے شوق کو دل میں بھی تنگئ جا کا
- حنائے پائے خزاں ہے بہار اگر ہے یہی
- دوام کلفت خاطر ہے عیش دنیا کا
- کرے ہے ہر بن مو کام چشم بینا کا
- نہ کہہ کہ گریہ بہ مقدار حسرت دل ہے
- مری نگاہ میں ہے جمع و خرچ دریا کا
- جفا میں اس کی ہے انداز کار فرما کا
- مرا شمول ہر اک دل کے پیچ و تاب میں ہے
- ہمارے ذہن میں اس فکر کا ہے نام وصال
- ادب ہے اور یہی کشمکش تو کیا کیجے
- حیا ہے اور یہی گو مگو تو کیونکر ہو
- کام اس سے آ پڑا ہے کہ جس کا جہان میں
- جی میں ہی کچھ نہیں ہے ہمارے وگرنہ ہم
- مقصد ہے ناز و غمزہ ولے گفتگو میں کام
- چلتا نہیں ہے دشنہ و خنجر کہے بغیر
- بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر
- ظاہر ہے تیرا حال سب ان پر کہے بغیر
- وہ جو رکھتے تھے ہم اک حسرت تعمیر سو ہے
- تنگئ دل کا گلہ کیا یہ وہ کافر دل ہے
- ہجوم غم سے یاں تک سرنگونی مجھ کو حاصل ہے
- کہ تار دامن و تار نظر میں فرق مشکل ہے
- رفوئے زخم سے مطلب ہے لذت زخم سوزن کی
- سمجھیو مت کہ پاس درد سے دیوانہ غافل ہے
- چٹکنا غنچۂ گل کا صداۓ خندۂ دل ہے
- ہوا ہے مانع عاشق نوازی ناز خود بینی
- تکلف بر طرف آئینۂ تمئیز حائل ہے
- بہ سیل اشک لخت دل ہے دامن گیر مژگاں کا
- غریق بحر جویائے خس و خاشاک ساحل ہے
- بہا ہے یاں تک اشکوں میں غبار کلفت خاطر
- کہ چشم تر میں ہر اک پارۂ دل پائے در گل ہے
- نکلتی ہے تپش میں بسملوں کی برق کی شوخی
- غرض اب تک خیال گرمیٔ رفتار قاتل ہے
- ہجوم نالہ حیرت عاجز عرض یک افغاں ہے
- خموشی ریشۂ صد نیستاں سے خس بہ دنداں ہے
- تکلف بر طرف ہے جاں ستاں تر لطف بد خویاں
- نگاہ بے حجاب ناز تیغ تیز عریاں ہے
- کہ صبح عید مجھ کو بد تر از چاک گریباں ہے
- کہ اس بازار میں ساغر متاع دست گرداں ہے
- غم آغوش بلا میں پرورش دیتا ہے عاشق کو
- چراغ روشن اپنا قلزم صرصر کا مرجاں ہے
- تکلف ساز رسوائی ہے غافل شرم رعنائی
- دل خوں گشتہ در دست حنا آلودہ عریاں ہے
- دو عالم آگہی سامان یک خواب پریشاں ہے
- خط رخسار ساقی تا خط ساغر چراغاں ہے
- گل و نرگس بہم آئینہ و اقلیم کوراں ہے
- تماشا سرخوش غفلت ہے با وصف حضور دل
- ہنوز آئینہ خلوت گاہ ناز ربط مژگاں ہے
- پریشاں خواب آغوش وداع یوسف ستاں ہے
- ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
- تمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے
- کوئی بتاؤ کہ وہ شوخ تند خو کیا ہے
- یہ رشک ہے کہ وہ ہوتا ہے ہم سخن تم سے
- وگرنہ خوف بد آموزی عدو کیا ہے
- چپک رہا ہے بدن پر لہو سے پیراہن
- ہمارے جیب کو اب حاجت رفو کیا ہے
- جلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ہوگا
- کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے
- جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے
- سوائے بادۂ گلفام مشک بو کیا ہے
- یہ شیشہ و قدح و کوزہ و سبو کیا ہے
- تو کس امید پہ کہیے کہ آرزو کیا ہے
- ہوا ہے شہہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا
- وگرنہ شہر میں غالبؔ کی آبرو کیا ہے
- ہر قدم دورئ منزل ہے نمایاں مجھ سے
- میری رفتار سے بھاگے ہے بیاباں مجھ سے
- ہے نگہ رشتۂ شیرازۂ مژگاں مجھ سے
- کس قدر خانۂ آئینہ ہے ویراں مجھ سے
- صورت رشتۂ گوہر ہے چراغاں مجھ سے
- پُر ہے ساے کی طرح میرا شبستاں مجھ سے
- بیکسی ہائے شب ہجر کی وحشت ہے ہے
- سایہ خورشید قیامت میں ہے پنہاں مجھ سے
- نگہ گرم سے ایک آگ ٹپکتی ہے اسدؔ
- ہے چراغاں خس و خاشاک گلستاں مجھ سے
- خواب جمعیت مخمل ہے پریشاں مجھ سے
- کس قدر خانۂ آئینہ ہے ویراں مجھ سے
- اے تسلی ہوس وعدہ فریب افسوں ہے
- محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
- در پردہ انہیں غیر سے ہے ربط نہانی
- ظاہر كا یے پردہ ہے کہ پردہ نہیں کرتے
- یے باعث نومیدی ارباب ہوس ہے
- کرے ہے بادہ ترے لب سے کسب رنگ فروغ
- خط پیالہ سراسر نگاہ گل چیں ہے
- کہ ایک عمر سے حسرت پرست بالیں ہے
- بجا ہے گر نہ سنے نالہ ہائے بلبل زار
- کہ گوش گل نم شبنم سے پنبہ آگیں ہے
- اسدؔ ہے نزع میں چل بے وفا برائے خدا
