ہوا
220 Misre
- میں وادی طلب میں ہوا جملہ تن غرق
- ظاہر ہوا کہ داغ کا سرمایہ دود تھا
- آنسو کہوں کہ آہ سوار ہوا کہوں
- کہ صرف بخیۂ دامن ہوا ہے خندہ گلچیں کا
- ہوا چرخ خمیدہ ناتواں بار علائق سے
- ہمارا کام ہوا اور تمہارا نام رہا
- ہوا نہ مجھ سے بجز درد حاصل صیاد
- عکس داغ مہ ہوا عارض پہ خال
- گل ہوا ہے ایک زخم سینہ پر خواہان داد
- سمجھا ہوا ہوں عشق میں نقصاں کو فائدہ
- کیوں ہوا تھا طرف آبلۂ پا یارب
- بوڑھا ہوا ہوں قابل خدمت نہیں اسدؔ
- درد اسم حق سے دیدار صنم حاصل ہوا
- رشتۂ تسبیح تار جادۂ منزل ہوا
- رز میں جو انگور نکلا عقدۂ مشکل ہوا
- یک دو چیں دامان صحرا پردۂ محمل ہوا
- گوش نسریں عارضاں پروانۂ محفل ہوا
- جادۂ ہر دشت تار دامن قاتل ہوا
- نقص پر اپنے ہوا جو مطلع کامل ہوا
- پریشانی سے مغز سر ہوا ہے پنبہ بالش
- ہوا آئینۂ جام بادہ عکس روے گلگوں سے
- ہوا سکتے سے میں آئینۂ دست طبیب آخر
- ہوا ہے گریۂ بے باک ضبط سے تسبیح
- وسعت گہ تمنا یک بام و صد ہوا ہے
- ہوا جب حسن کم خط بر عذار سادہ آتا ہے
- خوں ہوا دل تا جگر یارب زبان شکوہ لال
- کس قدر خاک ہوا ہے دل مجنوں یارب
- جگر تشنۂ آزار تسلی نہ ہوا
- ہوا شرم تہہ دستی سے وہ بھی سر نگوں آخر
- مگر روز عروسی گم ہوا تھا شانہ لیلیٰ کا
- ہوا ہے موجۂ ریگ رواں شمشیر فولادی
- تسلیم سے یہ نالۂ موزوں ہوا حصول
- ہوا نے ابر سے کی موسم گل میں نمد بانی
- دی لطف ہوا نے بہ جنوں طرفہ نزاکت
- گر کف دست بام ہے آئنے کو ہوا سمجھ
- خلد بھی باغ ہے خیر آب و ہوا اور سہی
- وہ دیکھ کے حسن اپنا مغرور ہوا غالبؔ
- ہوا داماندگی سے رہرواں کی فرق منزل کا
- پا پر از آبلہ راہ طلب مے میں ہوا
- ہوا وہ شعلہ داغ اور شوخی خاشاک باقی ہے
- ہوا ترک لباس زعفرانی دلکشا لیکن
- ہوا ہے نقشبند آئنہ سنگ مزار اپنا
- ہوا نے ابر سے کی موسم گل میں نمد بانی
- ہوا ہر خلوت و جلوت سے حاصل ذوق تنہائی
- جاں لب پہ آئی تو بھی نہ شیریں ہوا دہن
- پھر ہوا مدحت طرازی کا خیال
- سکۂ شہ کا ہوا ہے روشناس
- سر خط بند ہوا نامہ گنہ گاروں کا
- رنگ اڑتا ہے گلستاں کے ہوا داروں کا
- ہوا ہے موجب آرام جان و تن تکیہ
- ہوا ہے دستۂ نسرین و نسترن تکیہ
- ہوا ہے کاٹ کے چادر کو ناگہاں غائب
- بضرب تیشہ وہ اس واسطے ہلاک ہوا
- ہوا نشان سواد دیار حسن عیاں
- خور شبنم آشنا نہ ہوا ورنہ میں اسدؔ
- آخر کار گرفتار سر زلف ہوا
- حسرت کدۂ عشق کی ہے آب و ہوا گرم
- پھولوں کو ہوئی باد بہاری وہ ہوا گرم
- پیمانۂ ہوا ہے مشت غبار صحرا
- نظر بہ غفلت اہل جہاں ہوا ظاہر
- ابن مریم ہوا کرے کوئی
- در پردۂ ہوا پر بسمل ہے آئنہ
- بیٹھا رہا اگرچہ اشارے ہوا کیے
- مدت ہوئی ہے دعوت آب و ہوا کیے
- ہوا ہے نقشبند آئنہ سنگ مزار اپنا
- آمد خط سے ہوا ہے سرد جو بازار دوست
- جتنے عرصے میں مرا لپٹا ہوا بستر کھلا
- پھر ہوا وقت کہ ہو بال کشا موج شراب
- پھر ہوا وقت کہ ہو بال کشا موج شراب
- سایۂ تاک میں ہوتی ہے ہوا موج شراب
- جو ہوا غرقۂ مے بخت رسا رکھتا ہے
- موج ہستی کو کرے فیض ہوا موج شراب
- ہوا وصال سے شوق دل حریص زیادہ
- ابھرا ہوا نقاب میں ہے ان کے ایک تار
- تو دوست کسو کا بھی ستم گر نہ ہوا تھا
