ہوئی
83 Misre
- پختگی ہاے کباب دل ہوئی خامی تری
- اسدؔ قدرت سے حیدر کی ہوئی ہر گبر و ترسا کو
- ہوئی ہے سوزش دل بس کہ داغ بے اثری
- تپش تو کیا نہ ہوئی مشق پرفشانی بھی
- ہوئی شام جوانی اے دل حسرت نصیب آخر
- ہوئی ہے بس کہ صرف مشق تمکین بہار آتش
- ہوئی ہیں آب شرم کوشش بے جا سے تدبیریں
- ہے سواد خط پریشاں ہوئی اہل عزا
- جگر سے ٹوٹی ہوئی ہو گئی سناں پیدا
- دہان زخم میں آخر ہوئی زباں پیدا
- ہوئی ہے محو بہ تقریب امتحاں فریاد
- ہوئی ہے لغزش پالکنت زباں فریاد
- گل کھلے غنچے چٹکنے لگے اور صبح ہوئی
- ہوئی ہے ناتوانی بے دماغ شوخی مطلب
- پیری میں بھی کمی نہ ہوئی تاک جھانک کی
- دود کو آج اس کے ماتم میں سیہ پوشی ہوئی
- ہوئی یہ بیخودی چشم و زباں کو تیرے جلوے سے
- ہوئی ہے اس کو مری لاش بے کفن تکیہ
- ہوئی یک عمر صرف مشق نالہ
- روشن ہوئی یہ بات دم نزع کہ آخر
- پھولوں کو ہوئی باد بہاری وہ ہوا گرم
- گریے سے بند محبت میں ہوئی نام آوری
- مدت ہوئی ہے دعوت آب و ہوا کیے
- شب ہوئی پھر انجم رخشندہ کا منظر کھلا
- ہوئی ہے کس قدر ارزانی مۓ جلوہ
- چمن میں کس کے یہ برہم ہوئی ہے بزم تماشا
- چاک جگر سے جب رہ پرسش نہ وا ہوئی
- سر بر ہوئی نہ وعدۂ صبر آزما سے عمر
- ہوئی زنجیر موج آب کو فرصت روانی کی
- جو ملی تو تلخ کامی جو ہوئی تو سرگرانی
- دل جوش گریہ میں ہے ڈوبی ہوئی اسامی
- ہوئی معزولی انداز و ادا میرے بعد
- کیا ہوئی ظالم تری غفلت شعاری ہائے ہائے
- جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
- نہ ہوئی ہم سے رقم حیرت خط رخ یار
- ہوئی ہے آتش گل آب زندگانی شمع
- یہ بات بزم میں روشن ہوئی زبانی شمع
- روندی ہوئی ہے کوکبۂ شہریار کی
- وہ نگاہیں کیوں ہوئی جاتی ہیں یارب دل کے پار
- ہوئی شام جوانی اے دل حسرت نصیب آخر
- ہوئی جس کو بہار فرصت ہستی سے آگاہی
- ہوئی قطرہ فشانی ہائے مے باران سنگ آخر
- مدت ہوئی کہ آشتی چشم و گوش ہے
- داغ فراق صحبت شب کی جلی ہوئی
- گرمیٔ دولت ہوئی آتش زن نام نکو
- ہوئی یہ بے خودی چشم و زباں کو تیرے جلوے سے
- مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے
- مدت ہوئی ہے سیر چراغاں کیے ہوئے
- ہے تیوری چڑھی ہوئی اندر نقاب کے
- ہے اک شکن پڑی ہوئی طرف نقاب میں
- ہوئی مجلس کی گرمی سے روانی دور ساغر کی
- ہوئی مدت کہ غالبؔ مر گیا پر یاد آتا ہے
- ہوئی ہے بس کہ صرف مشق تمکین بہار آتش
- جس سے مژگاں ہوئی نہ ہو گلباز
- نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلی نہ سہی
- نہ ہوئی غالبؔ اگر عمر طبیعی نہ سہی
- ہوئی ہے مانع ذوق تماشا خانہ ویرانی
- پیدا ہوئی ہے کہتے ہیں ہر درد کی دوا
- معزولیٔ تپش ہوئی افراط انتظار
- ہوئی یہ کثرت غم سے تلف کیفیت شادی
- ہوئی صبح اور گھر سے کان پر رکھ کر قلم نکلے
- ہوئی اس دور میں منسوب مجھ سے بادہ آشامی
- ہوئی جن سے توقع خستگی کی داد پانے کی
- ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا
- یوسف اس کو کہوں اور کچھ نہ کہے خیر ہوئی
- موج غبار سرمہ ہوئی ہے صدا مجھے
- ہوئی میری وہ گرمی بازار
- وضع میں گو ہوئی دو سر تیغ ہے ذوالفقار ایک
- ہوئی جب میرزا جعفر کی شادی
- ایسی رونق ہوئی برات کی رات
- ہوئی ہے ایسے ہی فرخندہ سال میں غالبؔ
- ہوئی ہے مبدع عالم سے اس قدر انعام
- جو ملی تو تلخ کامی جو ہوئی تو سرگرانی
- زباں تک آ کے ہوئی اور استوار گرہ
- بری طرح سے ہوئی ہے گلے کا ہار گرہ
- کبھی جو ہوتی ہے الجھی ہوئی دم روباہ
- پھر ہوئی ہے اسی مہینے میں
- نہ ہوئی ہو کبھی بروے زمیں
- شبنم صبح ہوئی رعشۂ اعضاے بہار
- جوش بیداد تپش سے ہوئی عریاں آخر
- چشم جبریل ہوئی قالب خشت دیوار
- بزم سلطانی ہوئی آراستہ
- ہم نشیں آدھی ہوئی تقریر آدھی رہ گئی