ہزار
41 Misre
- میں اور صد ہزار نوائے جگر خراش
- ہزار دل پہ ہم ایک اختیار رکھتے ہیں
- ہزار دل بہ وداع قرار رکھتے ہیں
- ہزار آئینہ دل باندھے ہے بال یک تپیدن پر
- مصراع نالۂ نے سکتہ ہزار جا ہے
- ہزار آفت و یک جان بے نواے اسدؔ
- تصور نے کیا ساماں ہزار آئینہ بندی کا
- سر پر مرے وبال ہزار آرزو رہا
- ہے عرض جوہر خط و خال ہزار عکس
- رکھتے ہو مجھ سے اتنی کدورت ہزار حیف
- ہزار آشفتگی مجموعۂ یک خواب ہوجاوے
- ہزار قافلۂ آرزو بیاباں مرگ
- عشاق اشک چشم سے دھوویں ہزار داغ
- دیتی ہے گرمی گل و بلبل ہزار داغ
- رکھتے ہو مجھ سے اتنی کدورت ہزار حیف
- ہزار آئینہ دل باندھے ہے بال یک تپیدن پر
- بہ ہزار امیدواری رہی ایک اشک باری
- جانا پڑا رقیب کے در پر ہزار بار
- روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں
- ہزار تیغ بہ زہر آب دادہ رکھتے ہیں
- ہو کر شہید عشق میں پائے ہزار جسم
- میں اور صد ہزار نواۓ جگر خراش
- تم سلامت رہو ہزار برس
- ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار
- ہزار شکر کہ سید غلام بابا نے
- با ہزاراں ہزار زیبائی
- امیر کلب علی خاں جییں ہزار برس
- فقط ہزار برس پر کچھ انحصار نہیں
- کئی ہزار برس بلکہ بے شمار برس
- ہزار بار فلاطوں و دے چکے الزام
- بہ ہزار امیدواری رہی ایک اشک باری
- ابھی حساب میں باقی ہیں سو ہزار گرہ
- جو یاں گنیں گے تو پاویں گے نو ہزار گرہ
- ہزار دانے کی تسبیح چاہتا ہے بنے
- بلا مبالغہ درکار ہے ہزار گرہ
- یہ جتنے سینکڑے ہیں سب ہزار ہو جاویں
- یک وہم و عبادت ہزار اندیشہ
- سامان ہزار جستجو یعنی دل
- رویا میں ہزار آنکھ سے صبح تلک
- ایسی گرہیں ہزار ہوں بلکہ سوا
- ہو کر شہید عشق میں پائے ہزار جسم