- مقام ترک حجاب و وداع تمکیں ہے
- اس بلندی کے نصیبوں میں ہے پستی ایک دن
- اک چھیڑ ہے وگرنہ مراد امتحاں نہیں
- پرسش ہے اور پاے سخن درمیاں نہیں
- نا مہرباں نہیں ہے اگر مہرباں نہیں
- ہر چند جاں گدازی قہر و عتاب ہے
- جاں مطرب ترانۂ ہل من مزید ہے
- ہے ننگ سینہ دل اگر آتش کدہ نہ ہو
- ہے عار دل نفس اگر آذر فشاں نہیں
- کہتے ہو کیا لکھا ہے تری سر نوشت میں
- جاں ہے بہائے بوسہ ولے کیوں کہے ابھی
- غالبؔ کو جانتا ہے کہ وہ نیم جاں نہیں
- گل غنچگی میں غرقۂ دریائے رنگ ہے
- کس جرم سے ہے چشم تجھے حسرت قبول
- ہر رنگ گردش آئنہ ایجاد درد ہے
- ہو گئی ہے غیر کی شیریں بیانی کارگر
- ہے وطن سے باہر اہل دل کی قدر و منزلت
- باعث ایذا ہے برہم خوردن بزم سرور
- واں سیاہی مردمک ہے اور یاں داغ شراب
- ہے فلک بالا نشین فیض خم گر دیدنی
- دل کو اظہار سخن انداز فتح الباب ہے
- ہوس کو ہے نشاط کار کیا کیا
- فروغ شعلۂ خس یک نفس ہے
- نفس موج محیط بے خودی ہے
- دماغ عطر پیراہن نہیں ہے
- دل ہر قطرہ ہے ساز انا البحر
- محابا کیا ہے میں ضامن ادھر دیکھ
- بلائے جاں ہے غالبؔ اس کی ہر بات
- تم سے بے جا ہے مجھے اپنی تباہی کا گلہ
- قید میں ہے ترے وحشی کو وہی زلف کی یاد
- ہے آرمیدگی میں نکوہش بجا مجھے
- صبح وطن ہے خندۂ دنداں نما مجھے
- ڈھونڈے ہے اس مغنی آتش نفس کو جی
- کرتا ہے بسکہ باغ میں تو بے حجابیاں
- آنے لگی ہے نکہت گل سے حیا مجھے
- ہے پیچ تاب رشتۂ شمع سحر گہی
- یاں شعلۂ چراغ ہے برگ حنا مجھے
- بال کشادہ ہے نگۂ آشنا مجھے
- از خود گزشتگی میں خموشی پہ حرف ہے
- موج غبار سرمہ ہوئی ہے صدا مجھے
- یاں آب و دانہ موسم گل میں حرام ہے
- زنار واگسستہ ہے موج صبا مجھے
- یکبار امتحان ہوس بھی ضرور ہے
- ہے بزم بتاں میں سخن آزردہ لبوں سے
- ہے دور قدح وجہ پریشانی صہبا
- کیا پوچھے ہے بر خود غلطیہائے عزیزاں
- خواری کو بھی اک عار ہے عالی نسبوں سے
- گو تم کو رضا جوئی اغیار ہے لیکن
- جاتی ہے ملاقات کب ایسے سببوں سے
- ہے بسکہ ہر اک ان کے اشارے میں نشاں اور
- کرتے ہیں محبت تو گزرتا ہے گماں اور
- ابرو سے ہے کیا اس نگہ ناز کو پیوند
- ہے تیر مقرر مگر اس کی ہے کماں اور
- ہم ہیں تو ابھی راہ میں ہے سنگ گراں اور
- ہے خون جگر جوش میں دل کھول کے روتا
- لوگوں کو ہے خورشید جہاں تاب کا دھوکا
- رکتی ہے مری طبع تو ہوتی ہے رواں اور
- کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے انداز بیاں اور
- ہے سبزہ زار ہر در و دیوار غم کدہ
- پرواز یک تپ غم تسخیر نالہ ہے
- تو مشق باز کر دل پروانہ ہے بہار
- ہر داغ تازہ یک دل داغ انتظار ہے
- ہے وصل ہجر عالم تمکین و ضبط میں
- ساقی بہار موسم گل ہے سرور بخش
- جادہ ہے یار کی روش گفتگو اسدؔ
- ہے کس قدر ہلاک فریب وفائے گل
- ایجاد کرتی ہے اسے تیرے لیے بہار
- میرا رقیب ہے نفس عطر سائے گل
- خوں ہے مری نگاہ میں رنگ ادائے گل
- تیرے ہی جلوہ کا ہے یہ دھوکا کہ آج تک
- بے اختیار دوڑے ہے گل در قفائے گل
- غالبؔ مجھے ہے اس سے ہم آغوشی آرزو
- جس کا خیال ہے گل جیب قبائے گل
- دیوانگاں کا چارہ فروغ بہار ہے
- ہے شاخ گل میں پنجۂ خوباں بجائے گل
- یاد ہے شادی میں بھی ہنگامۂ یا رب مجھے
- سبحۂ زاہد ہوا ہے خندہ زیر لب مجھے
- ہے کشاد خاطر وابستہ در رہن سخن
- رشک آسائش پہ ہے زندانیوں کی اب مجھے
- طبع ہے مشتاق لذت ہاۓ حسرت کیا کروں
- آرزو سے ہے شکست آرزو مطلب مجھے
- صبح نا پیدا ہے کلفت خانۂ ادبار میں
- توڑنا ہوتا ہے رنگ یک نفس ہر شب مجھے
- نامۂ اعمال ہے تاریکیٔ کوکب مجھے
- پردہ دار یاوگی ہے وسعت مشرب مجھے
- یاں جادہ بھی فتیلہ ہے لالے کے داغ کا
- بے مے کسے ہے طاقت آشوب آگہی
- کھینچا ہے عجز حوصلہ نے خط ایاغ کا
- کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا
- تازہ نہیں ہے نشۂ فکر سخن مجھے
- پر کیا کریں کہ دل ہی عدو ہے فراغ کا
- بے خون دل ہے چشم میں موج نگہ غبار
- یہ مے کدہ خراب ہے مے کے سراغ کا
- جوش بہار کلفت نظارہ ہے اسدؔ
- ہے ابر پنبہ روزن دیوار باغ کا
- یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
- غم اگرچہ جاں گسل ہے پہ کہاں بچیں کہ دل ہے
- کہوں کس سے میں کہ کیا ہے شب غم بری بلا ہے
- اسے کون دیکھ سکتا کہ یگانہ ہے وہ یکتا
- وہ آئے گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے
- بگڑی ہے بہت بات بنائے نہیں بنتی
- یہ خرگہ نہ پایۂ جو مدت سے بپا ہے
- کیا خیمۂ شبیر سے رتبے میں سوا ہے
- کچھ اور ہی عالم ہے دل و چشم و زباں کا
- کچھ اور ہی نقشا نظر آتا ہے جہاں کا
- اب صاعقہ و مہر میں کچھ فرق نہیں ہے
- گرتا نہیں اس رو سے کہو برق نہیں ہے
- پیچھے ڈالی ہے سر رشتۂ اوقات میں گانٹھ
- پہلے ٹھونکی ہے بن ناخن تدبیر میں کیل
- میرے ابہام پہ ہوتی ہے تصدق توضیح
- میرے اجمال سے کرتی ہے تراوش تفصیل
- جسم رکھتا ہوں ہے اگرچہ نزار
- کچھ خریدا نہیں ہے اب کے سال
- کچھ بنایا نہیں ہے اب کی بار
- میری تنخواہ جو مقرر ہے
- اس کے ملنے کا ہے عجب ہنجار
- رسم ہے مردے کی چھ ماہی ایک
- خلق کا ہے اسی چلن پہ مدار
- اور رہتی ہے سود کی تکرار
- ہو گیا ہے شریک ساہوکار
- ہے زباں میری تیغ جوہر دار
- ہے قلم میری ابر گوہر بار
- ظلم ہے گر نہ دو سخن کی داد
- قہر ہے گر کرو نہ مجھ کو پیار
- بس کہ فعال ما یرید ہے آج
- زہرہ ہوتا ہے آب انساں کا
- چوک جس کو کہیں وہ مقتل ہے
- گھر بنا ہے نمونہ زنداں کا
- تشنۂ خوں ہے ہر مسلماں کا
- وضع میں گو ہوئی دو سر تیغ ہے ذوالفقار ایک
- گل کدۂ تلاش کو ایک ہے رنگ ایک بو
- ریختے کے قماش کو پود ہے ایک تار ایک
- لایا ہے کہہ کے یہ غزل شائبہ ریا سے دور
- اس سے ہے یہ مراد کہ ہم آشنا نہیں
- گڑگانویں کی ہے جتنی رعیت وہ یک قلم
- عاشق ہے اپنے حاکم عادل کے نام کی
- سویہ نظر فروز قلم دان نذر ہے
- ہے چار شنبہ آخر ماہ صفر چلو
- غالبؔ یہ کیا بیاں ہے بجز مدح بادشاہ
- بھاتی نہیں ہے اب مجھے کوئی نوشت خواند
- ہے جن کے آگے سیم و زر مہر و ماہ ماند
- ہے جو صاحب کے کف دست پہ یہ چکنی ڈلی
- زیب دیتا ہے اسے جس قدر اچھا کہیے
- رامپور اہل نظر کی ہے نظر میں وہ شہر
- حیدرآباد بہت دور ہے اس ملک کے لوگ
- رام پور آج ہے وہ بقعہ معمور کہ ہے
- رام پور ایک بڑا باغ ہے از روے مثال
- ہے اسی طور پہ یاں دجلہ فشاں دست کرم
- دو وہ چیزیں کہ طلبگار ہے جن کا عالم
- ہندوستان کی بھی عجب سر زمین ہے
- جس میں وفا و مہر و محبت کا ہے وفور
- جیسا کہ آفتاب نکلتا ہے شرق سے
- اخلاص کا ہوا ہے اسی ملک سے ظہور
- ہے اصل تخم ہند سے اور اس زمین سے
- پھیلا ہے سب جہان میں یہ میوہ دور دور
- کہا غالبؔ سے تاریخ اس کی کیا ہے
- اس شخص کو ضرور ہے روزہ رکھا کرے
- ہے جداگانہ کارفرمائی
- جس سے ہے چشم جاں کو بینائی
- جس سے ایماں کو ہے توانائی
- ان کو غالبؔ یہ سال اچھا ہے
- وہ سبزہ زار ہاے مطرا کہ ہے غضب
- کہ جس کے دیکھے سے سب کا ہوا ہے جی محظوظ
- ہوئی ہے ایسے ہی فرخندہ سال میں غالبؔ
- خوشی ہے یہ آنے کی برسات کے
- سو اناج کے جو ہے مقلوب جاں
- منظور ہے گزارش احوال واقعی
- سو پشت سے ہے پیشۂ آبا سپہ گری
- آزادہ رو ہوں اور مرا مسلک ہے صلح کل
- کیا کم ہے یہ شرف کہ ظفرؔ کا غلام ہوں
- جام جہاں نما ہے شہنشاہ کا ضمیر
- مقطع میں آ پڑی ہے سخن گسترانہ بات
- ہے شکر کی جگہ کہ شکایت نہیں مجھے
- مقام شکر ہے اے ساکنان خطہ خاک
- رہا ہے زور سے ابر ستارہ بار برس
- کہاں ہے ساقی مہوش کہاں ہے ابر مطیر
- خدا نے تجھ کو عطا کی ہے گوہر افشانی
- پجے ہے جوگ مایا اور دیبی
- نشاں باقی نہیں ہے سلطنت کا
- آن پہنچی ہے منزل مقصود
- پاس ہے اب سواد اعظم نثر
- ہاں یہی شاہراہ دہلی ہے
- مطبع بادشاہ دہلی ہے
- منطبع ہو رہی ہے پنج آہنگ
- ہے یہ وہ گلشن ہمیشہ بہار
- اخذ کرتا ہے آسماں کا دبیر
- ہے مقرر جو اب پئے تعلیم
- اس کے فقروں میں کون آتا ہے
- کیا کہیں کیا وہ راگ گاتا ہے
- تازہ کرتا ہے دل کو تازہ سخن
- نہ ظہوری ہے اور نہ طالب ہے
- اسد اللہ خاں غالب ہے
- قول حافظ کا ہے بجا اے دوست
- آج یہ قدر دان معنی ہے
- بادشاہ جہان معنی ہے
- نثر اس کی ہے کارنامۂ راز
- نام عاصی کا ہے غلام نجف
- ہے یہ القصہ حاصل تحریر
