ہیں
549 Misre
- آئے ہیں پارہ ہائے جگر درمیان اشک
- حلقے ہیں چشم ہائے کشادہ بسوئے دل
- دیوانگاں ہیں حامل راز نہان عشق
- نہیں کرنے کا ہیں تقریر ادب سے باہر
- گوش ہیں در پس دیوار کہوں یا نہ کہوں
- ترے نوکر ترے در پر اسدؔ کو ذبح کرتے ہیں
- گو یاد مجھ کو کرتے ہیں خوباں
- اسدؔ ارباب فطرت قدر دان لفظ و معنی ہیں
- ازاں جا کہ حسرت کش یار ہیں ہم
- رقیب تمناے دیدار ہیں ہم
- عبث محمل آراے رفتار ہیں ہم
- کہ ضبط تپش سے شرر کار ہیں ہم
- نگہبان دل ہاے اغیار ہیں ہم
- بہار آفرینا گنہ گار ہیں ہم
- نگہ آشناے گل و خار ہیں ہم
- ہجوم تمنا سے لاچار ہیں ہم
- جسے کہتے ہیں نالہ وہ اسی عالم کا عنقا ہے
- خزاں کیا فصل گل کہتے ہیں کس کو کوئی موسم ہو
- وہی ہم ہیں قفس ہے اور ماتم بال و پر کا ہے
- اسدؔ خوباں بھی دور چرخ سے رنجیدہ خاطر ہیں
- بہ غفلت عطر گل ہم آگہی مخمور ملتے ہیں
- چراغان تماشا چشم صد ناسور ملتے ہیں
- سمندر کو پر پروانہ سے کافور ملتے ہیں
- سحر گل ہاے نرگس چند چشم کور ملتے ہیں
- دل آئینہ زیر پاے خیل مور ملتے ہیں
- کف گل برگ سے پاے دل رنجور ملتے ہیں
- کف افسوس فرصت سنگ کوہ طور ملتے ہیں
- لباس شمع پر عطر شب دیجور ملتے ہیں
- صفاے اشک میں داغ جگر جلوہ دکھاتے ہیں
- بہ بوے زلف مشکیں یہ دماغ آشفتۂ رم ہیں
- بقدر لفظ و معنی فکرت احرام گریباں ہیں
- وگر نہ کیجیے جو ذرہ عریاں ہم نمایاں ہیں
- برنگ ریشہ تاک آبلے جاوے میں پنہاں ہیں
- مہ و خرشید باہم ساز یک خواب پریشاں ہیں
- زمانے کے شب یلداسے موے سر پریشاں ہیں
- کہ مثل ذرہ ہاے خاک آئینے پر افشاں ہیں
- عنایت نامہ ہاے اہل دنیا ہر زہ عنواں ہیں
- وگر نہ مثل خار خشک مردود گلستاں ہیں
- اگر ڈھانپے تو آنکھیں ڈھانپ ہم تصویر عریاں ہیں
- نہاں ہیں نالۂ ناقوس میں در پردہ یا رب ہا
- غافلاں غش جان کر چھڑکے ہیں آب آئینے پر
- بس کہ مے پیتے ہیں ارباب فنا پوشیدہ
- بس کہ وہ پا کو بیاں در پردۂ وحشت ہیں یاد
- مشک ہے سنبلستان زلف ہیں گرد سواد
- بس کہ ہیں در پردہ مصروف سیہ کاری تمام
- بس کہ ہیں بدمست بشکن بشکن میخانہ ہم
- موے شیشہ کو سمجھتے ہیں خط پیمانہ ہم
- پنجۂ خرشید کو سمجھے ہیں دست شانہ ہم
- سیل سے فرش کتاں کرتے ہیں تا ویرانہ ہم
- مشق از خود رفتگی سے ہیں بہ گلزار خیال
- فرط بے خوابی سے ہیں شب ہاے ہجر یار میں
- جانتے ہیں جوشش سوداے زلف یار میں
- چپکے چپکے جلتے ہیں جوں شمع خلوت خانہ ہم
- پر فشان سوختن ہیں صورت پروانہ ہم
- برق سے کرتے ہیں روشن شمع ماتم خانہ ہم
- ہیں ورق گردانی نیرنگ یک بت خانہ ہم
- ہیں چراغان شبستان دل پروانہ ہم
- ہیں وبال تکیہ گاہ ہمت مردانہ ہم
- دائم الحبس اس میں ہیں لاکھوں تمنائیں اسدؔ
- جانتے ہیں سینۂ پرخوں کو زنداں خانہ ہم
- رہتے ہیں افسردگی سے سخت بیدردانہ ہم
- دوجہاں حشر زبان خشک ہیں جوں شانہ ہم
- کشتی عالم بہ طوفان تغافل دے کہ ہیں
- ننگ بالیدن ہیں جوں ہوئے سر دیوانہ ہم
- ہوے ہیں پردہ ہائے چشم عبرت جلوہ حائل ہا
- بہ وہم زر گرہ میں باندھتے ہیں برق حاصل ہا
- بزم نظر ہیں بیضۂ طاؤس خلوتاں
- زندان تحمل میں مہمان تغافل ہیں
- کئی کانٹے ہیں اور پیراہن شکل نہالی ہے
