ہوں
395 Misre
- بھولا ہوں حق صحبت اہل کنشت کو
- ہوں منحرف نہ کیوں رہ و رسم ثواب سے
- حیراں ہوں دامن مژہ کیوں جھاڑتا نہیں
- نقل کرتا ہوں اسے نامۂ اعمال میں میں
- امیدوار ہوں تاثیر تلخ کامی سے
- ہوں سراپا یک خم تسلیم جو مولا کرے
- اے نوا ساز تماشا سربکف جلتا ہوں میں
- یک طرف جلتا ہے دل اور یک طرف جلتا ہوں میں
- شمع ہوں لیکن بپا در رفتہ خار جستجو
- مدعا گم کردہ ہر سو ہر طرف جلتا ہوں میں
- بے تکلف آپ پیدا کر کے تف جلتا ہوں میں
- جوں چراغان دوالی صف بہ صف جلتا ہوں میں
- شمع ہوں تو بزم میں جا پاؤں غالبؔ کی طرح
- بے محل اے مجلس آراے نجف جلتا ہوں میں
- میں بھی ہوں محرم اسرار کہوں یا نہ کہوں
- اپنی ہستی سے ہوں بیزار کہوں یا نہ کہوں
- ہوں اک آفت میں گرفتار کہوں یا نہ کہوں
- میں تو دیوانہ ہوں اور ایک جہاں ہے غماز
- ہر طرح ہوں میں از خود رمیدہ
- سرتا بہ پا ہوں جیب دریدہ
- پئے سنجیدن یاراں ہوں حامل خواب سنگیں کا
- سخن کا بندہ ہوں لیکن نہیں مشتاق تحسیں کا
- جراحت دوزی عاشق ہے جائے رحم ترساں ہوں
- بہ امید نگاہ خاص ہوں محمل کش حسرت
- ماہ نو ہوں کہ فلک عجز سکھاتا ہے مجھے
- ہوں میں وہ سبزہ کہ زہراب اگاتا ہے مجھے
- حیرت آئینۂ انجام جنوں ہوں جوں شمع
- میں ہوں اور حیرت جاوید مگر ذوق خیال
- براے حل مشکل ہوں زپا افتادۂ حسرت
- ہوں تصور ہاے ہمدوشی سے بدمست شراب
- واں پر فشان دام نظر ہوں جہاں اسدؔ
- برق بہار سے ہوں میں پادر حنا ہنوز
- سایۂ افتادگی بالین و بستر ہوں اسدؔ
- ہوں گل فروش شوخی داغ کہن ہنوز
- میں ہوں سراب یک تپش آموختن ہنوز
- اے شعلہ فرصتے کہ سویدائے دل سے ہوں
- سمجھا ہوا ہوں عشق میں نقصاں کو فائدہ
- ہوں خموشی چمن حسرت دیدار اسدؔ
- میں آپ سے جا چکا ہوں اب بھی
- در پر امیر کلب علی خاں کے ہوں مقیم
- شایستۂ گدائی ہر در نہیں ہوں میں
- بوڑھا ہوا ہوں قابل خدمت نہیں اسدؔ
- خیرات خوار محض ہوں نوکر نہیں ہوں میں
- گلزار تمنا ہوں گلچین تماشا ہوں
- ستم کش مصلحت سے ہوں کہ خوباں تجھ پہ عاشق ہیں
- اسدؔ ہوں مست دریا بخشی ساقی کوثر کا
- ہوں زپا افتادۂ انداز یاد حسن سبز
- اسدؔ جس شوق سے ذرے تپش فرسا ہوں روزن میں
- جوں زلف یار ہوں میں سراپا شکستہ دل
- ہوں جوں خط شکستہ بہر جا شکستہ دل
- سمجھتا ہوں تپش کو الفت قاتل کی تاثیریں
- ہوں بہ وحشت انتظار آوارۂ دشت خیال
- بیکسی افسردہ ہوں اے ناتوانی کیا کروں
- اس جفا مشرب پہ عاشق ہوں کہ سمجھے ہے اسدؔ
- جاتا ہوں جدھر سب کی اٹھے ہے ادھر انگشت
- میں الفت مژگاں میں جو انگشت نما ہوں