- چشمۂ انطباع جاری ہے
- ابتداے ورق شماری ہے
- مجھے جو بھیجی ہے بیسن کی روغنی روٹی
- تجھ سے جو اتنی ارادت ہے تو کس بات سے ہے
- گرچہ تو وہ ہے کہ ہنگامہ اگر گرم کرے
- رونق بزم مہ مہر تری ذات سے ہے
- غیر کیا خود مجھے نفرت مری اوقات سے ہے
- نسبت اک گونہ مرے دل کو ترے ہات سے ہے
- یہ دعا شام و سحر قاضی حاجات سے ہے
- تو سکندر ہے مرا فخر ہے ملنا تیرا
- گو شرف خضر کی بھی مجھ کو ملاقات سے ہے
- غالبؔ خاک نشیں اہل خرابات سے ہے
- سلیم خاں کہ وہ ہے نور چشم واصل خاں
- حکیم حاذق و دانا ہے وہ لطیف کلام
- تمام دہر میں اس کے مطب کا چرچا ہے
- کسی کو یاد بھی لقمان کا نہیں ہے نام
- ہوئی ہے مبدع عالم سے اس قدر انعام
- عجیب نسخہ نادر لکھا ہے ایک اس نے
- نہیں کتاب ہے اک منبع نکات بدیع
- نہیں کتاب ہے اک معدن جواہر کام
- کہا یہ جلد کہ تو اس میں سوچتا کیا ہے
- لکھا ہے نسخہ تحفہ یہی ہے سال تمام
- سیہ گلیم ہوں لازم ہے میرا نام نہ لے
- جہاں میں جو کوئی فتح و ظفر کا طالب ہے
- کہ جو شریک ہو میرا شریک غالبؔ ہے
- چرخ تک دھوم ہے کس دھوم سے آیا سہرا
- بزم شادی ہے فلک کاہ کشاں ہے سہرا
- ہے تو کشتی میں ولے بحر رواں ہے سہرا
- خوش ہو اے بخت کہ ہے آج ترے سر سہرا
- کیا ہی اس چاند سے مکھڑے پہ بھلا لگتا ہے
- ہے ترے حسن دل افروز کا زیور سہرا
- سر پہ چڑھنا تجھے پھبتا ہے پر اے طرف کلاہ
- مجھ کو ڈر ہے کہ نہ چھینے ترا لمبر سہرا
- ہے رگ ابر گہر بار سراسر سہرا
- تار ریشم کا نہیں ہے یہ رگ ابر بہار
- جو گداز دل ہو مطلب تو چمن ہے سنگ جانی
- کہ نگاہ ہے سیہ پوش بہ عزاے زندگانی
- تپش دل شکستہ پئے عبرت آگہی ہے
- نہ وفا کو آبرو ہے نہ جفا تمیز جو ہے
- تری سادگی ہے غافل در دل پہ پاسبانی
- اگر آرزو ہے راحت تو عبث بہ خوں تپیدن
- سر شمع نقش پا ہے بسپاس ناتوانی
- غم عجز کا سفینہ بہ کنار بیدلی ہے
- کہ سر شک قطرہ زن ہے بہ پیام دل رسانی
- یہی بار بار جی میں مرے آئے ہے کہ غالبؔ
- توڑے ہے عجز تنک حوصلہ بر روے زمیں
- توڑے ہے نالہ سر رشتۂ پاس انفاس
- سر کرے ہے دل حیرت زدہ شغل تسکیں
- بے دلی ہاے تماشا کہ نہ عبرت ہے نہ ذوق
- بیکسی ہاے تمنا کہ نہ دنیا ہے نہ دیں
- ہرزہ ہے نغمۂ زیر و بم ہستی و عدم
- لغو ہے آئنۂ فرق جنون و تمکیں
- جوش دوزخ ہے خزان چمن خلد بریں
- درد یک ساغر غفلت ہے چہ دنیا و چہ دیں
- باد افسانۂ بیمار ہے عیسی کا نفس
- استخواں ریزۂ موراں ہے سلیماں کا نگیں
- رشتۂ ساز ازل ہے نگہ باز پسیں
- موم آئینۂ ایجاد ہے مغز تمکیں
- کوچہ دیتا ہے پریشاں نظری پر صحرا
- رم آہو کو ہے ہر ذرے کی چشمک میں کمیں
- کس قدر فکر کو ہے نال قلم موے دماغ
- عذر لنگ آفت جولان ہوس ہے یارب
- گرد جوہر میں ہے آئینۂ دل پردہ نشیں
- درد ہوتا ہے مرے دل میں جو توڑوں بالیں
- پر پروانہ مری بزم میں ہے خنجر کیں
- اے عبارت تجھے کس خط سے ہے درس نیرنگ
- خاک پر توڑے ہے آئینۂ ناز پرویں
- جوں مہ نو ہے نہاں گوشہ ابرو میں جبیں
- نقش پا جس کا ہے توحید کو معراج جبیں
- کس سے ممکن ہے تری مدح بغیر از واجب
- ہر کف خاک ہے واں گروۂ تصویر زمیں
- نسبت نام سے اس کے ہے یہ رتبہ کہ رہے
- وہ کف خاک ہے ناموس دو عالم کی امیں
- فیض خلق اس کا ہی شامل ہے کہ ہوتا ہے سدا
- برش تیغ کا اس کی ہے جہاں میں چرچا
- کوہ کو بیم سے اس کے ہے جگر باختگی
- کفر سوز اس کا وہ جلوہ ہے کہ جس سے ٹوٹے
- وصف دلدل ہے مرے مطلع ثانی کی بہار
- اس کے جولاں میں نظر آے ہے یوں دامن زیں
- وصی ختم رسل تو ہے بفتواے یقیں
- عرش چاہے ہے کہ ہو در پہ ترے خاک نشیں
- تجھ میں اور غیر میں نسبت ہے و لیکن بہ تضاد
- وصی ختم رسل تو ہے باثبات یقیں
- آستاں پر ہے ترے جوہر آئینۂ سنگ
- ذرے سے باندھے ہے خرشید فلک پر آئیں
- کس سے ہوسکتی ہے مداحی ممدوح خدا
- کس سے ہوسکتی ہے آرایش فردوس بریں
- شوخی عرض مطالب میں ہے گستاخ طلب
- ہے ترے حوصلۂ فضل پر از بس کہ یقیں
- ہے غیب سے ہر دم تجھے صد گونہ بشارت
- ممکن ہے کرے خضر سکندر سے ترا ذکر
- ہے فخر سلیماں جو کرے تیری وزارت
- ہے نقش مریدی ترا فرمان الہی
