ہو
596 Misre
- ممکن نہیں کہ ہو دل خوباں میں کارگر
- گر ایک ادا ہو تو اسے اپنی قضا کہوں
- رنج طاقت سے سوا ہو تو نہ پیٹوں کیوں کر
- کبھی آ جائے گی کیوں کرتے ہو جلدی غالبؔ
- اگر وہ آفت نظارہ جلوہ گستر ہو
- ہلال ناخنک دیدہ ہاے اختر ہو
- بہ یاد قامت اگر ہو بلند آتش غم
- ہر ایک داغ جگر آفتاب محشر ہو
- اب اس سے ربط کروں جو بہت ستمگر ہو
- بروے آب جو ہر موج نقش مسطر ہو
- کہ قند بوسۂ شیریں لباں مکرر ہو
- سر شک چشم اسدؔ کیوں نہ اس میں گوہر ہو
- جو عزادار شہیدان نفس دردیدہ ہو
- نفس ہو نہ معزول شعلہ در و دن
- کہ مژگاں جس طرف وا ہو بکف دامان صحرا ہے
- خزاں کیا فصل گل کہتے ہیں کس کو کوئی موسم ہو
- مبادا ہو عناں گیر تغافل لطف عام اس کا
- نہ ہو بالیدہ غیر از جنبش دامان باد آتش
- ہو جو بلبل پیر و فکر اسدؔ
- غنچۂ منقار گل ہو زیر بال
- جہاں ساقی ہو تو باطل ہے دعویٰ ہوشیاری کا
- اسدؔ ساغر کش تسلیم ہو گردش سے گردوں کی
- غنچے سے منقار بلبل وار ہو فریاد گل
- شاخ گل میں ہو نہاں جوں شانہ در شمشاد گل
- بس کہ عاجز نارسائی سے کبوتر ہو گیا
- صفحۂ نامہ غلاف بالش پر ہو گیا
- خار پیراہن رگ بستر کو نشتر ہو گیا
- دامن تمثال مثل برگ گل تر ہو گیا
- خار شمع آئنہ آتش میں جوہر ہو گیا
- دامن آلودۂ عصیاں گراں تر ہو گیا
- نقش پاے خضر یاں سدّ سکندر ہو گیا
- دزدگر ہو خانگی تو پاسباں معذور ہے
- جس جگہ ہو مسند آرا جانشین مصطفی
- اے اسدؔ مایوس مت ہو از در شاہ نجف
- بے درد سر بہ سجدۂ الفت فرو نہ ہو
- جوں شمع غوطہ داغ میں کھا گر وضو نہ ہو
- آئینہ ایسے طاق پہ گم کر کہ تو نہ ہو
- یارب بیان شانہ کش گفتگو نہ ہو
- ہستی عدم ہے آئینہ گر رو برو نہ ہو
- نشتر بہ مغز پنبۂ مینا فرو نہ ہو
- یارب کہ خار پیرہن آرزو نہ ہو
- صبح بہار بھی قفس رنگ و بو نہ ہو
- بے خود زبس کہ خاطر بے تاب ہو گئی
- مژگان باز ماندہ رگ خواب ہو گئی
- میرے لیے تو تیغ سیہ تاب ہو گئی
- زلف سیاہ بھی شب مہتاب ہو گئی
- اے جان بر لب آمدہ بے تاب ہو گئی
- آنسو کی بوند گوہر نایاب ہو گئی
- مغرور نہ ہو ناداں سر تا سرگیتی ہے
- ہر چند امید دور تر ہو
- خوں ہو قفس دل میں اے ذوق پر افشانی
- غفلت افسردگی تہمت تمکیں نہ ہو
- ہاتھ پر ہو ہاتھ تو درس تاسف ہی سہی
- سرور نشۂ گردش اگر کیفیت افزا ہو
- کیوں نہ ہو چشم بتاں محو تغافل کیوں نہ ہو
- نیاز پر فشانی ہو گیا صبر و شکیب آخر
- جنوں کی دستگیری کس سے ہو گر ہو نہ عریانی
- نفس تیری گلی میں خوں ہو اور بازار رنگیں ہے
- عمر میری ہو گئی صرف بہار حسن یار
- نوک سر مژگاں سے رقم ہو گلۂ پا
- تبخالۂ لب ہو نہ سکا آبلۂ پا
- دھویں سے آگ کے اک ابر دریا بار ہو پیدا
- خرمن بباد وا دعوے ہیں بہو سو ہو
- جگر سے ٹوٹی ہوئی ہو گئی سناں پیدا
- جس دم کہ جادہ دار ہو تار نفس تمام
- اچھا اگر نہ ہو تو مسیحا کا کیا علاج
- کمال حسن اگر موقوف انداز تغافل ہو
- دل آگاہ تسکیں خیز بیدردی نہ ہو یارب
- ہو گئے باہم دگر جوش پریشانی سے جمع
- نہ کھڑے ہو جیے خوبان دل آزار کے پاس
- تکلف کو خیال آیا ہو گر بیمار پرسی کا
- اسدؔ تاثیر صافی ہاے حیرت جلوہ پرور ہو
- تیرے چہرے سے ہو ظاہر غم پنہاں میرا
- خط جو رخ پر جانشین بالۂ مہ ہو گیا
- ہالہ دود شعلۂ جوالۂ مہ ہو گیا
- ہالۂ دیگر بہ گرد ہالۂ مہ ہو گیا
- پارۂ چاک کتاں پرکالہ مہ ہو گیا
- داغ مہ جوش چمن سے لالۂ مہ ہو گیا
- زباں ہر چند ہو جاوے زبانہ