- مژگاں کی محبت میں جو انگشت نما ہوں
- لکھتا ہوں اسدؔ سوزش دل سے سخن گرم
- ڈرتا ہوں کوچہ گردی بازار عشق ہے
- شکست آرزو کے رنگ کی کرتا ہوں صیادی
- چنار آسا عدم سے بادل پر آتش آیا ہوں
- تہی آغوشی دشت تمنا کا ہوں فریادی
- ہوں خاک نشیں از پئے ادراک قدم بوس
- زیادہ اس سے گرفتار ہوں کہ تو جانے
- بے دماغ تپش رشک ہوں اے جلوۂ حسن
- مشکل عشق ہوں مطلب نہیں آساں میرا
- سرمۂ مفت نظر ہوں مری قیمت یہ ہے
- اسدؔ خاک در میخانہ اب سر پر اڑاتا ہوں
- وہ بے دماغ منت اقبال ہوں کہ میں
- وہ التماس لذت بیداد ہوں کہ میں
- وہ راز نالہ ہوں کہ بشرح نگاہ عجز
- خوں در جگر نہفتہ بہ زردی رسیدہ ہوں
- خود آشیان طائر رنگ پریدہ ہوں
- پاے ہوس بدامن مژگاں کشیدہ ہوں
- لیکن عبث کہ شبنم خرشید دیدہ ہوں
- اے بے خبر میں نغمۂ چنگ خمیدہ ہوں
- مانند موج آب زبان بریدہ ہوں
- یارب میں کس غریب کا بخت رمیدہ ہوں
- پاے نگاہ خلق میں خار خلیدہ ہوں
- یعنی کہ بندۂ بہ درم نا خریدہ ہوں
- اب میں ہوں اور ماتم یک شہر آرزو
- بیاباں خوش ہوں تیری عاملی سے
- عیادت سے اسدؔ میں بیشتر بیمار ہوتا ہوں
- ہوں خلوت فسردگی انتظار میں
- میں خار ہوں آتش میں چبھوں رنگ نکالوں
- میں ہوں مشتاق جفا مجھ پہ جفا اور سہی
- میں ہوں سراب یک تپش آموختن ہنوز
- اے شعلۂ فرصتے کہ سویداے دل سے ہوں
- مجلس شعلہ عذاراں میں جو آجاتا ہوں
- شمع ساں میں تہ دامان صبا جاتا ہوں
- جس گزرگاہ سے میں آبلہ پا جاتا ہوں
- کہ بہ یک جنبش لب مثل صدا جاتا ہوں
- ہوں سپند آسا وداع انجمن کی فکر میں
- وہ غریب وحشت آباد تسلی ہوں جسے
- منقار سے رکھتا ہوں بہم چاک قفس کو
- بیباک ہوں از بس کہ بہ بازار محبت
- سمجھا ہوں زرہ جوہر شمشیر عسس کو
- ہنگام تصور ہوں دریوزہ گر بوسہ
- تماشائی ہوں وحدت خانۂ آئینہ دل کا
- عبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا
- جو تو دریاے مے ہے تو میں خمیازہ ہوں ساحل کا
- حسرت عرض تمنا میں ہوں رنجور ہنوز
- اسیر بے زباں ہوں کاش کے صیاد بے پروا
- ممکن نہیں کہ بھول کے بھی آرمیدہ ہوں
- میں دشت غم میں آہوئے صیاد دیدہ ہوں
- ہوں دردمند جبر ہو یا اختیار ہو
- گہ نالۂ کشیدہ گہ اشک چکیدہ ہوں
- از بسکہ تلخیٔ غم ہجراں چشیدہ ہوں
- میں معرض مثال میں دست بریدہ ہوں
- ہوں خاکسارپر نہ کسی سے ہے مجھ کو لاگ
- نے دانۂ فتادہ ہوں نے دام چیدہ ہوں
- میں یوسف بقیمت اول خریدہ ہوں
- ہوں میں کلام نغز ولے نا شنیدہ ہوں
- اہل ورع کے حلقے میں ہر چند ہوں ذلیل
- پر عاصیوں کے زمرے میں میں برگزیدہ ہوں