- مال و جاہ و دست و پا بے زر خریدہ ہیں اسدؔ
- ہیں رقیبانہ بہم دست و گریباں گل و صبح
- جامہ زیبوں کے سدا ہیں نہ داماں گل و صبح
- ہیں دعا ہاے سحرگاہ سے خواہاں گل و صبح
- بس کہ ہیں بے خود و دا رفتہ و حیراں گل و صبح
- غفلت آرامی یاراں پہ ہیں خنداں گل و صبح
- جوں صدف پر در ہیں دنداں در جگر افشردگاں
- ان ستم کیشوں کے کھائے ہیں زبس تیر نگاہ
- ستم کش مصلحت سے ہوں کہ خوباں تجھ پہ عاشق ہیں
- فتادگی میں قدم استوار رکھتے ہیں
- بہ رنگ جادہ سر کوے یار رکھتے ہیں
- برہنہ مستی صبح بہار رکھتے ہیں
- جنون حسرت یک جامہ دار رکھتے ہیں
- ہم ایک میکدہ دریا کے پار رکھتے ہیں
- یہ ایک پیرہن زر نگار رکھتے ہیں
- گزشتگاں اثر انتظار رکھتے ہیں
- ہزار دل پہ ہم ایک اختیار رکھتے ہیں
- ہزار دل بہ وداع قرار رکھتے ہیں
- سراغ خلوت شب ہاے تار رکھتے ہیں
- بسان دشت دل پر غبار رکھتے ہیں
- ہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہے
- متاع بردہ کو سمجھے ہوئے ہیں قرض رہزن پر
- اے اسدؔ ہم خود اسیر رنگ و بوے باغ ہیں
- جنبش دل سے ہوے ہیں عقدہ ہاے کار وا
- ہیں زوال آمادہ اجزا آفرینش کے تمام
- قطرہ ہاے خون بسمل زیب داماں ہیں اسدؔ
- امواج کی جو یہ شکنیں آشکار ہیں
- اسدؔ وارستگاں باوصف ساماں بے تعلق ہیں
- ہوئی ہیں آب شرم کوشش بے جا سے تدبیریں
- عرق ریز تپش ہیں موج کے مانند زنجیریں
- پر عنقا پہ رنگ رفتہ سے کھینچی ہیں تصویریں
- کرے ہیں غنچۂ منقار طوطی نقش گل گیریں
- غبار آلودہ ہیں جوں درد شمع کشتہ تقریریں
- وگر نہ خواب کی مضمر ہیں افسانے میں تعبیریں
- خرمن بباد وا دعوے ہیں بہو سو ہو
- ہم اک طرف ہیں برق شرر بیزیک طرف
- بس رہتے ہیں باریکی و نرمی ہے کہ جوں گل
- جس طرف سے آئے ہیں آخر ادھر ہی جائیں گے
- زمیں سے ہوتے ہیں صد دامن آسماں پیدا
- ہیں خار راہ جوہر تیغ عسس تمام
- قہرمان عشق میں حسرت سے لیتے ہیں خراج
- لو ہم مریض عشق کے تیمار دار ہیں
- کہ ہیں صد رخنہ جوں غربال دیواریں گلستاں کی
- حیرت سے ترے جلوے کی از بس کہ ہیں بے کار
- یعنی ہیں ماندہ ازاں سووازیں سوراندہ
- شورش باطن کے ہیں احباب منکر ورنہ یاں
- وام لیتے ہیں پر پرواز پیراہن کی بو
- خبر لیتے ہیں لیکن بیدلی سے
- سچ کہتے ہیں واللہ کہ اللہ غنی ہے
- آبلے پا کے ہیں یاں رفتار کو دندان عجز
- آئیں جس بزم میں وہ لوگ پکار اٹھتے ہیں
- زخم ہاے کہنہ دل رکھتے ہیں جوں مردگی
- ہیں ہوس پیشہ بہت وہ نہ ہو اور سہی
- پیدا ہوئے ہیں ہم الم آباد جہاں میں
- کہتے ہیں کہ تاثیر ہے فریاد جرس کو
- اسدؔ ہم وہ جنوں جولاں گداۓ بے سر و پا ہیں
- اسدؔ ہنستے ہیں میرے گریہ ہاے زار پر مردم
- ہیں میری مشت خاک سے اس کو کدورتیں
- داغ ربط ہم ہیں اہل باغ گر گل ہو شہید
- سیہ مستی چشم شوخ سے ہیں جوہر مژگاں
- اٹھائے ہیں جو میں افتادگی میں متصل صدمے
- کی ہیں کس پانی سے یاں یعقوب نے آنکھیں سفید
- رہتے ہیں افسردگی سے سخت بیدر دانہ ہم
- دو جہاں حشر زبان خشک ہیں جوں شانہ ہم
- کشتی عالم بہ طوفان تغافل دے کہ ہیں
- ننگ بالیدن ہیں جوں موے سر دیوانہ ہم
- نغمہ و چنگ ہیں جوں تیر و کماں فہمیدن
- معنی ہیں بہت تو لفظ تھوڑے
- جاتے ہیں رقیب کو خط اس کے