- خم گیسو ہو شمشیر سیہ تاب اور شب کاٹے
- یقین ہے آدمی کو دستگاہ فقر حاصل ہو
- غم عشاق نہ ہو سادگی آموز بتاں
- کاش ہو قدرت برچیدن داماں مجھ سے
- ورنہ کیا ہو نہ سکے نالہ بساماں مجھ سے
- پر افشاں ہو گئے شعلے ہزاروں
- ہو قبول کم نگاہی تحفۂ اہل نیاز
- وہ جہاں مسند نشین بارگاہ ناز ہو
- قامت خوباں ہو محراب نیازستان عجز
- گر جلوۂ خرشید خریدار وفا ہو
- صبح دم وہ جلوہ ریز بے نقابی ہو اگر
- بادشاہی کا جہاں یہ حال ہو غالبؔ تو پھر
- تم ہو بیداد سے خوش اس سے سوا اور سہی
- ہیں ہوس پیشہ بہت وہ نہ ہو اور سہی
- تم ہو بت پھر تمہیں پندار خدائی کیوں ہے
- مرگ شیریں ہو گئی تھی کوہکن کی فکر میں
- نالاں ہو اسدؔ تو بھی سر راہ گزر پر
- چمن زار تمنا ہو گئی صرف خزاں لیکن
- مبادا بے تکلف فصل کا برگ و نوا گم ہو
- مگر طوفان مے میں پیچش موج صبا گم ہو
- اثر سرمے سے اور لب ہاے عاشق سے صدا گم ہو
- کہ موج گریہ میں صد خندۂ دنداں نما گم ہو
- فرو ہوتا ہے سر سجدے میں اے دست دعا گم ہو
- مباداے پیچتاب طبع نقش مدعا گم ہو
- عرق بھی جن کے عارض پر بہ تکلیف حیا گم ہو
- کہ جس کے ہاتھ میں مانند خوں رنگ حنا گم ہو
- دم صبح قیامت در گریبان قبا گم ہو
- بدام جوہر آئینہ ہو جاوے شکار اپنا
- مگر ہو مانع دامن کشی ذوق خود آرائی
- سراسر عجز ہو کر خانہ مانند کماں خالی
- نہ ہو حسن تماشا دوست رسوا بے وفائی کا
- نامہ بھی لکھتے ہو تو بخط غبار حیف
- رکھتے ہو مجھ سے اتنی کدورت ہزار حیف
- پائی جگہ بھی دل میں تو ہو کر غبار حیف
- قیس بھاگا شہر سے شرمندہ ہو کر سوے دشت
- دریغا بستن رخت سفر سے ہو کے میں غافل
- داغ ربط ہم ہیں اہل باغ گر گل ہو شہید
- ہو جہاں تیرا دماغ ناز مست بے خودی
- اگر وحشت عرق افشان بے پروا خرامی ہو
- خدایا خوں ہو رنگ امتیاز اور نالہ موزوں ہو
- اسدؔ کے واسطے رنگے بروے کار ہو پیدا
- ہوں دردمند جبر ہو یا اختیار ہو
- ذوق راحت اگر احرام تپش ہو جوں شمع
- پروانے سے ہو شاید تسکین شعلۂ شمع
- جب نالہ خوں ہو غافل تاثیر کیا بلا ہے
- گر خاک ہو گلدستۂ صد نقش قدم باندھ
- سحر گہ باغ میں وہ حیرت گلزار ہو پیدا
- اڑے رنگ گل اور آئینہ دیوار ہو پیدا
- کہ خط سبز تا پشت لب سوفار ہو پیدا
- بجاے زخم گل بر گوشۂ دستار ہو پیدا
- رگ ہر سنگ سے نبض دل بیمار ہو پیدا
- اگر ابر سیہ مست از سوے کہسار ہو پیدا
- اسدؔ مایوس مت ہو گرچہ رونے میں اثر کم ہے
- کہ غالب ہے کہ بعد از زاری بسیار ہو پیدا
- ہو جہاں وہ ساقی خرشید رو مجلس فروز
- گر ہو بلد شوق مری خاک کو وحشت
- اسدؔ گر نام دالاے علی تعویذ بازو ہو
- اگر وا ہو تو دکھلادوں کہ یک عالم گلستاں ہے
- جوں اعتماد نامہ و خط کا ہو مہر سے
- دیدہ گو خوں ہو تماشائے چمن مطلب تھا
- جوں پنجۂ خرشید ہو اے دست دعا گرم
- کہ سرد ہو نہ سکے اس کا مصرع ثانی
- ہو چکے ہم جادہ ساں صد بار قطع اور پھر ہنوز
- ہو سکے ہے پردۂ جوشیدن خون جگر
- ہو سکے کب کلفت دل مانع سیلان اشک
- ہو گئی ہے غیر کی شیریں بیانی کارگر
- شرر ہو قطرۂ خون فسردہ در رگ خارا
- بے صرفہ ہی گزرتی ہے ہو گرچہ عمر خضر
- مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم
- صحبت میں غیر کی نہ پڑی ہو کہیں یہ خو
- بدام جوہر آئینہ ہو جاوے شکار اپنا
- مگر ہو مانع دامن کشی ذوق خود آرائی
- رنگ ہو کر اڑ گیا جو خوں کہ دامن میں نہیں
- ہو گئے ہیں جمع اجزائے نگاہ آفتاب
