ہماری
14 Misre
- ہستی ہماری اپنی فنا پر دلیل ہے
- ہماری دید کو خواب زلیخا عار بستر ہے
- یہ جو اک لذت ہماری سعیٔ بے حاصل میں ہے
- نظر میں ہے ہماری جادۂ راہ فنا غالبؔ
- ہماری سادگی تھی التفات ناز پر مرنا
- صحرا ہماری آنکھ میں یک مشت خاک ہے
- پھر وہی زندگی ہماری ہے
- گستاخی فرشتہ ہماری جناب میں
- کچھ ہماری خبر نہیں آتی
- ہمیں پھر ان سے امید اور انہیں ہماری قدر
- ہماری بات ہی پوچھیں نہ وہ تو کیونکر ہو
- رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
- یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
- ہماری زندگی کیا اور ہم کیا