ہنوز
112 Misre
- دلے ہنوز خیال وصال خام رہا
- برق بہار سے ہوں میں پادر حنا ہنوز
- بے گانۂ وفا ہے ہواے چمن ہنوز
- وہ سبزہ سنگ پر نہ اگا کوہکن ہنوز
- ہے داغ عشق زینت جیب کفن ہنوز
- ہوں گل فروش شوخی داغ کہن ہنوز
- خمیازہ کھینچے ہے بت بے داد فن ہنوز
- ہے ربط مشک و داغ سواد ختن ہنوز
- زنجیر پا ہے رشتۂ حب الوطن ہنوز
- بیرون دل نہ تھی تپش انجمن ہنوز
- سوزن میں تھا نہفتہ گل پیرہن ہنوز
- میں ہوں سراب یک تپش آموختن ہنوز
- زخم جگر ہے تشنۂ لب دوختن ہنوز
- کشت سپند صد جگر اندوختن ہنوز
- درپردہ ہے معاملۂ سوختن ہنوز
- ہے شمع جادہ داغ نے فروختن ہنوز
- بزم طرب ہے پردگئے سوختن ہنوز
- چاک گریباں کو ہے ربط تامل ہنوز
- غنچے میں دل تنگ ہے حوصلۂ گل ہنوز
- دل میں ہے سوداے زلف مست تغافل ہنوز
- ہے مژۂ خوابناک ریشۂ سنبل ہنوز
- ہے تہ بال پری بیضۂ بلبل ہنوز
- دام تہ سبزہ ہے حلقۂ کاکل ہنوز
- شش جہت اسباب ہے وہم توکل ہنوز
- داغ اطفال ہے دیوانہ بہ کہسار ہنوز
- خلوت سنگ میں ہے نالہ طلبگار ہنوز
- خانہ ہے سیل سے خو کردہ دیدار ہنوز
- دور بیں در زدہ ہے رخنۂ دیوار ہنوز
- چشم شبنم میں نہ ٹوٹا مژہ خار ہنوز
- جادہ ہے واشدن پیچش طومار ہنوز
- گزرے ہے آبلہ پا ابر گہر بار ہنوز
- نقش پا میں ہے تب گرمی رفتار ہنوز
- مژہ ہے شانہ کش طرہ گفتار ہنوز
- یعنی ہنوز منت طفلاں اٹھائیے
- ہنوز حسن کو ہے سعی جلوہ اندوزی
- حسن خود آرا کو ہے مشق تغافل ہنوز
- ہے کف مشاطہ میں آئنۂ گل ہنوز
- حیرت آئینہ ہے جیب تامل ہنوز
- مانگے ہے شمشاد سے شانۂ سنبل ہنوز
- سیلی استاد ہے ساغر بے مل ہنوز
- شاخ گل نغمہ ہے نالۂ بلبل ہنوز
- شیشۂ بے بادہ سے چاہے ہے قلقل ہنوز
- لیکن ہنوز دامن آئینہ پاک ہے
- میں ہوں سراب یک تپش آموختن ہنوز
- زخم جگر ہے تشنۂ لب دوختن ہنوز
- کشت سپند صد جگر اندوختن ہنوز
- در پردہ ہے معاملۂ سوختن ہنوز
- ہے شمع جادہ داغ ینفروختن ہنوز
- بزم طرب ہے پردگی سوختن ہنوز
- نہ بندھا تھا بہ عدم نقش دل مور ہنوز
- تب سے ہے یاں دہن یار کا مذکور ہنوز
- سبزہ ہے نوک زبان دہن گور ہنوز
- حسرت عرض تمنا میں ہوں رنجور ہنوز
- پیرہن میں ہے غبار شرر طور ہنوز
- جلوۂ باغ ہے در پردہ ناسور ہنوز
- ہاتھ آیا نہیں یک دانۂ انگور ہنوز