- ہو فشار ضعف میں کیا ناتوانی کی نمود
- تھی وطن میں شان کیا غالبؔ کہ ہو غربت میں قدر
- بے تکلف دوست ہو جیسے کوئی غم خوار دوست
- اشک ہو جاتے ہیں خشک از گرمیٔ رفتار دوست
- دام گر سبزے میں پنہاں کیجیے طاؤس ہو
- خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہوتے تک
- غم ہستی کا اسدؔ کس سے ہو جز مرگ علاج
- سچ کہتے ہو خودبین و خود آرا ہوں نہ کیوں ہوں
- ہے موجزن اک قلزم خوں کاش یہی ہو
- کیا رہوں غربت میں خوش جب ہو حوادث کا یہ حال
- کہیں ہو جائے جلد اے گردش گردون دوں وہ بھی
- تو ہو اور آپ بہ صد رنگ گلستاں ہونا
- جس کی قسمت میں ہو عاشق کا گریباں ہونا
- بسکہ دوڑے ہے رگ تاک میں خوں ہو ہو کر
- پھر ہوا وقت کہ ہو بال کشا موج شراب
- پھر ہوا وقت کہ ہو بال کشا موج شراب
- کہ ہو گئے مرے دیوار و در در و دیوار
- نامہ بھی لکھتے ہو تو بہ خط غبار حیف
- رکھتے ہو مجھ سے اتنی کدورت ہزار حیف
- پائی جگہ بھی دل میں تو ہو کر غبار حیف
- جتنے زیادہ ہو گئے اتنے ہی کم ہوئے
- تیری وفا سے کیا ہو تلافی کہ دہر میں
- خوشا وہ دل کہ سراپا طلسم بے خبری ہو
- تم جانو تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہو
- مجھ کو بھی پوچھتے رہو تو کیا گناہ ہو
- قاتل اگر رقیب ہے تو تم گواہ ہو
- مانا کہ تم بشر نہیں خورشید و ماہ ہو
- مرتا ہوں میں کہ یہ نہ کسی کی نگاہ ہو
- مسجد ہو مدرسہ ہو کوئی خانقاہ ہو
- لیکن خدا کرے وہ ترا جلوہ گاہ ہو
- غالبؔ بھی گر نہ ہو تو کچھ ایسا ضرر نہیں
- دنیا ہو یا رب اور مرا بادشاہ ہو
- خوشا اقبال رنجوری عیادت کو تم آئے ہو
- غارت گر ناموس نہ ہو گر ہوس زر
- جس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کی
- کیوں ڈرتے ہو عشاق کی بے حوصلگی سے
- دشنے نے کبھی منہ نہ لگایا ہو جگر کو
- خنجر نے کبھی بات نہ پوچھی ہو گلو کی
- بخیہ جسے کہتے ہو شکایت ہے رفو کی
- جنوں تہمت کش تسکیں نہ ہو گر شادمانی کی
- جنوں کی دستگیری کس سے ہو گر ہو نہ عریانی
- گریباں چاک کا حق ہو گیا ہے میری گردن پر
- بہ گمان قطع زحمت نہ دو چار خامشی ہو
- جو گداز دل ہو مطلب تو چمن ہے سنگ جانی
- کہ خیال ہو تعب کش بہ ہوائے کامرانی
- اگر آرزو رسا ہو پئے درد دل دوا ہو
- وہ اجل کہ خوں بہا ہو بہ شہید ناتوانی
- دل نا امید کیونکر بہ تسلی آشنا ہو
- ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا
- لاگ ہو تو اس کو ہم سمجھیں لگاو
- جب نہ ہو کچھ بھی تو دھوکا کھائیں کیا
- ہو لیے کیوں نامہ بر کے ساتھ ساتھ
- کرتے ہو شکوہ کس کا تم اور بے وفائی
- دعا قبول ہو یا رب کہ عمر خضر دراز
- نہ ہو بہ ہرزہ بیاباں نورد وہم وجود
- حسد سے دل اگر افسردہ ہے گرم تماشا ہو
- کہ چشم تنگ شاید کثرت نظارہ سے وا ہو
- بھروں یک گوشۂ دامن گر آب ہفت دریا ہو
- کف ہر خاک گلشن شکل قمری نالہ فرسا ہو
- کہ تار جادہ بھی کہسار کو زنار مینا ہو
- کہ مثل غنچہ ساز یک گلستاں دل مہیا ہو
- مرا حاصل وہ نسخہ ہے کہ جس سے خاک پیدا ہو
- جسے موئے دماغ بے خودی خواب زلیخا ہو
- نگہ لبریز اشک و سینہ معمور تمنا ہو
- خدایا اس قدر بزم اسدؔ گرم تماشا ہو
- وہ گدا جس کو نہ ہو خوئے سوال اچھا ہے
- جس طرح کا کہ کسی میں ہو کمال اچھا ہے
- قطرہ دریا میں جو مل جاے تو دریا ہو جائے
- رہے دل ہی میں تیر اچھا جگر کے پار ہو بہتر
- رگ و پے میں جب اترے زہر غم تب دیکھیے کیا ہو
- مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں
- خطر ہے رشتۂ الفت رگ گردن نہ ہو جاوے
- غرور دوستی آفت ہے تُو دشمن نہ ہو جاوے
- اگر گل سرو کے قامت پہ پیراہن نہ ہو جاوے
- تبسم برگ گل کو بخیۂ دامن نہ ہو جاوے
- کہ رشتہ تار اشک دیدۂ سوزن نہ ہو جاوے
- سفیدی آئینے کی پنبۂ روزن نہ ہو جاوے
- رکھتے ہو تم قدم مری آنکھوں سے کیوں دریغ
- کرتے ہو مجھ کو منع قدم بوس کس لیے
- غالبؔ وظیفہ خوار ہو دو شاہ کو دعا
- گل فشانی ہائے ناز جلوہ کو کیا ہو گیا
- جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کو
- شق ہو گیا ہے سینہ خوشا لذت فراغ
- شعلہ رو جب ہو گئے گرم تماشا جل گیا
- آپ ہی ہو نظارہ سوز پردے میں منہ چھپائے کیوں
- جس کو ہو دین و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں
- ہو غم ہی جاں گداز تو غم خوار کیا کریں
- ہو کر اسیر دابتے ہیں راہزن کے پاؤں
- شب کو کسی کے خواب میں آیا نہ ہو کہیں
- غالبؔ مرے کلام میں کیوں کر مزا نہ ہو
- ہوا رقیب تو ہو نامہ بر ہے کیا کہئے
- کیوں نہ ہو بے التفاتی اس کی خاطر جمع ہے
- نغمہ ہو جاتا ہے واں گر نالہ میرا جائے ہے
- ہو کے عاشق وہ پری رخ اور نازک بن گیا
- ظلم کر ظلم اگر لطف دریغ آتا ہو
- داغ ہم دیگر ہیں اہل باغ گر گل ہو شہیدؔ
- ہو جہاں تیرا دماغ ناز مست بے خودی
- نہ کیوں ہو دل پہ مرے داغ بد گمانی شمع
- نظارہ کیا حریف ہو اس برق حسن کا
- لوگوں میں کیوں نمود نہ ہو لالہ زار کی
- رونے سے اور عشق میں بے باک ہو گئے
- دھوئے گئے ہم اتنے کہ بس پاک ہو گئے
- تھے یہ ہی دو حساب سو یوں پاک ہو گئے
- بارے طبیعتوں کے تو چالاک ہو گئے
- پردے میں گل کے لاکھ جگر چاک ہو گئے
- آپ اپنی آگ کے خس و خاشاک ہو گئے
- کی ایک ہی نگاہ کہ بس خاک ہو گئے
- دشمن بھی جس کو دیکھ کے غم ناک ہو گئے
- رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو
- ہم سخن کوئی نہ ہو اور ہمزباں کوئی نہ ہو
- کوئی ہمسایہ نہ ہو اور پاسباں کوئی نہ ہو
- پڑیے گر بیمار تو کوئی نہ ہو تیماردار
- اور اگر مر جائیے تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو
- سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں
- خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں
- لیکن اب نقش و نگار طاق نسیاں ہو گئیں
- شب کو ان کے جی میں کیا آئی کہ عریاں ہو گئیں
- لیکن آنکھیں روزن دیوار زنداں ہو گئیں
- ہے زلیخا خوش کہ محو ماہ کنعاں ہو گئیں
- میں یہ سمجھوں گا کہ شمعیں دو فروزاں ہو گئیں
- قدرت حق سے یہی حوریں اگر واں ہو گئیں
- تیری زلفیں جس کے بازو پر پریشاں ہو گئیں
- بلبلیں سن کر مرے نالے غزل خواں ہو گئیں
- جو مری کوتاہیٔ قسمت سے مژگاں ہو گئیں
- میری آہیں بخیۂ چاک گریباں ہو گئیں
- یاد تھیں جتنی دعائیں صرف درباں ہو گئیں
- سب لکیریں ہاتھ کی گویا رگ جاں ہو گئیں
- ملتیں جب مٹ گئیں اجزائے ایماں ہو گئیں
- مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں
- دیکھنا ان بستیوں کو تم کہ ویراں ہو گئیں
- نیاز پر فشانی ہو گیا صبر و شکیب آخر
- تیرے چہرے سے ہو ظاہر غم پنہاں میرا
- کیا غم ہے اس کو جس کا علیؔ سا امام ہو
- بیگانگی خلق سے بیدل نہ ہو غالبؔ
- دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو
- ہو کر شہید عشق میں پائے ہزار جسم
- عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
- درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا
- تھا لکھا بات کے بنتے ہی جدا ہو جانا
- مٹ گیا گھسنے میں اس عقدے کا وا ہو جانا
- اس قدر دشمن ارباب وفا ہو جانا
- باور آیا ہمیں پانی کا ہوا ہو جانا
- ہو گیا گوشت سے ناخن کا جدا ہو جانا
- روتے روتے غم فرقت میں فنا ہو جانا
- کیوں ہے گرد رہ جولان صبا ہو جانا
- چشم کو چاہیے ہر رنگ میں وا ہو جانا
- دیکھ برسات میں سبز آئنے کا ہو جانا
- راز معشوق نہ رسوا ہو جائے
- اپنی ہستی ہی سے ہو جو کچھ ہو
- گر اک ادا ہو تو اسے اپنی قضا کہوں
- کیا زہد کو مانوں کہ نہ ہو گرچہ ریائی
- خوں ہو کے جگر آنکھ سے ٹپکا نہیں اے مرگ
- گر ترے دل میں ہو خیال وصل میں شوق کا زوال
- جو یہ کہے کہ ریختہ کیونکے ہو رشک فارسی
- خط لکھیں گے گرچہ مطلب کچھ نہ ہو
- اردی جو نہ ہو تو دے نہیں ہے
- نہیں گر ہمدمی آساں نہ ہو یہ رشک کیا کم ہے
- آئے ہو کل اور آج ہی کہتے ہو کہ جاؤں
- جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے
- ناداں ہو جو کہتے ہو کہ کیوں جیتے ہیں غالبؔ
- میں ہوں وہ قطرۂ شبنم کہ ہو خار بیاباں پر
- جہاں ساقی ہو تو باطل ہے دعویٰ ہوشیاری کا
- اسدؔ ساغر کش تسلیم ہو گردش سے گردوں کی
- اچھا اگر نہ ہو تو مسیحا کا کیا علاج
- سر کھجاتا ہے جہاں زخم سر اچھا ہو جائے
- یہ مطلع اسدؔ جوہر افسون سخن ہو
- خزاں کیا فصل گل کہتے ہیں کس کو کوئی موسم ہو
- اسدؔ گر نام والائے علی تعویذ بازو ہو
- کہ مژگاں جس طرف وا ہو بہ کف دامان صحرا ہے
- وہ بات چاہتے ہو کہ جو بات چاہیے
- کافر ہوں گر نہ ملتی ہو راحت عذاب میں
- ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں
- جو منکر وفا ہو فریب اس پہ کیا چلے
- جس سحر سے سفینہ رواں ہو سراب میں
- نہ کھڑے ہو جیے خوبان دل آزار کے پاس
- مہرباں ہو کے بلا لو مجھے چاہو جس وقت
- موت کچھ تم تو نہیں ہو کہ بلا بھی نہ سکوں
- قہر ہو یا بلا ہو جو کچھ ہو
- کرتے کس منہ سے ہو غربت کی شکایت غالبؔ
- کاش یوں بھی ہو کہ بن میرے ستائے نہ بنے
- اس نزاکت کا برا ہو وہ بھلے ہیں تو کیا
- مبادا خندۂ دنداں نما ہو صبح محشر کی
- دھوئیں سے آگ کے اک ابر دریا بار ہو پیدا
- وہ بھی دن ہو کہ اس ستم گر سے
- جس سے مژگاں ہوئی نہ ہو گلباز
- تو ہوا جلوہ گر مبارک ہو
- امتحاں اور بھی باقی ہو تو یہ بھی نہ سہی
- نہ ہو وحشت کش درس سراب سطر آگاہی
- جہاں میں ہو غم شادی بہم ہمیں کیا کام
- بیاں کس سے ہو ظلمت گستری میرے شبستاں کی
- شب مہ ہو جو رکھ دوں پنبہ دیواروں کے روزن میں
- سیہ ہو کر سویدا ہو گیا ہر قطرۂ خوں تن میں
- خم دست نوازش ہو گیا ہے طوق گردن میں
- وارستہ اس سے ہیں کہ محبت ہی کیوں نہ ہو
- کیجے ہمارے ساتھ عداوت ہی کیوں نہ ہو
- ہے دل پہ بار نقش محبت ہی کیوں نہ ہو
- ہر چند بر سبیل شکایت ہی کیوں نہ ہو
- یوں ہو تو چارۂ غم الفت ہی کیوں نہ ہو
- اپنے سے کھینچتا ہوں خجالت ہی کیوں نہ ہو
- ہم انجمن سمجھتے ہیں خلوت ہی کیوں نہ ہو
- حاصل نہ کیجے دہر سے عبرت ہی کیوں نہ ہو
- اپنے سے کر نہ غیر سے وحشت ہی کیوں نہ ہو
- عمر عزیز صرف عبادت ہی کیوں نہ ہو
- اس میں ہمارے سر پہ قیامت ہی کیوں نہ ہو
- یعنی یہ میری آہ کی تاثیر سے نہ ہو
- آئینہ تاکہ دیدۂ نخچیر سے نہ ہو
- جان کر کیجے تغافل کہ کچھ امیدؔ بھی ہو
- تم وو نازک کہ خموشی کو فغاں کہتے ہو
- مضمحل ہو گئے قویٰ غالب
- پا بہ دامن ہو رہا ہوں بسکہ میں صحرا نورد
- کثرت جور و ستم سے ہو گیا ہوں بے دماغ
