ہرگز
6 Misre
نہیں گرداب جز سرگشتگی ہاے طلب ہرگز
ہرگز کسی کے دل میں نہیں ہے مری جگہ
عاشق کو یہ چاہیے کہ ہرگز
وا کیا ہرگز نہ میرا عقدۂ تار نفس
ہرگز کبھی کسی سے عداوت نہیں مجھے
جمع ہرگز ہوے نہ ہونگے کہیں
ہ
All Letters