ہی
142 Misre
- اس لب سے مل ہی جائے گا بوسہ کبھی تو ہاں
- اپنے دل ہی سے میں احوال گرفتاری دل
- عمر بھر ایک ہی پہلو پہ سلاتا ہے مجھے
- گر کرے انجام کو آغاز ہی میں یاد گل
- اگی اک پنبۂ روزن سے ہی چشم سفید آخر
- ہاتھ پر ہو ہاتھ تو درس تاسف ہی سہی
- دل ہی نہیں کہ منت درباں اٹھائیے
- جس طرف سے آئے ہیں آخر ادھر ہی جائیں گے
- ساقیا دے ایک ہی ساغر میں سب کو مے کہ آج
- مند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں ہے ہے
- عکس تیرا ہی مگر تیرے مقابل آئے
- تم خداوند ہی کہلاؤ خدا اور سہی
- تھی میرے ہی جلانے کو اے آہ شعلہ ریز
- بادباں بھی اٹھتے ہی لنگر کھلا
- چیرے ہی سے جائیں گے یہ پھوڑے
- مطلب نہیں کچھ اس سے کہ مطلب ہی بر آوے
- عشق میں ہم نے ہی ابرام سے پرہیز کیا
- جب توقع ہی اٹھ گئی غالبؔ
- دل ہی تو ہے سیاست درباں سے ڈر گیا
- بے صرفہ ہی گزرتی ہے ہو گرچہ عمر خضر
- منہ نہ کھلنے پر ہے وہ عالم کہ دیکھا ہی نہیں
- آج ادھر ہی کو رہے گا دیدۂ اختر کھلا
- آپ جانا ادھر اور آپ ہی حیراں ہونا
- تھی میرے ہی جلانے کو اے آہ شعلہ ریز
- جتنے زیادہ ہو گئے اتنے ہی کم ہوئے
- ہر شب پیا ہی کرتے ہیں مے جس قدر ملے
- دل مت گنوا خبر نہ سہی سیر ہی سہی
- یوں ہی دکھ کسی کو دینا نہیں خوب ورنہ کہتا
- موج خوں سر سے گزر ہی کیوں نہ جائے
- رہے دل ہی میں تیر اچھا جگر کے پار ہو بہتر
- ہاتھ ہی تیغ آزما کا کام سے جاتا رہا
- میری دلی ہی میں ہونی تھی یہ خواری ہائے ہائے
- تو ہی جب خنجر آزما نہ ہوا
- آج ہی گھر میں بوریا نہ ہوا
- دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں
- آپ ہی ہو نظارہ سوز پردے میں منہ چھپائے کیوں
- تیرا ہی عکس رخ سہی سامنے تیرے آئے کیوں
- ہو غم ہی جاں گداز تو غم خوار کیا کریں
- دل گزر گاہ خیال مے و ساغر ہی سہی
- کہ بن کہے ہی انہیں سب خبر ہے کیا کہئے
- کھینچتا ہے جس قدر اتنا ہی کھنچتا جائے ہے
- آج ہی ہوا منظور ان کو امتحاں اپنا
- تھے یہ ہی دو حساب سو یوں پاک ہو گئے
- کی ایک ہی نگاہ کہ بس خاک ہو گئے
- یوں ہی گر روتا رہا غالبؔ تو اے اہل جہاں
- اب تک وہ جانتا ہے کہ میرے ہی پاس ہے
- اس بلغمی مزاج کو گرمی ہی راس ہے
- لب تک آتا ہے جو ایسا ہی رسا ہوتا ہے
- یہ بھی تیرا ہی کرم ذوق فزا ہوتا ہے
- دل ہی نہیں کہ منت درباں اٹھائیے
- مرنے کی اے دل اور ہی تدبیر کر کہ میں
- تھا لکھا بات کے بنتے ہی جدا ہو جانا
- عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی
- میری وحشت تری شہرت ہی سہی
- کچھ نہیں ہے تو عداوت ہی سہی
- اے وہ مجلس نہیں خلوت ہی سہی
- غیر کو تجھ سے محبت ہی سہی
- اپنی ہستی ہی سے ہو جو کچھ ہو
- آگہی گر نہیں غفلت ہی سہی
- دل کے خوں کرنے کی فرصت ہی سہی
- نہ سہی عشق مصیبت ہی سہی
- آہ و فریاد کی رخصت ہی سہی
- بے نیازی تری عادت ہی سہی
- گر نہیں وصل تو حسرت ہی سہی
- زمزم ہی پہ چھوڑو مجھے کیا طوف حرم سے
- آئے ہو کل اور آج ہی کہتے ہو کہ جاؤں
- کھول کر پردہ ذرا آنکھیں ہی دکھلا دے مجھے
- تیرا ترکش ہی کچھ آبستنیٔ تیر نہیں
- محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کا
- طعمہ ہوں ایک ہی نفس جاں گداز کا
- خاموشی ہی سے نکلے ہے جو بات چاہیے
- مند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں غالبؔ