- نہ ہو حسن تماشا دوست رسوا بے وفائی کا
- چراغ خانۂ درویش ہو کاسہ گدائی کا
- کہ زمیں ہو گئی ہے سر تا سر
- کیوں نہ دنیا کو ہو خوشی غالبؔ
- ہو رہا ہے جہان میں اندھیر
- منحصر مرنے پہ ہو جس کی امید
- دل تو ہو اچھا نہیں ہے گر دماغ
- اے کرم نہ ہو غافل ورنہ ہے اسدؔ بیدل
- کسی کو دے کے دل کوئی نواسنج فغاں کیوں ہو
- نہ ہو جب دل ہی سینے میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو
- سبک سر بن کے کیا پوچھیں کہ ہم سے سرگراں کیوں ہو
- نہ لاوے تاب جو غم کی وہ میرا رازداں کیوں ہو
- تو پھر اے سنگ دل تیرا ہی سنگ آستاں کیوں ہو
- گری ہے جس پہ کل بجلی وہ میرا آشیاں کیوں ہو
- یہ کہہ سکتے ہو ہم دل میں نہیں ہیں پر یہ بتلاؤ
- کہ جب دل میں تمہیں تم ہو تو آنکھوں سے نہاں کیوں ہو
- نہ کھینچو گر تم اپنے کو کشاکش درمیاں کیوں ہو
- ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو
- عدو کے ہو لیے جب تم تو میرا امتحاں کیوں ہو
- کہا تم نے کہ کیوں ہو غیر کے ملنے میں رسوائی
- بجا کہتے ہو سچ کہتے ہو پھر کہیو کہ ہاں کیوں ہو
- ترے بے مہر کہنے سے وہ تجھ پر مہرباں کیوں ہو
- ہو چکیں غالبؔ بلائیں سب تمام
- کوہ کے ہوں بار خاطر گر صدا ہو جائیے
- بے تکلف اے شرار جستہ کیا ہو جائیے
- از سر نو زندگی ہو گر رہا ہو جائیے
- یک بیاباں سایۂ بال ہما ہو جائیے
- کہتے تو ہو تم سب کہ بت غالیہ مو آئے
- اس در پہ نہیں بار تو کعبہ ہی کو ہو آئے
- کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا
- کیوں نہ وحشت غالب باج خواہ تسکیں ہو
- جس قدر جگر خوں ہو کوچہ دادن گل ہے
- کہوں جو حال تو کہتے ہو مدعا کہیے
- نہیں نگار کو الفت نہ ہو نگار تو ہے
- نہیں بہار کو فرصت نہ ہو بہار تو ہے
- کیا آبروئے عشق جہاں عام ہو جفا
- کیوں نہ ہو چشم بتاں محو تغافل کیوں نہ ہو
- ہو سکے کیا خاک دست و بازوئے فرہاد سے
- گر نہ اندوہ شب فرقت بیاں ہو جائے گا
- بے تکلف داغ مہ مہر دہاں ہو جائے گا
- پرتو مہتاب سیل خانماں ہو جائے گا
- ایسی باتوں سے وہ کافر بد گماں ہو جائے گا
- یعنی یہ پہلے ہی نذر امتحاں ہو جائے گا
- مجھ پہ گویا اک زمانہ مہرباں ہو جائے گا
- شعلہ خس میں جیسے خوں رگ میں نہاں ہو جائے گا
- ہر گل تر ایک چشم خوں فشاں ہو جائے گا
- واے گر میرا ترا انصاف محشر میں نہ ہو
- اب تلک تو یہ توقع ہے کہ واں ہو جائے گا
- دوستی ناداں کی ہے جی کا زیاں ہو جائے گا
- خار گل بہر دہان گل زباں ہو جائے گا
- گر شہادت آرزو ہے نشے میں گستاخ ہو
- بال شیشے کا رگ سنگ فساں ہو جائے گا
- گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیونکر ہو
- کہے سے کچھ نہ ہوا پھر کہو تو کیونکر ہو
- کہ گر نہ ہو تو کہاں جائیں ہو تو کیونکر ہو
- حیا ہے اور یہی گو مگو تو کیونکر ہو
- بتوں کی ہو اگر ایسی ہی خو تو کیونکر ہو
- الجھتے ہو تم اگر دیکھتے ہو آئینہ
- جو تم سے شہر میں ہوں ایک دو تو کیونکر ہو
- جسے نصیب ہو روز سیاہ میرا سا
- وہ شخص دن نہ کہے رات کو تو کیونکر ہو
- ہماری بات ہی پوچھیں نہ وہ تو کیونکر ہو
- نہ مانے دیدۂ دیدار جو تو کیونکر ہو
- وہ نیش ہو رگ جاں میں فرو تو کیونکر ہو
- فراق یار میں تسکین ہو تو کیونکر ہو
- ہر چند ہو مشاہدۂ حق کی گفتگو
- بہرا ہوں میں تو چاہیئے دونا ہو التفات
- ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
- کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے
- وہ چیز جس کے لیے ہم کو ہو بہشت عزیز
- رہی نہ طاقت گفتار اور اگر ہو بھی
- غم عشاق نہ ہو سادگی آموز بتاں
- بے خودی بستر تمہید فراغت ہو ۔۔۔جو
- ہو نگہ مثل گل شمع پریشاں مجھ سے
- غم عشاق نہ ہو سادگی آموز بتاں
- ورنہ کیا ہو نہ سکے نالہ بساماں مجھ سے
- کاش ہو قدرت برچیدن داماں مجھ سے
- بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے
- غرۂ اوج بنائے عالم امکاں نہ ہو
- بے صدا ہو جائے گا یہ ساز ہستی ایک دن
- آخر زباں تو رکھتے ہو تم گر دہاں نہیں
- خنجر سے چیر سینہ اگر دل نہ ہو دو نیم
- ہے ننگ سینہ دل اگر آتش کدہ نہ ہو
- نقصاں نہیں جنوں میں بلا سے ہو گھر خراب
- کہتے ہو کیا لکھا ہے تری سر نوشت میں
- ہو گئی ہے غیر کی شیریں بیانی کارگر
- نہ ہو مرنا تو جینے کا مزا کیا
- تو مجھے بھول گیا ہو تو پتا بتلا دوں
- دیکھ کر غیر کو ہو کیوں نہ کلیجا ٹھنڈا
- ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالبؔ
- جس کی صدا ہو جلوۂ برق فنا مجھے
- تم شہر میں ہو تو ہمیں کیا غم جب اٹھیں گے
- جس کی بہار یہ ہو پھر اس کی خزاں نہ پوچھ
- رکھتا ہو مثل سایۂ گل سر بہ پائے گل
- اے وائے گر نگاہ نہ ہو آشنائے گل
- دل لگا کر آپ بھی غالبؔ مجھی سے ہو گئے
- جسے غم سمجھ رہے ہو یہ اگر شرار ہوتا
- ہاں نفس باد سحر شعلہ فشاں ہو
- اے دجلۂ خوں چشم ملائک سے رواں ہو
- اے زمزمۂ قم لب عیسی پہ فغاں ہو
- اے ماتمیان شہ مظلوم کہاں ہو
- ہو گا دل بیتاب کسی سوختہ جاں کا
- تاترے وقت میں ہو عیش و طرب کی توفیر
- تاترے عہد میں ہو رنج و الم کی تقلیل
- بارے نوکر بھی ہو گیا صد شکر
- نسبتیں ہو گئیں مشخص چار
- کیوں نہ درکار ہو مجھے پوشش
- اور چھ ماہی ہو سال میں دوبار
- ہو گیا ہے شریک ساہوکار
- تا نہ ہو مجھ کو زندگی دشوار
- جو آئے جام بھر کے پیے اور ہو کے مست
- صبح دم باغ میں آ جائے جسے ہو نہ یقیں
- حق سے کیا مانگیے ان کے لیے جب ہو موجود
- افطار صوم کی کچھ اگر دستگاہ ہو
- جس پاس روزہ کھول کے کھانے کو کچھ نہ ہو
- سال ہجری نو ہو گیا معلوم
- نہ کیوں ہو مادۂ سال عیسوی محظوظ
- استاد شہ سے ہو مجھے پرخاش کا خیال
- روئے سخن کسی کی طرف ہو تو رو سیاہ
- شفا ہو آپ کو غالبؔ کو بند غم سے نجات
- خدا کرے کہ یہ ایسا ہو سازگار برس
- چشم بینش ہو جس سے نورانی
- منطبع ہو رہی ہے پنج آہنگ
- اس سے جو کوئی بہرہ ور ہو گا
- سینہ گنجینۂ گہر ہو گا
- ہو سخن کی جسے طلب گاری
- منطبع جب کہ ہو چکے گی کتاب
- زر قیمت کا ہو گا اور حساب
- چار سے پھر نہ ہو گی کم قیمت
- جس کو منظور ہو کہ زر بھیجے
- کہ نہ ارسال زر میں ہو تاخیر
- خستگی کا ہو بھلا جس کے سبب سے سر دست
- کہ جو شریک ہو میرا شریک غالبؔ ہے
- خوش ہو اے بخت کہ ہے آج ترے سر سہرا
- تب بنا ہو گا اس انداز کا گز بھر سہرا
- بہ گمان قطع زحمت نہ دو چار خامشی ہو
- جو گداز دل ہو مطلب تو چمن ہے سنگ جانی
- کہ خیال ہو تعب کش بہ ہواے کامرانی
- اگر آرزو رسا ہو پے درد دل دوا ہو
- وہ اجل کہ خوں بہا ہو بہ شہید ناتوانی
- دل نا امید کیونکر بہ تسلی آشنا ہو
- خوں ہو آئینہ کہ ہو جامۂ طفلاں رنگیں
- شور اوہام سے مت ہو شب خون انصاف
- ہو وہ سرمایۂ ایجاد جہاں گرم خرام
- جلوہ پرواز ہو نقش قدم اس کا جس جا
- برگ گل کا ہو جو طوفان ہوا میں عالم
- عرش چاہے ہے کہ ہو در پہ ترے خاک نشیں
- غم شبیر سے ہو سینہ یہاں تک لبریز