- کاغذ کے دوڑتے ہیں گھوڑے
- سراب یقیں ہیں پریشاں نگاہاں
- اسد کو گر از چشم کم دیکھتے ہیں
- تہ بال شمع حرم دیکھتے ہیں
- ظاہر ہیں میری شکل سے افسوس کے نشاں
- لگا کے بیٹھتے ہیں اس سے راہ زن تکیہ
- اب اس کو کہتے ہیں اہل سخن سخن تکیہ
- ہم اور تم فلک پیر جس کو کہتے ہیں
- ہم آئے ہیں غالبؔ رہ اقلیم عدم سے
- ہوتے ہیں محو جلوۂ خور سے ستارگاں
- بس کہ خوباں باغ کو دیتے ہیں وقت مے شکست
- حیراں کیے ہوئے ہیں دل بے قرار کے
- بعد از وداع یار بخوں در تپیدہ ہیں
- نقش قدم ہیں ہم کف پاے نگار کے
- گویا کہ تختہ مشق ہیں خط غبار کے
- حسرت سے دیکھ رہتے ہیں ہم آب و رنگ گل
- مانند شبنم اشک ہیں مژگان خار کے
- لائق نہیں رہے ہیں غم روزگار کے
- آنکھیں پتھرائی ہیں نامحسوس ہے تار نگاہ
- دگر نہ منزل حیرت سے کیا واقف ہیں مدہوشاں
- آب ہوجاتے ہیں ننگ ہمت باطل سے مرد
- ہے مشق وفا جانتے ہیں لغزش پا تک
- یاں رہ گئے ہیں ناخن تدبیر ٹوٹ کر
- اسدؔ ہم وہ جنوں جولاں گداۓ بے سر و پا ہیں
- دیتے ہیں جنت حیات دہر کے بدلے
- ہو گئے ہیں جمع اجزائے نگاہ آفتاب
- بسکہ ہیں ہم اک بہار ناز کے مارے ہوئے
- اشک ہو جاتے ہیں خشک از گرمیٔ رفتار دوست
- دیکھتے ہیں چشم از خواب عدم نکشادہ سے
- سات دن ہم پہ بھی بھاری ہیں سحر ہوتے تک
- ہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہے
- خوش ہوتے ہیں پر وصل میں یوں مر نہیں جاتے
- ایک عالم پہ ہیں طوفانی کیفیت فصل
- ہوش اڑتے ہیں مرے جلوۂ گل دیکھ اسدؔ
- بلا سے ہیں جو یہ پیش نظر در و دیوار
- نگاہ شوق کو ہیں بال و پر در و دیوار
- گئے ہیں چند قدم پیشتر در و دیوار
- کہ ہیں دکان متاع نظر در و دیوار
- ہمیشہ روتے ہیں ہم دیکھ کر در و دیوار
- کہ ناچتے ہیں پڑے سر بہ سر در و دیوار
- تمہاری طرز و روش جانتے ہیں ہم کیا ہے
- ہیں میری مشت خاک سے اس کو کدورتیں
- سن لیتے ہیں گو ذکر ہمارا نہیں کرتے
- ہر شب پیا ہی کرتے ہیں مے جس قدر ملے
- بھرے ہیں جس قدر جام و سبو مے خانہ خالی ہے
- کئی کانٹے ہیں اور پیراہن شکل نہالی ہے
- کیا وہ بھی بے گنہ کش و حق ناشناس ہیں
- سنتے ہیں جو بہشت کی تعریف سب درست
- تیرے توسن کو صبا باندھتے ہیں
- ہم بھی مضموں کی ہوا باندھتے ہیں
- ہم بھی ایک اپنی ہوا باندھتے ہیں
- برق کو پابہ حنا باندھتے ہیں
- اشک کو بے سر و پا باندھتے ہیں
- مست کب بند قبا باندھتے ہیں
- لوگ نالے کو رسا باندھتے ہیں
- آبلوں پر بھی حنا باندھتے ہیں
- سادہ پرکار ہیں خوباں غالبؔ
- ہم سے پیمان وفا باندھتے ہیں
- پاؤں میں جب وہ حنا باندھتے ہیں
- میرے ہاتھوں کو جدا باندھتے ہیں
- شوق کو پا بہ حنا باندھتے ہیں
- تیرے بیمار پہ ہیں فریادی
- وہ جو کاغذ میں دوا باندھتے ہیں
- چشم زنجیر کو وا باندھتے ہیں
- آپ مسجد میں گدھا باندھتے ہیں
- دست شانہ بہ قضا باندھتے ہیں
- آشنا غالبؔ نہیں ہیں درد دل کے آشنا
- کہاں ہم بھی رگ و پے رکھتے ہیں انصاف بہتر ہے
- متاع بردہ کو سمجھے ہوئے ہیں قرض رہزن پر
- کہتے ہیں ہم تجھ کو منہ دکھلائیں کیا
- رات دن گردش میں ہیں سات آسماں
- پوچھتے ہیں وہ کہ غالبؔ کون ہے
- جہاں تیرا نقش قدم دیکھتے ہیں
- خیاباں خیاباں ارم دیکھتے ہیں
