ہوئے
81 Misre
- دل و جگر تف فرقت سے جل کے خاک ہوئے
- ننگ بالیدن ہیں جوں ہوئے سر دیوانہ ہم
- زندگی کے ہوئے ناگہ نفس چند تمام
- متاع بردہ کو سمجھے ہوئے ہیں قرض رہزن پر
- مژگان چشم دام ہوئے خار و خس تمام
- موت بس ان کی ہے جو مر کے وہیں دفن ہوئے
- پیدا ہوئے ہیں ہم الم آباد جہاں میں
- موج سے پیدا ہوئے پیراہن دریا میں خار
- اسدؔ کھائے ہوئے سرمے نے آنکھوں میں بصارت کی
- موج سے پیدا ہوئے پیراہن دریا میں خار
- حیراں کیے ہوئے ہیں دل بے قرار کے
- بسکہ ہیں ہم اک بہار ناز کے مارے ہوئے
- دیکھا تو کم ہوئے پہ غم روزگار تھا
- بسکہ ویرانی سے کفر و دیں ہوئے زیر و زبر
- ہوئے فدا در و دیوار پر در و دیوار
- مجبور یاں تلک ہوئے اے اختیار حیف
- بے اعتدالیوں سے سبک سب میں ہم ہوئے
- جتنے زیادہ ہو گئے اتنے ہی کم ہوئے
- اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے
- یاں تک مٹے کہ آپ ہم اپنی قسم ہوئے
- وہ لوگ رفتہ رفتہ سراپا الم ہوئے
- تیرے سوا بھی ہم پہ بہت سے ستم ہوئے
- ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے
- اجزائے نالہ دل میں مرے رزق ہم ہوئے
- جو پانو اٹھ گئے وہی ان کے علم ہوئے
- جو واں نہ کھنچ سکے سو وہ یاں آ کے دم ہوئے
- سائل ہوئے تو عاشق اہل کرم ہوئے
- متاع بردہ کو سمجھے ہوئے ہیں قرض رہزن پر
- ہوئے مشق جرأت ناز رہ و رسم طرح آداب
- گئی نہ خاک ہوئے پر ہواۓ جلوۂ ناز
- ان کے ناخن ہوئے محتاج حنا میرے بعد
- متفرق ہوئے میرے رفقا میرے بعد
- جنبش دل سے ہوئے ہیں عقدہ ہائے کار وا
- اڑتے ہوئے الجھتے ہیں مرغ چمن کے پاؤں
- صرف بہائے مے ہوئے آلات مے کشی
- رسوائے دہر گو ہوئے آوارگی سے تم
- حیراں کیے ہوئے ہیں دل بے قرار کے
- ہم اپنے زعم میں سمجھے ہوئے تھے اس کو دم آگے
- جاتا ہوں داغ حسرت ہستی لیے ہوئے
- کہتے ہوئے ساقی سے حیا آتی ہے ورنہ
- جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے
- مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے
- جوش قدح سے بزم چراغاں کیے ہوئے
- عرصہ ہوا ہے دعوت مژگاں کیے ہوئے
- برسوں ہوئے ہیں چاک گریباں کیے ہوئے
- مدت ہوئی ہے سیر چراغاں کیے ہوئے
- سامان صدہزار نمکداں کیے ہوئے
- ساز چمن طرازی داماں کیے ہوئے
- باہم دگر ہوئے ہیں دل و دیدہ پھر رقیب
- نظارہ و خیال کا ساماں کیے ہوئے
- پندار کا صنم کدہ ویراں کیے ہوئے
- عرض متاع عقل و دل و جاں کیے ہوئے
- صد گلستاں نگاہ کا ساماں کیے ہوئے
- جاں نذر دل فریبی عنواں کیے ہوئے
- زلف سیاہ رخ پہ پریشاں کیے ہوئے
- سرمے سے تیز دشنۂ مژگاں کیے ہوئے
- چہرہ فروغ مے سے گلستاں کیے ہوئے
- سر زیر بار منت درباں کیے ہوئے
- بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے
- بیٹھے ہیں ہم تہیۂ طوفاں کیے ہوئے
- عاشق ہوئے ہیں آپ بھی ایک اور شخص پر
- گو واں نہیں پہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیں
- ہوئے اس مہروش کے جلوۂ تمثال کے آگے
- ہوئے ہیں بخیہ ہائے زخم جوہر تیغ دشمن میں
- کہ ہوئے مہر و مہ تماشائی
- پھر ہوئے ہیں گواہ عشق طلب
- ہوئے ہیں پاؤں ہی پہلے نبرد عشق میں زخمی
- ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو
- ہم سمجھے ہوئے ہیں اسے جس بھیس میں جو آئے
- ہر چند سبک دست ہوئے بت شکنی میں
- سو بار بند عشق سے آزاد ہم ہوئے
- ہوئے مر کے ہم جو رسوا ہوئے کیوں نہ غرق دریا
- گھر سے بازار میں نکلتے ہوئے
- کانوں پہ ہاتھ دھرتے ہیں کرتے ہوئے سلام
- یوں سمجھیے کہ بیچ سے خالی کیے ہوئے
- کہ جہاں ہشت بہشت آ کے ہوئے ہیں باہم
- نو روز ہے آج اور وہ دن ہے کہ ہوئے ہیں
- جب ازل میں رقم پذیر ہوئے
- مجملاً مندرج ہوئے احکام
- کہ مردوں کو نہ بدلتے ہوئے کفن دیکھا
- سنین عمر کے ستر ہوئے شمار برس