- ڈرتا ہوں آئنے سے کہ مردم گزیدہ ہوں
- جانتا ہوں ہے خط لوح ازل
- خیر خواہ دید ہوں از بہر دفع چشم زخم
- کھینچتا ہوں اپنی آنکھوں میں سلائی نیل کی
- نالہ کھینچا ہے سراپا داغ جرأت ہوں اسدؔ
- اس بیاباں میں گرفتار جنوں ہوں کہ جہاں
- وہ گرفتار خرابی ہوں کہ فوارہ نمط
- میں بھی ہوں شمع کشتہ گر داغ خوں بہا ہے
- برق آبیار فرصت رنگ دمیدہ ہوں
- ہوں سخت جان کاوش فکر سخن اسدؔ
- روتا ہوں بس کہ در ہوس آرمیدگی
- چمن دہر میں ہوں سبزۂ بیگانہ اسدؔ
- سوداے عشق سے دم سرد کشیدہ ہوں
- شام خیال زلف سے صبح دمیدہ ہوں
- خمخانۂ جنوں میں دماغ رسیدہ ہوں
- تسبیح اشک ہاے زمژگاں چکیدہ ہوں
- خار الم سے پشت بدنداں گزیدہ ہوں
- ہوں گرمی نشاط تصور سے نغمہ سنج
- میں عندلیب گلشن نا آفریدہ ہوں
- دیتا ہوں کشتگاں کو سخن سے سر تپش
- مضراب تار ہاے گلوے بریدہ ہوں
- خونابۂ ہلاہل حسرت چشیدہ ہوں
- جوں بوے گل ہوں گرچہ گراں بار مشت زر
- لیکن اسدؔ بوقت گزشتن جریدہ ہوں
- ہوں وہ گلدام کہ سبزے میں چھپایا ہے مجھے
- سنبلستان جنوں ہوں ستم نسبت زلف
- ہوں میں وہ داغ کہ پھولوں میں بسایا ہے مجھے
- ہوں میں وہ چاک کہ کانٹوں سے سلایا ہے مجھے
- ہوں میں وہ خاک کہ ماتم میں اڑایا ہے مجھے
- کس کا دل ہوں کہ دو عالم سے لگایا ہے مجھے
- بس کہ ہوں بعد مرگ بھی نگراں
- بسمل درد خفتہ ہوں گریے کو ماجرا سمجھ
- شومی طالع سے ہوں ذوق معاصی میں اسیر
- وہ تشنۂ سرشار تمنا ہوں کہ جس کو
- ہوں میں بھی تماشائی نیرنگ تمنا
- پیمانۂ وسعت کدۂ شوق ہوں اے رشک
- اسدؔ ہوں میں پر افشان رمیدن
- لیتا ہوں مکتب غم دل میں سبق ہنوز
- بلبل تصویر ہوں بے تاب اظہار تپش
- ہوں ہیولاے دو عالم صورت تقریر اسدؔ
- ہوں گرفتار کمیں گاہ تغافل کہ جہاں
- شرمندۂ الفت ہوں مداوا طلبی سے
- آشیاں بند بہار عیش ہوں ہنگام قتل
- بہ ہنگام تصور ساغر زانو سے پیتا ہوں
- حیراں ہوں شوخی رگ یاقوت دیکھ کر
- واماندۂ ذوق طرب وصل نہیں ہوں
- بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
- رکھتا پھروں ہوں خرقہ و سجادہ رہن مے
- اسیر بے زباں ہوں کاش کے صیاد بے پروا
- لکھتا ہوں اسدؔ سوزش دل سے سخن گرم
- جاتا ہوں جدھر سب کی اٹھے ہے ادھر انگشت
- مژگاں کی محبت میں جو انگشت نما ہوں
- میں الفت مژگاں میں جو انگشت نما ہوں
- بے تکلف ہوں وہ مشت خس کہ گلخن میں نہیں
- صورت نقش قدم ہوں رفتۂ رفتار دوست
- کشتۂ دشمن ہوں آخر گرچہ تھا بیمار دوست
- جب کہ میں کرتا ہوں اپنا شکوۂ ضعف دماغ
- دیکھتا ہوں وحشت شوق خروش آمادہ سے
