ہوے
17 Misre
- بس کہ ویرانی سے کفر و دیں ہوے زیر و زبر
- ہوے ہیں پردہ ہائے چشم عبرت جلوہ حائل ہا
- کرتے ہوے تصور یار آے ہے حیا
- عمر بھر ہوش نہ یک جا ہوے میرے کہ اسدؔ
- جنبش دل سے ہوے ہیں عقدہ ہاے کار وا
- جوہر آئنہ فکر سخن ہوے دماغ
- ہوے یہ رہرواں دل خستہ شرم نارسائی سے
- دیکھا تو کم ہوے پہ غم روزگار تھا
- مجبوریاں تلک ہوے اے اختیار حیف
- جب ہوے ہم بے گنہ رحمت کی کیا تقصیر ہے
- آج واں تیغ و کفن باندھے ہوے جاتا ہوں میں
- مگر غبار ہوے پر ہوا اڑا لے جاے
- کہ کواکب ہوے تماشائی
- مجھ پہ کیا گزرے گی اتنے روز حاضر بن ہوے
- تین مسہل تین تبریدیں یہ سب کے دن ہوے
- ہوے مشق جرأت ناز رہ و رسم طرح آداب
- جمع ہرگز ہوے نہ ہونگے کہیں