- ہے داغ غلامی ترا توقیع امارت
- ہے گرچہ مجھے نکتہ سرائی میں توغل
- ہے گرچہ مجھے سحر طرازی میں مہارت
- قاصر ہے ستایش میں تری میری عبارت
- نو روز ہے آج اور وہ دن ہے کہ ہوئے ہیں
- گرہ کی ہے یہی گنتی کہ تا بروز شمار
- یقین جان برس گانٹھ کا جو تاگا ہے
- یہ کہکشاں ہے کہ ہیں اس میں بے شمار گرہ
- خود آسماں ہے مہا راؤ راجہ پر صدقے
- انھیں کی سالگرہ کے لیے بناتا ہے
- انھیں کی سالگرہ کی یہ شادمانی ہے
- انھیں کی سالگرہ کے لیے ہے یہ توقیر
- ہزار دانے کی تسبیح چاہتا ہے بنے
- بلا مبالغہ درکار ہے ہزار گرہ
- عطا کیا ہے خدا نے وہ جاذبہ اس کو
- متاع عیش کا ہے قافلہ چلا آتا
- کہ جادہ رشتہ ہے اور ہے شتر قطار گرہ
- خدا نے دی ہے وہ غالبؔ کو دستگاہ سخن
- پڑی ہے غم کی مرے دل میں پیچ دار گرہ
- بری طرح سے ہوئی ہے گلے کا ہار گرہ
- دعا یہ ہے کہ مخالف کے دل میں از رہ بغض
- پڑی ہے یہ جو بہت سخت نابکار گرہ
- جس کو تو جھک کے کر رہا ہے سلام
- دو دن آیا ہے تو نظر دم صبح
- بندہ عاجز ہے گردش ایام
- لے کے آیا ہے عید کا پیغام
- راز دل مجھ سے کیوں چھپاتا ہے
- مجھ کو سمجھا ہے کیا کہیں نمام
- ایک ہی ہے امید گاہ انام
- میں نے مانا کہ تو ہے حلقہ بگوش
- غالبؔ اس کا مگر نہیں ہے غلام
- جانتا ہوں کہ جانتا ہے تو
- تب کہا ہے بہ طرز استفہام
- پھر بنا چاہتا ہے ماہ تمام
- میرا اپنا جدا معاملہ ہے
- ہے مجھے آرزوئے بخشش خاص
- گر تجھے ہے امید رحمت عام
- بوسہ کیسا یہی غنیمت ہے
- اب تو باندھا ہے دیر میں احرام
- اس قدح کا ہے دور مجھ کو نقد
- چرخ نے لی ہے جس سے گردش وام
- بوسہ دینے میں ان کو ہے انکار
- کون ہے جس کے در پہ ناصبہ سا
- رعد کا کر رہی ہے کیا دم بند
- برق کو دے رہا ہے کیا الزام
- ہے ازل سے روائیٔ آغاز
- کرتا ہے چرخ روز بصد گونہ احترام
- دل نے کہا کہ یہ بھی ہے تیرا خیال خام
- دو رات میں تمام ہے ہنگامہ ماہ کا
- سچ ہے تم آفتاب ہو جس کے فروغ سے
- دریاے نور ہے فلک آبگینہ فام
- ٹکڑے ہوا ہے دیکھ کے تحریر کو جگر
- کاتب کی آستیں ہے مگر تیغ کا نیام
- وہ فرد جس میں نام ہے میرا غلط لکھا
- جب یاد آگئی ہے کلیجا لیا ہے تھام
- عزت پہ اہل نام کی ہستی کی ہے بنا
- جو واں نہ کہہ سکا وہ لکھا ہے حضور کو
- خود ہے تدارک اس کا گورمنٹ کو ضرور
- بے وجہ کیوں ذلیل ہو غالبؔ ہے جس کا نام
- امر جدید کا تو نہیں ہے مجھے سوال
- ہے بندے کو اعادۂ عزت کی آرزو
- دستور فن شعر یہی ہے قدیم سے
- ہے یہ دعا کہ زیر نگیں آپ کے رہے
- کہ باج تاج سے لیتا ہے جس کا طرف کلاہ
- نیابت دم عیسی کرے ہے جس کی نگاہ
- بنے ہے شعلۂ آتش انیس پرۂ کاہ
- یہ اس کے عدل سے اضداد کو ہے آمیزش
- ہزبز پنجے سے لیتا ہے کام شانے کا
- کبھی جو ہوتی ہے الجھی ہوئی دم روباہ
- خدا سے ہے یہ توقع کہ عہد طفلی میں
- کہ آپ کا ہے نمک خوار اور دولت خواہ
- یہ چاہتا ہے کہ دنیا میں عز و جاہ کے ساتھ
- پھر ہوئی ہے اسی مہینے میں
- آسماں ہے گداے سایہ نشیں
- راجہ اندر کا جو اکھاڑا ہے
- ہے وہ بالاے سطح چرخ بریں
- اس اکھاڑے میں جو کہ ہے مظنوں
- سب نے جانا کہ ہے پری توسن
- اور بال پری ہے دامن زیں
- بس کہ بخشی ہے فوج کو عزت
- فوج کا ہر پیادہ ہے فرزیں
- جس طرح ہے سپہر پر پرویں
- خاص بہرام کا ہے زیب سریں
- صرف اظہار ہے ارادت کا
- ہے قلم کی جو سجدہ ریز جبیں
- مدح گستر نہیں دعاگو ہے
- ہے دعا بھی یہی کہ دنیا میں
- مستی باد صبا سے ہے بہ عرض سبزہ
- سنگ یہ کار گہ ربط نزاکت ہے کہ ہے
- سبز ہے جام زمرد کی طرح داغ پلنگ
- تازہ ہے ریشۂ نارنج صفت روے شرار
- بے ستوں سبزے سے ہے سنگ زمرد کا مزار
- حسرت جلوۂ ساقی ہے کہ ہر پارۂ ابر
- سینہ بے تابی سے ملتا ہے بہ تیغ کہسار
- دشمن حسرت عاشق ہے رگ ابر سیاہ
- مستی ابر سے گلچین طرب ہے حسرت
- کہ اس آغوس میں ممکن ہے دو عالم کا فشار
- چشم بر چشم چنے ہے بہ تماشا مجنوں
- جام جمشید ہے یاں قالب خشت دیوار
- سونپے ہے فیض ہوا صورت مژگان یتیم
- زانوے آئنہ پرمارے ہے دست بے کار
- بس کہ یک رنگ ہیں دل کرتی ہے ایجاد نسیم
- ہمت و نشو و نما میں یہ بلندی ہے کہ سرد