- میں بھی ہوں ایک عنایت کی نظر ہوتے تک
- اب میں ہوں اور ماتم یک شہر آرزو
- سچ کہتے ہو خودبین و خود آرا ہوں نہ کیوں ہوں
- عاشق ہوں پہ معشوق فریبی ہے مرا کام
- ہوں میں وہ سبزہ کہ زہراب اگاتا ہے مجھے
- حیرت آئنہ انجام جنوں ہوں جیوں شمع
- میں ہوں اور حیرت جاوید مگر ذوق خیال
- گرچہ ہوں دیوانہ پر کیوں دوست کا کھاؤں فریب
- اس کی امت میں ہوں میں میرے رہیں کیوں کام بند
- غلام ساقیٔ کوثر ہوں مجھ کو غم کیا ہے
- تغافل دوست ہوں میرا دماغ عجز عالی ہے
- مرتا ہوں میں کہ یہ نہ کسی کی نگاہ ہو
- میں سادہ دل آرزدگئ یار سے خوش ہوں
- لیتا ہوں مکتب غم دل میں سبق ہنوز
- کہ ستم کش جنوں ہوں نہ بقدر زندگانی
- کف موجۂ حیا ہوں بہ گزار عرض مطلب
- میں بھی جلے ہوؤں میں ہوں داغ نا تمامی
- غم سے مرتا ہوں کہ اتنا نہیں دنیا میں کوئی
- حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
- ہر اک سے پوچھتا ہوں کہ جاؤں کدھر کو میں
- کیا جانتا نہیں ہوں تمہاری کمر کو میں
- چلتا ہوں تھوڑی دور ہر اک تیز رو کے ساتھ
- پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہ بر کو میں
- کیا پوجتا ہوں اس بت بیداد گر کو میں
- اپنے پہ کر رہا ہوں قیاس اہل دہر کا
- سمجھا ہوں دل پذیر متاع ہنر کو میں
- جراحت دوزیٔ عاشق ہے جائے رحم ڈرتا ہوں
- بہ رنگ شیشہ ہوں یک گوشۂ دل خالی
- دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں
- خاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہوں میں
- انسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں
- لوح جہاں پہ حرف مکرر نہیں ہوں میں
- آخر گناہ گار ہوں کافر نہیں ہوں میں
- لعل و زمرد و زر و گوہر نہیں ہوں میں
- رتبے میں مہر و ماہ سے کم تر نہیں ہوں میں
- کیا آسمان کے بھی برابر نہیں ہوں میں
- وہ دن گئے کہ کہتے تھے نوکر نہیں ہوں میں
- میں عدم سے بھی پرے ہوں ورنہ غافل بارہا
- میں ہوں اور افسردگی کی آرزو غالبؔ کہ دل
- میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں
- جان تم پر نثار کرتا ہوں
- آج واں تیغ و کفن باندھے ہوے جاتا ہوں میں
- دھوتا ہوں جب میں پینے کو اس سیم تن کے پاؤں
- مرہم کی جستجو میں پھرا ہوں جو دور دور
- پیتا ہوں دھوکے خسرو شیریں سخن کے پاؤں
- ہوں ترے وعدہ نہ کرنے میں بھی راضی کہ کبھی
- میں جو کہتا ہوں کہ ہم لیں گے قیامت میں تمہیں
- ہوں ظہوری کے مقابل میں خفائی غالبؔ
- علی الرغم دشمن شہید وفا ہوں
- نہ اوروں کی سنتا نہ کہتا ہوں اپنی
- خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں
- سب رقیبوں سے ہوں نا خوش پر زنان مصر سے
- چراغ مردہ ہوں میں بے زباں گور غریباں کا
- ستم کش مصلحت سے ہوں کہ خوباں تجھ پہ عاشق ہیں
- عبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا
- جو تو دریاۓ مے ہے تو میں خمیازہ ہوں ساحل کا
- تماشائی ہوں وحدت خانۂ آئینۂ دل کا
- سرمۂ مفت نظر ہوں مری قیمت یہ ہے
- بے دماغ تپش رشک ہوں اے جلوۂ حسن
- مشکل عشق ہوں مطلب نہیں آساں میرا
- ہوں چراغان ہوس جوں کاغذ آتش زدہ
- میں بھی معذور جنوں ہوں اسدؔ اے خانہ خراب
- پر ہوں میں شکوے سے یوں راگ سے جیسے باجا
- میں جو گستاخ ہوں آئین غزل خوانی میں
- جاتا ہوں داغ حسرت ہستی لیے ہوئے
- ہوں شمع کشتہ در خور محفل نہیں رہا
- ہر چند میں ہوں طوطی شیریں سخن ولے
- ہوں قطرہ زن بہ وادیٔ حسرت شبانہ روز
- مقتل کو کس نشاط سے جاتا ہوں میں کہ ہے
- آئینہ ہوں شکستن طرف کلاہ کا
- بوسہ کو پوچھتا ہوں میں منہ سے مجھے بتا کہ یوں
- ہوں گل فروش شوخی داغ کہن ہنوز
- میں ہوں سراب یک تپش آموختن ہنوز
- اے شعلہ فرصتے کہ سویدائے دل سے ہوں
- قفس میں ہوں گر اچھا بھی نہ جانیں میرے شیون کو
- سمجھتا ہوں کہ ڈھونڈے ہے ابھی سے برق خرمن کو
- رہا کھٹکا نہ چوری کا دعا دیتا ہوں رہزن کو
- سخن کیا کہہ نہیں سکتے کہ جویا ہوں جواہر کے
- ہوں در پہ ترے ناصیہ فرسا کوئی دن اور
- لاغر اتنا ہوں کہ گر تو بزم میں جا دے مجھے
- زیارت کدہ ہوں دل آزردگاں کا
- میں دل ہوں فریب وفا خوردگاں کا
- تصور ہوں بے موجب آزردگاں کا
- سخن ہوں سخن بر لب آوردگاں کا
- ارادہ ہوں یک عالم افسردگاں کا
- اسدؔ میں تبسم ہوں پژمردگاں کا
- میں ہوں وہ قطرۂ شبنم کہ ہو خار بیاباں پر
- فنا تعلیم درس بے خودی ہوں اس زمانے سے
- برائے حل مشکل ہوں ز پا افتادۂ حسرت
- وہ بے دماغ منت اقبال ہوں کہ میں
- وو التماس لذت بے داد ہوں کہ میں
- وو راز نالہ ہوں کہ بہ شرح نگاۂ عجز
- خوش ہوں گر نالہ زبونی کش تاثیر نہیں
- جوں مردمک چشم سے ہوں جمع نگاہیں
- کھینچوں ہوں سویداۓ دل چشم سے آہیں
- طعمہ ہوں ایک ہی نفس جاں گداز کا
- کرتا ہوں جمع پھر جگر لخت لخت کو
- پھر بھر رہا ہوں خامۂ مژگاں بہ خون دل
- پھر چاہتا ہوں نامۂ دل دار کھولنا
- ہوا ہوں عشق کی غارتگری سے شرمندہ
- کافر ہوں گر نہ ملتی ہو راحت عذاب میں
- کب سے ہوں کیا بتاؤں جہان خراب میں
- میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں
- کیوں بد گماں ہوں دوست سے دشمن کے باب میں
- میں مضطرب ہوں وصل میں خوف رقیب سے
- پیتا ہوں روز ابر و شب ماہتاب میں
