ہوتا
81 Misre
- مدعی میری صفاے دل سے ہوتا ہے خجل
- غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفس
- فزوں ہوتا ہے ہر دم جوش خونباری تماشا ہے
- تیز تر ہوتا ہے خشم تند خو یاں عجز سے
- دشنہ اک تیز سا ہوتا مرے غم خوار کے پاس
- عیادت سے اسدؔ میں بیشتر بیمار ہوتا ہوں
- کاش کے ہوتا قفس کا در کھلا
- آئینہ نفس سے بھی ہوتا ہے کدورت کش
- فرو ہوتا ہے سر سجدے میں اے دست دعا گم ہو
- تعجب سے وہ بولا یوں بھی ہوتا ہے زمانے میں
- توڑنا ہوتا ہے رنگ یک نفس ہر شب مجھے
- تنک ظرفوں کا رتبہ جہد سے برتر نہیں ہوتا
- حباب مے بصد بالیدنی ساغر نہیں ہوتا
- کہ تار جادۂ رہ رشتۂ گوہر نہیں ہوتا
- کہ کم از سرمہ اس کا مشت خاکستر نہیں ہوتا
- بہ از چاک گریباں گلستاں کا در نہیں ہوتا
- لب خشک صدف آب گہر سے تر نہیں ہوتا
- کہ جس کے در پہ غنچہ شکل قفل زر نہیں ہوتا
- صدف بن قطرۂ نیساں اسدؔ گوہر نہیں ہوتا
- ہوتا ہے ورنہ شعلۂ رنگ حنا بلند
- ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
- ہوتا ہے نہاں گرد میں صحرا مرے ہوتے
- چاک ہوتا ہے گریباں سے جدا میرے بعد
- کون ہوتا ہے حریف مے مرد افگن عشق
- بد گماں ہوتا ہے وہ کافر نہ ہوتا کاش کے
- عرش سے ادھر ہوتا کاش کے مکاں اپنا
- کیا مزہ ہوتا اگر پتھر میں بھی ہوتا نمک
- ورنہ ہوتا ہے جہاں میں کس قدر پیدا نمک
- شکوے کے نام سے بے مہر خفا ہوتا ہے
- یہ بھی مت کہہ کہ جو کہیے تو گلہ ہوتا ہے
- اک ذرا چھیڑئیے پھر دیکھیے کیا ہوتا ہے
- شکوۂ جور سے سرگرم جفا ہوتا ہے
- سست رو جیسے کوئی آبلہ پا ہوتا ہے
- آپ اٹھا لاتے ہیں گر تیر خطا ہوتا ہے
- کہ بھلا چاہتے ہیں اور برا ہوتا ہے
- لب تک آتا ہے جو ایسا ہی رسا ہوتا ہے
- شاہ کی مدح میں یوں نغمہ سرا ہوتا ہے
- تیرے اکرام کا حق کس سے ادا ہوتا ہے
- تو وہ لشکر کا ترے نعل بہا ہوتا ہے
- ہر مہینے میں جو یہ بدر سے ہوتا ہے ہلال
- آستاں پر ترے مہ ناصیہ سا ہوتا ہے
- یہ بھی تیرا ہی کرم ذوق فزا ہوتا ہے
- آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے
- غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفس
- تعجب سے وہ بولا یوں بھی ہوتا ہے زمانے میں
- دشنہ اک تیز سا ہوتا مرے غم خوار کے پاس
- بجز دیوانگی ہوتا نہ انجام خود آرائی
- نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
- ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
- نہ ہوتا گر جدا تن سے تو زانو پر دھرا ہوتا
- وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا
- زہرہ گر ایسا ہی شام ہجر میں ہوتا ہے آب
- آئینہ نفس سے بھی ہوتا ہے کدورت کش
- گھر ہمارا جو نہ روتے بھی تو ویراں ہوتا
- بحر گر بحر نہ ہوتا تو بیاباں ہوتا
- کہ اگر تنگ نہ ہوتا تو پریشاں ہوتا
- کاش رضواں ہی در یار کا درباں ہوتا
- یہ رشک ہے کہ وہ ہوتا ہے ہم سخن تم سے
- توڑنا ہوتا ہے رنگ یک نفس ہر شب مجھے
- یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
- اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا
- کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
- کبھی تو نہ توڑ سکتا اگر استوار ہوتا
- یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا
- کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا
- جسے غم سمجھ رہے ہو یہ اگر شرار ہوتا
- غم عشق گر نہ ہوتا غم روزگار ہوتا
- مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا
- نہ کبھی جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا
- جو دوئی کی بو بھی ہوتی تو کہیں دو چار ہوتا
- تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا
- زہرہ ہوتا ہے آب انساں کا
- ہم کہاں ہوتے اگر حسن نہ ہوتا خود بیں
- درد ہوتا ہے مرے دل میں جو توڑوں بالیں
- فیض خلق اس کا ہی شامل ہے کہ ہوتا ہے سدا
- فرش اس دشت تمنا میں نہ ہوتا گر عدل
- گر جوہر امتیاز ہوتا ہم میں
- اگر ہوتا تو کیا ہوتا یہ کہیے
- روز اس شہر میں اک حکم نیا ہوتا ہے
- کچھ سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ کیا ہوتا ہے
- مثل زخم آنکھوں کو سی دیتا جو ہوتا ہوشیار