ہم
402 Misre
- ایراہی دے کے ہم نے بچایا ہے کشت کو
- نہ سہی ہم سے پر اس بت میں وفا ہے تو سہی
- پیماں سے ہم گزر گئے پیمانہ چاہیے
- اسدؔ جاں نذر الطافے کہ ہنگام ہم آغوشی
- ہم نشینی رقیباں گرچہ ہے سامان رشک
- توڑ بیٹھے جب کہ ہم جام و سبو پھر ہم کو کیا
- اور تو رکھنے کو ہم دہر میں کیا رکھتے تھے
- آپ لکھتے تھے ہم اور آپ اٹھا رکھتے تھے
- ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
- ازاں جا کہ حسرت کش یار ہیں ہم
- رقیب تمناے دیدار ہیں ہم
- عبث محمل آراے رفتار ہیں ہم
- کہ ضبط تپش سے شرر کار ہیں ہم
- نگہبان دل ہاے اغیار ہیں ہم
- بہار آفرینا گنہ گار ہیں ہم
- نگہ آشناے گل و خار ہیں ہم
- ہجوم تمنا سے لاچار ہیں ہم
- وہی ہم ہیں قفس ہے اور ماتم بال و پر کا ہے
- بہ غفلت عطر گل ہم آگہی مخمور ملتے ہیں
- رہا کس جرم سے میں بیقرار داغ ہم طرحی
- وگر نہ کیجیے جو ذرہ عریاں ہم نمایاں ہیں
- اگر ڈھانپے تو آنکھیں ڈھانپ ہم تصویر عریاں ہیں
- ہم نہیں جلتے نفس ہر چند آتشبار ہے
- ہم نے سو زخم جگر پر بھی زباں پیدا نہ کی
- بس کہ ہیں بدمست بشکن بشکن میخانہ ہم
- موے شیشہ کو سمجھتے ہیں خط پیمانہ ہم
- پنجۂ خرشید کو سمجھے ہیں دست شانہ ہم
- سیل سے فرش کتاں کرتے ہیں تا ویرانہ ہم
- آشنا تعبیر خواب سبزۂ بے گانہ ہم
- جوں زبان شمع داغ گرمی افسانہ ہم
- سنبل بالیدہ کو موے سر دیوانہ ہم
- چپکے چپکے جلتے ہیں جوں شمع خلوت خانہ ہم
- پر فشان سوختن ہیں صورت پروانہ ہم
- برق سے کرتے ہیں روشن شمع ماتم خانہ ہم
- ہیں ورق گردانی نیرنگ یک بت خانہ ہم
- ہیں چراغان شبستان دل پروانہ ہم
- ہیں وبال تکیہ گاہ ہمت مردانہ ہم
- جانتے ہیں سینۂ پرخوں کو زنداں خانہ ہم
- رہتے ہیں افسردگی سے سخت بیدردانہ ہم
- شعلہا نذر سمندر بلکہ آتش خانہ ہم
- دوجہاں حشر زبان خشک ہیں جوں شانہ ہم
- عالم آب گداز جو ہر افسانہ ہم
- ننگ بالیدن ہیں جوں ہوئے سر دیوانہ ہم
- نگہ کی ہم نے پیدا رشتۂ ربط علائق سے
- بے تابی یاد دوست ہم رنگ تسلی ہے
- وصل آئینہ رخاں ہم نفس یک دیگر
- ملیں گے منزل الفت میں ہم اور عندلیب آخر
- ہم ایک میکدہ دریا کے پار رکھتے ہیں
- ہزار دل پہ ہم ایک اختیار رکھتے ہیں
- ہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہے
- فلک سے ہم کو عیش رفتہ کا کیا کیا تقاضا ہے
- ہم اور وہ بے سبب رنج آشنا دشمن کہ رکھتا ہے
- دل دے تو ہم بتا دیں مٹھی میں تیری کیا ہے
- اے اسدؔ ہم خود اسیر رنگ و بوے باغ ہیں
- منع مت کر حسن کی ہم کو پرستش سے کہ ہے
- بارے اپنی بیکسی کی ہم نے پائی داد یاں
- ہم غلط سمجھے تھے لیکن زخم دل پر رحم کر
- ہم اک طرف ہیں برق شرر بیزیک طرف
- لو ہم مریض عشق کے تیمار دار ہیں