- مند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں ہے ہے
- زہر ملتا ہی نہیں مجھ کو ستم گر ورنہ
- آ ہی جاتا وہ راہ پر غالبؔ
- فلک نہ دور رکھ اس سے مجھے کہ میں ہی نہیں
- مے پرستاں خم مے منہ سے لگائے ہی بنے
- نوحۂ غم ہی سہی نغمۂ شادی نہ سہی
- عشرت صحبت خوباں ہی غنیمت سمجھو
- وارستہ اس سے ہیں کہ محبت ہی کیوں نہ ہو
- کیجے ہمارے ساتھ عداوت ہی کیوں نہ ہو
- ہے دل پہ بار نقش محبت ہی کیوں نہ ہو
- ہر چند بر سبیل شکایت ہی کیوں نہ ہو
- یوں ہو تو چارۂ غم الفت ہی کیوں نہ ہو
- اپنے سے کھینچتا ہوں خجالت ہی کیوں نہ ہو
- ہم انجمن سمجھتے ہیں خلوت ہی کیوں نہ ہو
- حاصل نہ کیجے دہر سے عبرت ہی کیوں نہ ہو
- اپنے سے کر نہ غیر سے وحشت ہی کیوں نہ ہو
- عمر عزیز صرف عبادت ہی کیوں نہ ہو
- اس میں ہمارے سر پہ قیامت ہی کیوں نہ ہو
- دکھا کے جنبش لب ہی تمام کر ہم کو
- زندگی یوں بھی گزر ہی جاتی
- کیا ہی رضواں سے لڑائی ہوگی
- یار ہی ہنگامہ آرا چاہیے
- ہوئے ہیں پاؤں ہی پہلے نبرد عشق میں زخمی
- نہ ہو جب دل ہی سینے میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو
- تو پھر اے سنگ دل تیرا ہی سنگ آستاں کیوں ہو
- ایرا ہی دے کے ہم نے بچایا ہے کشت کو
- اتنا ہی مجھ کو اپنی حقیقت سے بعد ہے
- شرم اک ادائے ناز ہے اپنے ہی سے سہی
- ہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوں
- آنا ہی سمجھ میں مری آتا نہیں گو آئے
- دیکھا کہ وہ ملتا نہیں اپنے ہی کو کھو آئے
- اس در پہ نہیں بار تو کعبہ ہی کو ہو آئے
- تاب لائے ہی بنے گی غالبؔ
- زہرہ گر ایسا ہی شام ہجر میں ہوتا ہے آب
- یعنی یہ پہلے ہی نذر امتحاں ہو جائے گا
- دل اس کو پہلے ہی ناز و ادا سے دے بیٹھے
- بتوں کی ہو اگر ایسی ہی خو تو کیونکر ہو
- ہماری بات ہی پوچھیں نہ وہ تو کیونکر ہو
- جی میں ہی کچھ نہیں ہے ہمارے وگرنہ ہم
- کاش رضواں ہی در یار کا درباں ہوتا
- جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے
- ہم ہی کر بیٹھے تھے غالبؔ پیش دستی ایک دن
- بوسہ نہیں نہ دیجیے دشنام ہی سہی
- ہم ہی آشفتہ سروں میں وہ جواں میر بھی تھا
- مطلب نہیں کچھ اس سے کہ مطلب ہی بر آوے
- خون جگر میں ایک ہی غوطہ دیا مجھے
- اس لب سے مل ہی جائے گا بوسہ کبھی تو ہاں
- تیرے ہی جلوہ کا ہے یہ دھوکا کہ آج تک
- پر کیا کریں کہ دل ہی عدو ہے فراغ کا
- کچھ اور ہی عالم ہے دل و چشم و زباں کا
- کچھ اور ہی نقشا نظر آتا ہے جہاں کا
- لاکھوں ہی آفتاب ہیں اور بے شمار چاند
- ہوئی ہے ایسے ہی فرخندہ سال میں غالبؔ
- کہ جس میں حکمت و طب ہی کے مسئلے ہیں تمام
- کیا ہی اس چاند سے مکھڑے پہ بھلا لگتا ہے
- ناؤ بھر کر ہی پروئے گئے ہوں گے موتی
- فیض خلق اس کا ہی شامل ہے کہ ہوتا ہے سدا
- کہ چھوڑتا ہی نہیں رشتہ زینہار گرہ
- ایک ہی ہے امید گاہ انام
- مے ہی پھر کیوں نہ میں پیے جاؤں
- پر یار کے آگے بول سکتے ہی نہیں
- واللہ کہ شب کو نیند آتی ہی نہیں
- اتنے ہی برس شمار ہوں بلکہ سوا
- عزیزو اب اللہ ہی اللہ ہے
- میری دلی ہی میں ہونی تھی یہ خواری ہائے ہائے
- پل ہی پر سے پھیر لائے ہم کو لوگ
- علم سے ہی قدر ہے انسان کی
- سب ہی پڑھتا کاش کیوں تکبیر آدھی رہ گئی
- دیکھتے ہی اے ستمگر تیری چشم نیم باز
- آتے ہی خاصیت اکسیر آدھی رہ گئی