ہمیشہ
11 Misre
- اسدؔ ہمیشہ پے کفش پاے سیم تناں
- ہمیشہ ہاتھ میں میرے مرا گریباں ہے
- ہمیشہ مجھ کو طفلی میں بھی مشق تیرہ روزی تھی
- ہمیشہ دیدۂ گریاں کو آب رفتہ در جو تھا
- ہمیشہ روتے ہیں ہم دیکھ کر در و دیوار
- ہمیشہ کھاتے تھے جو میری جان کی قسم آگے
- مانا کہ ہمیشہ نہیں اچھا کوئی دن اور
- عارف ہمیشہ مست مے ذات چاہیے
- تھا ہمیشہ سے یہ عریضہ گزار
- ہے یہ وہ گلشن ہمیشہ بہار
- یہ ہمیشہ بہ صد نشاط و سرور