ہستی
69 Misre
- اپنی ہستی سے ہوں بیزار کہوں یا نہ کہوں
- مری ہستی فضاے حیرت آباد تمنا ہے
- یاں خط پرکار ہستی حلقۂ فتراک ہے
- وحشت بے ربطی پیچ و خم ہستی نہ پوچھ
- ہستی عدم ہے آئینہ گر رو برو نہ ہو
- مت رکھ اے انجام غافل ساز ہستی پر غرور
- کلفت کشی ہستی بدنام دو رنگی ہے
- وہم طرب ہستی ایجاد سیہ مستی
- ہستی فریب نامۂ موج سراب ہے
- عدم وحشت سراغ و ہستی آئیں بند رنگینی
- فنا کرتی ہے زائل سرنوشت کلفت ہستی
- سر منزل ہستی سے ہے صحراے طلب دور
- محیط دہر میں بالیدن از ہستی گزشتن ہے
- سپند آہنگی ہستی و سعی نالہ فرسائی
- خرقۂ ہستی نکالا ہے برنگ احتیاج
- کاشانۂ ہستی کہ بر انداختنی ہے
- خود فروشی ہاے ہستی بس کہ جاے خندہ ہے
- جاے استہزا ہے عشرت کوشی ہستی اسدؔ
- جوں گرد راہ جامۂ ہستی قبا کروں
- فال ہستی خار خار وحشت اندیشہ ہے
- فرصت آئینہ و پرواز عدم تا ہستی
- سراپا رہن عشق و ناگزیر الفت ہستی
- قطع سفر ہستی و آرام فنا ہیچ
- ہستی نہیں جز بستن پیمان وفا ہیچ
- ہستی میں نہیں شوخی ایجاد صدا ہیچ
- پامردیک انداز نہیں قامت ہستی
- وحشت بے ربطی پیچ و خم ہستی نہ پوچھ
- ہے گرفتاری نیرنگ تماشا ہستی
- تا چند نفس غفلت ہستی سے بر آوے
- ہستی کو لفظ معنی عنقا کرے کوئی
- جنون وحشت ہستی یہ عام ہے کہ بہار
- رونق ہستی ہے عشق خانہ ویراں ساز سے
- بزم ہستی وہ تماشا ہے کہ جس کو ہم اسدؔ
- یک نظر بیش نہیں فرصت ہستی غافل
- غم ہستی کا اسدؔ کس سے ہو جز مرگ علاج
- شرح ہنگامۂ ہستی ہے زہے موسم گل
- موج ہستی کو کرے فیض ہوا موج شراب
- ہستی ہماری اپنی فنا پر دلیل ہے
- قید ہستی سے رہائی معلوم
- ہستی کو لفظ معنی عنقا کرے کوئی
- کشاکش ہاۓ ہستی سے کرے کیا سعی آزادی
- اسدؔ کو بوریے میں دھر کے پھونکا موج ہستی نے
- شاہد ہستی مطلق کی کمر ہے عالم
- دو عالم کی ہستی پہ خط فنا کھینچ
- سراپا رہن عشق و نا گزیر الفت ہستی
- سرگشتگی میں عالم ہستی سے یاس ہے
- ہوئی جس کو بہار فرصت ہستی سے آگاہی
- ہستی فریب نامۂ موج سراب ہے
- خود فروشی ہاۓ ہستی بسکہ جاۓ خندہ ہے
- جاۓ استہزا ہے عشرت کوشی ہستی اسدؔ
- جاتا ہوں داغ حسرت ہستی لیے ہوئے
- اپنی ہستی ہی سے ہو جو کچھ ہو
- وحشت بے ربطی پیچ و خم ہستی نہ پوچھ
- ہاں کھائیو مت فریب ہستی
- ہستی ہے نہ کچھ عدم ہے غالبؔ
- خرقۂ ہستی نکالا ہے برنگ احتیاج
- جوں گرد راہ جامۂ ہستی قبا کروں
- مری ہستی فضائے حیرت آباد تمنا ہے
- مٹتا ہے فوت فرصت ہستی کا غم کوئی
- فرصت آرام غش ہستی ہے بحران عدم
- کارگاہ ہستی میں لالہ داغ ساماں ہے
- ہستی کا اعتبار بھی غم نے مٹا دیا
- ہستی کے مت فریب میں آ جائیو اسدؔ
- بے صدا ہو جائے گا یہ ساز ہستی ایک دن
- ہرزہ ہے نغمۂ زیر و بم ہستی و عدم
- عزت پہ اہل نام کی ہستی کی ہے بنا
- عزت جہاں گئی تو نہ ہستی رہی نہ نام
- موج طوفاں ہو اگر خون دو عالم ہستی
- راز ہستی اس پر سر تا سر کھلا