- سویدا میں سیر عدم دیکھتے ہیں
- قیامت کے فتنے کو کم دیکھتے ہیں
- تجھے کس تمنا سے ہم دیکھتے ہیں
- کہ شب رو کا نقش قدم دیکھتے ہیں
- تماشائے اہل کرم دیکھتے ہیں
- کسو کو زخود رستہ کم دیکھتے ہیں
- کہ آہو کو پابند رم دیکھتے ہیں
- خط لخت دل یک قلم دیکھتے ہیں
- مژہ کو جواہر رقم دیکھتے ہیں
- سر پیٹتے ہیں اپنا ہم اور نیک نامی
- بارے آرام سے ہیں اہل جفا میرے بعد
- بے خطر جیتے ہیں ارباب ریا میرے بعد
- جی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچھا ہے
- وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے
- دیکھیے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض
- جہاں ہم ہیں وہاں دار و رسن کی آزمائش ہے
- لو وہ بھی کہتے ہیں کہ یہ بے ننگ و نام ہے
- بندگی میں بھی وہ آزادہ و خودبیں ہیں کہ ہم
- کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب
- کچھ تو پڑھیے کہ لوگ کہتے ہیں
- ہیں زوال آمادہ اجزا آفرینش کے تمام
- جنبش دل سے ہوئے ہیں عقدہ ہائے کار وا
- قطرہ ہائے خون بسمل زیب داماں ہیں اسدؔ
- ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار
- یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیں
- سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں
- بیٹھے ہیں رہ گزر پہ ہم غیر ہمیں اٹھائے کیوں
- قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں
- غالبؔ خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں
- خانہ زاد زلف ہیں زنجیر سے بھاگیں گے کیوں
- ہیں گرفتار وفا زنداں سے گھبراویں گے کیا
- کیا شمع کے نہیں ہیں ہوا خواہ بزم میں
- ہو کر اسیر دابتے ہیں راہزن کے پاؤں
- تن سے سوا فگار ہیں اس خستہ تن کے پاؤں
- ہلتے ہیں خودبخود مرے اندر کفن کے پاؤں
- اڑتے ہوئے الجھتے ہیں مرغ چمن کے پاؤں
- دکھتے ہیں آج اس بت نازک بدن کے پاؤں
- سمجھ کے کرتے ہیں بازار میں وہ پرسش حال
- لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
- بن گیا ہیں تیغ نگاہ یار کا سنگ فساں
- پر ہم ایسے کھوے جاتے ہیں کہ وہ پا جائے ہے
- نقش کو اس کے مصور پر بھی کیا کیا ناز ہیں
- لوگ کہتے ہیں کہ ہے پر ہمیں منظور نہیں
- کس رعونت سے وہ کہتے ہیں کہ ہم حور نہیں
- صاف دردی کش پیمانۂ جم ہیں ہم لوگ
- محو نسبت ہیں تکلف ہمیں منظور نہیں
- داغ ہم دیگر ہیں اہل باغ گر گل ہو شہیدؔ
- ورنہ ہم کس کے ہیں اے داغ تمنا آشنا
- ربط یک شیرازۂ وحشت ہیں اجزائے بہار
- بھوکے نہیں ہیں سیر گلستاں کے ہم ولے
- دل طلب کرتا ہے زخم اور مانگے ہیں اعضا نمک
- یاد ہیں غالبؔ تجھے وہ دن کہ وجد ذوق میں
- وگرنہ ہم تو توقع زیادہ رکھتے ہیں
- تن بہ بند ہوس در ندادہ رکھتے ہیں
- دل ز کار جہاں اوفتادہ رکھتے ہیں
- تمیز زشتی و نیکی میں لاکھ باتیں ہیں
- بہ عکس آئنہ یک فرد سادہ رکھتے ہیں
- کہ داغ دل بہ جبین کشادہ رکھتے ہیں
- سر بہ پاۓ بت نا نہادہ رکھتے ہیں
- معاف بے ہودہ گوئی ہیں ناصحان عزیز
- دل بہ دست نگارے ندادہ رکھتے ہیں
- ہزار تیغ بہ زہر آب دادہ رکھتے ہیں
- زبان بستہ و چشم کشادہ رکھتے ہیں
- نیند اس کی ہے دماغ اس کا ہے راتیں اس کی ہیں