- غنچے کے میکدے میں مست تامل ہے بہار
- موجۂ سبزۂ نوخیز ہے لبریز خمار
- غنچۂ لالہ سیہ مست جوانی ہے ہنوز
- ساز عریانی کیفیت دل ہے لیکن
- موج مے پر ہے برات نگرانی امید
- گل نرگس سے کف جام پہ ہے چشم بہار
- پشت لب تہمت خط کھینچے ہے بے جا یعنی
- سبز ہے موج تبسم بہ ہواے گفتار
- جاے حیرت ہے کہ گلبازی اندیشۂ شوق
- لعل سی کی ہے پئے زمزمہ مدحت شاہ
- کسوت تاک میں ہے نشۂ ایجاد ازل
- بیخودی دام رگ گل سے ہے پیمانہ شکار
- بہ ہواے چمن جلوہ ہے طاؤس پرست
- باندھے ہے پیر فلک موج شفق سے زنار
- یک چمن جلوۂ یوسف ہے بچشم یعقوب
- ورنہ وہ ناز ہے جس گلشن بیداد سے تھا
- سینۂ سنگ پہ کھینچے ہے الف بال شرار
- سبحہ گرواں ہے اسی کی کف امید کا ابر
- بیم سے جس کے صبا توڑے ہے صد جا زنار
- پہنے ہے پیرہن کاغذ ابری نیساں
- یہ تنک مایہ ہے فریادی جوش ایثار
- سبق نازکی ہے عجز کو صد جا تکرار
- جلوۂ تمثال ہے ہر ذرہ نیرنگ سواد
- چشمک ذرہ سے ہے گرم نگہ کا بازار
- ہے نفس مایۂ شوق دو جہاں ریگ رواں
- آفرینش کو ہے واں سے طلب مستی ناز
- عرض خمیازہ ایجاد ہے ہر موج غبار
- دل جبریل کف پا پہ ملے ہے رخسار
- مغز کہسار میں کرتا ہے فرو نشتر خار
- یک جہاں بسمل انداز پر افشانی ہے
- دام سے اس کے قضا کو ہے رہائی دشوار
- شعلہ تحریر سے اس برق کی ہے کلک قضا
- ہے حنا کو سر ناخن سے گزرنا دشوار
- نعل در آتش ہر ذرہ ہے تیغ کہسار
- رفتن رنگ حنا ہے تپش بال شرار
- ہے سراسر روی عالم ایجاد اسے
- فیض سے تیرے ہے اے شمع شبستان بہار
- گرد جولاں سے ہے تیری بگریبان خرام
- جلوہ ہے ساقی مخموری تاب دیوار
- تو وہ ساقی ہے کہ ہر موج محیط تنزیہہ
- ذوق بے تابی دیدار سے تیرے ہے ہنوز
- تیری اولاد کے غم سے ہے بروے گردوں
- پرورش پائی ہے جوں غنچہ بہ خون اظہار
- ہے اسیر ستم کشمکش دام وفا
- شاہ روشن دل بہادر شہ کو ہے
- پہلے دارا کا نکل آیا ہے نام
- روشناسوں کی جہاں فہرست ہے
- واں لکھا ہے چہرۂ قیصر کھلا
- توسن شہ میں ہے وہ خوبی کہ جب
- ہے اصل خرد سے شرمسار اندیشہ
- آتش بازی ہے جیسے شغل اطفال
- ہے سوز جگر کا بھی اسی طور کا حال
- لڑکوں کے لیے گیا ہے کیا کھیل نکال
- عصفور ہے تو مقابل باز نہ ہو
- کٹتا ہے بتاؤ کس طرح سے رمضاں
- ہوتی ہے تراویح سے فرصت کب تک
- ہے ہے نہ کہو کسے برا کہتے ہیں
- بے گریہ کمال ترجبینی ہے مجھے
- در بزم وفا خجل نشینی ہے مجھے
- ابریشم ساز موے چینی ہے مجھے
- بھیجی ہے جو مجھ کو شاہ جمجاہ نے دال
- ہے لطف و عنایت شہنشاہ پہ دال
- ہے دولت و دین و دانش و داد کی دال
- دیکھ وہ برق تبسم بس کہ دل بیتاب ہے
- دیدۂ گریاں مرا فوارۂ سیماب ہے
- اب شکست توبہ میخواروں کو فتح الباب ہے
- دل سخت نژند ہوگیا ہے گویا
- اس سے گلہ مند ہوگیا ہے گویا
- غالبؔ منہ بند ہو گیا ہے گویا
- دکھ جی کے پسند ہو گیا ہے غالبؔ
- دل رک رک کر بند ہو گیا ہے غالبؔ
- سونا سوگند ہو گیا ہے غالبؔ
- یہ چور پڑا ہے خانۂ خاتم میں
- گلخن شرر اہتمام بستر ہے آج
- یعنی تب عشق شعلہ پرور ہے آج
- قارورہ مرا خون کبوتر ہے آج
- ہے خلق حسد قماش لڑنے کے لیے
- ہے اب کے شب قدر و دوالی باہم
- یہ دی جو گئی ہے رشتۂ عمر میں گانٹھ
- ہے صفر کہ افزایش اعداد کرے
- ہے مفت نگاہ کا مقابل ہونا
- جن لوگوں کو ہے مجھ سے عداوت گہری
- پشت و رخ آئنہ ہے دین و دنیا
- منظور ہے دو جہاں سے نو یعنی دل
- دل سوز جنوں سے جلوہ منظر ہے آج
- نیرنگ زمانہ فتنہ پرور ہے آج
- ہر پارۂ دل بہ رنگ دیگر ہے آج
- مشکل ہے زبس کلام میرا اے دل
- ثاقب حرکت یہ کی ہے بیجا تم نے
- روزہ مرا ایمان ہے غالبؔ لیکن
- ہر یک ہے کمال دیں میں یکتا باللہ
- غالبؔ وہ مسلمان نہیں ہے زنہار
- نہ بادشاہ نہ سلطاں یہ کیا ستایش ہے
- کفیل بحشش امت ہے بن نہیں پڑتی
- ستم ہے کشتۂ تیغ جفا کہیں اس کو
- وہ جس کے ماتمیوں پر ہے سلسبیل سبیل
- بہت ہے پایۂ گرد رہ حسین بلند
- بقدر فہم ہے گر کیمیا کہیں اس کو
- نظارہ سوز ہے یاں تک ہر ایک ذرہ خاک
- ہمارا منہ ہے کہ دیں اس کے حسن صبر کی داد
- زمام ناقہ کف اس کے میں ہے کہ اہل یقیں