- اوروں پہ ہے وہ ظلم کہ مجھ پر نہ ہوا تھا
- خورشید ہنوز اس کے برابر نہ ہوا تھا
- آنکھوں میں ہے وہ قطرہ کہ گوہر نہ ہوا تھا
- میں معتقد فتنۂ محشر نہ ہوا تھا
- یعنی سبق شوق مکرر نہ ہوا تھا
- دریائے معاصی تنک آبی سے ہوا خشک
- میرا سر دامن بھی ابھی تر نہ ہوا تھا
- آتش کدہ جاگیر سمندر نہ ہوا تھا
- ہم بھی مضموں کی ہوا باندھتے ہیں
- ہم بھی ایک اپنی ہوا باندھتے ہیں
- ظاہر ہوا کہ داغ کا سرمایہ دود تھا
- خور شبنم آشنا نہ ہوا ورنہ میں اسدؔ
- جب اک نفس الجھا ہوا ہر تار میں آوے
- نہ ہوا حصول زاری بجز آستیں فشانی
- شعلۂ عشق سیہ پوش ہوا میرے بعد
- نسیم مصر کو کیا پیر کنعاں کی ہوا خواہی
- کہ زخم روزن در سے ہوا نکلتی ہے
- دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں
- در خور قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا
- پھر غلط کیا ہے کہ ہم سا کوئی پیدا نہ ہوا
- الٹے پھر آئے در کعبہ اگر وا نہ ہوا
- روبرو کوئی بت آئنہ سیما نہ ہوا
- تیرا بیمار برا کیا ہے گر اچھا نہ ہوا
- خاک کا رزق ہے وہ قطرہ کہ دریا نہ ہوا
- کام میں میرے ہے جو فتنہ کہ برپا نہ ہوا
- حمزہ کا قصہ ہوا عشق کا چرچا نہ ہوا
- کھیل لڑکوں کا ہوا دیدۂ بینا نہ ہوا
- دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشا نہ ہوا
- درد منت کش دوا نہ ہوا
- میں نہ اچھا ہوا برا نہ ہوا
- اک تماشا ہوا گلہ نہ ہوا
- تو ہی جب خنجر آزما نہ ہوا
- گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا
- آج ہی گھر میں بوریا نہ ہوا
- بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا
- حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا
- کام گر رک گیا روا نہ ہوا
- لے کے دل دل ستاں روانہ ہوا
- آج غالبؔ غزل سرا نہ ہوا
- بارے اب اے ہوا ہوس بال و پر گئی
- دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
- ابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے
- کیا شمع کے نہیں ہیں ہوا خواہ بزم میں
- تھا زندگی میں مرگ کا کھٹکا لگا ہوا
- دہر میں نقش وفا وجہ تسلی نہ ہوا
- ہے یہ وہ لفظ کہ شرمندۂ معنی نہ ہوا
- یہ زمرد بھی حریف دم افعی نہ ہوا
- وہ ستم گر مرے مرنے پہ بھی راضی نہ ہوا
- گر نفس جادۂ سر منزل تقوی نہ ہوا
- گوش منت کش گلبانگ تسلی نہ ہوا
- ہم نے چاہا تھا کہ مر جائیں سو وہ بھی نہ ہوا
- ناتوانی سے حریف دم عیسی نہ ہوا
- صفحۂ آئنہ جولاں گہ طوطی نہ ہوا
- مجھ سا کافر کہ جو ممنون معاصی نہ ہوا
- ہوا رقیب تو ہو نامہ بر ہے کیا کہئے
- پھر ہوا ہے تازہ سودائے غزل خوانی مجھے
- آج ہی ہوا منظور ان کو امتحاں اپنا
- بے سبب ہوا غالبؔ دشمن آسماں اپنا
- زخمی ہوا ہے پاشنہ پاۓ ثبات کا
- کیونکر نہ کھائیے کہ ہوا ہے بہار کی
- رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج
- لیا دانتوں میں جو تنکا ہوا ریشہ نیستاں کا
- نہیں معلوم کس کس کا لہو پانی ہوا ہوگا
- ہوا سکتے سے میں آئینۂ دست طبیب آخر
- ہوا واماندگی سے رہ رواں کی فرق منزل کا
- معلوم ہوا حال شہیدان گزشتہ
- کس قدر خاک ہوا ہے دل مجنوں یا رب
- ہوا جام زمرد بھی مجھے داغ پلنگ آخر
- ہوا مہ کثرت سرمایہ اندوزی سے تنگ آخر
