ہوش
8 Misre
عمر بھر ہوش نہ یک جا ہوے میرے کہ اسدؔ
ہوش اے ہرزہ درا تہمت بیدردی چند
بیم رقیب سے نہیں کرتے وداع ہوش
ہوش اڑتے ہیں مرے جلوۂ گل دیکھ اسدؔ
بیم رقیب سے نہیں کرتے وداع ہوش
اے شوق ہاں اجازت تسلیم ہوش ہے
مطرب بہ نغمہ رہزن تمکین و ہوش ہے
مجھ سے کہا جو یار نے جاتے ہیں ہوش کس طرح
ہ
All Letters