- وہ ریگ تفتۂ وادی پہ گام فرسا ہے
- امام وقت کی یہ قدر ہے کہ اہل عناد
- یہ اجتہاد عجب ہے کہ ایک دشمن دیں
- نبی کا ہو نہ جسے اعتقاد کافر ہے
- بھرا ہے غالبؔ دلخستہ کے کلام میں درد
- غلط نہیں ہے کہ خونیں نوا کہیں اس کو
- نام مکلوڈ جن کا ہے مشہور
- شاخ گل کا ہے گلفشاں ہونا
- مجھ سے کیا پوچھتا ہے کیا لکھیے
- آم کا کون مرد میداں ہے
- ثمر و شاخ گوے و چوگاں ہے
- پھوڑتا ہے جلے پھپولے تاک
- یہ بھی ناچار جی کا کھونا ہے
- شرم سے پانی پانی ہونا ہے
- مجھ سے پوچھو تمہیں خبر کیا ہے
- آم کے آگے نیشکر کیا ہے
- نظر آتا ہے یوں مجھے یہ ثمر
- آتش گل پہ قند کا ہے قوام
- شیرے کے تار کا ہے ریشہ نام
- مدتوں تک دیا ہے آب حیات
- تب ہوا ہے ثمر فشاں یہ نخل
- صاحب شاخ و برگ و بار ہے آم
- ناز پروردۂ بہار ہے آم
- وہ کہ ہے والی ولایت عہد
- عدل سے اس کے ہے حمایت عہد
- سایہ اس کا ہما کا سایہ ہے
- خلق پر وہ خدا کا سایہ ہے
- جب تلک ہے نمود سایہ و نور
- بس کہ تیرے حق میں کہتی ہے زباں
- قہر ہے دل ان سے الجھانا تجھے
- آج یک شنبے کا دن ہے آؤ گے
- وصال لالہ عذاران سرو قامت ہے
- نسیم باغ سے پا در حنا نکلتی ہے
- بے چارہ کتنی دور سے آیا ہے شیخ جی
- بتو توبہ کرو تم کیا ہو جب اعتبار آتا ہے
- تو یوسف سا حسیں بکنے سر بازار آتا ہے
- دم واپسیں بر سر راہ ہے
- عزیزو اب اللہ ہی اللہ ہے
- آج بیداری میں ہے خواب زلیخا مجھ کو
- دل تو ہو اچھا نہیں ہے گر دماغ
- حالت ترے عاشق کی یہ اب آن بنی ہے
- اعضا شکنی ہو چکی اب جاں شکنی ہے
- یہ رنگ زرد ہے چمن زعفراں مجھے
- ہر موج گرد راہ مرے سر کو دوش ہے
- ہند میں اسدؔ نالاں نالہ در صفاہاں ہے
- جو حد تقوی ادا نہ ہووے تو اپنا مذہب یہی ہے غالبؔ
- کرتا ہے گل جنون تماشا کہیں جسے
- یہی ہے مذہب حق والسلام والاکرام
- مسجد کے زیر سایہ اک گھر بنا لیا ہے
- یہ بندۂ کمینہ ہم سایۂ خدا ہے
- مزہ تو جب ہے کہ اے آہ نارسا ہم سے
- وہ خود کہے کہ بتا تیری آرزو کیا ہے
- مفت وا گستردنی ہے فرش خواب آئینے پر
- نقش سطر صد تبسم ہے بر آب زیر کاہ
- حسن کا خط پر نہاں خندیدنی انداز ہے
- نتیجہ اپنی آہوں کا ہے شکل مستوی پورا
- پیٹھ محراب کی قبلے کی طرف رہتی ہے
- پوچھے ہے کیا معاش جگر تفتگان عشق
- روز اس شہر میں اک حکم نیا ہوتا ہے
- کچھ سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ کیا ہوتا ہے
- پرواز بخوں خفتہ و فریاد رسا ہے
- وہ خط سبز ہے کہ بہ رخسار سادہ ہو
- تحریر ہے یہ غالبؔ یزداں پرست کی
- تاریخ اس کی آج نویں ہے اگست کی
- اسداللہ خاں قیامت ہے
- ز بہر یادگاری ہا گرہ دیتا ہے گوہر کی
- زخم دل تم نے دکھایا ہے کہ جی جانے ہے
- ایسے ہنستے کو رلایا ہے کہ جی جانے ہے
- ہے نبی مرسل پیمبر رہنما
- ہے صحابی دوست خالص ناب ہے
- جمع اس کی یاد رکھ اصحاب ہے
- بندگی کا ہاں عبادت نام ہے
- نیک بختی کا سعادت نام ہے
- کھولنا افطار ہے اور روزہ صوم
- ہے صلوٰۃ اے مہرباں اسم نماز
- جانماز اور پھر مصلیٰ ہے وہی
- اور سجادہ بھی گویا ہے وہی
- اسم وہ ہے جس کو تم کہتے ہو نام
- کعبہ مکہ وہ جو ہے بیت الحرام
- بیٹھ رہنا گوشے میں ہے اعتکاف
- ہے محبت مہر لازم ہے نباہ
- غرب پچھم اور پورب شرق ہے
- ابر بدلی اور بجلی برق ہے
- آگ کا آتش اور آذر نام ہے
- اور انگارے کا اخگر نام ہے
- تیغ کی ہندی اگر تلوار ہے
- فارسی پگڑی کی بھی دستار ہے
- نیولا راسو ہے اور طاؤس مور
- خم ہے مٹکا اور ٹھلیا ہے سبو
- دودھ جو پینے کا ہے وہ شیر ہے
- طفل لڑکا اور بوڑھا پیر ہے
- استخواں ہڈی ہے اور ہے پوست کھال
- سگ ہے کتا اور گیدڑ ہے شغال
- کیکڑا سرطان ہے کچھوا سنگ پشت
- ہے شکم پیٹ اور بغل آغوش ہے
- کہنی آرنج اور کندھا دوش ہے
- ہندی میں عقرب کا بچھو نام ہے
- فارسی میں بھوں کا ابرو نام ہے
- ہے وہی کژدم جسے عقرب کہیں
- نیش ہے وہ ڈنک جس کو سب کہیں
- ہے لڑائی حرب اور جنگ ایک چیز
- کان کی لو نرمہ ہے اے مہربان
- چشم ہے آنکھ اور مژگاں ہے پلک
- اور ہے دائی جنائی قابلہ
- اونٹ اشتر اور اشغر سیہ ہے
- گوشت ہے لحم اور چربی پیا ہے