- وہ نگاہیں کیوں ہوئی جاتی ہیں یارب دل کے پار
- ہم موحد ہیں ہمارا کیش ہے ترک رسوم
- خموشی میں نہاں خوں گشتہ لاکھوں آرزوئیں ہیں
- بغل میں غیر کی آج آپ سوتے ہیں کہیں ورنہ
- ستم کش مصلحت سے ہوں کہ خوباں تجھ پہ عاشق ہیں
- حیراں کیے ہوئے ہیں دل بے قرار کے
- بعد از وداع یار بہ خوں در تپیدہ ہیں
- نقش قدم ہیں ہم کف پاۓ نگار کے
- گویا کہ تختۂ مشق ہیں خط غبار کے
- حسرت سے دیکھ رہتے ہیں ہم آب و رنگ گل
- مانند شبنم اشک ہیں مژگان خار کے
- لائق نہیں رہے ہیں غم روزگار کے
- آپ اٹھا لاتے ہیں گر تیر خطا ہوتا ہے
- کہ بھلا چاہتے ہیں اور برا ہوتا ہے
- آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں
- عجب نشاط سے جلاد کے چلے ہیں ہم آگے
- کہ اس کے در پہ پہنچتے ہیں نامہ بر سے ہم آگے
- یہ عمر بھر جو پریشانیاں اٹھائی ہیں ہم نے
- قسم جنازے پہ آنے کی میرے کھاتے ہیں غالبؔ
- شورش باطن کے ہیں احباب منکر ورنہ یاں
- وا کر دیے ہیں شوق نے بند نقاب حسن
- انداز نالہ یاد ہیں سب مجھ کو پر اسدؔ
- اب جفا سے بھی ہیں محروم ہم اللہ اللہ
- کہتے ہیں جیتے ہیں امید پہ لوگ
- ہم بھی دشمن تو نہیں ہیں اپنے
- ہم کوئی ترک وفا کرتے ہیں
- حلقے ہیں چشم ہاۓ کشادہ بہ سوئے دل
- عزلت گزین بزم ہیں واماندگان دید
- برق سے کرتے ہیں روشن شمع ماتم خانہ ہم
- ہیں ورق گردانیٔ نیرنگ یک بت خانہ ہم ہم
- ہیں چراغان شبستان دل پروانہ ہم
- ہیں وبال تکیہ گاۂ ہمت مردانہ ہم
- دائم الحبس اس میں ہیں لاکھوں تمنائیں اسدؔ
- جانتے ہیں سینۂ پر خوں کو زنداں خانہ ہم
- بسکہ ہیں بد مست بشکن بشکن مے خانہ ہم
- موئے شیشہ کو سمجھتے ہیں خط پیمانہ ہم
- پنجۂ خورشید کو سمجھے ہیں دست شانہ ہم
- سیل سے فرش کتاں کرتے ہیں تا ویرانہ ہم
- مشق از خود رفتگی سے ہیں بہ گلزار خیال
- فرط بے خوابی سے ہیں شب ہاۓ ہجر یار میں
- جانتے ہیں جوشش سودائے زلف یار میں
- چپکے چپکے جلتے ہیں جوں شمع ماتم خانہ ہم
- پر فشان سوختن ہیں صورت پروانہ ہم
- رہتے ہیں افسردگی سے سخت بیدردانہ ہم
- دو جہاں حشر زبان خشک ہیں جوں شانہ ہم
- کشتی عالم بہ طوفان تغافل دے کہ ہیں
- ننگ بالیدن ہیں جوں موئے سر دیوانہ ہم
- ہیں اہل خرد کس روش خاص پہ نازاں
- مجھ سے کہا جو یار نے جاتے ہیں ہوش کس طرح
- ہتکھنڈے ہیں چرخ نیلی فام کے
- ہم تو عاشق ہیں تمہارے نام کے
- یہ بھی حلقے ہیں تمہارے دام کے
- کیوں بوتے ہیں باغبان تونبے
- خدا شرمائے ہاتھوں کو کہ رکھتے ہیں کشاکش میں
- ابھی ہم قتل گہہ کا دیکھنا آساں سمجھتے ہیں
- ناداں ہو جو کہتے ہو کہ کیوں جیتے ہیں غالبؔ
- لو ہم مریض عشق کے بیمار دار ہیں
- قہرمان عشق میں حسرت سے لیتے ہیں خراج
- ہیں جمع سویداۓ دل چشم میں آہیں
- خوابیدہ بہ حیرت کدۂ داغ ہیں آہیں
- ہیں داغ سے معمور شقائق کی کلاہیں
- آئینے کے پایاب سے اتری ہیں سپاہیں
- حیرت کش یک جلوۂ معنی ہیں نگاہیں
- وہ حلقہ ہاۓ زلف کمیں میں ہیں یا خدا
- ہیں بسکہ جوش بادہ سے شیشے اچھل رہے
- برسوں ہوئے ہیں چاک گریباں کیے ہوئے
- باہم دگر ہوئے ہیں دل و دیدہ پھر رقیب
- بیٹھے ہیں ہم تہیۂ طوفاں کیے ہوئے
- جسے کہتے ہیں نالہ وہ اسی عالم کا عنقا ہے
- خزاں کیا فصل گل کہتے ہیں کس کو کوئی موسم ہو
