ہنگام
11 Misre
- ہنگام انتظار قدوم بتاں اسدؔ
- اسدؔ جاں نذر الطافے کہ ہنگام ہم آغوشی
- صافی رخ سے ترے ہنگام شب
- دامن گردوں میں رہ جاتا ہے ہنگام وداع
- ہنگام تصور ہوں دریوزہ گر بوسہ
- آشیاں بند بہار عیش ہوں ہنگام قتل
- بہ ہنگام تصور ساغر زانو سے پیتا ہوں
- شعلۂ آواز خوباں پر بہ ہنگام سماع
- حسن مہ گرچہ بہ ہنگام کمال اچھا ہے
- سر پائے خم پہ چاہیے ہنگام بے خودی
- ہنگام تصور ہوں دریوزہ گر بوسہ