- ہے زنخ ٹھوڑی ذقن بھی ہے وہی
- خاد ہے چیل اور زغن بھی ہے وہی
- پھر غلیواز اس کو کہیے جو ہے چیل
- چیونٹی ہے مور اور ہاتھی ہے فیل
- ہندی چڑیا فارسی گنجشک ہے
- مینگنی جس کو کہیں وہ پشک ہے
- تابہ ہے بھائی توے کی فارسی
- اور تیہو ہے لوئی کی فارسی
- پشہ مچھر اور مکھی ہے مگس
- میش کا ہے نام بھیڑ اے خود پسند
- نام گل کا پھول شبنم اوس ہے
- جس کو نقارا کہیں وہ کوس ہے
- سقف چھت ہے سنگ پتھر اینٹ خشت
- جو برا ہے اس کو ہم کہتے ہیں زشت
- سیم چاندی مس ہے تانبا بخت بھاگ
- زر ہے سونا اور زر گر ہے سنار
- موز کیلا اور ککڑی ہے خیار
- زندگانی ہے حیات اور مرگ موت
- شوے خاوند اور ہے انباغ سوت
- ہے جراحت اور زخم اور گھاؤ ریش
- ہے چہل چالیس اور پنجاہ پچاس
- ارد آٹا اور غلہ ہے اناج
- چاہیے ہے ماں کو مادر جاننا
- پھاوڑا بیل اور درانتی واس ہے
- فارسی کاہ اور ہندی گھاس ہے
- خشک ہو جاتی ہے تب کہتے ہیں کاہ
- چکسہ پڑیا کیسے کا تھیلی ہے نام
- فارسی میں دھپے کا سیلی ہے نام
- اخلکندو جھنجنا نیرو ہے زور
- بادفر پھرکی ہے اور ہے دزد چور
- نام کو ہیں تین پر ہے ایک چیز
- خانہ گھر ہے اور کوٹھا بام ہے
- قلعہ دژ کھائی کا خندق نام ہے
- ہے بنولا پنبہ دانہ لا کلام
- گر دریچہ فارسی کھڑکی کی ہے
- سرزنش بھی فارسی جھڑکی کی ہے
- ہے کہانی کی فسانہ فارسی
- نعل در آتش اسی کا نام ہے
- جو کہ بے چین اور بے آرام ہے
- یوسہ مچھی چاہنا ہے خواستن
- کم ہے اندک اور گھٹانا کاستن
- ہے ہراسیدن بھی ڈرنا کیوں ڈرو
- اور جنگیدن ہے لڑنا کیوں لڑو
- ہے گزرنے کی گذشتن فارسی
- اور پھرنے کی ہے گشتن فارسی
- وہ سرودن ہے جسے گانا کہیں
- ہے وہ آوردن جسے لانا کہیں
- دوڑنے کی فارسی ہے تاختن
- کھیلنے کی فارسی ہے باختن
- کاشتن بونا ہے رفتن جھاڑنا
- کاشتن بونا ہے اور کشتن بھی ہے
- کاتنے کی فارسی رشتن بھی ہے
- ہے ٹپکنے کی چکیدن فارسی
- ڈھونڈھنا جستن ہے پانا یافتن
- داشتن رکھنا ہے سختن تولنا
- کھینچنے کی ہے کشیدن فارسی
- ہے قلم کا فارسی میں خامہ نام
- ہے غزل کا فارسی میں چامہ نام
- جمعے کے دن وعدہ ہے دیدار کا
- شہر میں چھڑیوں کے میلے کی ہے بھیڑ
- آج عالم اور ہے بازار کا
- پل پہ چل ہے آج دن اتوار کا
- شوق ابھی سے ہے تجھے اشعار کا
- فارسی کیوں کی چرا ہے یاد رکھ
- اور گھنٹالا درا ہے یاد رکھ
- دشت صحرا اور جنگل ایک ہے
- پھر سہ شنبہ اور منگل ایک ہے
- جس کو ناداں کہیے وہ انجان ہے
- فارسی بینگن کی باذنجان ہے
- جس کو کہتے ہیں جمائی فازہ ہے
- جو ہے انگڑائی وہی خمیازہ ہے
- پاڑ ہے تالار اک عالم سے پوچھ
- بھڑ کی بھائی فارسی زنبور ہے
- دسپنا انبر ہے اور انبور ہے
- اور ہے کنگھے کی شانہ فارسی
- ہینگ انگوزہ ہے اور ارزیر رانگ
- ساز باجا اور ہے آواز بانگ
- ہے نوا آواز ساماں اور اول
- روئی کی پونی کا ہے پاغند نام
- گیتی اور گیہاں ہے دنیا یاد رکھ
- اور ہے نداف دھنیا یاد رکھ
- فارسی گلخن ہے اور ہندی ہے بھاڑ
- اصل بستر ہے سمجھ لو تم ذرا
- پیر بوڑھا اور برنا ہے جواں
- اینٹ کے گارے کا نام آژند ہے
- ہے نصیحت بھی وہی جو پند ہے
- ارض ہے پر مرز بھی کہتے ہیں ہاں
- کیا ہے ارض اور مرز تم سمجھے زمیں
- آس چکی آسیا مشہور ہے
- اور فوفل چھالیا مشہور ہے
- بانسلی نے اور جلاجل جھانجھ ہے
- پھر سترون اور عقیمہ بانجھ ہے
- کحل سرمہ اور سلائی میل ہے
- جس کو جھولی کہیے وہ زنبیل ہے
- علم سے ہی قدر ہے انسان کی
- ہے وہی انسان جو جاہل نہیں
- کیا کہیں کھائی ہے حافظ جی کی مار
- بات کرنے میں نکلتا ہے دم اس کے رو برو
- خواب و بیداری پہ کب ہے آدمی کو اختیار
- جس کے حسن روز افزوں کی یہ اک ادنی ہے بات
- تا مجھے پہنچائے کاہش بخت بد ہے گھات میں
- ہاں فراوانی اگر کچھ ہے تو ہے آفات میں
- جز غم و رنج و الم گھاٹا ہے ہر یک بات میں
- سب سے یہ گوشہ کنارے ہے گلے لگ جا مرے
- آدمی کو کیوں پکارے ہے گلے لگ جا مرے
- سر سے گر چادر اتارے ہے گلے لگ جا مرے
- مانگ کیا بیٹھا سنوارے ہے گلے لگ جا مرے
- ناگہاں یاد آگئی ہے مجھ کو یارب کب کی بات
- ہو تجلی برق کی صورت میں ہے یہ بھی غضب