- وہی ہم ہیں قفس ہے اور ماتم بال و پر کا ہے
- ترے نوکر ترے در پر اسدؔ کو ذبح کرتے ہیں
- خیال جلوۂ گل سے خراب ہیں میکش
- ہمارے شعر ہیں اب صرف دل لگی کے اسدؔ
- عاشق ہوئے ہیں آپ بھی ایک اور شخص پر
- سیکھے ہیں مہ رخوں کے لیے ہم مصوری
- اک خونچکاں کفن میں کروڑوں بناؤ ہیں
- گو واں نہیں پہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیں
- تم نہ آؤ گے تو مرنے کی ہیں سو تدبیریں
- ہے ایک تیر جس میں دونوں چھدے پڑے ہیں
- وہ زندہ ہم ہیں کہ ہیں روشناس خلق اے خضر
- اس نزاکت کا برا ہو وہ بھلے ہیں تو کیا
- مرا دل مانگتے ہیں عاریت اہل ہوس شاید
- یہ جانا چاہتے ہیں آج دعوت میں سمندر کی
- ہم ہیں اور راز ہائے سینہ گداز
- گر نہیں ہیں مرے اشعار میں معنی نہ سہی
- کبھی جو یاد بھی آتا ہوں میں تو کہتے ہیں
- ہوئے ہیں بخیہ ہائے زخم جوہر تیغ دشمن میں
- وارستہ اس سے ہیں کہ محبت ہی کیوں نہ ہو
- پیدا ہوئی ہے کہتے ہیں ہر درد کی دوا
- ہم انجمن سمجھتے ہیں خلوت ہی کیوں نہ ہو
- خار پا ہیں جوہر آئینۂ زانو مجھے
- اس کو کہتے ہیں عالم آرائی
- پھر اسی بے وفا پہ مرتے ہیں
- پھر ہوئے ہیں گواہ عشق طلب
- پینس میں گزرتے ہیں جو کوچے سے وہ میرے
- چاہتے ہیں خوب رویوں کو اسدؔ
- ہوئے ہیں پاؤں ہی پہلے نبرد عشق میں زخمی
- یہ کہہ سکتے ہو ہم دل میں نہیں ہیں پر یہ بتلاؤ
- یہی ہے آزمانا تو ستانا کس کو کہتے ہیں
- ہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسند
- ہیں کتنے بے حجاب کہ ہیں یوں حجاب میں
- ہے غیب غیب جس کو سمجھتے ہیں ہم شہود
- ہیں خواب میں ہنوز جو جاگے ہیں خواب میں
- کیوں نہ چیخوں کہ یاد کرتے ہیں
- ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی
- مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی
- بارہا دیکھی ہیں ان کی رنجشیں
- جلاد سے ڈرتے ہیں نہ واعظ سے جھگڑتے
- ہم سمجھے ہوئے ہیں اسے جس بھیس میں جو آئے
- نہ کہیو طعن سے پھر تم کہ ہم ستم گر ہیں
- کی وفا ہم سے تو غیر اس کو جفا کہتے ہیں
- ہوتی آئی ہے کہ اچھوں کو برا کہتے ہیں
- کہنے جاتے تو ہیں پر دیکھیے کیا کہتے ہیں
- اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ انہیں کچھ نہ کہو
- جو مے و نغمہ کو اندوہ ربا کہتے ہیں
- اور پھر کون سے نالے کو رسا کہتے ہیں
- قبلے کو اہل نظر قبلہ نما کہتے ہیں
- خار رہ کو ترے ہم مہر گیا کہتے ہیں
- آگ مطلوب ہے ہم کو جو ہوا کہتے ہیں
- اس کی ہر بات پہ ہم نام خدا کہتے ہیں
- مر گیا غالبؔ آشفتہ نوا کہتے ہیں
- غالبؔ ہم اس میں خوش ہیں کہ نامہربان ہے
- آتش پرست کہتے ہیں اہل جہاں مجھے
- بک جاتے ہیں ہم آپ متاع سخن کے ساتھ
- دیتے ہیں بادہ ظرف قدح خوار دیکھ کر
- ان ستم کیشوں کے کھائے ہیں زبس تیر نگاہ
- کہتے ہیں جب رہی نہ مجھے طاقت سخن
- نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن
- اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے
- پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے
- مرتے ہیں ولے ان کی تمنا نہیں کرتے
- غالبؔ کو برا کہتے ہیں اچھا نہیں کرتے
- ہم اس کے ہیں ہمارا پوچھنا کیا
- پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر نا حق
- کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا
- واں رنگ ہا بہ پردۂ تدبیر ہیں ہنوز
- تنگ آئے ہیں ہم ایسے خوشامد طلبوں سے
- رندان در مے کدہ گستاخ ہیں زاہد
- کرتے ہیں محبت تو گزرتا ہے گماں اور
- یارب وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے مری بات
- ہم ہیں تو ابھی راہ میں ہے سنگ گراں اور
- پاتے نہیں جب راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالے
- ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے
- کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے انداز بیاں اور
- دیوانگاں ہیں حامل راز نہان عشق
- بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل
- ٹوٹے پڑے ہیں حلقۂ دام ہوائے گل
- شرمندہ رکھتے ہیں مجھے باد بہار سے
- بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل
- کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا
- یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
- یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیں
- کبھی صبا کو کبھی نامہ بر کو دیکھتے ہیں
- کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں
- یہ لوگ کیوں مرے زخم جگر کو دیکھتے ہیں
- ہم اوج طالع لعل و گہر کو دیکھتے ہیں
- ماتم میں شہ دیں کے ہیں سودا نہیں ہم کو
- دیکھنے میں ہیں گرچہ دو پر ہیں یہ دونوں یار ایک
- گو ایک بادشاہ کے سب خانہ زاد ہیں
- کانوں پہ ہاتھ دھرتے ہیں کرتے ہوئے سلام
- بٹتے ہیں سونے روپے کے چھلے حضور میں
- لاکھوں ہی آفتاب ہیں اور بے شمار چاند
- ہند میں اہل تسنن کی ہیں دو سلطنتیں
- کہ جہاں ہشت بہشت آ کے ہوئے ہیں باہم
- اس طرف کو نہیں جاتے ہیں جو جاتے ہیں تو کم
- در شہوار ہیں جو گرتے ہیں قطرے پیہم
- کہ جہاں چرنے کو آتے ہیں غزالان حرم
- مسلک شرع کے ہیں راہرو و راہ شناس
- اس کو کرتے ہیں بہت بڑھ کے بہ اغراق رقم
- دو دعائیں ہیں کہ وہ دیتے ہیں نواب کو ہم
- سات اور سات ہوتے ہیں چودہ
- غرض اس سے ہیں چار دہ معصوم
- اور بارہ امام ہیں بارہ
- جو ائمہ کے ہیں تولائی
- سر آغاز موسم میں اندھے ہیں ہم
- بڑے عذاب سے کاٹے ہیں پانچ چار برس
- جس کو کہتے ہیں عمدۃ الحکما
- کہ جس میں حکمت و طب ہی کے مسئلے ہیں تمام
- جسے کہتے ہیں خوشی اس نے بلائیں لے کر
- رشک سے لڑتی ہیں آپس میں الجھ کر لڑیاں
- صاف آتی ہیں نظر آب گہر کی لہریں
- ہم نشیں تارے ہیں اور چاند شہاب الدین خاں
- ورنہ کیوں لائے ہیں کشتی میں لگا کر سہرا
- جی میں اترائیں نہ موتی کہ ہمیں ہیں اک چیز
- ہم سخن فہم ہیں غالبؔ کے طرفدار نہیں
- وحشت دل سے پریشاں ہیں چراغان خیال
- چشم امید سے گرتے ہیں دو عالم جوں اشک
- تیری مدحت کے لیے ہیں دل و جاں کام و زباں
- تیری تسلیم کو ہیں لوح و قلم دست و جبیں
- نو روز ہے آج اور وہ دن ہے کہ ہوئے ہیں
- گنی ہیں سال کے رشتے میں بیس بار گرہ
- ابھی حساب میں باقی ہیں سو ہزار گرہ
- یہ کہکشاں ہے کہ ہیں اس میں بے شمار گرہ
- کہ ہر گرہ کی گرہ میں ہیں تین چار گرہ
- کہا کہ چرخ پہ ہم نے گنی ہیں نو گرہیں