- جوے خوں ہم نے بہائی بن ہر خار کے پاس
- کوئی آگاہ نہیں باطن ہم دیگر سے
- لیکن یہ ہم ہے کہ کہاں سے ادا کروں
- کم جانتے تھے ہم بھی غم عشق کو پر اب
- رہے ہم داغ اپنی کاہلی سے
- پھرے ہم در بدر ناقابلی سے
- نفس در سینہ ہاے ہم دگر رہتا ہے پیوستہ
- اے دل و جان خلق تو ہم کو آشنا سمجھ
- ہم پکاریں اور کھلے یوں کون جاے
- ہم کو ہے اس راز داری پر گھمنڈ
- وہ نہیں ہم کہ چلے جائیں حرم کو اے شیخ
- آج ہم حضرت نواب سے بھی مل آئے
- پیدا ہوئے ہیں ہم الم آباد جہاں میں
- تجھے ہم مفت دیویں یک جہاں چین جبیں لیکن
- دریغ اے ناتوانی ورنہ ہم ضبط آشنایاں نے
- اسدؔ ہم وہ جنوں جولاں گداۓ بے سر و پا ہیں
- دیکھتے تھے ہم بچشم خود وہ طوفان بلا
- جلتا ہے دل کہ کیوں نہ ہم اک بار جل گئے
- داغ ربط ہم ہیں اہل باغ گر گل ہو شہید
- ہم کو جلدی ہے مگر تو نے قیامت ڈھیل کی
- رہتے ہیں افسردگی سے سخت بیدر دانہ ہم
- شعلہ ہا نذر سمندر بلکہ آتش خانہ ہم
- دو جہاں حشر زبان خشک ہیں جوں شانہ ہم
- عالم آب گداز جوہر افسانہ ہم
- ننگ بالیدن ہیں جوں موے سر دیوانہ ہم
- دیکھا نہیں ہے ہم نے بعشق بتاں اسدؔ
- کہ ہم بیضہ طوطی ہند غافل
- ہم اور تم فلک پیر جس کو کہتے ہیں
- دیکھتے تھے ہم بچشم خود وہ طوفان بلا
- خار کو بے نیام جان ہم کو برہنہ پا سمجھ
- ہم نشیں مت کہ کہ برہم کر نہ بزم عیش دوست
- نہ دیکھا کوئی ہم نے آشیاں بلبل کا گلشن میں
- ہم آئے ہیں غالبؔ رہ اقلیم عدم سے
- وحشی بن صیاد نے ہم رم خوردوں کو کیا رام کیا
- شام فراق یار میں جوش خیرہ سری سے ہم نے اسدؔ
- تھا یہ کم وزن کہ ہم سنگ کف خاک چڑھا
- عشق میں ہم نے ہی ابرام سے پرہیز کیا
- ہم میں سرمایۂ ایجاد تمنا کب تھا
- سیماب پشت گرمی آئینہ دے ہے ہم
- نقش قدم ہیں ہم کف پاے نگار کے
- ظاہر ہے ہم سے کلفت بخت سیاہ روز
- حسرت سے دیکھ رہتے ہیں ہم آب و رنگ گل
- ہم مشق فکر وصل و غم ہجر سے اسدؔ
- ہو چکے ہم جادہ ساں صد بار قطع اور پھر ہنوز
- مہ حریف نازش ہم چشمی ساغر نہیں
- عشق کا اس کو گماں ہم بے زبانوں پر نہیں
- جب ہوے ہم بے گنہ رحمت کی کیا تقصیر ہے
- ہم زانوئے تأمل و ہم جلوہ گاہ گل
- حضرت بھی کل کہیں گے کہ ہم کیا کیا کیے
- اسدؔ ہم وہ جنوں جولاں گداۓ بے سر و پا ہیں
- دریغ اے ناتوانی ورنہ ہم ضبط آشنایاں نے
- ہم سے عبث ہے گمان رنجش خاطر
- بسکہ ہیں ہم اک بہار ناز کے مارے ہوئے
- بزم ہستی وہ تماشا ہے کہ جس کو ہم اسدؔ
- ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن
- خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہوتے تک
- سات دن ہم پہ بھی بھاری ہیں سحر ہوتے تک
- ہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہے
- کم جانتے تھے ہم بھی غم عشق کو پر اب
- ہم نہیں جلتے نفس ہر چند آتش بار ہے
- ہم پیشہ و ہم مشرب و ہم راز ہے میرا
- رہے اس شوخ سے آزردہ ہم چندے تکلف سے
- لے گئے خاک میں ہم داغ تمنائے نشاط
- وہ آ رہا مرے ہم سایے میں تو سائے سے
- ہمیشہ روتے ہیں ہم دیکھ کر در و دیوار
- تمہاری طرز و روش جانتے ہیں ہم کیا ہے
- یقیں ہے ہم کو بھی لیکن اب اس میں دم کیا ہے
- وہ داد و دید گراں مایہ شرط ہے ہم دم
- جلتا ہے دل کہ کیوں نہ ہم اک بار جل گئے
- بے اعتدالیوں سے سبک سب میں ہم ہوئے
- اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے
- یاں تک مٹے کہ آپ ہم اپنی قسم ہوئے
- تیرے سوا بھی ہم پہ بہت سے ستم ہوئے
- اجزائے نالہ دل میں مرے رزق ہم ہوئے
- چھوڑی اسدؔ نہ ہم نے گدائی میں دل لگی
- تا ہم کو شکایت کی بھی باقی نہ رہے جا
- غالبؔ ترا احوال سنا دیں گے ہم ان کو
- تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوق نظر ملے
- ساقی گری کی شرم کرو آج ورنہ ہم
- تم کو بھی ہم دکھائیں کہ مجنوں نے کیا کیا
- لازم نہیں کہ خضر کی ہم پیروی کریں
- جانا کہ اک بزرگ ہمیں ہم سفر ملے
- ہم بھی مضموں کی ہوا باندھتے ہیں
- ہم بھی ایک اپنی ہوا باندھتے ہیں
- ہم سے پیمان وفا باندھتے ہیں
- ہم نے دل کھول کے دریا کو بھی ساحل باندھا
- چوں نمد ہم نے کف پا پہ اسدؔ دل باندھا
- کہاں ہم بھی رگ و پے رکھتے ہیں انصاف بہتر ہے
- فلک سے ہم کو عیش رفتہ کا کیا کیا تقاضا ہے
- ہم اور وہ بے سبب رنج آشنا دشمن کہ رکھتا ہے
- کہتے ہیں ہم تجھ کو منہ دکھلائیں کیا
- لاگ ہو تو اس کو ہم سمجھیں لگاو
- یا رب اپنے خط کو ہم پہنچایں کیا
- کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا
- تجھے کس تمنا سے ہم دیکھتے ہیں
- بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالبؔ
- سر پیٹتے ہیں اپنا ہم اور نیک نامی
- ہے نامہ بر کو اس سے دعوائے ہم کلامی
- ہم سخن تیشہ نے فرہاد کو شیریں سے کیا
- ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
- جہاں ہم ہیں وہاں دار و رسن کی آزمائش ہے
- در خور قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا
- پھر غلط کیا ہے کہ ہم سا کوئی پیدا نہ ہوا
- بندگی میں بھی وہ آزادہ و خودبیں ہیں کہ ہم
- کم نہیں نازش ہم نامی چشم خوباں
- دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشا نہ ہوا
- ہم کہاں قسمت آزمانے جائیں
- کل تم گئے کہ ہم پہ قیامت گزر گئی
- بارے اپنی بیکسی کی ہم نے پائی داد یاں
- دود میرا سنبلستاں سے کرے ہے ہم سری
- ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار
- ہم کو ان سے وفا کی ہے امید
- روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں
- بیٹھے ہیں رہ گزر پہ ہم غیر ہمیں اٹھائے کیوں
- راہ میں ہم ملیں کہاں بزم میں وہ بلائے کیوں
- ہم کہیں گے حال دل اور آپ فرماویں گے کیا
- گر کیا ناصح نے ہم کو قید اچھا یوں سہی
- ہم نے یہ مانا کہ دلی میں رہیں کھاویں گے کیا
- بھاگے تھے ہم بہت سو اسی کی سزا ہے ی
- کعبے میں کیوں دبائیں نہ ہم برہمن کے پاؤں
- ہم نے چاہا تھا کہ مر جائیں سو وہ بھی نہ ہوا
- نہ ہوئی ہم سے رقم حیرت خط رخ یار
- زہے کرشمہ کہ یوں دے رکھا ہے ہم کو فریب
- دیکھا تو ہم میں طاقت دیدار بھی نہیں
- پر ہم ایسے کھوے جاتے ہیں کہ وہ پا جائے ہے
- منظر اک بلندی پر اور ہم بنا سکتے
- دے وہ جس قدر ذلت ہم ہنسی میں ٹالیں گے
- دوست کی شکایت میں ہم نے ہم زباں اپنا
- ہم کہاں کے دانا تھے کس ہنر میں یکتا تھے
- ہم کو تقلید تنک ظرفی منصور نہیں
- میں جو کہتا ہوں کہ ہم لیں گے قیامت میں تمہیں
- کس رعونت سے وہ کہتے ہیں کہ ہم حور نہیں
- صاف دردی کش پیمانۂ جم ہیں ہم لوگ
- داغ ہم دیگر ہیں اہل باغ گر گل ہو شہیدؔ
- شکوہ سنج رشک ہم دیگر نہ رہنا چاہیے
- ورنہ ہم کس کے ہیں اے داغ تمنا آشنا
- بے دماغی شکوہ سنج رشک ہم دیگر نہیں
- آشنا کی ہم دگر سمجھے ہے ایما آشنا
- بھوکے نہیں ہیں سیر گلستاں کے ہم ولے
- دھوئے گئے ہم اتنے کہ بس پاک ہو گئے
- کرنے گئے تھے اس سے تغافل کا ہم گلہ
- ہم سخن کوئی نہ ہو اور ہمزباں کوئی نہ ہو
- وگرنہ ہم تو توقع زیادہ رکھتے ہیں
- ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
- اور تو رکھنے کو ہم دہر میں کیا رکھتے تھے
- آپ لکھتے تھے ہم اور آپ اٹھا رکھتے تھے
- یاد تھیں ہم کو بھی رنگا رنگ بزم آرائیاں
- ان پری زادوں سے لیں گے خلد میں ہم انتقام
- ہم موحد ہیں ہمارا کیش ہے ترک رسوم
- وہ اک گلدستہ ہے ہم بے خودوں کے طاق نسیاں کا
- ملیں گے منزل الفت میں ہم اور عندلیب آخر
- سیماب پشت گرمیٔ آئینہ دے ہے ہم
- نقش قدم ہیں ہم کف پاۓ نگار کے
- ظاہر ہے ہم سے کلفت بخت سیاہ روز
- حسرت سے دیکھ رہتے ہیں ہم آب و رنگ گل
- ہم مشق فکر وصل و غم ہجر سے اسدؔ
- کل اسدؔ کو ہم نے دیکھا گوشۂ غم خانہ میں
- سائے کی طرح ہم پہ عجب وقت پڑا ہے
- کیوں نہ ٹھہریں ہدف ناوک بیداد کہ ہم
- خوب تھا پہلے سے ہوتے جو ہم اپنے بد خواہ
- عجب نشاط سے جلاد کے چلے ہیں ہم آگے
- وگرنہ ہم بھی اٹھاتے تھے لذت الم آگے
- کہ اس کے در پہ پہنچتے ہیں نامہ بر سے ہم آگے
- یہ عمر بھر جو پریشانیاں اٹھائی ہیں ہم نے
- ہم اپنے زعم میں سمجھے ہوئے تھے اس کو دم آگے
- اب جفا سے بھی ہیں محروم ہم اللہ اللہ
- ہم کو جینے کی بھی امید نہیں
- قطع کیجے نہ تعلق ہم سے
