ہووے
18 Misre
- اگر نہ ہووے رگ خواب صرف شیرازہ
- کیوں نہ ہووے آج کے دن بیکسی کی روح شاد
- ہووے نہ غبار دل تسلیم زمیں گیراں
- جب کہ نقش مدعا ہووے نہ جز موج سراب
- ہے شرر موہوم اگر رکھتا نہ ہووے سنگ دل
- اسدؔ حیدر پرستوں سے اگر ہووے دوچار آتش
- حباب چشمۂ آئینہ ہووے بیضہ طوطی کا
- نہ ہووے کیونکے اسے فرض قتل اہل وفا
- ہووے ہے جادۂ رہ رشتہ گوہر ہرگام
- روانی موج مے کی گر خط جام آشنا ہووے
- سنگ سے سر مار کر ہووے نہ پیدا آشنا
- شادی سے گزر کہ غم نہ ہووے
- کہ پشت چشم سے جس کی نہ ہووے مہر عنواں پر
- اسدؔ حیدر پرستوں سے اگر ہووے دو چار آتش
- اگر نہ ہووے رگ خواب صرف شیرازہ
- قیامت ہے کہ ہووے مدعی کا ہم سفر غالبؔ
- دہری کیوں کر ہو جو کہ ہووے صوفی
- جو حد تقوی ادا نہ ہووے تو اپنا مذہب یہی ہے غالبؔ