- میں گیا وقت نہیں ہوں کہ پھر آ بھی نہ سکوں
- بسکہ ہوں غالبؔ اسیری میں بھی آتش زیر پا
- آتشیں پا ہوں گداز وحشت زنداں نہ پوچھ
- ہوں گرفتار کمیں گاہ تغافل کہ جہاں
- میں بلاتا تو ہوں اس کو مگر اے جذبۂ دل
- نہ گل نغمہ ہوں نہ پردۂ ساز
- میں ہوں اپنی شکست کی آواز
- ہوں گرفتار الفت صیاد
- سراغ آوارۂ عرض دو عالم شور محشر ہوں
- میں گرد راہ ہوں بے مدعا ہے پیچ و خم میرا
- کبھی جو یاد بھی آتا ہوں میں تو کہتے ہیں
- ودیعت خانۂ بیداد کاوش ہاۓ مژگاں ہوں
- نہ جانوں نیک ہوں یا بد ہوں پر صحبت مخالف ہے
- جو گل ہوں تو ہوں گلخن میں جو خس ہوں تو ہوں گلشن میں
- اسدؔ زندانی تاثیر الفت ہاۓ خوباں ہوں
- اپنے سے کھینچتا ہوں خجالت ہی کیوں نہ ہو
- واں اس کو ہول دل ہے تو یاں میں ہوں شرم سار
- ہوں خموشیٔ چمن حسرت دیدار اسدؔ
- فکر دنیا میں سر کھپاتا ہوں
- چاک کرتا ہوں میں جب سے کہ گریباں سمجھا
- پا بہ دامن ہو رہا ہوں بسکہ میں صحرا نورد
- ہوں سراپا ساز آہنگ شکایت کچھ نہ پوچھ
- کثرت جور و ستم سے ہو گیا ہوں بے دماغ
- کہ حسرت سنج ہوں عرض ستم ہائے جدائی کا
- ہوں زخود رفتۂ بیدائے خیال
- قدر سنگ سر رہ رکھتا ہوں
- گرد باد رہ بیتابی ہوں
- کہ جتنا کھینچتا ہوں اور کھنچتا جائے ہے مجھ سے
- بھولا ہوں حق صحبت اہل کنشت کو
- ہوں منحرف نہ کیوں رہ و رسم ثواب سے
- جتنا کہ وہم غیر سے ہوں پیچ و تاب میں
- حیراں ہوں پھر مشاہدہ ہے کس حساب میں
- مشغول حق ہوں بندگی بو تراب میں
- جانتا ہوں ثواب طاعت و زہد
- ہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوں
- کوہ کے ہوں بار خاطر گر صدا ہو جائیے
- ہوں کشمکش نزع میں ہاں جذب محبت
- بے دماغ خجلت ہوں رشک امتحاں تا کے
- فکر نالہ میں گویا حلقہ ہوں ز سر تا پا
- جلتا ہوں اپنی طاقت دیدار دیکھ کر
- رکتا ہوں تم کو بے سبب آزار دیکھ کر
- مرتا ہوں اس کے ہاتھ میں تلوار دیکھ کر
- میں دور گرد عرض رسوم نیاز ہوں
- خوش ہوں کہ میری بات سمجھنی محال ہے
- ہوں داغ نیم رنگیٔ شام وصال یار
- ہنگام تصور ہوں دریوزہ گر بوسہ
- یہ جانتا ہوں کہ تو اور پاسخ مکتوب
- مگر ستم زدہ ہوں ذوق خامہ فرسا کا
- ہنوز محرمی حسن کو ترستا ہوں
- فلک کو دیکھ کے کرتا ہوں اس کو یاد اسدؔ
- میں مدعا ہوں تپش نامۂ تمنا کا
- جو تم سے شہر میں ہوں ایک دو تو کیونکر ہو
- بہرا ہوں میں تو چاہیئے دونا ہو التفات
- سنتا نہیں ہوں بات مکرر کہے بغیر
- پاتا ہوں اس سے داد کچھ اپنے کلام کی
- نوازش ہائے بے جا دیکھتا ہوں
- نگاہ بے محابا چاہتا ہوں