- ہم بھی دشمن تو نہیں ہیں اپنے
- ہم کوئی ترک وفا کرتے ہیں
- ہم بھی تسلیم کی خو ڈالیں گے
- بدی کی اس نے جس سے ہم نے کی تھی بارہا نیکی
- برق سے کرتے ہیں روشن شمع ماتم خانہ ہم
- ہیں ورق گردانیٔ نیرنگ یک بت خانہ ہم ہم
- ہیں چراغان شبستان دل پروانہ ہم
- ہیں وبال تکیہ گاۂ ہمت مردانہ ہم
- جانتے ہیں سینۂ پر خوں کو زنداں خانہ ہم
- بسکہ ہیں بد مست بشکن بشکن مے خانہ ہم
- موئے شیشہ کو سمجھتے ہیں خط پیمانہ ہم
- پنجۂ خورشید کو سمجھے ہیں دست شانہ ہم
- سیل سے فرش کتاں کرتے ہیں تا ویرانہ ہم
- آشنا تعبیر خواب سبزۂ بیگانہ ہم
- جوں زبان شمع داغ گرمی افسانہ ہم
- سنبل بالیدہ کو موئے سر دیوانہ ہم
- چپکے چپکے جلتے ہیں جوں شمع ماتم خانہ ہم
- پر فشان سوختن ہیں صورت پروانہ ہم
- رہتے ہیں افسردگی سے سخت بیدردانہ ہم
- شعلہ ہا نذر سمندر بلکہ آتش خانہ ہم
- دو جہاں حشر زبان خشک ہیں جوں شانہ ہم
- عالم آب گداز جوہر افسانہ ہم
- ننگ بالیدن ہیں جوں موئے سر دیوانہ ہم
- ہم رہیں یوں تشنہ لب پیغام کے
- ہم تو عاشق ہیں تمہارے نام کے
- ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
- ابھی ہم قتل گہہ کا دیکھنا آساں سمجھتے ہیں
- جگر کیا ہم نہیں رکھتے کہ کھودیں جا کے معدن کو
- لو ہم مریض عشق کے بیمار دار ہیں
- بیٹھے ہیں ہم تہیۂ طوفاں کیے ہوئے
- وہی ہم ہیں قفس ہے اور ماتم بال و پر کا ہے
- سیکھے ہیں مہ رخوں کے لیے ہم مصوری
- صاحب کے ہم نشیں کو کرامات چاہیے
- آؤ نہ ہم بھی سیر کریں کوہ طور کی
- جوئے خوں ہم نے بہائی بن ہر خار کے پاس
- ہم کو تسلیم نکو نامی فرہاد نہیں
- ہم نشیں مت کہہ کہ برہم کر نہ بزم عیش دوست
- وہ زندہ ہم ہیں کہ ہیں روشناس خلق اے خضر
- ہم ہیں اور راز ہائے سینہ گداز
- دیا ہے ہم کو خدا نے وہ دل کہ شاد نہیں
- ہم انجمن سمجھتے ہیں خلوت ہی کیوں نہ ہو
- واں پہنچ کر جو غش آتا پئے ہم ہے ہم کو
- صد رہ آہنگ زمیں بوس قدم ہے ہم کو
- کس قدر ذوق گرفتاریٔ ہم ہے ہم کو
- ترے کوچے سے کہاں طاقت رم ہے ہم کو
- ی نگاہ غلط انداز تو سم ہے ہم کو
- رشک ہم طرحی واماں درد اثر بانگ حزیں
- نالۂ مرغ سحر تیغ دو دم ہے ہم کو
- ہنس کے بولے کہ ترے سر کی قسم ہے ہم کو
- پاس بے رونقی دیدہ اہم ہے ہم کو
- ہم وہ عاجز کہ تغافل بھی ستم ہے ہم کو
- ہوس سیر و تماشا سو وہ کم ہے ہم کو
- عزم سیر نجف و طوف حرم ہے ہم کو
- جادۂ رہ کشش کاف کرم ہے ہم کو
- برق ہنستی ہے کہ فرصت کوئی دم ہے ہم کو
- ہجر یاران وطن کا بھی الم ہے ہم کو
- جادۂ رہ کشش کاف کرم ہے ہم کو
- دکھا کے جنبش لب ہی تمام کر ہم کو
- پلا دے اوک سے ساقی جو ہم سے نفرت ہے
- ہم سے چھوٹا قمار خانۂ عشق
- ہم نے وحشت کدۂ بزم جہاں میں جوں شمع
