ہمارا
18 Misre
- ہمارا کام ہوا اور تمہارا نام رہا
- مگر آتش ہمارا کوکب اقبال چمکاوے
- ہمارا دیکھنا گر ننگ ہے سیر گلستاں کر
- شوخی تری کہہ دیتی ہے احوال ہمارا
- اب ہے دلی کی طرف کوچ ہمارا غالبؔ
- شوخی تری کہہ دیتی ہے احوال ہمارا
- دیدۂ پر خوں ہمارا ساغر سرشار دوست
- سن لیتے ہیں گو ذکر ہمارا نہیں کرتے
- اٹھ نہیں سکتا ہمارا جو قدم منزل میں ہے
- جلوہ زار آتش دوزخ ہمارا دل سہی
- ہم موحد ہیں ہمارا کیش ہے ترک رسوم
- کشایش کو ہمارا عقدۂ مشکل پسند آیا
- ہمارا بھی تو آخر زور چلتا ہے گریباں پر
- گھر ہمارا جو نہ روتے بھی تو ویراں ہوتا
- ہم اس کے ہیں ہمارا پوچھنا کیا
- آدمی کوئی ہمارا دم تحریر بھی تھا
- ہمارا منہ ہے کہ دیں اس کے حسن صبر کی داد
- مانتا لیکن ہمارا دل نہیں