- کہ ہو گئے ہیں گہر ہاے شاہوار گرہ
- کہ بن گئے ہیں ثمر ہاے شاخسار گرہ
- ہیں مہ و مہر و زہرہ و بہرام
- وارث ملک جانتے ہیں تجھے
- زور بازو میں مانتے ہیں تجھے
- یعنی دعا پہ مدح کا کرتے ہیں اختتام
- یہ چاہتے ہیں جہاں آفریں سے شام و پگاہ
- یہ جتنے سینکڑے ہیں سب ہزار ہو جاویں
- ژالہ آما بچھے ہیں در ثمیں
- طرہ ہا بس کہ گرفتار صبا ہیں شانہ
- بس کہ یک رنگ ہیں دل کرتی ہے ایجاد نسیم
- ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
- دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا
- اصحاب کو جو کہ ناسزا کہتے ہیں
- سمجھیں تو ذرا دل میں کہ کیا کہتے ہیں
- ہے ہے نہ کہو کسے برا کہتے ہیں
- ہیں نام و نگیں کمیں گہ نقب شعور
- ملتے ہیں یہ بدمعاش لڑنے کے لیے
- ہیں شہ میں صفات ذوالجلالی باہم
- کرتے ہیں درنگ کام کرنے والے
- کہتے ہیں کہیں خدا سے اللہ اللہ
- وہ آپ ہیں صبح و شام کرنے والے
- رکھتے ہیں عشق میں یہ اثر ہم جگر جلے
- کہتے ہیں وہ مجھ کو رافضی اور دہری
- کہتے ہیں کہ اب وہ مردم آزار نہیں
- آ پہنچے ہیں تا سواد اقلیم عدم
- آساں کہنے کی کرتے ہیں فرمایش
- بھیجے ہیں جو ارمغاں شہ والا نے
- فیروزے کی تسبیح کے ہیں یہ دیوانے
- ہیں گرچہ بہت خلیفہ ان میں ہیں چار
- بھر کے بھیجے ہیں سر بمہر گلاس
- یہ نہیں ہیں گے کسو کے یار غار
- کھینچ لیتے ہیں یہ ڈورے ڈال کر
- یہ جو محفل میں بڑھاتے ہیں تجھے
- بھول مت اس پر اڑاتے ہیں تجھے
- نہ ہونے پر ہیں یہ باتیں دہن کی
- دو رنگیاں یہ زمانے کی جیتے جی ہیں سب
- ہنستے ہیں دیکھ دیکھ کے سب ناتواں مجھے
- جس دن سے کہ ہم غمزدہ زنجیر بپا ہیں
- کپڑوں میں جویں بخیے کے ٹانکوں سے سوا ہیں
- جو معشوق زلف دوتا باندھتے ہیں
- مرے سر سے کالی بلا باندھتے ہیں
- کروں کیا کہ یاں گر رہے ہیں مکاں
- ملے دو مرشدوں کو قدرت حق سے ہیں دو طالب
- محو نسبت ہیں تکلف ہمیں منظور نہیں
- سات دن ہم پہ بھی بھاری ہیں سحر ہونے تک
- پیشوائے دیں کو کہتے ہیں امام
- آسماں کے نام ہیں اے رشک مہر
- مہر سورج چاند کو کہتے ہیں ماہ
- کبک کو ہندی میں کہتے ہیں چکور
- چاہ کو کہتے ہیں ہندی میں کنواں
- دود کو ہندی میں کہتے ہیں دھواں
- ماہ چاند اختر ہیں تارے رات شب
- دانت دنداں ہونٹ کو کہتے ہیں لب
- خر گدھا اور اس کو کہتے ہیں الاغ
- کہتے ہیں مچھلی کو ماہی اور ہوت
- جو برا ہے اس کو ہم کہتے ہیں زشت
- احمق اور نادان کو کہتے ہیں اوت
- بھینس کو کہتے ہیں بھائی گاؤ میش
- خشک ہو جاتی ہے تب کہتے ہیں کاہ
- نام کو ہیں تین پر ہے ایک چیز
- روئی کو کہتے ہیں پنبہ سن رکھو
- آم کو کہتے ہیں انبہ سن رکھو
- پست اور ستو کو کہتے ہیں سویق
- ژرف اور گہرے کو کہتے ہیں عمیق
- کس کو کہتے ہیں غزل ارشاد ہو
- جس کو کہتے ہیں جمائی فازہ ہے
- یارہ کہتے ہیں کڑے کو ہم سے پوچھ
- لوہے کو کہتے ہیں آہن اور حدید
- نرخ قیمت اور بہا یہ سب ہیں مول
- کوہ کو ہندی میں کہتے ہیں پہاڑ
- ورنہ بستر کہتے ہیں برنا و پیر
- جان کو البتہ کہتے ہیں رواں
- پند کو اندرز بھی کہتے ہیں ہاں
- ارض ہے پر مرز بھی کہتے ہیں ہاں
- کم نصیبی اس کو کہتے ہیں کہ میرے ہات میں
- جان کی پاؤں اماں باتیں یہ سب سچ ہیں مگر