- دیکھنا حالت مرے دل کی ہم آغوشی کے وقت
- ہم زباں آیا نظر فکر سخن میں تو مجھے
- منہ چھپانا ہم سے چھوڑا چاہیے
- ہم سے رنج بیتابی کس طرح اٹھایا جائے
- قیامت ہے کہ ہووے مدعی کا ہم سفر غالبؔ
- وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں چھوڑیں
- سبک سر بن کے کیا پوچھیں کہ ہم سے سرگراں کیوں ہو
- یہ کہہ سکتے ہو ہم دل میں نہیں ہیں پر یہ بتلاؤ
- ایرا ہی دے کے ہم نے بچایا ہے کشت کو
- ہے غیب غیب جس کو سمجھتے ہیں ہم شہود
- ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی
- اپنے جی میں ہم نے ٹھانی اور ہے
- ہم سمجھے ہوئے ہیں اسے جس بھیس میں جو آئے
- کی ہم نفسوں نے اثر گریہ میں تقریر
- ہم بھی گئے واں اور تری تقدیر کو رو آئے
- کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا
- دل کہاں کہ گم کیجے ہم نے مدعا پایا
- غنچہ پھر لگا کھلنے آج ہم نے اپنا دل
- ہم نے بارہا ڈھونڈا تم نے بارہا پایا
- ہم نے دشت امکاں کو ایک نقش پا پایا
- ہم سے تیرے کوچے نے نقش مدعا پایا
- نہ کہیو طعن سے پھر تم کہ ہم ستم گر ہیں
- کی وفا ہم سے تو غیر اس کو جفا کہتے ہیں
- آج ہم اپنی پریشانی خاطر ان سے
- خار رہ کو ترے ہم مہر گیا کہتے ہیں
- آگ مطلوب ہے ہم کو جو ہوا کہتے ہیں
- اس کی ہر بات پہ ہم نام خدا کہتے ہیں
- کیا تنگ ہم ستم زدگاں کا جہان ہے
- غالبؔ ہم اس میں خوش ہیں کہ نامہربان ہے
- ہم کو حریص لذت آزار دیکھ کر
- بک جاتے ہیں ہم آپ متاع سخن کے ساتھ
- گرنی تھی ہم پہ برق تجلی نہ طور پر
- دل کو ہم صرف وفا سمجھے تھے کیا معلوم تھا
- ملی نہ وسعت جولان یک جنوں ہم کو
- جی میں ہی کچھ نہیں ہے ہمارے وگرنہ ہم
- وہ جو رکھتے تھے ہم اک حسرت تعمیر سو ہے
- یہ رشک ہے کہ وہ ہوتا ہے ہم سخن تم سے
- رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
- وہ چیز جس کے لیے ہم کو ہو بہشت عزیز
- بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے
- مگر لکھوائے کوئی اس کو خط تو ہم سے لکھوائے
- وہ ہم سے بھی زیادہ خستۂ تیغ ستم نکلے
- پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے
- ہم رشک کو اپنے بھی گوارا نہیں کرتے
- ہم سے کھل جاؤ بوقت مے پرستی ایک دن
- ورنہ ہم چھیڑیں گے رکھ کر عذر مستی ایک دن
- ہم ہی کر بیٹھے تھے غالبؔ پیش دستی ایک دن
- ہم پر جفا سے ترک وفا کا گماں نہیں
- ہم کو ستم عزیز ستم گر کو ہم عزیز
- روح القدس اگرچہ مرا ہم زباں نہیں
- عشق كا اس کو گماں ہم بے زبانوں پر نہیں
- مہ حریف نازش ہم چشمیٔ ساغر نہیں
- ہم اس کے ہیں ہمارا پوچھنا کیا
- ہم ہی آشفتہ سروں میں وہ جواں میر بھی تھا
- ہم تھے مرنے کو کھڑے پاس نہ آیا نہ سہی
