ہمارے
15 Misre
- کس دن ہمارے سر پہ نہ آرے چلا کیے
- ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے
- نالے عدم میں چند ہمارے سپرد تھے
- ہمارے ہاتھ میں کچھ ہے مگر ہے کیا کہئے
- یعنی ہمارے جیب میں اک تار بھی نہیں
- ہمارے شعر ہیں اب صرف دل لگی کے اسدؔ
- ہمارے صفحے پہ بال پری سے مسطر کھینچ
- کیجے ہمارے ساتھ عداوت ہی کیوں نہ ہو
- اس میں ہمارے سر پہ قیامت ہی کیوں نہ ہو
- بس چپ رہو ہمارے بھی منہ میں زبان ہے
- ہمارے ذہن میں اس فکر کا ہے نام وصال
- جی میں ہی کچھ نہیں ہے ہمارے وگرنہ ہم
- ہمارے جیب کو اب حاجت رفو کیا ہے
- وہ آئے گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے
- ہمارے درد کی یارب کہیں دوا نہ ملے