- ہوا ناسور چشم تعزیت چشم خدنگ آخر
- دل ہوا کشمکش چارۂ زحمت میں تمام
- ضعف سے گریہ مبدل بہ دم سرد ہوا
- باور آیا ہمیں پانی کا ہوا ہو جانا
- آنسو کہوں کہ آہ سوار ہوا کہوں
- دیکھ کے میری بے خودی چلنے لگی ہوا کہ یوں
- قطرۂ مے بسکہ حیرت سے نفس پرور ہوا
- خط جام مے سراسر رشتۂ گوہر ہوا
- غیر نے کی آہ لیکن وہ خفا مجھ پر ہوا
- خانۂ خاتم میں یاقوت نگیں اختر ہوا
- آج رنگ رفتہ دور گردش ساغر ہوا
- ریزہ ریزہ استخواں کا پوست میں نشتر ہوا
- دانۂ تسبیح سے میں مہرہ در ششدر ہوا
- نشۂ مے ہے اگر یک پردہ نازک تر ہوا
- تر زبان لفظ عام ساقیٔ کوثر ہوا
- ہوا چرچا جو میرے پاؤں کی زنجیر بننے کا
- نہ لڑ ناصح سے غالبؔ کیا ہوا گر اس نے شدت کی
- تاراج کاوش غم ہجراں ہوا اسدؔ
- عرصہ ہوا ہے دعوت مژگاں کیے ہوئے
- مگر غبار ہوے پر ہوا اڑا لے جاے
- ہوا ہوں عشق کی غارتگری سے شرمندہ
- جگر تشنۂ آزار تسلی نہ ہوا
- گر میں نے کی تھی توبہ ساقی کو کیا ہوا تھا
- پر ہوا ہے سیل سے پیمانہ کس تعمیر کا
- ورق تمام ہوا اور مدح باقی ہے
- ادائے خاص سے غالبؔ ہوا ہے نکتہ سرا
- ہوا جب غم سے یوں بے حس تو غم کیا سر کے کٹنے کا
- تو ہوا جلوہ گر مبارک ہو
- مجھ کو پوچھا تو کچھ غضب نہ ہوا
- اسدؔ اللہ خاں تمام ہوا
- ایک دن گر نہ ہوا بزم میں ساقی نہ سہی
- ہوا ہے تار اشک یاس رشتہ چشم سوزن میں
- ہوا ہے خندۂ احباب بخیہ جیب و دامن میں
- ہوا ہے جوہر آئینہ خیل مور خرمن میں
- کیوں ہوا تھا طرف آبلۂ پا یا رب
- اس قدر تنگ ہوا دل کہ میں زنداں سمجھا
- ہے ہوا میں شراب کی تاثیر
- دہن اس کا جو نہ معلوم ہوا
- خوں کیا ہوا دیکھا گم کیا ہوا پایا
- طراوت چمن و خوبیٔ ہوا کہیے
- آگ مطلوب ہے ہم کو جو ہوا کہتے ہیں
- ثابت ہوا ہے گردن مینا پہ خون خلق
- جی خوش ہوا ہے راہ کو پر خار دیکھ کر
- کاشانہ بسکہ تنگ ہے غافل ہوا نہ مانگ
- سب کے دل میں ہے جگہ تیری جو تو راضی ہوا
- وہ دیکھ کے حسن اپنا مغرور ہوا غالبؔ
- گہر میں محو ہوا اضطراب دریا کا
- کہے سے کچھ نہ ہوا پھر کہو تو کیونکر ہو
- ہوا ہے مانع عاشق نوازی ناز خود بینی
- ہوا ہے شہہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا
- سبحۂ زاہد ہوا ہے خندہ زیر لب مجھے
- کہ ہوا مجھ سا ذرہ ناچیز
- زمیں پہ ایسا تماشا ہوا برات کی رات
- اخلاص کا ہوا ہے اسی ملک سے ظہور
- ہوا بزم طرب میں رقص ناہید
- کہ جس کے دیکھے سے سب کا ہوا ہے جی محظوظ
- ہوا حکم باورچیوں کو کہ ہاں
- مسلمانوں کے میلوں کا ہوا قل
- ہوا نہ غلبہ میسر کبھی کسی پہ مجھے
- نہ ہوا حصول زاری بجز آستیں فشانی
- خوں ہوا جوش تمنا سے دو عالم کا دماغ
- کہ ہوا خوں نگہ شوق میں نقش تمکیں
- برگ گل کا ہو جو طوفان ہوا میں عالم
- ہوا کرے گی ہر اک سال آشکار گرہ
- ہوا میں بوند کو ابر تگرگ بار گرہ
- تحریر ایک جس سے ہوا بندہ تلخ کام
- ٹکڑے ہوا ہے دیکھ کے تحریر کو جگر
- سمجھا اسے گراب ہوا پاش پاش دل
- ستارہ جیسے چمکتا ہوا بہ پہلوے ماہ
- سرور مہر فر ہوا جو سوار
- سونپے ہے فیض ہوا صورت مژگان یتیم
- کہ ہوا ساغر بے حوصلۂ دل سرشار
- کہ ہوا صورت آئینہ میں جوہر بیدار
- مطلع تازہ ہوا موجۂ کیفیت دل
- تب ہوا ہے ثمر فشاں یہ نخل
- نازش دودمان آب و ہوا