- تنگ آئے ہیں ہم ایسے خوشامد طلبوں سے
- ہم ہیں تو ابھی راہ میں ہے سنگ گراں اور
- دشواریٔ رہ و ستم ہم رہاں نہ پوچھ
- پیماں سے ہم گزر گئے پیمانہ چاہیے
- غالبؔ مجھے ہے اس سے ہم آغوشی آرزو
- سو بار بند عشق سے آزاد ہم ہوئے
- ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
- ہوئے مر کے ہم جو رسوا ہوئے کیوں نہ غرق دریا
- تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا
- یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیں
- کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں
- ہم اوج طالع لعل و گہر کو دیکھتے ہیں
- تاب سخن و طاقت غوغا نہیں ہم کو
- ماتم میں شہ دیں کے ہیں سودا نہیں ہم کو
- گھر پھونکنے میں اپنے محابا نہیں ہم کو
- گر چرخ بھی جل جائے تو پروا نہیں ہم کو
- ہم سخن و ہم زباں حضرت قاسم و طپاں
- کیا کرتے تھے تم تقریر ہم خاموش رہتے تھے
- قسم لو ہم سے گر یہ بھی کہیں کیوں ہم نہ کہتے تھے
- اس سے ہے یہ مراد کہ ہم آشنا نہیں
- ہم نہ تبلیغ کے مائل نہ غلو کے قائل
- دو دعائیں ہیں کہ وہ دیتے ہیں نواب کو ہم
- کلکتے کا جو ذکر کیا تو نے ہم نشیں
- سر آغاز موسم میں اندھے ہیں ہم
- کہو اس کو کیا کھا کے ہم حظ اٹھائیں
- اس سے لیویں گے کم نہ ہم قیمت
- ہم نشیں تارے ہیں اور چاند شہاب الدین خاں
- ہم سخن فہم ہیں غالبؔ کے طرفدار نہیں
- ہم کہاں ہوتے اگر حسن نہ ہوتا خود بیں
- کہا کہ چرخ پہ ہم نے گنی ہیں نو گرہیں
- ہاں مہ نو سنیں ہم اس کا نام
- نہ آفتاب ولے آفتاب کا ہم چشم
- نشہ و جلوۂ گل برسر ہم فتنہ غبار
- ہم عبادت کو ترا نقش قدم مہر نماز
- ہم ریاضت کو ترے حوصلے سے استظہار
- گر جوہر امتیاز ہوتا ہم میں
- ہم گرچہ بنے سلام کرنے والے
- رکھتے ہیں عشق میں یہ اثر ہم جگر جلے
- ہم اور فسردن اے تجلی افسوس
- گن کر دیویں گے ہم دعائیں سو بار
- برا نہ مانیے گر ہم برا کہیں اس کو
- ہم کہاں ورنہ اور کہاں یہ نخل
- خود بخود کچھ ہم سے کنیانے لگا
- کعبے میں کیوں دبائیں نہ ہم برہمن کے پاؤں
- جس دن سے کہ ہم غمزدہ زنجیر بپا ہیں
- ہماری زندگی کیا اور ہم کیا
- یہ بندۂ کمینہ ہم سایۂ خدا ہے
- مزہ تو جب ہے کہ اے آہ نارسا ہم سے
- سات دن ہم پہ بھی بھاری ہیں سحر ہونے تک
- صاحب کے ہم نشیں کو کرامات چاہیے
- گرد پھرنے کو کہیں گے ہم طواف
- جو برا ہے اس کو ہم کہتے ہیں زشت
- پل ہی پر سے پھیر لائے ہم کو لوگ
- یارہ کہتے ہیں کڑے کو ہم سے پوچھ
- کہہ سکے ساری حقیقت ہم نہ اس کے رو برو
- ہم نشیں آدھی ہوئی تقریر آدھی رہ گئی
- غم نے جب گھیرا تو چاہا ہم نے یوں اے دلنواز
- کی تھی پوری ہم نے جو تدبیر آدھی رہ گئی
- ہم نہ تجھ کو منع کرتے تھے گیا کیوں اس کے گھر