- جو عقدہ دشوار کہ کوشش سے نہ وا ہو
- رواں ہو تار پہ فی الفور دانہ وار گرہ
- کہ ہو گئے ہیں گہر ہاے شاہوار گرہ
- مہر تاباں کو ہو تو ہو اے ماہ
- تجھ کو کس نے کہا کہ ہو بدنام
- غم سے جب ہو گئی ہو زیست حرام
- گر نہ رکھتا ہو دست گاہ تمام
- کیوں نمایاں ہو صورت ادغام
- ہو ابد تک رسائیٔ انجام
- جس بزم میں کہ ہو انھیں آہنگ میکشی
- سچ ہے تم آفتاب ہو جس کے فروغ سے
- حق کے تفضلات سے ہو مرجع انام
- استادہ ہو گئے لب دریا پہ جب خیام
- ملک و سپہ نہ ہو تو نہ ہو کچھ ضرر نہیں
- وکٹوریا کا دہر میں جو مدح خوان ہو
- بے وجہ کیوں ذلیل ہو غالبؔ ہے جس کا نام
- جہاں ہو توسن حشمت کا اس کے جولاں گاہ
- وہ مہرباں ہو تو انجم کہیں الٰہی شکر
- وہ خشمگیں ہو تو گردوں کہے خدا کی پناہ
- شعاع مہر درخشاں ہو اس کا تار نگاہ
- جوان ہو کے کرے گا یہ وہ جہانبانی
- یہ جتنے سینکڑے ہیں سب ہزار ہو جاویں
- دراز اس کی ہو عمر اس قدر سخن کوتاہ
- نہ ہوئی ہو کبھی بروے زمیں
- ہو گیا ہوں نزار و زارو حزیں
- میکدے میں ہو اگر آرزوے گل چینی
- سبز مثل خط نوخیز ہو خط پرکار
- واں کی خاشاک سے حاصل ہو جسے یک پرکاہ
- موج طوفاں ہو اگر خون دو عالم ہستی
- دشت تسخیر ہو گر گرد خرام دلدل
- نرم رفتار ہو جس کوہ پہ وہ برق گداز
- جس چمن میں ہو ترا جلوۂ محروم نواز
- جس ادب گاہ میں تو آئنہ شوخی ہو
- مردمک سے ہو عزا خانۂ اقبال نگاہ
- خاک در کی ترے جو چشم نہ ہو آئنہ دار
- عرض خمیازۂ سیلاب ہو طاق دیوار
- ہو جہاں گرم غزالخوانی نفس
- اے منشی خیرہ سر سخن ساز نہ ہو
- عصفور ہے تو مقابل باز نہ ہو
- لاٹھی وہ لگے کہ جس میں آواز نہ ہو
- سنتے ہو تراویح میں کتنا قرآں
- غالبؔ منہ بند ہو گیا ہے گویا
- دکھ جی کے پسند ہو گیا ہے غالبؔ
- دل رک رک کر بند ہو گیا ہے غالبؔ
- سونا سوگند ہو گیا ہے غالبؔ
- پروانے کا نہ غم ہو تو پھر کس لیے اسدؔ
- دہری کیوں کر ہو جو کہ ہووے صوفی
- شیعی کیوں کر ہو ماور النہری
- جو ہاتھ کہ ظلم سے اٹھایا ہو گا
- ان چار میں ایک سے ہو جس کو انکار
- نبی کا ہو نہ جسے اعتقاد کافر ہے
- جب خزاں آئے تب ہو اس کی بہار
- یہ یہ ہو گا کہ فرط رافت سے
- خاص وہ آم جو نہ ارزاں ہو
- نو بر نخل باغ سلطاں ہو
- اے ہمہ بے مدعائی یک دعا ہو جائیے
- بتو توبہ کرو تم کیا ہو جب اعتبار آتا ہے
- دل تو ہو اچھا نہیں ہے گر دماغ
- اعضا شکنی ہو چکی اب جاں شکنی ہے
- ہو کر شہید عشق میں پائے ہزار جسم
- ہیولیٰ صورت کابوس پھر خواب گراں کیوں ہو
- جو ہو جاوے نثار برق مشت خار و خس بہتر
- جوں شمع آپ اپنی وہ خوراک ہو گئے
- شمشیر صاف یار جو زہراب دادہ ہو
- وہ خط سبز ہے کہ بہ رخسار سادہ ہو
- ولی عہدی میں شاہی ہو مبارک
- عنایات الٰہی ہو مبارک
- وہ بات چاہتے ہو کہ جو بات چاہیے
- جس کے پڑھنے سے ہو راضی بے نیاز
- اسم وہ ہے جس کو تم کہتے ہو نام
- گال پر جو تل ہو اس کو خال کہہ
- سبز ہو جب تک اسے کہیے گیاہ
- خشک ہو جاتی ہے تب کہتے ہیں کاہ
- کس کو کہتے ہیں غزل ارشاد ہو
- ہاں غزل پڑھیے سبق گر یاد ہو
- پھاند جانا یاد ہو دیوار کا
- من شوم خاموش میں چپ ہو رہوں
- جو نئی ہو چیز اسے کہیے جدید
- کس طرح پڑھتے ہو رک رک کر سبق
- مستی چشم سیہ سے چل کے ہو ویں چارہ ساز
- اس بت مغرور کو کیا ہو کسی پر التفات
- خط میں آدھی ہو سکی تحریر آدھی رہ گئی
- ہو تجلی برق کی صورت میں ہے یہ بھی غضب
- تم جو فرماتے ہو دیکھ اے غالبؔ آشفتہ سر