- سر خوش خواب ہے وہ نرگس مخمور ہنوز
- نظر آتی نہیں صبح شب دیجور ہنوز
- ہنوز آفت نسب یک خندہ یعنی چاک باقی ہے
- ہنوز دعوی تمکین و بیم رسوائی
- ہنوز نالہ پر افشان ذوق رعنائی
- ہنوز محمل حسرت بدوش خود رائی
- اسدؔ ہنوز گمان غرور دانائی
- ہنوز اے تیشۂ فرہاد عرض آتشیں پائی
- اے اسدؔ ہے ہنوز دلی دور
- لیتا ہوں مکتب غم دل میں سبق ہنوز
- ہو چکے ہم جادہ ساں صد بار قطع اور پھر ہنوز
- اس چشم سے ہنوز نگہ یادگار ہے
- خورشید ہنوز اس کے برابر نہ ہوا تھا
- لیتا ہوں مکتب غم دل میں سبق ہنوز
- اے غم ہنوز آتش اے دل ہنوز خامی
- ہنوز تیرے تصور میں ہے نشیب و فراز
- ہنوز اے اثر دید ننگ رسوائی
- ہنوز یک سخن بے صدا نکلتی ہے
- ہنوز اک پرتو نقش خیال یار باقی ہے
- یعنی ہنوز منت طفلاں اٹھائیے
- ہے داغ عشق زینت جیب کفن ہنوز
- ہوں گل فروش شوخی داغ کہن ہنوز
- خمیازہ کھینچے ہے بت بے داد فن ہنوز
- بیگانۂ وفا ہے ہوائے چمن ہنوز
- وہ سبزہ سنگ پر نہ اگا کوہکن ہنوز
- ہے ربط مشک و داغ سواد ختن ہنوز
- زنجیر پا ہے رشتۂ حب الوطن ہنوز
- بیرون دل نہ تھی تپش انجمن ہنوز
- میں ہوں سراب یک تپش آموختن ہنوز
- زخم جگر ہے تشنۂ لب دوختن ہنوز
- کشت سپند صد جگر اندوختن ہنوز
- در پردہ ہے معاملۂ سوختن ہنوز
- ہے شمع جادہ داغ نیفروختن ہنوز
- بزم طرب ہے پردگئے سوختن ہنوز
- سوزن میں تھا نہفتہ گل پیرہن ہنوز
- کاوش کا دل کرے ہے تقاضا کہ ہے ہنوز
- گزرے ہے آبلہ پا ابر گہربار ہنوز
- نقش پا میں ہے تب گرمی رفتار ہنوز
- داغ اطفال ہے دیوانہ بہ کہسار ہنوز
- خلوت سنگ میں ہے نالہ طلبگار ہنوز
- خانہ ہے سیل سے خو کردۂ دیدار ہنوز
- دوربیں در زدہ ہے رخنۂ دیوار ہنوز
- چشم شبنم میں نہ ٹوٹا مژۂ خار ہنوز
- جادہ ہے وا شدن پیچش طومار ہنوز
- مژہ ہے شانہ کش طرۂ گفتار ہنوز
- یک الف بیش نہیں صیقل آئینہ ہنوز
- دم لیا تھا نہ قیامت نے ہنوز
- آرایش جمال سے فارغ نہیں ہنوز
- ہیں خواب میں ہنوز جو جاگے ہیں خواب میں
- ہنوز محرمی حسن کو ترستا ہوں
- ہنوز آئینہ خلوت گاہ ناز ربط مژگاں ہے
- واں رنگ ہا بہ پردۂ تدبیر ہیں ہنوز
- غنچۂ لالہ سیہ مست جوانی ہے ہنوز
- دو جہاں طالب دیدار تھا یارب کہ ہنوز
- ذوق بے تابی دیدار سے تیرے ہے ہنوز
- رشک نظارہ تھی یک برق تجلی کہ ہنوز