ہوائے
15 Misre
- جاں دادۂ ہوائے سر رہ گزار تھا
- کہ خیال ہو تعب کش بہ ہوائے کامرانی
- زہر لگتی ہے مجھے آب و ہوائے زندگی
- ہوائے سیر گل آئینۂ بے مہریٔ قاتل
- اے تازہ واردان بساط ہوائے دل
- دل سے ہوائے کشت وفا مٹ گئی کہ واں
- تا کہ تجھ پر کھلے اعجاز ہوائے صیقل
- بیگانۂ وفا ہے ہوائے چمن ہنوز
- قیامت اک ہوائے تند ہے خاک شہیداں پر
- ہوائے پر فشانی برق خرمن ہائے خاطر ہے
- ہوائے صبح یک عالم گریباں چاکی گل ہے
- دل ہوائے خرام ناز سے پھر
- ٹوٹے پڑے ہیں حلقۂ دام ہوائے گل
- مینائے بے شراب و دل بے ہوائے گل
- میں کہا اے دل ہوائے دلبراں