- ہوں میں بھی تماشائی نیرنگ تمنا
- مستانہ طے کروں ہوں رہ وادی خیال
- مرتا ہوں اس آواز پہ ہر چند سر اڑ جائے
- ہر روز دکھاتا ہوں میں اک داغ نہاں اور
- غفلت متاع کفۂ میزان عدل ہوں
- شومیٔ طالع سے ہوں ذوق معاصی میں اسیر
- تریاکی قدیم ہوں دود چراغ کا
- ہوں خود اپنی نظر میں اتنا خوار
- جانتا ہوں کہ آئے خاک کو عار
- شاد ہوں لیکن اپنے جی میں کہ ہوں
- جسم رکھتا ہوں ہے اگرچہ نزار
- مجھ کو دیکھو تو ہوں بقید حیات
- بس کہ لیتا ہوں ہر مہینے قرض
- ختم کرتا ہوں اب دعا پہ کلام
- ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار
- آزادہ رو ہوں اور مرا مسلک ہے صلح کل
- کیا کم ہے یہ شرف کہ ظفرؔ کا غلام ہوں
- صادق ہوں اپنے قول میں غالبؔ خدا گواہ
- کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے
- میں جو ہوں در پے حصول شرف
- اور میں وہ ہوں کہ گر جی میں کبھی غور کروں
- سیہ گلیم ہوں لازم ہے میرا نام نہ لے
- ناؤ بھر کر ہی پروئے گئے ہوں گے موتی
- سات دریا کے فراہم کیے ہوں گے موتی
- کہ ستم کش جنوں ہوں نہ بقدر زندگانی
- کف موجۂ حیا ہوں بہ گزار عرض مطلب
- سامع زمزمۂ اہل جہاں ہوں لیکن
- نزع مخمور ہوں اس دید کی دھن میں کہ مجھے
- باندھوں ہوں آئنے پر چشم پری سے آئیں
- کھینچوں ہوں آئنے پر خندۂ گل سے مسطر
- بس کہ گستاخی ارباب جہاں سے ہوں ملول
- کس قدر ہرزہ سرا ہوں کہ عیاذاً باللہ
- جنت نقش قدم سے ہوں میں اس کی گلچیں
- جانتا ہوں کہ آج دنیا میں
- جانتا ہوں کہ جانتا ہے تو
- جانتا ہوں کہ اس کے فیض سے تو
- تیرے پرتو سے ہوں فروغ پذیر
- چھیڑتا ہوں کہ ان کو غصہ آئے
- دیں آپ میری داد کہ ہوں فائز المرام
- سلطان بر و بحر کے در کا ہوں میں غلام
- کہ تابع اس کے ہوں روز و شب سپید و سیاہ
- ہو گیا ہوں نزار و زارو حزیں
- ناز پروردۂ صد رنگ تمنا ہوں ولے
- دید یک غنچہ سے ہوں بسمل نقصان بہار
- تشنۂ خون دو عالم ہوں بہ عرض تکرار
- مژۂ خواب سے کرتا ہوں بآسایش درد
- ہوں نفس سے صفت نغمہ بہ بند رگ تار
- ہوں بہ قدر عدد حرف علی سبحہ شمار
- ہوں درد ہلاک نامہ بر سے بیمار
- ہوں شاد نہ کیوں سافل و عالی باہم
- اس رشتے میں لاکھ تار ہوں بلکہ سوا
- اتنے ہی برس شمار ہوں بلکہ سوا
- ایسی گرہیں ہزار ہوں بلکہ سوا
- دیکھتا ہوں اسے تھی جس کی تمنا مجھ کو
- میں قائل خدا و نبیؐ و امام ہوں
- بندہ خدا کا اور علی کا غلام ہوں
- ماہ نو نکلے پہ گزری ہوں گی راتیں پان سات
- میں یہ کیا جانوں کہ وہ کس واسطے ہوں پھر گئے
- کچھ نہیں کہتا کسی سے سن رہا ہوں سب کی بات